کرنل شفیق الرحمن

2019-03-28 18:53:26 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:1043

 

اردوادب کا شہزادہ
کرنل شفیق الرحمن

 جولائی 16،  1981 
چکلالہ ریلوے اسٹیشن پر زیادہ رش نہیں تھا۔چند لوگ ہی ٹرین کے انتظار میں کھڑے ،اکتائے ہوئے سے محسوس ہوتے تھے۔انہی میں ایک بھورے بالوں اور مضبوط جسم کا مالک نوجوان بھی تھا۔اس کی آنکھوں میں عجیب سی اداسی تھی۔وہ دکھی تھا اور آنکھوں میں بار بار آنے والی نمی کو بہنے سے روکنے کی کوشش کررہا تھا۔ٹرین ابھی کچھ فاصلے پر تھی۔وہ اپنے اردگرد ماحول کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس دنیا کو اپنی نظروں میں سمیٹ کر یہاں سے ہمیشہ کیلئے جاناچاہتا ہو۔اس کے اردگرد موجود لوگ اس کی ذہنی حالت سے بے خبرتھے۔ٹرین دور سے آتی دکھائی دی۔وہ ریلوے اسٹیشن سے کچھ آگے آگیا۔۔اور ٹرین کی آمد کے ساتھ ہی اس نے اچانک ٹرین کی پٹری پرچھلانگ لگا دی۔۔چند لمحوں میں ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا۔۔وہ زندگی سے بھرپور نوجوان اپنے ساتھ اپنی ہنسی،مسکراہٹیں ،دکھ ،تکلیفیں سب لے گیا تھا۔خودکشی حرام ہے یہ سب جانتے ہیں مگر زندگی کبھی کبھی بے مقصد لگتی ہے اور جینا حرام کر دیتی ہے ایسے میں زندگی کی جنگ سے شکست کھا کر لوگ موت کی بانہوں میں پناہ لیتے ہیں۔اسے بھی موت نے سمیٹ لیا تھا ۔کہنے کو تو یہ محبت میں ناکامی کی وجہ سے ایک جذباتی نوجوان کی خودکشی تھی مگر۔۔حقیقت میں اس کی موت نے اگلے کئی سالوں کیلئے نقصان دیا تھا۔۔اردوادب کو۔اس کی موت نے اس کے باپ کے ہاتھ سے قلم چھین لیا تھااور یہ قلم کوئی عام قلم نہیں تھا بلکہ اس قلم نے تو مسکراہٹیں بکھیری تھیں۔جب اس قلم کے مالک کا نام زبان سے نکلتا ہے تو غیرارادی طور پر ایک مسکراہٹ لبوں پر آجاتی ہے ۔۔لیکن اس ایک خودکشی نے لاکھوں لوگوں سے ہنسنے کا ایک سبب چھین لیا تھا۔خود کشی کرنے والا خلیق الرحمن،اردوادب کے مشہور مزاح نگار ،کرنل شفیق الرحمن کا منجھلا بیٹا تھا۔وہ بھی باپ کی طرح ایم بی بی ایس کررہا تھا اور سال اول کا طالب علم تھا ۔کرنل صاحب اس سے بہت پیارکرتے تھے ۔وہ ان کے ساتھ روزانہ شام کو سیر پر جاتا تھا اور دونوں باپ بیٹا ہمیشہ خاموش رہتے تھے کرنل صاحب نے اس کی موت کے بعد کہا تھا۔
’’اب احساس ہوا ہے اس کی خاموشی کتنے معنی رکھتی تھی‘‘۔
اس کی خودکشی کے بعد کرنل صاحب نے لکھنا چھوڑ دیا۔۔اور اگلے کئی سال تک ان کی کتابوں کا انتظارکرنے والے لوگ مایوس ہوتے چلے گئے۔۔خلیق کی خودکشی کرنے کی وجہ پسند کی شادی نہ ہونا تھی۔لوگ اس کی شخصیت کا موازنہ کرنل صاحب سے کرتے تھے مگرافسوس وہ باپ کی طرح بہادر نہ بن سکا۔محبت میں ناکامی کے بعد اپنی جان گنوادی اور والدین کو ہمیشہ کیلئے دکھ دے گیا۔کرنل صاحب کی بیوی بھی اس حادثے کے بعد بیماررہنے لگی۔کرنل صاحب نے اپنے نہ لکھنے کی وجہ بھی بتائی۔
’’حادثات کے بعد نہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اب لکھوں گا تو بھی اداسی رینگ آئے گی‘‘۔
اور انہوں نے کبھی اداس نہیں کیا کسی کو۔وہ تو بس ہنسانا جانتے تھے ۔۔
٭٭٭
کرنل شفیق الرحمن
شفیق الرحمن نو نومبر1920کو کلانور ضلع روہتک میں پیدا ہوئے۔یہ مشرقی پنجاب ،انڈیا کا ایک ضلع ہے۔شفیق صاحب کے دو بھائی اور ایک بہن تھی۔بڑے بھائی کا نام راؤ حفیظ الرحمن اور چھوٹے بھائی کا نام راؤعقیل الرحمن تھاجبکہ بہن کا نام جمیلہ بیگم تھا۔شفیق الرحمن بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔بڑے بھائی حفیظ الرحمن ریاست بہاولپور میں وزیر تعلیم وصحت رہے جبکہ چھوٹے بھائی عقیل واپڈا میں ایس ڈی او تھے۔
شفیق الرحمن کو والدہ نے ابتدا میں پڑھایا پھر 1925میں سینٹرل مسلم ہائی اسکول راجپوت میں داخل کروایا گیا جہاں انہوں نے پانچویں تک تعلیم حاصل کی۔شفیق صاحب کے والد عبد الرحمن محکمہ آبپاشی میں نوکری کرنے کے بعد بہاول پور میں ایس ڈی او تعینات تھے۔شفیق صاحب کا تعلق رانگڑ راجپوت گھرانے سے تھا۔اس لئے اپنے نام کے ساتھ راؤ لکھتے تھے۔ان کے دادا مردان خان ایک فوجی تھے جنہوں نے انگریزوں کی طرف سے بہت سی جنگوں میں حصہ لیا مگر 1857کی جنگ لڑنے سے انکار کردیا اور تمام تمغے واپس کر دئیے۔شفیق صاحب کو جب ٹھیک سے اردو پڑھنا آگیا تب سے ہی وہ مطالعہ کے شوقین تھے۔انہیں یہ شوق ماں سے ملا تھا جو باقاعدہ سے ’’سہیلی ‘‘’’تہذیب نسواں’’اور اس جیسے دوسرے رسائل کا مطالعہ کرتی تھیں۔شفیق صاحب خود بھی ان رسائل کا مطالعہ کرتے رہے تھے۔ 1930میں ریاست بہاول پور میں آباد ہونے کے بعد شفیق صاحب نے صادق ڈین ہائی اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا۔ 1932میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور اسکول میں اول آئے۔ریاست میں پانچویں پوزیشن لینے کے بدولت انہیں وظیفہ ملا۔
1932میں ہی انہوں نے لکھنا شروع کردیا تھا۔ان کی پہلی کہانی بچوں کے رسالے’پھول‘میں شائع ہوئی۔وہ چھوٹی چھوٹی مزاحیہ نظمیں لکھتے تھے جس میں ’آندھی‘ اور ’بارش‘ قابل ذکر ہیں۔ 1934میں انہوں نے سٹیٹ ہائی اسکول بہاول نگر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
یاد رہے کرنل شفیق الرحمن کے والد کا تبادلہ مختلف جگہوں پر ہوتا رہا تھا اس لئے کرنل صاحب کو کئی علاقے گھومنے کا اتفاق ہوا اور ان کے تعلیمی ادارے بھی بار بار تبدیل ہوئے۔ 
1936میں انہوں نے گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج روہتک سے انٹر مکمل کیا اور اسی سال انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہورمیں داخلہ لیا۔وہ لاہور میں ہی رہتے تھے چھٹیوں میں گھر جا کر اپنے مطالعہ کا شوق پورا کرتے رہے۔
شفیق صاحب کالج کے ایک ذہین اور ہردل عزیز طالب علم تھے۔کرکٹ ٹیم میں بطور فاسٹ باؤلر کھیلتے تھے۔اس کے علاوہ باکسنگ اورسوئمنگ میں نمایاں کارکردگی پر انہیں کلر زملے۔کارٹون نگاری اور مصوری کا شوق بھی تھا اور کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔شفیق صاحب نے اپنی جوانی بھرپور انداز میں گزاری ۔ان کی تحریروں میں ان دنوں کا تذکرہ بار بار ملتا ہے۔
٭٭٭
  2004 ،27 جولائی  
زندگی کبھی کبھی اتنی تلخ کیوں ہو جاتی ہے؟۔اس سے موت بہتر کیوں لگنے لگتی ہے؟۔انسانی نفسیات اور انسانی سوچ کبھی اس سوال کا جواب تلاش نہ کرسکی کہ آخر لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں۔یہ جذبات کی انتہا ہوتی ہے یا بزدلی۔کچھ معلوم نہیں۔
اس نے باپ کی زندگی میں بھی ایک بار خودکشی کی کوشش کی تھی۔پستول کی گولی جان تو نہ لے سکی مگر اس کی آنکھوں کی روشنی ضرور لے گئی۔امین الرحمن نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔وہ کرنل صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ایم بی اے کرکے بینک آف امریکہ میں جاب کرتا رہا مگر اچانک جاب چھوڑ کرراولپنڈی میں اپنے گھر میں محصور ہو گیا۔
اور یہ کرنل صاحب کی وفات کا چوتھا سال تھا۔وہ اپنی اندھی زندگی سے تنگ آچکا تھا۔۔اور موقع پا کر اس نے بھی خودکشی کرلی۔نجانے کیوں ایک مکمل زندگی گزارنے والے شفیق الرحمٰن اولاد کے حوالے بدقسمت ثابت ہوئے۔ایک بیٹے نے پہلے خودکشی کرلی۔دوسرے کی خودکشی کی کوشش ناکام رہی مگر وہ اندھا ہو گیا۔۔اور باپ کے جانے کے بعد اس نے بھی زندگی ختم کرلی۔
تین بیٹوں میں سے امین واحد بیٹا تھا جسے باپ کی طرح ادب سے دلچسپی تھی۔اس کی اپنی لکھی کتاب 2004میں شائع ہوئی جس کا نام ’صحراکاسفر‘تھا۔۔
خلیق اورامین کا سب سے بڑا بھائی عتیق ،سٹی آف امریکہ میں جاب کرتے ہیں۔ان کی شادی اپنی فرسٹ کزن سے ہوئی ۔
٭٭٭
پہلامجموعہ
شفیق صاحب کے خاندان میں اکثر لوگ فوجی تھے۔اس لئے شفیق کی طبیعت سنجیدہ اور اصولوں پر قائم رہنے والی شخص جیسی تھی ۔ایک ایسے شخص سے مزاح نگاری کی توقع رکھنا حیرت کا باعث تھی مگر حقیقت یہی تھی کہ وہ سنجیدہ افسانوں میں خود کو آزما کر دیکھ چکے تھے۔اس لئے انہوں نے اپنی شخصیت کے برعکس مزاح نگاری کوچنا۔وہ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہاؤس جاب کررہے تھے جب ان کی مزاحیہ تحریروں کا مجموعہ کرنیں منظرعام پر آیا۔اس سے پہلے ’نیرنگ خیال ‘میں وہ ایک مزاحیہ مضمون ’گدھے‘کے نام سے لکھ چکے تھے۔صرف بائیس سال کی عمر میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔یہ ادب کا وہ دورتھا جو موضوعات کے اعتبارسے نوجوان نسل کیلئے بوریت کا باعث بن رہا تھا۔ترقی پسندتحریک اپنے عروج پر تھی۔مسلمان اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ایسے مشکل دور میں چہروں پر مسکراہٹ لانا ایک بڑی بات تھی۔۔اور اس نوجوان نے ایسا کیا۔میڈیکل کی مشکل فیلڈ میں ہوتے ہوئے بھی وہ ادب سے دور نہ رہ سکے۔1942میں شائع ہونے والی کرنیں نے بہت سے لوگوں کی توجہ حاصل کی۔سستی جذباتیت سے دور،خوبصورت مناظر کو بیان کرنے کا ماہر ان کا قلم چل پڑا۔شفیق الرحمن ادب کی تاریخ میں داخل ہوئے تو چھا گئے۔شاید ایسے لوگوں کیلئے ہی یہ کہا جاتا ہے۔
’’وہ آیا ،اس نے دیکھا،اس نے فتح کرلیا‘‘۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ تب ادب چند مخصوص ذہنیت کے لوگوں نے محدود کردیا تھا۔اس لئے کرنل صاحب کو مزاح نگار کی بجائے لطیفہ نگار ثابت کرنے لگے لیکن پڑھنے والوں نے جب انہیں پڑھا تب ان کے دیوانے ہوتے چلے گئے۔۔
اکثر لوگوں کے خیال میں شاعر،محبت میں ناکام داستانیں تحریر کرنے والا لکھاری اور اس طرح کے کئی لوگ اجڑے حلیہ میں دکھائی دیتے ہیں مگر شفیق صاحب نے خود کو اردوادب کا شہزادہ ثابت کردیا۔ان کی نفاست اور ذوق نے ایک زمانے کو ان کا دیوانہ بنادیا۔انہوں نے اپنی شخصیت سے اپنی سنجیدگی اور اصول پسندی کا بدلہ اپنی تحریروں کے ذریعے لیا۔ 
شفیق صاحب کی تحریروں کو پڑھنے والا شخص ایک بات محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتا۔انہوں نے غم اور خوشی دونوں کو اس قدر ہلکے انداز میں تحریر کیا ہے کہ ان کے الفاظ مسکراہٹ کو چہرے کا حصہ بنا دیتے ہیں۔
کرنیں کا دیباچہ انہوں نے کرنل فیض احمد فیض کو لکھنے کا کہا مگر ان کی مصروفیات کی وجہ سے یہ دیباچہ حجاب امتیازعلی سے لکھوایا گیا۔کرنیں میں درج ذیل افسانے شامل ہیں۔
1۔فاسٹ باؤلر 2۔شکست 3۔کرنیں 4۔گرمیوں کی چھٹیاں 5۔لیڈی ڈاکٹر 6۔وسعت 7۔ثروت
٭٭٭ 
1942میں ان کے قریبی دوستوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی تو شفیق صاحب بھی برٹش انڈیا آرمی میڈیکل سروس میں چلے گئے۔بقول ان کے۔’’میرے سارے آباؤ اجداد فوجی تھے۔لڑنابھڑنا ہی ہمارا پیشہ تھا اس لئے میرا ڈاکٹر بننا باعث حیرت تھا ،فوج میں جانا نہیں۔‘‘۔شفیق صاحب نے جب فوج میںشمولیت اختیار کی تو دوسری جنگ عظیم کی آگ نے دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔انہوں نے برما،اطراف شمالی افریقہ اور کچھ اورممالک میں خدمات سرانجام دیں۔
1947میں شفیق صاحب کی تبدیلی پاکستان آرمی میڈیکل کور میں ہو گئی جہاں انہوں نے مختلف عہدوں پر کام کیا۔انہوں نے آزاد کشمیر کے محاذ پر بھی کام کیا۔
1951میں پاکستانی حکومت نے انہیں مزید تعلیم کیلئے برطانیہ بھیج دیا۔1953میں انہوں نے ڈی ٹی ایم ایچ لندن یونیورسٹی سے کیا۔
1965 کی جنگ میں چونڈہ کے مقام پر شفیق صاحب زخمیوں کاعلاج کرتے رہے۔
1957میں شفیق الرحمن کی شادی سینتیس برس کی عمر میں تب ہوئی جب وہ لیفٹنینٹ کرنل کے عہدے پرترقی پاچکے تھے۔ان کی شریک حیات امینہ ملک ان کے دوست شوکت حسن کی بیوی تھیں اور گورنمنٹ کالج گرلزسیٹلائٹ ٹاؤن میں پڑھاتی تھیں جہاں سے وہ پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔جنرل ایوب ،کرنل صاحب کی شادی میں شریک تھے اور پہلی سلامی بھی انہوں نے ہی دی تھی۔
امینہ بیگم کو خون کی زیادتی کا مرض تھا ۔پندرہ اگست 2002کو وہ انتقال فرما گئیں۔ 
1974میں بری فوج چھوڑ کر شفیق صاحب بحری فوج میں میں شامل ہو گئے۔
چودہ دسمبر 1980 کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انہیں اکادمی ادبیات کاچیئرمین بنادیا گیاجہاں انہوںنے دن رات محنت کرکے اکادمی ادبیات کوترقی دی۔
1986میں پروفیسر پریشان خٹک کو چارج دے کر وہ اکادمی ادبیات سے الگ ہو گئے۔
٭٭٭
مزاح نگاری اور تصانیف
اردو ادب میں مزاح نگاری کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور ادب کی تاریخ میں ہم کئی بڑے مزاح نگاروں کو پڑھتے بھی رہے ہیں۔۔لیکن جس مزاح نگار نے مزاح کو ایک نیا روپ دیا اس کا نام کرنل شفیق الرحمن تھا۔کرنل شفیق الرحمن کی تحریروں میں ایک خیالی دنیا ہے اور اس کے چند کردار مستقل ہیں۔ننھا،مقصود گھوڑا ،روفی عرف شیطان،رضیہ،امجد،بڈی،حکومت آپااور جج صاحب کے کرداروں کا ذکر بار بار ملتاہے۔اس خیالی دنیا کے کرداروں کے کچھ واقعات حقیقی بھی ہیں۔کرنل صاحب اپنی کہانیوں کے خود ہیرو ہیں اور ایک ایسے نوجوان کے کردار میں خود کو پیش کرتے ہیں جو زندگی کی خوبصورتی کو کھل کر جینا چاہتا ہے۔۔اس کے جذبات خوبصورت ہیں ۔
ان کے مزاح میں سادگی پائی جاتی ہے۔وہ لفظوں کے ہیرپھیر کی بجائے سادہ جملوں سے ایسا مزاح لکھتے تھے کہ پڑھنے والاان کی اس صلاحیت کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجاتا۔
کرنیں کے بعد ان کی مزید تصانیف منظر عام پر آئیں جن میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔

1943-1شگوفے

یہ ان کتابوں میں سے تھی جو بے حد پسند کی گئیں۔اس میں دیباچہ نہیں۔
لہریں2 - 1944
اس مجموعے کا انتساب انہوں نے اپنے نام کیا ہے ۔اس میں ٹوٹل آٹھ مضامین ،ایک افسانہ اور ایک پیروڈی شامل ہے۔
پرواز 3 _1945
ان کا چوتھا مجموعہ پرواز ہے جس کا انتساب خالد احمد کے نام ہے۔
مدوجزر 4-1946
مدوجزر کے حوالے سے مشہور ہے کہ شفیق الرحمن صاحب کی سچی محبت کی کہانی پر مشتمل ہے۔مس ج سے ان کی محبت پورے آٹھ سال رہی مگر رشتے کی درخواست رد کر دی گئی۔مدوجزر میں آٹھ افسانے شامل ہیں اور ایک انشائیہ بھی لکھا گیا ہے

حماقتیں 5_1947

مزاح نگاری کی دنیا میں یہ کتاب بہت مشہور ہے۔اس میں دیباچہ کے طور پر لنکن کا ایک مقولہ درج ہے۔اس میں ایک مضمون،افسانے اور پیروڈی شامل ہے۔
پچھتاوے 6 1948
اس مجموعے کو محمد افض فاروقی کے نام کیا گیا ہے۔اس میں کل چھ افسانے شامل ہیں۔
مزید حماقتیں 7-1954
برطانیہ چلے جانے کی وجہ سے مسلسل کئی سال تک بہترین مجموعے پیش کرنے والے کرنل صاحب کا یہ مجموعہ چھ سال بعد شائع ہوا۔یہ منفرد تصنیف ہے اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔چار مزاحیہ مضمون اور افسانے اس میں شامل ہیں۔

انسانی تماشا 8-1956
یہ ولیم سروین کے نام’Human Comedy‘کا ترجمہ ہے۔
دجلہ 9-1980
افسانوی اندازمیں لکھا گیا یہ سفرنامہ انسانی تماشا کے چوبیس سال بعد آیا۔

دریچے 10-1989

اس مجموعے میں ویانا میں شائع ہونے والے ان کے افسانے شامل ہیں۔
٭٭٭
شخصیت اوراعزاز
شفیق صاحب دراز قد،چوڑا سینہ اور سرخ وسپید رنگت کے مالک شخص تھے۔وہ پاکستانی کم اور یورپین زیادہ لگتے تھے۔۔کرنل صاحب نظم وضبط پر پابند رہنے والے شخص تھے۔روزانہ ورزش کرتے تھے ۔شروع میں انہیں سگریٹ نوشی کی عادت تھی جو عمر کے بڑھنے کے ساتھ ترک کردی۔کتابیں اکٹھی کرنے کا زیادہ شوق نہ تھا جو پڑھ لیتے وہ دوستوں کو بھیج دیتے تھے۔
ان کے لکھنے کے حوالے سے دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ ہمیشہ کھڑے ہو کر لکھتے تھے۔ان کے خیال میں اس طرح ان کا دماغ زیادہ حاضر رہتا تھا۔انہوں نے کئی ممالک کی سیر کی اور دنیا کے مختلف معاشروں کا جائزہ لیا۔انہیں انگریزی ادب سے لگاؤ تھا۔
کرنل صاحب کو انٹرویو دینا پسند نہیں تھا۔وہ فوجی طبیعت کے بندے تھے۔۔اور آخری وقت تک جرنیل رہے۔وہ ادبی محفلوں میں بہت کم شرکت کرتے تھے۔ان کے بہت کم دوست تھے۔
کرنل صاحب اور امینہ بیگم نے کامیاب ازدواجی زندگی گزاری ہے البتہ بچوں کی تربیت میں شاید دونوں کے اصول پسند طبیعت کی وجہ سے کمی رہ گئی تھی جس کی وجہ سے دو بیٹوں نے خودکشی کرلی۔
خیام میں ان کا افسانہ چاکلیٹ پڑھ کر مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے مزاح لکھنے کا فیصلہ کیا۔اس کے علاوہ بھی کئی ادیب ان سے متاثر تھے۔
حکومت پاکستان نے کرنل صاحب کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا۔
٭٭٭
وفات
کرنل صاحب وفات سے چند دن قبل اپنے دوست محمود الحسن کی کلینک پر روزانہ دو گھنٹے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے۔19مارچ2000کو سی ایم ایچ ہسپتال راولپنڈی میں ان کا انتقال ہوا۔ان کی موت کی وجہ خون منجمد ہونے کی بیماری تھی۔ان کا جنازہ ریس کورس گراؤنڈ میں پڑھایاگیا اور انہیں آرمی قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا۔۔
اردوادب نے دوبارہ کبھی کوئی کرنل شفیق الرحمن نہیں دیکھا۔۔۔
٭٭٭٭
اعتزاز سلیم وصلی

Comments




POST A COMMENT