ملت کا پاسبان

2020-12-26 12:55:36 Written by عشاعباس

views:252

*ملت کا پاسبان*
تحریر
*عشا عباس*
ملک کے تقدیر بدلنے کے لیے اوراسے ترقی کی راہ پہ گامزن کرنے کے لیے ایک رہنما اور لیڈر اہم کردار ادا کرتا ہے-لیڈر یا رہنما فطری اور بشری تقاضوں  کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں  کو ایک جواہر کی طرح تراشتا رہتا ہے، تب سب کے سامنے وہ ایک لیڈر اور رہنما بن کر ابھرتا ہے اور لوگ انکی پرستش کرتے ہیں انکو اپنا رہنما مانتے ہیں اور انکے اقوال کو سنتے اور مشعل راہ بناتے ہیں- 25دسمبر کو براعظم کا ایک عظیم الشان رہنما پیدا ہوا 
جس کے بارے میں لکھنے کے لیے جب قلم اٹھایا تو بہت سےسوال ذہن میں گردش کرنے لگے----- 
عظیم رہنما کے بارے میں لکھنے  
اور اس شخصیت کے بارے میں لکھنے کے لیے الفاظ کی عمدگی کا خیال بھی رکھنا ضروری تھا-
برصغیر کے خطے میں پیدا ہونے والے اس سیاسی مدبر کے بارے میں لکھنے کے لیے سوچا تو کتابوں سے رہنمائی کی ضرورت پیش آئی_
تاریخی کتب دیکھی معلوم ہوا
*محمد علی جناح*  کے حالات زندگی سے پتہ چلا کہ وہ بھی بشری تقاضوں کے ساتھ عام بچوں کی طرح رہتے تھے، کھیل کود دوستیاں اور پڑھائی میں عام بچوں کی طرح تھے انکے والد انکی پڑھائی کے بارے میں عام والدین کی طرح تشویش کے شکار رہتے  تھے، اور اپنےدوستوں  سے اسکا تذکرہ کرتے تھے-
بعض دوستوں  نے انہیں محمد علی جناح کو باہر پڑھنے کے لیے بھیجنے کا مشورہ تک دیا اور یہ مشورہ جناح کے لیے سود مند  بھی ثابت ہوا-جناح کچھ عرصے تک اپنے والد کے دوست کے ہاں کاروباری داو پیچ بھی سیکھنے کے لیے گئے، مگر وہاں انہیں  محسوس ہوا کہ یہ انکا شعبہ نہیں  تب جناح نے وکالت کی طرف رحجان کر لیا دن رات ایک  کر کے وکالت کی خشک کتابوں کو رٹ لیا جب ان سے دل اچاٹ ہونے لگتا تو شیکسپیئر  کو پڑھ کہ تازہ دم ہوجاتے-یہاں ہی سے جناح نے محنت اور انتھک محنت کی طرف  قدم بڑھا  دیا اور آخری سانس تک بس محنت ہی کرتے رہے-اسی محنت کی بدولت وہ برصغیر  کے نامور وکیلوں کو کم عرصے میں  ہی چاروں شانے چت کر گئے-
محمد علی جناح نے مسلمانوں  کے لیے اور اپنے تمام مقاصد  کو حاصل کرنے کے لیے صرف محنت کو سیڑھی بنایا-
سیاست میں آتے ہی قائد اعظم محمد علی جناح نے الگ مقام بنا لیا مگر محنت اور شدید محنت ہی کو شعار بنا لیا-
جناح کی زندگی میں  نشیب وفراز  آتے رہے الزامات بھی لگے اور انکو فرنگی کہا اور سمجھا جانے لگا مگر ان رکاوٹوں  نے انکے عزم کو متزلزل نہیں کیا
انکی شادی کو متنازعہ کیا گیا
مگر وہ جس مقصد کے لیے کام کر رہے تھے مرتے دم تک کرتے رہے-اور یہاں تک کہ موت کہ آخری ایام میں جب انکی طبیعت کی ناسازی کے باعث کام سے روکا گیا تو اپ نے کہا  کہ کبھی کسی جنرل کو اپنی فوج کو تنہا چھوڑتے اور چھٹیاں کرتے دیکھا ہے جبکہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو-
11ستمبر 1948 کو اس شخص کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا جس نے 25دسمبر کو دنیا میں آکر تاریخ کا رخ بدلا۔نئی تاریخ رقم کی۔جناح کی زندگی کارناموں، جدوجہد، مایوسیوں کے دنوں، کامیابی کے لمحات کے ساتھ، ساتھ مطالبہ پاکستان کے بنیادی تصور، فلسفہ اور نظریے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جناح نے مقاصد میں کامیابی کے لیے بے پناہ قوتِ ارادی کا استعمال کیا۔
ان کا مصمم ارادہ اور بے پناہ محنت نے برصیغر میں ایک نئی تاریخ رقم کی ۔
جناح نے جس پاکستان کی بنیاد لاکھوں مسلمانوں کے خون اور انتھک قربانیوں پر رکھ اور مذہبی، لسانی تفرقے کی نفی کی تھی
ہم نے اس کو بھلا کر ہر وہ کام کیا جس کے نہ کرنے کا وہ درس دیتے تھے
ہم نے تفرقہ پرستی کو ہوا دی۔
لسانی اور جذباتی کشمکش نے ہمیں سقوطِ ڈھاکہ جیسے انمٹ اور سیاہ دن دیئے۔
ہم نے جناح کے جذبہ ۔جناح کے نظریے کو بھلا دیا ہے۔
ہم اس دن کو مناتے ہوئے اب خود سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ قوم جناح کہ بعد یتیم ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موت کے دنوں میں بھی کام اور کام اور ملک حالت پہ غور کرتے ہوئے گزرے-تب اس رہنما کو آج تک یاد  رکھا گیا-مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ قائد کو کامیابی  صرف تقدیر  کے طرف سے  تحفتاَ نہیں  ملی، اور کامیابی کبھی حادثاتی طور پہ نہیں  ملتی بلکہ انتھک محنت سے ملتی ہے-جناح نے محنت کی
فیصلہ کیا اور اس پہ ڈٹ گئے مگر ڈٹے بھی اسطرح کہ آخری سانس تک محنت کرتے گزرے
وہ تمام باتیں اور مسائل جن کی نشان دہی  اج کی جاتی ہے،جناح نے انکی  طرف اشارہ ملک بنتے وقت ہی کر دیا تھا
تفرقہ، سندھی، بلوچی اور معشیت کے مسائل کو جناح نے اس وقت ہی بیان کر دیا مگر شاید ہماری بدقسمتی ہے کہ آج تک ہمیں ایسا  کوئی رہنما نہیں ملا جو ان مسائل کو حل کرتے وقت اپنے   مفاد کے علاوہ ملکی سالمیت کو سوچے اور اسکے اثرات عوام کو مل رہے ہیں مگر قائد اعظم جیسے رہنما  نے ثابت کیا کہ جو فیصلہ کیا جائے اسکو پایہ تکمیل  تک پہنچانے کے لیے محنت سے ہی کامیابی کی کنجی کھولی جاسکتی ہے-
ہم اس عظیم رہنما کےسیاسی تدبر  کے قائل محنت اور عظمت کی وجہ سے ہوئے ہیں ورنہ ان کو بھی لوگوں نے تنقیدی نگاہ سے دیکھا اور جانچا مگر رفتہ رفتہ انکے سیاسی تدبر اور بے لوث خدمت کے قائل ہوگے-
تاریخ  نے انہیں کبھی سیاسی کارکن یا سیاست دان کے طور پہ یاد نہیں کیا، یاد کیا تو عظیم رہنما کے طور پہ یاد کیا-
رہنما وہ جو لاکھوں لوگوں کو ایک مقصد کے لیے جمع کرے اور مقصد حاصل کرنے کے لیےانتھک کوشش کرے-----
اس عظیم قائد کو خراج  تحسین پپیش کرنے  کے لیے میرے پاس لفظ کم ہیں مگر 
ہم اگر صرف قائد کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے اور نوجوان نسل اگر انکو مشعل راہ بنانا چاہیے تو صرف اتنا یاد رکھے کہ محنت میں عظمت ہے
اور زندگی میں اگر کوئی مقصد بنا لیا جائے تو اسکو عظیم الشان بنانے کے لیے محنت کامیابی کی آخری کنجی ہے
۲۵ دسمبر
قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نام۔۔۔۔
عقیدتوں کا بس ایک لمحہ۔۔۔۔!!
 
ہم عہد تازہ میں رہنماؤں کی عظمتوں کو
خراج دینے کی ہر روایت بھلا چکے ہیں
بھلا چکے ہیں کہ عہد حاضر میں اپنی ہستی
یہ جسم و جاں کی شگفتگی کا تمام قصہ
یہ شہریت کا
وطن سے وابستہ زندگی کا تمام قصہ
بس اس حقیقت پہ منحصر ہے
کہ عہد رفتہ میں
رہنماؤں کی عظمتوں نے
ہمیں شعورِ حیات بخشا
نئے زمانوں کی آہٹوں کو
سمجھنے والی سماعتوں کا مزاج بخشا
خود اپنے روح و نفس کو آزاد کر کے
زندہ و شادماں سی گزرنے والی
حیات نو کا شعاربخشا
مگر عجب ہے کہ
عہد تازہ میں
رہنماؤں کی عظمتوں کا
یقین تک ہم نے کھو دیا ہے
کسے خبر ہے اگر عقیدت
لہو میں بنیاد رکھ چکی ہو
تو اپنے اظہار کی ضرورت کے لفظ
خود ہی تراشتی ہے
میں اس حوالے سے چاہتا ہوں
عقیدتوں کا بس ایک لمحہ
جو روحِ قائد کی نذر کر کے
خود اپنی تسکین کر سکوں میں
محبتوں کا بس ایک لمحہ
وطن پہ قربان ہوسکوں میں

Comments




POST A COMMENT