جذباتی پنکھے

2020-10-03 16:10:33 Written by عبدالودودعامر

views:1119

#جذباتی_پنکھے (فینز)
غالباً یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ دنیا میں ہر کسی کو اس کے حصے کے بیوقوف مل جاتے ہیں خیر ان کو آج کل ڈائ ہارڈ فین کہا جاتا ہے۔۔
ویسے تو یہ ہر شعبے میں پائے جاتے ہیں سپورٹس٫ سیاست٫ شوبز٫ ادبی دنیا٫ مذہب الغرض یہ مخلوق ہر جگہ پائ جاتی ہے لیکن اج ہم صرف #ادبی_پنکھوں کی بات کریں گے 
یہ فینز دراصل وہ مخلوق ہوتی ہے جو اپنے پسندیدہ راٹرز کی تحریر سے وہ وہ خوبیاں بھی نکال لاتی ہے کہ وہ خود حیران رہ جاتا ہے کہ بھلا میں نے اتنی معرفت کی باتیں کہاں لکھی تھیں
لیکن بہرحال فینز تو فینز ہوتے ہیں 
ہوسکتا ہے یہ فینز زمانہ قدیم سے چلے آرہے ہوں لیکن جب سے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کا دور آیا ہے ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔۔۔
پہلے تو شاید ایسا ہی ہوتا تھا کہ جس کے فینز ہوتے تھے اس کو پڑھ لیا کرتے تھے اور جو پسند نہ ہوتا اس کو نہ پڑھتے لیکن زمانہ حال میں جو پسند نہ ہو اس کی ایسی کی تیسی بھی کی جاسکتی ہے اور اپنے ممدوح کے دفاع کے لیے نکتہ اختلاف اٹھانے والے کو جینے نہیں دیا جاتا۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ غالب کے دور اور بعد کے شعرا کے دور میں فیس بک ہوتی تو کیسا منظر ہوتا ۔
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیاں غالب
والے شعر کا تجزیہ فینز کچھ یوں کرتے
غالب نے اصل میں دوسرے مصرعے میں خود کا بادہ خوار کہ کر اپنی معرفت کو چھپانے کی کوشش کی ہے ورنہ وہ زمانے کا ولی ہی ہے۔۔
اور مخالفین اس بات پہ دلائل دے رہے ہوتے بھلا حد ہوتی ہے کھلم کھلا شرابی ہونے کا اعلان کررہا ہے اور فتویٰ ٹھوک دیا جاتا۔۔
اور غالب بیچارے شاعری سے توبہ کرکے کہیں آم کھا رہے ہوتے آم سے یاد آیا اگر وہ عامر لیاقت کا شو دیکھ لیتے تو شاید آم کی بجائے زہر کھا لیتے کہ کہاں شاعرانہ نفاست اور زوق اور کہاں آم کی اتنی بے عزتی
اسی طرح میر کبھی بھی ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ نہ دے پاتے۔۔
اور منٹو صاحب تو رہے دور کیسے وہ افسانہ لکھ پاتے 
ان کی صورتحال کچھ یوں ہوتی کہ ادھر افسانہ #بو مارکیٹ میں آتا ادھر فینز اسے خوشبو سمجھ کر محاسن بیان کرتے #منٹو کو تصوف کی بلندی پہ پہنچا دیتے اور دوسری طرف اس بو کو اس شدت سے محسوس کیا جاتا کہ شاید منٹو افسانہ نگاری سے توبہ کرکے نارمل شادی شدہ زندگی بسر کررہے ہوتے ۔
اور نسیم حجازی کے ناولز کو تو مقدس رتبہ حاصل ہوجاتا ۔۔ بلکہ فینز کا مطالبہ ہوتا بلکہ ٹویٹر پہ ٹاپ ٹرینڈ چلتا کہ نسیم حجازی و عنایت اللہ صاحب کے ناولز کےپاک فوج کی تربیت کے درران سٹڈی سرکلز کروائے جائیں۔
عصمت چغتائ بھی اپنا لحاف اٹھائے شاید کہیں رائیونڈ کا چکر لگا رہی ہوتیں اور قرآۃ العین حیدر کو آگ کا دریا لکھ لر شاید ایک اور دریا لکھنا پڑھتا اس آگ پہ پانی ڈالنے کے لیے
ابن صفی تو شاید لکھنا ہی چھوڑ دیتے اگر اج کل کے نقالوں کا جاسوسی ادب دیکھ لیتے تو
مممتاز مفتی کا حال ان کے فینز کے ہاتھوں وہی ہوتا جو انہوں نے قدرت اللہ شہاب کا کیا۔
خیر یہ لوگ شاید وہاں شکر ادا کررہے ہیں کہ عزت سے اٹھ آئے ۔۔۔
فی زمانہ اگر آپ سوشل میڈیا پہ دیکھیں تو ادبی فینز میں ذیادہ تر جھگڑے عمیرہ احمد اور نمرہ احمد صاحبہ کی فینز کے ہیں اور اس کے بعد ابن صفی کے فینز( ابن صفی کا فینز میں مجھے بھی شمار کرلیا جائے)
لیکن اس وقت اگر صف اول پہ کسی کے جذباتی فینز ہیں تو وہ نمرہ احمد کے ہیں اور کیوں نہ ہوں ظاہر ہے نمرہ احمد تو باقاعدہ مذہبی ناولز لکھے ہیں دوسری طرف ان دونوں خواتین کے مخالفین بھی کم نہیں ہیں۔۔
اور دونوں طرف کے لوگ انتہاہوں پہ کھڑے ہیں اگر چہ کچھ میرے جیسے بھی ہیں جو ان سے اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن کچھ چیزوں کو سراہتے بھی ہیں
مخالفین میں ایک طبقہ تو وہ ہے جو محض اس وجہ سے مخالف ہے کہ انہوں نے مذہبی ٹچ دیا ہی کیوں وہ سرے سے مذہب مخالف لوگ ہیں اور ان لوگوں پہ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے کبھی اپنے بدن پہ میرا جسم میری مرضی لکھ کر ریلیاں نکالی تھیں تو اس حساب سے نمرہ احمد کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ کہے میرا قلم میری مرضی۔۔
البتہ کچھ معتدل مخالفین بھی ہیں جو مجھ جیسے ہیں (معصوم سے) جن کا اختلاف صرف نمرہ احمد سے اس بات پہ ہے کہ چلو مزہبی ٹچ تو دیا لیکن اتنا ذیادہ بھی تڑکا لگانے کی کیا ضرورت تھی ضرورت کے مطابق برداشت ہوہی جاتا ہے۔۔۔
اب بندہ ناول پڑھ رہا ہوتا ہے اور درمیان میں ہیرو یا ہیروئن درس قران دینا شروع کردیتے ہیں اور درس قران بھی وہ جو ایک دن پہلے ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کا سن چکے ہوتے ہیں
عمیرہ احمد کے ساتھ البتہ ذیادتی ہورہی ہے انہوں نے پیرکامل لکھا اور آب حیات وہاں مذہبی ٹچ ضروری تھا موضوع کے لحاظ سے اس کے علاوہ ان کے باقی ناولز پڑھ لیں کمال ہیں
البتہ ایک مخصوص لابی شاید پیرکامل کا ہی بدلہ لینا چاہتی ہے ان سے اور یہ لابی دوسری طرف منٹو کے افسانوں میں جنس کا استعمال
شوکت صدیقی کے ناولز

میں اشتراکیت کا تڑکا نہ صرف ہنسی خوشی برداشت کرتی بلکہ اس کو اردو ادب کے ماتھے کا جھومر بھی قرار دیتی ہے خیر سانوں کی
البتہ بات فینز کی ہورہی تھی تو ان دونوں خواتین کے فینز ذیادہ ہیں اور ذیادہ جذباتی بھی کیونکہ اکثریت خواتین کی ہیں اور خواتین کے پاس دلائل ہوں یا نہ ہوں ہارتی وہ کبھی بھی نہیں یقین نہیں آتا تو کسی بھی شادی شدہ مرد سے پوچھ کر دیکھ لیں یا پھر کسی خواتین کے گروپ میں ان سے پنگا لےکر دیکھ لیں آپ کو خود پتا چل جائے گا
بہرحال فینز تو فینز ہوتے ہیں اور خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے فینز ہوتے ہیں 
#عبدالودودعامر

 

Comments




POST A COMMENT