حبیب جالب

2020-06-21 12:59:43 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:473

               حبیب جالب :عوامی شاعر

میں نہیں مانتا

 

ہم آج کل کے تیز رفتار دور میں زندہ ہیں جہاں رک کر ماضی کو دیکھنا،پڑھنا اور کھوجنا ایک مشکل کام ہے۔ہم لکھنے لکھانے والوں میں بھی کم لوگ ہی باقی ہیں جو گزرے وقت کو اپنے الفاظ میں ڈھال کر زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ابھی میں کچھ دن پہلے ہی اپنی ویب سائٹ کے سلسلے میں ’کی ورڈسرچ‘پر کام کررہا تھا تو مجھے علم ہوا۔۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ایک مرتبہ ایک پاکستانی شاعر کی نظم ’ٹاپ کی ورڈ ‘بن گئی تھی۔کی ورڈ کو جو لوگ نہیں سمجھتے ان کو مختصراً بتا دوں کہ کی ورڈ کوئی بھی ایک ایسا لفظ ہوتا ہے جس کی مدد سے ہم اپنا مطلوبہ مواد گوگل پر سرچ کرتے ہیں۔مجھے بڑی حیرت ہوئی،آخر ایک پاکستانی شاعر کی نظم میں ایسا کیا تھا جو کروڑوں بھارتی اسے تلاش کررہے تھے۔میں نے مزید تحقیق کی تو مجھے سیاسی جلوسوں میں،احتجاج میں،ریلیوں میں اور طالب علموں کے ہجوم میں اس نظم کو ترنم میں پڑھنے والوں کی لاتعداد ویڈیوز ملیں۔یہی نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی رہنما اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر اس نظم کو دہرا رہے تھے۔اب میرے لئے اپنا کام مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔سب ادھورا چھوڑ کر میں اس شاعر کی زندگی اور اس نظم کے ماضی کی طرف لوٹ گیاجہاں ایک الگ دنیا آباد تھی۔۔جہاں باغی پن تھا ۔۔جہاں پاکستان کی کئی کروڑ عوام کی دکھ بھری داستان تھی۔

یہ ایوب خان کا دور ہے۔ملک میں پہلا مارشل لاء لگ چکا ہے۔آئین میں تبدیلی کر کے حکام نے اپنی مرضی کا قانون بنا دیا ہے جس کی مخالفت کرنے والے ہر شخص کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ترقی پسند لکھاریوں اور شعرا کی زیادہ تعداد اب اپنا کام چھوڑ چکی ہے۔چند لوگ ہی باقی ہوں گے جو اس دستور کے خلاف ابھی تک بول رہے ہیں۔انہی چند لوگوں میں ایک شاعر بھی شامل ہے۔

اسے مری میں ایک مشاعرے میں شرکت کی دعوت ملی۔یہ مزاحیہ طرز کا مشاعرہ تھاجو جشن مری کی وجہ سے منعقد کیا گیا اس میں پڑھی جانے والی نظموں ،غزلوں سے حکمرانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔پہلے تین شاعروں نے اپنا مزاحیہ کلام سنا کر خوب داد سمیٹی۔اس کے بعد اسے اسٹیج پرآنے کی دعوت دی گئی۔لوگ جانتے تھے وہ مزاحیہ شاعری نہیں لکھتا مگر اس کی آواز میں جو سوز تھا ،لوگ اسے شوق سے سنتے تھے۔اس نے مائک پکڑ کر کہا۔

’’میں اپنی جو نظم سنانے لگا ہوں وہ معمول سے ہٹ کر ہے اور اس نظم کا نام ہے ۔۔دستور‘‘سب چونک پڑے۔وہ جانتے تھے ملک میں نافذ کئے جانے والے آئین کے خلاف بولنے والوں میں ایک یہ شاعر بھی شامل ہیں مگر یوں سرعام اس دستور کے خلاف بولنا ممکن نہیں تھا۔اسٹیج سیکرٹری نے آگے بڑھ کر مائک تھامنا چاہا۔

’’رہنے دیں جناب،یہ نہ سنائیں‘‘

’’ہٹ جاؤ پیچھے،سنانے دو مجھے۔۔میرے ہاتھ میں مائک کی تلوار ہے اور میں اس سے آمریت کو لہولہان کر دوں گا‘‘وہ گرجا۔ہر طرف خاموشی چھا گئی۔اس نے اپنے مخصوص انداز میں پڑھنا شروع کر دیا۔

 

        دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

        چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

          وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

             ایسے دستور کو،صبح بے نورکو۔۔۔

           میں نہیں مانتا۔۔میں نہیں جانتا۔۔۔

 

اس کی آواز نہیں جادو تھا اور اس کے الفاظ نہیں۔۔سرکشی تھی،انکار تھا،ظلم کے آگے ڈٹ جانے والی للکار تھی۔حاضرین نے بڑھ چڑھ کر داد دی۔ہر طرف آواز گونجنے لگی۔۔’’میں نہیں مانتا،میں نہیں جانتا‘‘۔اس کے بعد اس مشاعرے میں کسی کو نہ سنا گیا۔یہ نظم بس وہیں تک محدود نہ رہی بلکہ وہاں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گئی۔اس کی گونج ایوانوں تک سنائی دینے لگی۔

منظور قادر جنہوں نے وہ آئین بنایا تھا۔سخت پریشانی میں انہوں نے ملک غلام جیلانی صاحب کو اپنے گھر بلایا۔

’’کیا بات ہے منظور صاحب؟‘‘جیلانی صاحب نے ان سے پوچھا۔

’’میں نے جو آئین بنایا تھا جسے ایوب خان نے نافذ کیا ،اس کا اثر ختم ہو گیا۔۔قانون ختم ہو گیا‘‘جیلانی صاحب حیران ہوئے ۔

’’مگر کیسے؟‘‘

’’ایک نوجوان نے اس پر نظم لکھی ہے ’ایسے دستور کو میں نہیں مانتا‘اس نظم نے سب ختم کردیا ہے۔۔اس نوجوان شاعر کا نام ہے حبیب جالب‘‘۔

حبیب جالب تو ہم سے بچھڑ گئے لیکن برصغیر کی تاریخ میں جب بھی ایسا کوئی قانون بنایا گیا ،چاہے پاکستان ہو یا بھارت۔۔ہر مرتبہ ’میں نہیں مانتا‘کا نعرہ ضرور بلند ہوا۔حبیب جالب نے ہر دور میں حکمرانوں کے آگے ڈٹ جانے کی قسم کھائی تھی۔یہ سرکشی بلاوجہ نہیں تھی۔کچھ تھا اس شخص کی زندگی میں۔۔

                                ٭٭٭

حبیب احمد

گاؤں میانی افغاناں،ضلع ہوشیار پور کے خوبصورت نظارے ہیں۔دریائے بیاس کا کنارا ہے۔تقسیم ہند سے پہلے کا سادہ دور ہے۔ گاؤں کی اس سادہ زندگی میں ایک غربت کے شکار گھر میں24مارچ1928کے دن حبیب احمد پیدا ہوا۔حبیب کے تین بھائی تھے اور ایک بہن۔حبیب کے باپ صوفی عنایت اللہ ایک شاعر تھے اور ساتھ میں جوتوں پر کلابتو کا کام کیا کرتے تھے۔کام کبھی ملتا ،کبھی نہیں۔صوفی عنایت اللہ نے اپنی ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام’ گلہائے عقیدت ‘تھا۔کسی بات کی وجہ سے ان کا اپنے باپ یعنی حبیب احمد کے دادا سے اختلاف تھا۔اس وجہ سے جس گھر میں رہتے تھے وہ حبیب کی نانی نے انہیں دے رکھا تھا۔حبیب کے علاوہ دوسرا بھائی مشتاق پڑھائی میں اچھا تھا۔گھر کے حالات بے انتہاخراب تھے۔کبھی جوتوں کا کام مل جاتا تو کچھ کھانے کو مل جاتا ورنہ اکثر فاقے ہوتے۔

گاؤں کی زندگی ویسی ہی تھی جیسی تقسیم سے پہلے سننے کو ملتی ہے۔زمینداروں کے پاس سہولیات ہوتیں اور غریبوں کے پاس بس غربت۔حبیب احمد کے باپ کو اکثر زمینداروں کے ڈیرے پر کہانیاں سنانے کیلئے بلایا جاتا تھا۔وہ ایک اچھے کہانی گو تھے۔چھ سال کی عمر میں حبیب کو پرائمری اسکول میں داخل کروایا گیا۔یہاں بچے بھی طبقات کی تقسیم میں مصروف تھے۔حبیب کا شمار مفلس بچوں میں ہوتا تھا۔شاید یہی تقسیم آگے چل کر اس کے باغی وجود کا ذریعہ بن گئی۔لکڑیاں چن کر گھر کا چولہا جلانے والا حبیب ویسے بھی کسی امیر باپ کے بیٹے کا دوست نہیں بن سکتا تھا۔

نانی سے دیس پردیس کے شہزادے شہزادیوں کی کہانیاں سن کر حبیب کو صبح اٹھ کر جب پانی میں بھگوئی روٹی کھانی پڑتی تو اسے غربت سے نفرت محسوس ہوتی تھی۔اس کا بڑابھائی نوکری کے سلسلے میں دہلی چلا گیا تو اس کے والد صاحب بھی اس کے ساتھ چلے گئے۔پیچھے حبیب اپنی نابینا نانی کے ساتھ رہ گیا۔اب پیٹ کا جہنم سرد کرنے کیلئے حبیب اور اس کی نانی کو گھر گھر جا کر جرابیں بیچنا پڑتیں۔پیسے اکٹھے ہوتے تو راشن لا کر گھر کا نظام چلایا جاتا تھا۔

حبیب ساتویں جماعت گاؤں سے پاس کر کے دلی چلا آیا۔چونکہ گھر کا ماحول شاعرانہ تھا۔والد کے علاوہ بڑے بھائی بھی شاعر تھے تو حبیب کا شاعری کا ذوق بہت اچھا تھا۔ساتویں کلاس کے امتحانات میں جب اسے ایک لفظ ’وقت سحر‘پر جملہ بنانے کا کہا گیا تو اس نے جملے کی بجائے اپنا شعر لکھ دیا۔۔پہلا شعر۔۔جو کچھ یوں تھا۔

 

   وعدہ کیا تھا آئیں گے امشب ضرور وہ

    وعدہ شکن کو دیکھتے ،وقت سحر ہوا

 

اس وقت استاد یقین صاحب نے شعر پڑھ کر کہا۔’’حبیب تم تو شاعر ہو بھئی‘‘

دلی میں حبیب کو مشاعروں میں جانے کا اتفاق ہوا تو اس کا ذوق مزید بہتر ہو گیا۔دلی کا مزاج ویسے بھی شاعرانہ تھا۔حبیب پڑھائی بھی کرتا تھا۔اس کے علاوہ ریڈیو پر جا کر نظمیں سناتا اور چھٹیوں میں محنت مزدوری کرکے والدین کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کرتارہتا۔اس لئے محنت اس کی طبیعت میں شامل ہوتی چلی گئی۔شاید تب اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ محنت و مشقت آگے چل کر اسے اتنا سخت جان بنا دے گی کہ وہ بڑے بڑے لوگوں کا تشدد سہنے کے قابل ہو جائے گا۔

اور پھر تقسیم کی ہوا نے آندھی کی شکل اختیار کرلی۔ملک پاکستان حاصل ہوا تو حبیب اپنے خاندان کے ساتھ نئے ملک کی جانب چل دیا ۔اس کے والد تقسیم کے دوران بھارت میں ہی رہ گئے تھے۔انہیں اپنے کام کی فکر تھی۔ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اس لئے ان کا رابطہ صوفی عنایت اللہ سے کٹ گیا۔وہ انہیں ایک سال تک مردہ ہی سمجھتے رہے مگر 1948میں وہ بھی پاکستان آ گئے۔

ملک تو تبدیل ہو گیا مگر حبیب کے خاندان کی قسمت نہ تبدیل ہوئی۔ایک تو ہر طرف بھاگ دوڑ مچی ہوئی تھی۔ہر شخص اپنی زندگی کی جدوجہد میں مصروف تھا دوسرا۔۔حکومتی سطح پر اتنا کام تھا کہ اس عوام کیلئے فی الحال نوکریوں کا یا تعلیم کا سلسلہ شروع کروانا بہت مشکل تھا۔حبیب نے محنت مزدوری جاری رکھی ۔اس دوران اس نے کراچی میں جیکب آباد کے اسکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی ۔یہاں اسے کئی اچھے استاد ملے ۔

حبیب اپنے دوست کے پاس رہتا تھا جہاں حالات سے تنگ آ کر وہ حیدرآباد آ گیا۔یہاں اسے پہلی بار سیاسی اور مزدور حلقوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔اس سے پہلے وہ ایک میگزین’امروز‘میں نوکری کرچکا تھا۔

                               ٭٭٭

نیلو

عابدہ ریاض جو نیلو کے نام سے مشہور ہیں ،پہلے عیسائیت کے ساتھ جڑی تھیں بعد میں مسلمان ہوئیں۔وہ اپنے وقت کی مشہور ترین رقاصہ تھیں جس کی وجہ سے انہیں فلموں میں کام ملتا تھا۔یوں اداکاری کی دنیامیں بھی ان کا نام تھا۔ان دنوں شاہ ایران نواب آف کالا باغ کی طرف مہمان تھے۔نیلو کو حکم ملا کہ ان کی محفل میں اسے رقص کرنا ہے۔نیلو کی ان دنوں ریاض شاہد کے ساتھ اچھی دوستی تھی جو ایک بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔اس نے محسوس کیا کہ ریاض شاہد نہیں چاہتے وہ اس محفل میں جا کر رقص کرے۔اس نے انکار کردیا۔

’’میں نہیں جا سکتی‘‘پیغام لے کر آنے والے کو انکارکی توقع نہیں تھی۔اس شام جب وہ دوبارہ آیا تو اس کے ساتھ پولیس تھی اور اس کے علاوہ اور لوگ بھی تھے۔انہوں نے نیلو کے ساتھ بدتمیزی کی۔دوبارہ انکار پر اسے تھپڑ مار دیا۔کار میں بٹھا کر جب اسے زبردستی لے جانے کی کوشش کی گئی تو اس نے کافی مقدار میں نیند کی گولیاں کھا لیں۔یہ ظلم کے خلاف احتجاج تھا جو خود کشی کی کوشش کی شکل میں کیا گیا۔محفل کی بجائے نیلو کا ٹھکانہ ہسپتال بن گیا جہاں بڑی مشکل سے اس کی جان بچائی گئی۔

دوسرے دن ملک بھر میں فنکاروں نے اس زبردستی کے خلاف ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کردیا۔ظاہر ہے اس دور میں وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتے تھے۔ریاض شاہد اپنے دوست حبیب جالب کے ساتھ نیلو کو دیکھنے پہنچے۔اس کی خیریت دریافت کرنے کے بعد جب وہ واپس آ رہے تھے تو ریاض اپنے خیالات میں گم تھے۔ایسے میں ساتھ بیٹھے حبیب جالب نے کہا۔

’’ریاض صاحب،نیلو نے جو بہادری دکھائی ہے اس پر میں نے ایک نظم لکھی ہے۔‘‘

’’سناؤ‘‘انہوں نے ویسے ہی خیال میں گم جواب دیا۔ان کا دھیان جالب کی طرف نہیں تھا مگر جب جالب نے نظم شروع کی تو وہ بے اختیار چونک اٹھے۔

            تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی

           رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔۔

ریاض شاہد کے لاشعور میں یہ نظم بیٹھ گئی۔انہوں نے اسی نظم کو سامنے رکھ کر ایک فلم لکھی جس کا نام ’زرقا‘تھا۔یہ فلم فلسطین کے پس منظر میں لکھی گئی تھی۔اس میں حبیب جالب کی نظم تھوڑے ردوبدل کے ساتھ شامل کی گئی۔

’’جالب اگر فلم کامیاب ہو گئی تو میں تمہیں انعام دوں گا‘‘ریاض شاہد نے فلم بناتے وقت کہا تھا۔مہندی حسن کی آواز ،طالش اور اعجاز کی اداکاری کے ساتھ نیلو کا رقص ،اس گانے اور فلم نے کامیابی کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔زرقا کو موضوع اور اس گانے کی وجہ سے پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں سپرہٹ فلم کہا جاتا ہے۔

                                 ٭٭٭

پہلا ظلم

حیدر بخش جتوئی نے حبیب جالب اور اس جیسے دوسرے طالب علموں کو اپنے ساتھ شامل کیا۔تب الیکشن ہو رہے تھے۔عملی سیاست میں جالب کا یہ پہلا قدم تھا۔چونکہ وہ مزدور حلقوں میں مشہور تھا اور شاعری بھی سادہ الفاظ کے ساتھ ترنم میں پڑھتا تھا یوں اس کی بات دل پر اثر کرتی تھی۔جالب نے حیدر بخش کیلئے ایک نظم بھی لکھ کر جلسے میں سنائی ۔اس زمانے میں سیاست میں اسٹوڈنٹس کا اہم کردار ہوتا تھا۔

حیدر بخش کے مقابلے میں ایوب کھوڑو الیکشن لڑ رہا تھا۔اس دن جب اس نے جالب اور ساتھی نوجوانوں کو دیکھا تو اس نے پوچھا۔

’’تم اسٹوڈنٹ یہاں کیا لینے آتے ہو؟‘‘

’’ہم تمہاری جڑیں اکھاڑنے آئے ہیں‘‘جالب کی اس بات نے ایوب کے تن بدن میں آگ لگا دی۔اس نے سیاسی انتقام لیا۔جہاں جالب اور باقی لوگ ٹھہرے تھے اس مکان کو آگ لگا کر ایوب نے جلا دیا۔مخالف امیدوار حیدر بخش کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی۔یہ پہلا وار کیا گیا تھا جالب پر۔وہ حیدر آباد چھوڑ کر دوست کے پاس بہاولپور آ گیا۔وہاں سے ملتان اور ملتان سے اس کا ٹھکانہ لاہور بنا۔زندہ دل لوگوں کا شہر لاہور۔۔جس نے ہمیشہ جالب جیسے لوگوں کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر پناہ دی ہے۔

لاہور آ کر جالب نے آفاق اخبار میں ملازمت اختیار کی۔رہائش ایک خانقاہ کے پاس اپنے دوست کے مکان میں تھی۔یہاں آ کر جالب نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور اورینٹل کالج میں داخلہ لیا۔

یہاں ایک دلچسپ بات ہوئی۔حبیب جس کے گھر ٹھہرا تھا ،اس کے باپ کو روز اٹھ کر حبیب کی شناخت کرنی پڑتی کیونکہ اس علاقے میں گردش کرنے والی پولیس پیدل جاب سے واپس آتے حبیب کو مشکوک سمجھ کر پکڑ لیتی تھی۔آخر یہ کھیل تب ختم ہوا جب حبیب کے دوست کے باپ اولاد شاہ نے اسے کہا ۔

’’بیٹا میں بوڑھا آدمی ہوں،یہ کام نہیں ہوتا روز،تم کہیں اور چلے جاؤ‘‘حبیب کی تنخواہ زیادہ نہ تھی اس لئے وہ کرائے پر کسی جگہ نہیں رہ سکتا تھا۔اس لئے چپ چاپ واپس کراچی چلا گیا۔

        اتنی تو خبر ہے کہ پریشان تھا جالب

        کس شہر گیا چھوڑ کے لاہور کہیں کا

 

کراچی میں واپس گھر میں آنے والے حبیب کی شادی اس کے چچا کی بیٹی سے کردی گئی۔ممتاز کے والد اس کی شاعری سے متاثر تھے اس لئے پورے خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کردی۔حبیب نے بھی ذمہ داری نبھائی۔شادی کے بعد ہر جگہ جاب کی تلاش میں رہا۔فیصل آباد میں کوہ نور مل میں نوکری ملی۔کوہ نور کے مالک اس کی شاعری سے متاثر تھے لیکن یہاں بھی حبیب کے سامنے اپنے مالی حالات کی مجبوری نہ رہی بلکہ مزدوروں کی حالت نے اس میں موجود انقلابی شاعر کو متاثر کیا اور اس نے ایک نظم لکھ دی جس کی وجہ سے اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ حبیب جالب نے ہمیشہ اپنی ضروریات اور آسائشوں کو بھول کر حق بات کی ہے۔یہ تو بس ایک نوکری تھی جو اسے اپنی شاعری کی وجہ سے کھونی پڑی ،حقیقت میں حق پر شاعری کرنے کی وجہ سے اسے کیا کیا کھونا پڑا،یہ لکھنا یا پڑھنا آسان ہے مگر جھیلنا بہت مشکل۔

                                    ٭٭٭

ایک اور نظم

1974 کا سال تھا۔کراچی کے کٹرک ہال میں ایک مشاعرہ اپنے شباب پر تھا جب طالب علموں نے حبیب جالب کو گھر لیا۔حبیب جالب تب تک مشہور ہو چکے تھے اور ایک بار پھر ہر ظلم و ناانصافی کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کیلئے تیار تھے۔طالب علم بار بار پوچھ رہے تھے۔

’’جالب صاحب آج کونسی نظم سنائیں گے؟‘‘ان دنوں ’میں نہیں مانتا‘کا نعرہ بھی عروج پر تھا اس لئے سب کو لگتا تھا حبیب جالب وہی سنائیں گے ۔وہ نظم کو اس خوبصورت انداز میں گنگناتے تھے کہ یہ نظم پورا ایک گھنٹہ لوگ سنتے رہتے مگر اس دن انہوں نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’آج میں سناؤں گا۔۔لاڑکانے چلو‘‘حبیب جالب جب اسٹیج پر پہنچے تب تک پورے ہال میں بس ایک نعرہ گونج رہا تھا۔

’’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو‘‘۔

اصل میں نیلو کے بعد ایک اور اداکارہ ممتاز بیگم بھی اسی طرح کی ناانصافی کا شکار ہوئی تھیں۔ممتاز کو ایک محفل میں پرفارم کرنے کیلئے لاڑکانہ بلایا گیا۔بلانے والے جب آئے تب ممتاز نے انکار کر دیا۔ان لوگوں کی حکومت تھی اور یہ انکار ان کیلئے قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔اس لئے ایک مرتبہ پھر کہانی دہرائی گئی۔پورے اسٹوڈیو کو ان لوگوں نے گھیر لیا۔ممتاز کو ہراساں کیا گیا ساتھ ہی تھانے میں بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔حکومت کی طرف سے بعد میں ذوالفقار بھٹو کی طرف سے کسی ایسی دعوت سے انکار کر دیا گیا۔یہ ’دعوت نامہ‘ممتاز بھٹو کی طرف سے تھا۔اس سختی کو دیکھ کر طارق عزیز نے کہا۔

’’کاش کوئی حبیب جالب ہوتا تو ممتاز پر بھی نظم لکھتا‘‘جالب تب شورش کشمیری کے گھر بیٹھے تھے۔ان کے ساتھ ملک عبدالسلام بیٹھے تھے۔جیسے ہی انہیں خبر ہوئی صرف چند منٹ بعد انہوں نے کہا۔

’’ملک صاحب ایک نظم نازل ہوئی ہے کہو تو سنا دوں؟‘‘

’’سنا دیں‘‘ملک عبدالسلام نے توجہ ان کی طرف کی۔

قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا،لاڑکانے چلو

                      ورنہ تھانے چلو

اپنے ہونٹوں کی خوشبو لٹانے چلو

                          گیت گانے چلو ورنہ تھانے چلو

 

دیکھتے ہی دیکھتے یہ نظم پورے ملک میں پھیل گئی۔اس لئے ہر مشاعرے میں اب دستور سے پہلے اس نظم کو سنانے کا کہا جاتا۔کہا جاتا ہے یہ نظم پیپلز پارٹی کیلئے ایک طعنہ ہے۔ایسے کئی طعنے ملک میں پھیلے حکمرانوں کو حبیب جالب نے دئیے ۔ان کے لکھے گئے الفاظ ایسے ہی آگ لگاتے تھے۔

                                          ٭٭٭

جالب جالب کہتے ہیں

 

حبیب کے مالی حالات ان دنوں بہت خراب تھے۔ملازمت سے نکالا جا چکا تھا اور کمائی کا کچھ ذریعہ نہیں تھا۔اس دن اسے خبر ہوئی کہ لاہور میں ایک مشاعرہ ہو رہا ہے۔فیصل آباد سے لاہور جانے کیلئے اسے کوئی بس نہ ملی۔اتفاق سے ایک ٹرک والا نظر آ گیا جو لاہور جا رہا تھا۔حبیب نے ڈرائیور کے پاس جا کر منت کی۔

’’مجھے بھی ساتھ لے چلو‘‘

’’کیوں؟‘‘ڈرائیور نے پوچھا۔

’’مجھے بس نہیں ملی اور بہت ضروری کام ہے‘‘ڈرائیور نے انکار کر دیا مگر حبیب نے کسی طرح اسے منا لیا۔ٹرک میں بیٹھ کر جب وہ مشاعرے میں پہنچا تو وہاں شوکت تھانوی مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے۔پنڈال میں لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔حبیب کا حلیہ ایسا تھا کہ اسے کچھ بھی سمجھا جا سکتا تھا مگر مشہور شاعر نہیں۔چادر اپنے جسم کے گرد لپیٹے حبیب کے بال بڑھے ہوئے تھے۔مشاعرہ اپنے عروج پر تھا۔ان دنوں ایک شاعرہ زہرہ نگار کا بہت چرچہ تھا۔نرم آواز کی مالک اس شاعرہ کو سننے کیلئے لوگ بے تاب تھے اس لئے کسی شاعر کو لوگوں کی نعرے بازی نے ڈھنگ سے شاعری پڑھنے نہیں دی تھی۔ایسے میں شوکت تھانوی نے حبیب جالب کو اسٹیج پر بلایا۔

’’اور اب میں دعوت دوں گا فیصل آباد سے آئے نوجوان شاعر،حبیب جالب کو‘‘حبیب کا حلیہ دیکھ کر لوگوں نے قہقہے لگانا شروع کردئیے۔کسی نے آواز لگائی۔

’’زہرہ نگار کو بلائیے۔۔یہ کس فقیر کو دعوت دے دی‘‘

’’کوئی آوارہ ہے شاید‘‘

’’ہمیں زہرہ نگار کو سننا ہے‘‘ایسے میں جالب کیلئے بہت مشکل تھا اپنی شاعری سنانا مگر اس نے ساری زندگی مشکلات کا ہی سامنا کیا ہے۔اس نے اپنے مخصوص انداز میں پڑھنا شروع کیا۔

        دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

    ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

 

پہلے شعر سے ہی ہر طرف خاموشی چھا گئی۔اس کے بعد حبیب نے یہ غزل سنانا شروع کردی۔جگر مراد آبادی جو جلسے کے صدر تھے۔داد دئیے بنا نہ رہ سکے۔ایسے میں لوگوں میں کسی کی آواز ابھری۔

’’یہ تو کوئی اچھا شاعر ہے‘‘حبیب کو علم ہو چکا تھا کہ وہ اس ہجوم کو فتح کر چکا ہے۔اس لئے اس نے پورے جوش سے غزل سنا دی۔لوگوں نے بار بار اسے سنا۔لاہور جیسے شہر میں اس کا نام بن گیا۔

        وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

        اس آوارہ دیوانے کو جالب کہتے ہیں۔

                               ٭٭٭

سیاست ،گرفتاریاں،جمہوریت

جالب کی زندگی کا سفر جاری تھا۔شاعری میں پہچان بنانے کے بعد وہ فلم میں گیت نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔یہاں انہیں علاؤ الدین نے متعارف کروایا جو ان کا دوست تھا۔علاؤ الدین کی ادب دوستی کی وجہ سے جالب اور اس کے درمیان دوستی تھی۔یوں لاہور میں جگہ بنانے کے بعد جالب کو پہلی فلم میں گانے لکھنے کا موقع ملا۔’بھروسہ‘فلم میں ان کے گانے شامل کئے گئے۔

نیشنل عوامی پارٹی کی ان دنوں بنیاد رکھی جا رہی تھی۔جالب چونکہ ترقی پسند تحریک میں شامل تھے اس لئے انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔یہیں سے ایک سفر شروع ہوا۔۔کبھی نہ ختم ہونے والا سفر۔۔جدوجہدکا سفر۔

نیشنل عوامی پارٹی زور پکڑ رہی تھی جب ملک میں 62کا آئین نافذ کر دیا گیا۔مارشل لا لگتے ہی ترقی پسند شاعر اور لکھاریوں نے اپنی راہ پکڑی۔فوجی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا ایک مشکل کام تھا مگر جالب کو ایسی مشکلات شاید لطف دیتی تھیں۔اس لئے مری کے مشاعرے میں پہلی مرتبہ’دستور‘سنادی۔مری میں ان کا داخلہ بند ہوا۔پاکستان بھر میں جس ضلع میں حبیب جالب کا نام مشاعرے میں شامل ہوتا وہاں پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آ جاتی لیکن لوگ اسے سننا چاہتے تھے۔دھمکیاں دے کر جالب کو چپ کروانا مشکل تھا اس لئے انتظامیہ نے ایک اور طریقہ استعمال کیا۔

1964کے الیکشن میں فاطمہ جناح نے شرکت کی کیونکہ سب کا خیال تھا اتنے مضبوط مارشل لاء میں اگر کوئی جمہوریت لا سکتا ہے تو وہ فاطمہ جناح ہے۔جالب نے ان کیلئے اشعار لکھے۔یہ انقلابی شاعری لوگوں کو جوش بڑھانے کیلئے تھی۔وزیر اطلاعات نے فاطمہ جناح کے خلاف کوئی بیان دیا تو جالب نے اس پر نظم لکھ دی۔وہ کراچی میں تھے اور لاہور آنا چاہتے تھے۔انہیں روکنے کی کوشش کی گئی مگر وہ لاہور آ گئے اور ساتھ ہی پولیس بھی ان کے پیچھے پڑ گئی۔

جالب کو فاطمہ جناح کے جلسوں میں شرکت کرنی تھی مگر نہ کر سکے۔اپنی بیوی کو ملتان بھیج کر جالب اپنا کام کرنا چاہتا تھا مگر ہوٹل میں اسے دھر لیا گیا۔یہ پہلی گرفتاری تھی۔اس پر ایک جھوٹا کیس بنا دیا گیا جس میں ایک بندے کو چاقو مارنے کا الزام تھا۔دو اور جھوٹے مقدموں کے ساتھ جالب کو جیل میں ڈال دیا گیا۔الیکشن کے سلسلے میں جلسوں میں شرکت کرنا اس کیلئے ممکن ہی نہ تھا۔قیدیوں کو کئی دن شاعری سنانے کے بعد ہائی کورٹ سے جالب کی ضمانت منظور ہوئی۔پہلی سزا سے نکلنے کے بعد حکومت کو امید تھی کہ جالب اب کچھ نہیں کرے گا مگر وہ اس کے باغی پن سے شاید پوری طرح واقف نہیں تھے اس لئے جیل سے سیدھا وہ لارنس گارڈن میں ہونے والے جلسے میں پہنچے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔جالب نے جیسے ہی مائک سنبھالا۔۔ہر طرف سے نعرے گونجنے لگے۔

           میں نہیں مانتا،میں نہیں جانتا

 

جیل سے جالب ایک نئی نظم تیار کرکے آیا تھا۔اسے سنانے کے بعد جب وہ واپس جا رہا تھا تو ایک آفیسر اس کے پاس آیا۔

’’دولت لے لو زمین لے لو مگر فاطمہ جناح کا ساتھ چھوڑ دو‘‘جواب میں جالب نے صاف انکار کردیا۔

’’یہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا۔۔جو کر رہا ہوں وہیں کروں گا‘‘۔

ساری جدوجہد کے باوجود فاطمہ جناح الیکشن ہار گئیں۔جمہوریت کی آخری امید بھی دم توڑ گئی۔اتحاد بنتے رہے مگر جمہوریت نہ آ سکی۔

اسی دوران ذوالفقار بھٹو اور ایوب خان کے آپس میں اختلافات ہو گئے۔نتیجے میں بھٹو صاحب ان سے الگ ہو گئے۔انہیں ملک چھوڑ جانے کا کہا گیا مگر انہوں نے نہ چھوڑا۔جالب کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے ایک اخبار میں بھٹو صاحب کیلئے نظم لکھی۔

 

    دست خزاں میں اپنا چمن چھوڑ کے نہ جا

      آواز دے رہا ہے وطن چھوڑ کے نہ جا

 

جب یہ نظم شائع ہوئی تو اس کے بعد بھٹو صاحب نے جالب سے ملاقات کی۔انہیں نظم سنانے کی فرمائش کی مگر انہوں نے صاف انکار کردیا۔

’’یہاں نظم سنانا خوشامد ہو گی‘‘ انہی دنوں بھٹو صاحب کے ایک جلسے میں ضبط شدہ کتاب ’سر مقتل‘ میں سے نظم سنانے کی وجہ سے انہیں دوبارہ قید میں ڈال دیا گیا۔انہیں ہتھکڑی لگا کر گھر لایا گیا اور پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔

اس بار قید سے انہیں رہائی ہوئی تو بھٹو صاحب سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ان دنوں پیپلز پارٹی بن رہی تھی۔نیشنل عوامی پارٹی کے اکثر رہنما اس میں شریک ہوتے چلے گئے لیکن جالب نے اپنی پارٹی نہ چھوڑی۔

’’کبھی سمندر بھی دریا میں گرتے ہیں؟‘‘۔اسی دوران ایوب خان نے استعفیٰ دے دیا تو اس کی جگہ ایک اور آمر نے سنبھال لی۔یحییٰ خان کی تصویر ایک جگہ لگی دیکھ کر جالب کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔

 

                      تم سے پہلے وہ جو ایک شخص یہاں تخت نشیں تھا

                     اس کو بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا

 

یوں جالب کی جدوجہد جاری رہی۔جب مشرقی پاکستان کٹنے لگا ،ان دنوں بھی جالب کو تیس ساتھیوں سمیت جیل میں ڈال دیا گیا تھا کیونکہ وہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر حکمرانوں کو للکارنے سے باز نہیں آتے تھے۔آخرکار۔۔اقتدار کی ہوس،حکمرانوں کے آپس میں رسہ کشی اور کئی وجوہات کی بنا پر پاکستان تقسیم ہو گیا۔جالب جیسے انقلاب کے خواہش مند جیل میں سڑتے رہے۔جیل میں ہی جالب کے باپ نے اسے یحییٰ خان سے معافی مانگنے کا کہا مگر جالب نے صاف انکار کردیا۔رہائی تو ہو گئی مگر زیادہ دن باہر نہ رہے اور ایک اور کیس میں اندر چلے گئے۔اس بار کافی عرصہ جیل میں رہے اور ایک کاپی پر اشعار لکھتے رہے جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئی۔انہیں پیپلز پارٹی میں شرکت کی دعوت ملی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔الیکشن وہ نیشنل عوامی پارٹی کی طرف سے لڑے لیکن ہار گئے۔ظاہر ہے ایک ایسا ملک جہاں جاگیردارنہ نظام ہو وہاں جالب جیسے غریب الیکشن کیسے جیت سکتے ہیں۔

بھٹو کے دور میں جالب پر کئی الزامات لگے اور جیل جانا پڑا۔جلسوں میں گولیاں چلیں تو کہیں پولیس کی لاٹھیاں کھائیں لیکن وہ جالب ہی کیا جو کسی بات سے ڈر جائے۔

اب دور آ گیا ضیاء الحق کا۔۔یعنی جالب کی جنگ کا ایک نیا دور۔جوانی جیل میں ،سڑکوں پر پولیس سے لاٹھیاں کھاتے گزری اپنے لئے اس شخص نے کچھ نہ بنایا۔یہاں تک کہ جب وہ جیل میں ہوتا تو اس کے بچوں کیلئے روٹی کا انتظام کرنا مشکل ہو جاتا۔تعلیم تو پھر دور کی بات ہے اس لئے پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کے مستقبل کیلئے جالب سے کچھ نہ بن پایا۔آج میں جب ان کے بیٹے بیٹیوں کی ویڈیو دیکھتا ہوں،انہیں مزدوری کرتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں۔۔شاید جالب اگر ان کا سوچتے تو پھر عوام کا نہ سوچ پاتے۔اس لئے انہوں نے ایک ہی راستہ چنا تھا اور ساری عمر اس پر عمل کیا۔

بھٹو صاحب کو جن دنوں پھانسی ہوئی ان دنوں بھی جالب جیل میں تھے۔انہیں اس بات کا شدید دکھ تھا۔رہائی ملی۔۔کراچی پریس کلب میں ممبر شپ ملی تو انہیں تازہ نظم لکھ کر لانے کا کہا گیا اور انہوں نے جو لکھی ،اس نظم نے شہرت کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔

             حق بات پہ کوڑے اور زنداں ،باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں

        انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں،

خونخوار درندے ہیں رقصاں۔۔

                     اس ظلم وستم کو لطف وکرم،اس دکھ کو دوا کیا لکھنا۔۔۔

           ظلمت کو ضیا،صر صر کو صبا،

بندے کو خدا کیا لکھنا۔۔۔

 

نظم کے نتیجے میں جالب کو دھر لیا گیا۔اس بار انہیں ایک خوفناک قسم کی جیل میں میانوالی بھیج دیا گیا۔یوں زندگی کے کئی ایام پھر جیل میں گزر گئے۔ ضیاء الحق کے دور میں جالب کو بہت مشکلات کا سامنا رہا مگر انہوں نے کبھی اپنی راہ نہ بدلی۔یوں کئی سال طویل یہ آمریت کا دور بھی آخر ختم ہو گیا۔۔۔

                                  ٭٭٭

آخر کار

جالب انڈیا گئے،انگلینڈ گئے اوران کے علاوہ کئی ممالک کی سیر کی مگر جب وطن کو ان کی ضرورت پڑی ،وہ جان و مال کی پرواہ کئے بغیر اس آگ میں کود پڑے۔بے نظیر بھٹو کیلئے انہوں نے نظم’نہتی لڑکی ‘لکھی۔بھٹو صاحب کی مخالفت کے باوجود جالب بے نظیر کا ساتھ دینا چاہتے تھے۔انہیں بے نظیر کے خلاف جانے کیلئے پانچ لاکھ روپے کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔

بے نظیر کے دور حکومت میں انہیں جمہوریت کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ اور انعام دینا چاہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔اس کے بعد انہیں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی طرف سے انعام دیا گیا جو انہوں نے بڑی مشکل سے قبول کیا ہا ں مگر شجاعت حسین نے کہا تھا کہ جو مرضی کریں لیکن لکھے گا جالب اپنی مرضی سے اور ایسا ہی ہوا۔۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی جالب نے اپنی مرضی کی شاعری کی۔حق بات کہنے سے بالکل نہ کترایا۔

کئی دن کی طویل علالت کے بعد جالب بارہ مارچ 1993 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

                           بے نام سے سپنے دکھلا کر

                           اے دل ہر جا نہ پھسلا کر یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

   اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔۔

                                 ٭٭٭

کام،ایوارڈ

حبیب جالب نے جو کتابیں لکھیں ،ان میں سے اکثر ضبط ہو گئیں۔ان کی تخلیقات میں

صراط مستقیم

ذکر بہتے خوں کا

گنبد بے در

کلیات حبیب جالب

اس شہر خرابی میں

گوشے میں قفس کے

حرف حق

حرف سردار

احاد ستم شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے زرقا،بھروسہ،ہم ایک ہیں،موت کا نشہ اور زخمی سمیت کئی فلموں میں گانے لکھے۔اپنے وقت کے دو مشہور ترین گانے ’ظلم رہے اور امن بھی ہو‘اور ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘گیت نگاری میں ان کی وجہ شہرت ہیں۔

انہیں گیت نگاری کے بہترین ایوارڈ کے ساتھ ساتھ ان کی موت کے بعد ’’نشان امتیاز‘‘سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ ’حبیب جالب امن اعزاز‘کے نام سے ایک ایوارڈ کا آغاز بھی کیا گیا۔

حبیب جالب کی زندگی،جدوجہد اور کہانی میں ہم نے جو باغی پن پڑھا ہے اس کی سزا ان کی اولاد کو بھی بھگتنی پڑی۔جب جالب کیلئے وظیفے کا اعلان کیا گیا تو کبھی مل جاتا ،کبھی ان کے بیٹوں کو دفتروں کے دھکے کھانے پڑتے ہاں مگر جالب نے اپنے بارے میں ایک شعر لکھا جو ان کی شخصیت پر پورا اترتا ہے۔

   یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا۔۔۔۔

            جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

                                         ٭٭٭٭

اعتزاز سلیم وصلی

 

                                                               

Comments




POST A COMMENT