نساء بمقابلہ نسوانیت

2019-06-18 12:01:21 Written by ماہ رخ ارباب

views:691

نساء بمقابلہ نسوانیت 

 

مامااااااا! ادھر آئیں"

پوسٹر مارکر کی نب تیز تیز چل رہی تھی۔۔۔

اور اس کے ارد گرد بکھری سفید شیٹس کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاتھا۔۔

جب اچانک اس کی فتنہ پرور (بقول اس کے)بڑی بہن نے کمرے میں قدم رکھا ۔۔۔

اگر وہ انہماک سے سر جھکائے بینر لکھنے میں مصروف نہ ہوتی تو یقینا انہیں چھپانے کا کچھ بندوبست ضرور کرتی ۔۔مگر اب تو نہ صرف وہ دیکھے جاچکے تھے بلکہ ماما کو دکھائے بھی جاچکے تھے۔۔۔

ماما، جو باہر بیٹھی کام والی ماسی کے دکھڑے سن رہی تھیں۔ ثمن کی بھیانک چیخ سن کر تیزی سے اندر آئی تھیں اور کمرے میں جا بہ جا بکھرا "انقلاب" دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی تھیں۔

ایک ایک بینر پر لکھا ہوا نعرہ معاشرے کے مردوں کے منہ پر ایک طمانچے کی حیثیت رکھتا تھا۔(یہ بھی اس کا اپنا خیال تھا جو درحقیقت وہ کالج سے ایڈاپٹ کرکے آئی تھی)

 

اپنا کھانا خود نکالو۔۔۔۔

اپنی کتابیں خود ترتیب سے رکھو۔۔۔ 

اپنی شرٹس خود پریس کرو۔۔۔۔

اپنی تعریفیں خود کرو۔۔۔۔۔

 

ایک ایک نعرے میں اس نے اپنے دل کا درد پرو کر رکھ دیا تھا ۔۔

لیکن وہ ماما ہی کیا جو اس کے خیالات سے متفق ہوجائیں ۔۔ نتیجتاً اب وہ اپنے بینرز کے درمیان سر جھکائے کھڑی ماما کی ڈانٹ سن رہی تھی۔

"انعم!یہ سب کیا ہے بیٹا؟یہ تم کس قسم کی ایکٹیویٹیز میں بزی ہوگئی ہو ؟اور یہ عجیب قسم کے بینرز ؟یہ سب تو نہیں سکھایا میں نے تمہیں..."

ماما نے کچھ حیرت اور افسوس سے نظر چہار اطراف پھیلائی۔

"ماما میں جانتی ہوں یہ سب اس نے کس کے لئیے لکھا ہے ...اور کس کے مشورے سے لکھا ہے "ثمن نے شرارت سے آنکھیں گھماتے ہوئے بتایا جو کافی دیر سے منہ پر ہاتھ رکھے ہنسی روک رہی تھی۔

"تمہارا کہنے کا مطلب ہے یہ اس نے کسی کو مخاطب کرکے لکھاہے ؟"ماما کی حیرت ناقابل بیان تھی۔

"ہاں جی ۔۔

یہ تمام باتیں مس انعم سجیل احمد نے شہریارکے لئیے لکھی ہیں۔۔۔کیونکہ ویلنٹائنز ڈے پر وہ اس کا مطلوبہ گفٹ تو لے آیا تھامگر ریسٹورنٹ میں ٹریٹ دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھاکہ اسکے پاس اتنی پاکٹ منی نہیں ہے۔ اور پھپھو بھی ناراض ہونگی ۔۔۔۔بس اسی بات کا ذکر محترمہ نے اپنی باغی دوست ماریہ سے کردیا۔۔۔۔جس پر ماریہ بی بی نے انہیں مشورہ دیا کہ وومن ڈے پر بینرز بنائے جو کئی مہینے سوشل میڈیا پر گردش کریں گے ۔دیکھنا کیسے تلملاتے ہیں شہریار صاحب ۔۔۔

تو یہ ایک انتقام کی چھوٹی سی کاروائی تھی ماما"

ثمن نے مزے لے لے کر انعم کی شامت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی ۔۔

اس کے بعد ماما نے جو کچھ سنایا اسے سن کر انعم کو اپنے اگلے پچھلے سارے دکھ بھول گے یاد رہی تو بس ماما کی صلواتیں ۔نتیجتا وہ ثمن سے خفا ہوکر کتنی ہی دیر بستر پر اوندھی ہوکر آنسو بہاتی رہی ۔آخر کار ثمن کو ہی اسے منانا پڑا۔۔۔اصل دکھ تو اس ریلی میں شریک نہ ہو پانے کا تھا جس کے انعقاد سے بقول ماریہ مظالم کی چکی میں پستی خواتین کو ان کے حقوق مل جاتے۔۔

"انعم !ادھر دیکھو"ثمن نے اس کا کندھا ہلایا تو وہ آنسو پوچھتی سیدھی ہو بیٹھی۔

"یار شہریار اتنا تو تمہارا خیال رکھتا ہے ۔اب اگر وہ تمہیں ٹریٹ نہیں دے پایا تو یہ بھی سوچو ابھی وہ خود اسٹوڈنٹ ہے ۔۔یہ دیکھو اس نے کتنی سمجھداری کا مظاہرہ کیا وہ تمہارا منگیتر اور کزن سہی ۔۔مگر ابھی سے تمہارا اسکے ساتھ لور لور پھرنا مامی کو پسند نہیں آئے گا۔۔۔تومعاف کردو بیچارے کو"

ثمن نے اپنی طرف سے انعم کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اپنی بہن کی سوچ کے زاویوں نے اسے مضطرب سا کردیا تھا۔

"ثمن وہ پوسٹر میں نے شہریار کے لئیے نہیں لکھے تھے ۔۔۔میں اس ریلی کے ذریعے پاپا کو میسج دیناچاہتی تھی۔۔کہ ہم ان کے بنا بھی زندہ ہیں ،خوش ہیں ۔۔ان کی ضرورت نہیں ہے ہمیں ۔۔۔کیسے وہ ہمیں پیدا کرکے ہم سے لا تعلق ہوکر اپنے دوسرے بچوں میں مگن ہوگئے ہیں ۔۔کتنی مشکل سے ماما ہماری تعلیم کے اخراجات اٹھاتی ہیں۔

اس دن جب مجھے فیس پے کرنی تھی اور انکو انکی بوتیک سے پیسے نہیں ملے تھے ۔۔۔کیسے وہ سر تھامے بیٹھی تھیں۔۔مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا ""

وہ بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ سب کہتی چلی گئی۔تو ثمن نے اس کا چہرہ دو انگلیوں سے تھام کر اوپر اٹھایا ۔

"تو تم نے کسی ایک بینر پر بھی کیوں نہیں لکھا کہ 

جن بچوں کو پیدا کرو انہیں اپنا نام دو ۔۔۔۔

جنہیں اپنا نام دیا ہے ان کے اخراجات پورے کرو ۔۔۔

مجھے تو ایسا کوئی بینر نہیں نظر آیا ؟

اور یہ مت بھولو کہ وہاں جو پاپا کو ہمارے اخراجات اٹھانے سے روکتی ہے وہ بھی ایک عورت ہی ہے ہماری اسٹیپ مدر"ثمن نے لتاڑا تو وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی۔

انعم سجیل احمد تھی تو ایک ذہین طالبہ مگر اس کے اندر مقید باغی روح اکثر و بیشتر اسے اس قسم کے انقلابی" سماج سدھار" اقدامات کے لیے اکساتی رہا کرتی تھی ۔

صفیہ کریم جو کبھی صفیہ سجیل ہوا کرتی تھیں اپنی دوبیٹیوں کے ساتھ بمشکل زندگی کی گاڑی کھینچ رہی تھیں سجیل احمد کی دوسری شادی کے بعد صفیہ نے اگر اخراجات کے لئیے رقم مانگنے میں سستی دکھائی تو سجیل احمد نے دو قدم آگے بڑھتے ہوۓ رقم کی ترسیل بالکل ہی روک دی ۔یہ سوچے بنا کہ گھر کے خرچے، اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والی بچیوں کے تعلیمی اخراجات کیونکر پورے ہونگے ۔

حالات کے دن بہ دن سکڑتے شکنجے سے بوکھلا کر صفیہ کریم نے اپنے ہنر سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی۔اہنی ایک دوست کے توسط سے وہ ایک اچھی بوتیک میں بطور ہیلپر لگ گئیں ۔یہ اور بات کہ ہیلپر کی تنخواہوں وصول کرنے والی صفیہ سے کافی ساے ڈریسز کی ڈیزائننگ سے لے کر ان کی تیاری تک کا کام لیا جاتا تھا ۔۔۔اکثر ان کے مسائل کو پس پشت ڈال کر پیمنٹ روک لی جاتی جو وہ سمجھنے کے باوجود اپنی کم مائیگی اور صلح جوفطرت کے سبب نظر انداز کردیا کرتی تھیں۔کچھ یوں بھی کہ بوتیک کی مالکہ ایک خاتون تھیں اور صفیہ کے لئیے وہاں کام کرنا نسبتا آسان تھا ۔

               ****************

وہ دونوں پیر سمیٹے صوفے پر بیٹھی بے دلی سے فون پر آۓ دوستوں کے میسجز دیکھ رہی تھی ۔سامنے پڑے اخبارات کل ہوئی وومن مارچ پاسٹ کی رنگین تصاویر سے بھرے پڑے تھے ۔جس میں دوپٹے سے بے نیاز خواتین دوپٹے کے مضمرات بتاتی بہت دلچسپ نظارہ پیش کر رہی تھیں۔ان کی توقع کے مطابق ہر سوشل سائٹ پر وہی راج کر رہی تھیں۔اچھے انداز میں یا برے انداز میں ،بد ہی سہی مگر نام ہو رہا تھا۔

"کیا ہورہا ہے؟"ثوبیہ کالج سے واپسی پر دھپ سے اس کے برابر بیٹھتے ہوئے بولی ۔وہ خود تو ریلی میں شریک نہ ہوسکنے کی شرمندگی کے مارے کالج ہی سے مفرور تھی۔

"کچھ نہیں۔۔۔دیکھو تو سہی ہر طرف کل والی ریلی کا چرچاہے

کتنے کمنٹس ہیں لوگوں کے ۔۔"

"کمنٹس نہیں ہیں کوسنے ہیں کوسنے ...دیکھو تو سہی ۔۔۔شکر کرو تم نہیں گئیں ورنہ ماموں دیکھتے تو کتنا برا لگتا انہیں انہوں نے ہمیشہ ہمارا کتنا خیال رکھا ہے ۔۔۔لولز اسے تو دیکھو, تمہاری کلاس فیلو ہے نا ہاہاہاہاہا یہ وہی ہے نا جس کا حال ہی میں بریک اپ ہوا ہے ؟اس کا غصہ بنتا ہے بھئی"

ثمن دلچسپی سے تصاویر دیکھتے ہوئے ایک ایک پرتبصرہ بھی کر رہی تھی۔

"چھوڑو انہیں جاؤ تم"انعم نے غصے سے اس سے اخبار جھپٹا ۔

"اوہو غصہ "ثمن اسے چھیڑتی ہوئی اندر چلی گئی۔

"بیگم صاحبہ !ہر روز مار پیٹ ہر روز نشہ کرکے آنا اور دوسرے دن کیلئیے پیسے چھین لینا ۔۔میرے بچے بیچارے بھوکے سوتے اور وہ ان پیسوں سے نشہ خرید لیتا۔۔۔میری ساس جو بڑی بڑی باتیں کرکے مجھے بیاہ کے لےگئی تھی ۔۔اب ماتھے پر آنکھیں رکھے مجھے پہچانتی ہی نہیں ۔۔کہتی ہے تمہارا مرد ہے تم سنبھالو۔۔۔کوئی ان ماؤں سے پوچھے کہ اپنے نشئی لڑکوں کے لئیے رشتے ڈھونڈنے کیا سوچ کر نکلتی ہیں۔۔کیا لڑکیوں کے پاس جادو کی چھڑی ہے جو نشہ ماں نہ چھڑا سکی وہ بیوی چھڑادے گی ۔اپنی بلا میرے سر ڈال کر بڑھیا آرام سے ہے۔سچ ہے جی عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔میں نے بھی کل خوب کٹ لگائی ہے باجی ۔۔منے کا بلا توڑ دیا اس کی ٹانگوں پر ۔۔اب گھر آنا بھول جائے گا منحوس۔۔""

کام والی سکینہ آج پھر اپنی کہانی سناتے ہوئے آبدیدہ تھی۔لیکن انداز میں ایک گوناگوں سکون بھی تھا ۔کہ اب اس کی محنت کی کمائی کم از کم اس کے بچوں کے کام آۓ گی۔

صفیہ بیگم سے جس حد تک ممکن ہوتا اپنی محدود آمدنی میں سے سکینہ کی مدد کرتی رہتیں ۔اس وقت بھی وہ اس کے آنے سے پہلے ہی کافی کچھ سمیٹ چکی تھیں۔تاکہ اس کا بوجھ ہلکا ہوجاے۔

اچانک ان کی نگاہ ٹیبل پر رکھے 

اخبار پر پڑی ۔۔

وہ عورت مارچ کی رنگین تصاویر تھیں ایک تصویر پر ان کی نگاہ رک گئی۔

"انعم ادھر آؤ "

"جی ماما "

" تم اس ریلی کی بات کر رہی تھیں؟اس میں جانا تھا تمہیں؟"

٬جی ماما جانا تو تھا "

"تم جانتی ہو یہ جو اس ریلی کو لیڈ کرنے والی خاتون ہیں یہ کون ہیں؟

یہ میری بوتیک کی اونر ہیں۔۔وہی اونر جو مجھ سے ڈیزائنرز کا کام لیتی ہیں اور ایک نگران جتنی پیمنٹ کرتی ہیں۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں گھر کی واحد کفیل ہوں ۔" صفیہ بیگم نے حقارت سے اخبار ٹیبل پرپٹخ دیا ۔

"انعم اگر تم واقعی خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنا چاہتی ہو تو وعدہ کرو کبھی کسی کا حق نہیں مارو گی۔۔نہ کسی بوتیک کی اونر بن کر نہ ہی کسی کی دوسری بیوی بن کر۔نہ کسی ملازمہ کی مالکن بن کر ۔۔نہ ہی کسی کی ساس بن کر ۔۔وعدہ کرو "وہ سختی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے عجیب کیفیت میں اسے جھنجھوڑتے ہوۓ کہہ رہی تھیں ۔

٬ماما !کیا ہوگیا ہے ؟میں ایسا کچھ نہیں کروں گی ماما ۔پلیز ریلیکس ہوجائیں۔"وہ نرمی سے ان کے ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتی ہوئی بولی تو صفیہ بیگم خود کو کنٹرول کرتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئیں۔مسلسل معاشی تگ و دو ان کے اعصاب کو بری طرح متاثر کرنے لگی تھی شاید۔

*************

"ثمن مجھے گول گپے کھانے ہیں ۔۔"وہ کتابوں کے اسٹال کے سامنے کھڑی گول گپے کے اسٹال پر رال ٹپکاتے ہوے بولی۔

گول گپے اور دوسرے کھانے پینے کے اسٹالز تک پہنچنے کے لئیے کافی پیدل چل کر اوپرپلیٹ فارم تک جانا پڑتا ۔اور وہ کسی طور وہاں سے ہٹنے کے لئیے تیار نہیں تھی۔لہذا انعم کو تنہا ہی اوپر جانا پڑا۔بک فئیر میں ان کے ساتھ آنے والے باقی اسٹوڈنٹ اس وقت سب کہیں ہجوم میں گم تھے۔

 تھوڑی دیر میں وہ دوبارہ ثمن کے پاس کھڑی اسکا بازو ہلا رہی تھی۔چہرے پر جیسے زلزلے کے آثار تھے۔انکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی۔

_ثمن!اس لڑکے نے مجھے برے طریقے سے ٹچ کیا"وہ آنسو بھری آنکھوں سے ایک جانب اشارہ کرتے ہوے بولی۔وہ دو تین لڑکے ایک ساتھ کھڑے تھے صورت سے ہی لوفر نظر آتے وہ لڑکے یقینا یہاں کتابوں کی چاہ میں نہیں آئے تھے۔

"کیا ؟کون کیا کہہ رہی ہو؟"ثمن اول تو اس کی بات سمجھی ہی نہیں اور جب سمجھی تو جیسے کوئی گرم سیال سا اس کی ریڑھ کی ہڈی سے ہوتا ہوا دماغ تک پہنچا تھا۔

"چلو میرے ساتھ ۔۔"اس نے انعم کا بازو پکڑا اور اسے کھینچتی ہوئی اسی طرف لپکی جہاں وہ مشٹنڈا کھڑاہوا آس پاس گزرتی لڑکیوں کو گھور رہا تھا ۔

"کون سا تھا؟"اس نے وہاں پہنچ کر انعم سے پوچھا ۔۔۔

انعم کی تو یہ صورتحال دیکھ کر جیسے سٹی ہی گم تھی۔

اب وہ تینوں لوفر خاموش کھڑے کچھ پریشانی سے انہیں دیکھ رہے تھے انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑکی کون ہے کیونکہ لڑکیوں کا جسم نوچتے وقت وہ ان کا چہرہ نہیں دیکھتے تھے۔

"یہ ۔۔یہ والا "انعم نے لرزتے ہوے ایک کی جانب اشارہ کیا۔

گھسی ہوئی جینز ۔نیلی چیک شرٹ کے کھلے گریبان سے جھانکتی رنگ برنگی زنجیریں اور سرخیاں چھلکاتے دانت وہ صورت سے ہی آوارہ نظر آرہا تھا۔

"بہت شوق ہے نا تمہیں مردوں کی برابری کا ۔۔تو یہ آنسو بہانا بند کرو۔۔۔تمہاری جگہ کوئی مرد ہوتا روتا ہوا میرے پاس نہیں آتا اس طرح۔۔وہیں انہیں چار چوٹ کی مار دیتا۔ "ثمن نے اچانک گلے سے لپٹا اسکارف نکال کر لوفر لڑکے کے گلے میں ڈالا اور جھٹکے سے آگے کھینچا ۔۔وہ دبلا پتلا جوانی کے نام کو شرماتا ہوا بہادر اس کے ساتھ گھسٹتاہوا چلاگیا ۔

ثمن نے اسکارف چھوڑا تو وہ اپنی ہی جھونک میں لڑکھڑاتا آگے نکل کر منہ کے بل جاگرا۔

"وہ اسکے چہرے پر ٹھوکریں برساتی ہوئی مسلسل اسے للکار رہی تھی اور وہ اپنا چہرہ بچانے کی کوشش میں لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔اس کے دوست پہلے ہی وہاں سے غائب ہوگئے تھے۔

"کیا ہوا؟ کیا کیا ہے انہوں نے؟ کیا ہوا بہن جی؟"سیکیورٹی والوں نے لڑکے کو بمشکل اس کے جنون سے بچاتے ہوے کھڑا کیا اور اب لڑکے کو گدی سے پکڑے پوچھ رہے تھے ۔

"لے جائیں اسے ۔اور ایسا دھوئیں اگلی بار لڑکیوں کی جانب دیکھنا بھول جائے"

وہ پھنکاری۔

سیکیورٹی اسے گھسیٹتی ہوئی لے گئی ۔تو انعم کی جان میں جان آئی۔

"ثمن !اگر وہ لڑکے باہر ہمیں نقصان پہنچاتے تو؟"

انعم کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی تھی۔واپسی کے سفر میں اس نے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو اسے بہت دیر سے تنگ کر رہا تھا۔

"اول تو کمینے لوگ اتنے بہادر ہوتے نہیں کہ کسی کے سامنے لڑنے کے لئیے کھڑے ہوجائیں۔اور اگربالفرض ایسا ہوتا تو بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ایسے موقع پر خواتین کا ساتھ دیتے ہیں مردوں کا نہیں."وہ مسکرائی

"انعم میں عزت نفس پر کبھی سودا نہیں کرتی چاہے مجھے اس کے حصول کے لئیے چوٹ بھی آ جاتی ۔یاد رکھو حق چھیننے کے لئیے سخت بننا پڑتا ہے ۔رونے سے حق نہیں ملتا نہ ہی گالی دینے سے۔تمہیں معلوم ہونا چاہئیے تمہیں کیا چاہیے اور کس سے چاہیے ۔۔۔

اور ہاں میں نے پاپا سے خرچہ لینے کے لئیے انہیں قانونی کاروائی کی تنبیہہ کردی تھی ۔۔اور آج انکے آفس کا پیون ایک لفافے میں کچھ رقم دے گیا ہے۔۔امید ہے یہ رقم جلد ہی دگنی کروا لوں گی"ثمن نے ایک آنکھ دبائی تو انعم فخر اور محبت سے اپنی بہادر بہن کو دیکھنے لگی۔

Comments

Farhana Posted on 2019-06-18 18:47:18

Buht achi tehreer




POST A COMMENT