کرکٹ ورلڈ کپ 1999

2019-05-27 10:25:31 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:1018

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 بیس سال بعد انگلینڈ میں ہو رہا ہے۔اس سے پہلے 1999کے ورلڈ کپ کو کرکٹ کا مشہور ترین ورلڈ کپ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس ورلڈ کپ نے فیصلہ کیا تھا کون مستقبل میں ونر ہو گا کون لوزر اور کون چوکر۔۔اس ورلڈ کپ کی ونر ٹیم کے کپتان سٹیواہ کا بولا گیا ایک جملہ بہت مشہور ہوا جو اس نے سپرسکس کے میچ کے دوران افریقن بلے باز ہرشل گبز کو بولا تھا۔وہ جملہ کچھ یوں تھا’’مائی سن یو مائٹ ہیو ڈراپ دا ورلڈ کپ‘‘۔اس جملے کے پیچھے کیا کہانی ہے۔آئیں سناتے ہیں آپ کو۔

سپرسکس کا ساؤتھ افریقہ کے خلاف ہونے والا یہ میچ آسٹریلیا کیلئے جیتنا ضروری تھا کیونکہ اگر وہ ہار جاتے تو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جاتے۔اس میچ سے ایک رات پہلے جب ٹیم میٹنگ کے دوران کوچ جیف مارش نے اپنی بات مکمل کی تو اس نے باری باری پوری ٹیم کی طرف دیکھا اور پوچھا۔’’کوئی بات مزید جو پلاننگ میں شامل کرنا چاہیں؟‘‘باقی سب خاموش رہے مگر شین وارن نے ہاتھ کھڑا کیا اور بولا’’اگر تم میں سے کسی کا کیچ بھی گبز پکڑے تو تب تک واپس نہ جانا جب تک ایمپائر کی انگلی کھڑی نہ ہو‘‘سب لوگوں نے حیرت سے شین وارن کی طرف دیکھا اور وضاحت کا کہا مگر وہ یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔

اگلے دن ساؤتھ افریقہ نے گبز کی سینچری کی مدد سے 271 رنزبنائے جس کے جواب میں آسٹریلین مشکلات کا شکار ہو گئے اور پچاس کے اسکور پر ان کی تین وکٹیں گر گئیں لیکن سٹیواہ وکٹ پر جم گیا۔وہ چھپن کے اسکور پر کھیل رہا تھا جب اس کا کیچ سیدھا گبز کے ہاتھ میں گیا۔کیچ تھامنے کے بعد شین وارن کی بات سو فیصد درست ہوئی۔گبز نے خوشی منانے کی کوشش میں کیچ ڈراپ کر دیا اور سٹیواہ اس کے پاس جا کر بولا’’مائی سن یو مائٹ ہیو ڈراپ دا ورلڈ کپ‘‘دنیائے کرکٹ میں یہ جملہ بے حد مشہور ہوا۔آسٹریلین ٹیم سٹیواہ کی سینچری کی مدد سے جیت کر سیمی فائنل میں پہنچی اور افریقہ کے ساتھ ہی دنیا کا بہترین ون ڈے میچ کھیلا جو برابر ہوا مگر سپرسکس کا میچ جیتنے کی وجہ سے آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا اور ورلڈ کپ جیت گیا۔

 

Comments




POST A COMMENT