زودیاک،قاتل

2019-08-01 10:00:00 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:697

زودیاک،قاتل

 

شمالی کیلیفورنیا کے شہر بنیسیا کے ہرمن روڈ پر رات گیارہ بجے زیادہ رش نہ تھا۔ ڈیوڈ فیراڈے نے اپنی مما کی ریمبلر ٹرن آؤٹ کے قریب پارک کی اور مسکراتے ہوئے اپنی ساتھی بیٹھی جینسن کی طرف دیکھا۔یہ ان کی پہلی ڈیٹ تھی۔وہ ہائی اسکول کے اسٹوڈنٹس تھے اور کرسمس سے پہلے بیس دسمبر کی رات کو ہونے والے ایک کنسرٹ میں شرکت کا پروگرام بنا کر گھر سے نکلے تھے۔اس سے پہلے وہ ایک مشترکہ دوست اور اس کے بعد ریسٹورنٹ سے ہو کر اس ٹرن آؤٹ پر پہنچے تھے جو لو پوائنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا۔یہاں شہر بھرسے جوڑے تفریح کیلئے آتے تھے۔اس وقت شدید سردی کی وجہ سے زیادہ رش نہ تھا۔ابھی وہ کار میں ہی موجود تھے کہ ان کے پیچھے ایک اور کار آ رکی۔ان دونوں کا دھیان اس کی طرف بالکل نہیں تھا۔کار سے ایک شخص باہر نکلا اور ان کی طرف چل دیا۔وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے جب اس نامعلوم شخص نے ہاتھ میں پکڑے پسٹل کو کار کے شیشے سے انہیں دکھایا۔

’’نیچے اترو‘‘وہ غرایا۔ڈیوڈ اور جینسن کا خوف کے مارے برا حال تھا۔

’’کک کون ہو تم؟‘‘ڈیوڈ ہکلایا۔

’’نیچے اترو، بتاتا ہوں‘‘اس نے پسٹل سے اشارہ کیا۔ڈیوڈنے جیسے ہی کار کا دروازہ کھولا۔۔گولی اس کے سر میں لگی۔وہ نیچے گر گیا۔جینسن کی چیخ گونجی مگر کوئی سننے والا نہ تھا۔اجنبی جینسن کو گھسیٹ کر کار سے دور لے آیا اور اس کا اگلا نشانہ جینسن بنی تھی۔۔اپنا کام نمٹا کر وہ پرسکون انداز میں واپس کار میں بیٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔

اس کیس نے پورے شہر میں تہلکہ مچا دیا کیونکہ دو اسٹوڈنٹس کو مارنے والے قاتل کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔

                               ٭٭٭

آدھی رات سے کچھ دیر پہلے چار جولائی 1969کی تاریخ کو ڈیرلن فیرن اور مائیکل میگیو کی گاڑی ویلجو شہر کے بلیو سپرنگ پارک میں داخل ہوئی۔یہ پارک ہرمن روڈ سے ساڑھے چھ کلو میٹر دور تھا۔جس وقت ان کی کار پارک میں داخل ہوئی،اس کے ساتھ ہی ایک کار ان کا تعاقب کرتی ہوئی وہاں پہنچی۔جیسے ہی ان کی کار رکی ،دوسری کار آگے بڑھ گئی۔یہ جوڑا باتوں میں مصروف تھا جب دس منٹ بعد دوسری کار واپس آ گئی۔کار ڈرائیور نیچے اتر ا اور ان کے پاس آ گیا۔اس کے ہاتھ میں نائن ایم ایم تھا۔اس نے بغیر کوئی بات کیے ان پرگولیاں برسانا شروع کردیں۔فیرن موقع پر دم توڑ گئی مگر مائیکل پر چلائی گئی گولیاں کار کے مختلف حصے میں لگیں۔صرف ایک گولی اس کی چھاتی میں گھس گئی۔وہ کراہ رہا تھا۔۔قاتل جو اپنا کام مکمل کرکے واپس جا رہا تھا۔۔اس کی تکلیف بھری آوازیں سن کر واپس آ گیا۔اس بار اس نے مائیکل کی گردن اور چہرے کو نشانہ بنایا تھا۔

مائیکل بروقت طبی امداد کی وجہ سے مرنے سے بچ گیا تھا۔اس نے اپنے بیان میں بتایا کہ قاتل چھبیس سے تیس سال کا ایک پانچ فٹ آٹھ انچ قد کا مالک شخص تھا جس کے بال ہلکے بھورے اور گھنگھریالے تھے۔

پانچ جولائی کی رات ساڑھے بارہ بجے ایک شخص نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کال کی اور اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ساتھ ہی اس نے دو اسٹوڈنٹس کاقاتل بھی خود کو بتایا۔مزے کی بات یہ تھی کہ یہ کال فیرن کے گھر سے صرف آدھا میل دور ایک ایسے فون بوتھ سے کی گئی تھی جوپولیس اسٹیشن سے چند بلاک کے فاصلے پر تھا۔۔قاتل نے پولیس کا مذاق اڑایا تھا۔

                               ٭٭٭

قاتل نے ایک کال پر اس سلسلے کا اختتام نہیں کیا تھا۔یکم اگست 1969کو ویلجو ٹائمز ہیرالڈ اور دا سان فرانسسکو ایگزامنر کو تین خط ملے جو نامعلوم قاتل نے لکھے تھے۔اس نے ہرمن روڈ اور بلیوسپرنگ پارک میں ہونے والی وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور ساتھ ہی اس نے چار سو آٹھ علامتی کرپٹوگرام استعمال کئے تھے جو تینوں خطوط کا حصہ تھے۔قاتل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان علامتوں میں اس کی شخصیت کا راز چھپا ہے۔قاتل نے مطالبہ کیا کہ ان تمام خطوط کو اخبار ات کے فرنٹ پیج کا حصہ بنایا جائے ورنہ وہ ہر ویک اینڈ پر اکیلے گھومنے والے افراد کو نشانہ بنائے گا اور درجن بھر لوگوں کو قتل کرے گا۔اس کے خط کے الفاظ یہ تھے۔

’’میں لوگوں کو قتل کرنا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس میں بہت زیادہ مزہ ہے اتنا مزہ جتنا جنگل میں شکار کھیلنے کا۔چونکہ انسان سب جانوروں سے زیادہ خطرناک جانور ہے۔کسی کو مارنا میرے لئے سنسنی سے بھرپور ہے۔۔میں مروں گا تو دوبارہ جنت میں جنم لوں گاجہاں میرے ہاتھوں قتل ہونے والے تمام افراد میرے غلام ہوں گے۔۔میں تم لوگوں کو اپنا نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ اس طرح تم لوگوں یہ سلسلہ روک لو گے اور میرے غلاموں کی تعداد کم رہ جائے گی۔‘‘

ماہر نفسیات کے مطابق یہ خط ایک ایسے شخص کے تحریر کردہ تھے جو عام لوگوں سے ہٹ کر رہتا ہے۔یہ خط اور علامتیں ایک اخبار کے فرنٹ پیج کا حصہ بنے تو پولیس کا کہنا تھا کہ ہم بالکل بھی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ یہ خط قاتل نے لکھے ہیں یا نہیں۔

اس سوال کے جواب میں ایک ہفتے بعد قاتل نے دوبارہ خط لکھا اور اپنے لئے نام ’’زودیاک‘‘چنا۔اس نے قتل کے دونوں وارداتوں کی تفصیل بتائی جس کے بارے میں پولیس لاعلم تھی۔

اگلے دن ایک جوڑے نے کرپٹوگرام حل کر لئے جن میں وہی پیغام تھا کہ قاتل جنت کیلئے اپنے غلام اکٹھے کر رہا ہے۔

                                 ٭٭٭

بیریسامیں 27ستمبر 1969کو یونین کالج کے اسٹوڈنٹس برائن ہارٹنل اور سیزلیاشیپرڈ پکنگ منا رہے تھے جب ایک پانچ فٹ گیارہ انچ قد کا مالک شخص ان کے قریب آیا۔اس کے ہاتھ پستول تھا۔اس نے ایک سیاہ ہڈ پہن رکھا تھا ۔اس نے ان دونوں کو ایک دوسرے کو رسی کی مدد سے باندھنے کا حکم دیا۔

’’میں جیل سے فرار ایک قیدی ہوں جو ایک گارڈ کو قتل کرکے بھاگا ہوں مجھے تمہاری کار کی ضرورت ہے‘‘اس نے انتہائی نارمل انداز میں اپنا مطالبہ پیش کیا۔ہارٹنل کے خیال میں یہ ڈکیتی کی واردات تھی لیکن اس کا خیال تب غلط ثابت ہوا جب اس شخص نے جیب سے چاقو نکال کر ان پر وار کرنا شروع کردیا۔ہارٹنل پر چاقو کے چھ وار جبکہ سیزلیا پر دس وار کئے اور تھوڑا آگے جا کر چاقو سے زمین پر لکھ دیا۔

’’Vallejo/12-20-68/Sep 27-69-6:30 By knife‘‘

سات بج کر چالیس منٹ پر قاتل نے ناپا کاؤنٹی کال کرکے قتل کی اس واردات کی اطلاع دی۔اس کے ساتھ ہی اس نے ذمہ داری بھی قبول کر لی۔مزے کی بات یہ تھی کہ اس بار بھی قاتل نے شیرف آفس سے چند بلاک دور ہی ایک فون بوتھ چنا تھا۔پولیس کے پہنچنے سے پہلے وہ غائب ہو چکا تھا۔اس ٹیلی فون بوتھ پر ایک جاسوس نے تصویر حاصل کی مگر کچھ ثابت نہ ہو سکا۔ایک ایمبولنس جائے واردات پر پہنچی اور دونوں زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا۔سیزلیا دو دن کومے میں رہنے کے بعد چل بسی جبکہ ہارٹنل کی جان بچا لی گئی ۔ناپا کاؤنٹی کا شیرف اس کیس کا ہیڈ بنا اور 1987 تک اس پر کام کرتا رہا لیکن کیس حل نہ کر سکا۔

دوہفتوں بعد قاتل نے دوبارہ وار کیا اور اس بار پریسیڈیو کا علاقہ نشانہ بنا جہاں قاتل نے مسافر بن کر ٹیکسی حاصل کی اور ڈرائیور کا قتل کردیا۔اس بار بھی اس نے نائن ایم ایم حاصل کیا تھا۔قاتل کو تین نوجوانوں نے دیکھا تھا اور ان کے بتائے گئے حلیہ کے مطابق پچیس سو کے قریب مشکوک افراد کو پکڑا گیا لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا۔

زودیاک نے اپنا تماشا جاری رکھا اور اس واردات کی ذمہ داری بھی ایک خط میں قبول کی اور ایک وکیل کو ٹی وی چینل پر آنے کی دعوت دی۔شو کے دوران اس نے دو تین بار کال کر کے بیلی نامی اس وکیل سے ملنے کا وعدہ کیا اور اپنا نام سیم بتایا مگر اس پر کسی نے یقین نہ کیا نہ ہی وہ ملنے آیا تھا۔

اس کے بعد اس کے خطوط مسلسل اخبارات کو ملتے رہے۔ایک سات پیج کے خط میں اس نے انکشاف کیا کہ دو پولیس والوں نے اسے ٹیکسی ڈرائیور کے قتل سے پہلے نہ صرف روکا تھا بلکہ تین منٹ بات بھی کی تھی۔زودیاک نے ایک بار پھر بیلی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اس سے مدد چاہتا ہے۔

بائیس مارچ 1970 کو کیتھلین جونسن جو اپنے ماں کے گھر جار ہی تھی اور ساتھ میں اس کی دس سال کی بیٹی تھی،کی کار کو ایک نا معلوم شخص نے روکا اور اسے بتایا کہ اس کی کار کا ٹائر درست حرکت نہیں کر رہا۔اس نے مدد کی آفر کی اور انہیں اپنی کار میں بٹھا لیا۔وہ انہیں لے کر اگلے گیس اسٹیشن تک جانا چاہتا تھامگر اس نے کار بہت دور جا کر  روکی ۔اس کے کار روکتے ہی کیتھلین اور اس کی بیٹی نے نیچے چھلانگ لگا دی اور کھیت میں چھپ گئیں۔نامعلوم شخص انہیں ڈھونڈنے میں ناکام رہا اور چلا گیا۔

بعد میں کیتھلین نے بتایا کہ اس کا حلیہ ڈرائیور کے قاتل کے حلیہ جیسا ہی تھا۔

تیس اکتوبر کو ایک اور لڑکی زودیاک کا نشانہ بنی۔اس اٹھارہ سال لڑکی کو لائبریری میں قتل کیا گیا تھا۔اس علاقے کے پولیس اسٹیشن کو بھی ایک ماہ بعد زودیاک کا خط ملا جس میں اس نے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔

دسمبر 1966میں کالج میں ملنے والی ایک نظم کی رائٹنگ بھی زودیاک کے خطوط سے ملتی جلتی پائی گئی جس کا عنوان تھا۔’’زندگی کا بیمار یا مرنے کیلئے راضی نہیں‘‘۔

تیس اکتوبر کی واردات کے بعد زودیاک نے لاس اینجلس ٹائم کو خط لکھا اور پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی مگر یہ چیلنج کیا کہ وہ اسے نہیں پکڑ سکتے کیونکہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔

1971کے بعد زودیاک تین سال کیلئے خاموش ہو گیا۔اس دوران کسی قتل کی واردات میں اس کے پائے جانے کے شواہد نہ ملے نہ ہی کوئی خط ایسا ملاجو زودیاک کا ہو۔ 

29جنوری 1974 کو زودیاک کا آخری خط موصول ہوا۔یہ خط بھی علامتوں پر مشتمل تھا جو کبھی حل نہ ہو سکا۔اس کے بعد کئی خط ملے مگر یہ مشکوک تھے جن کے بارے میں طے نہ کیا جا سکا کہ یہ زودیاک کے ہیں یا کسی اور کے۔

یہ کیس آج بھی اوپن ہے۔2018میں بھی لوگوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کئے گئے جن کا رزلٹ شو نہ کیا گیا۔

                            ٭٭٭

وہ لوگ جن پر زودیاک ہونے کا شک تھا۔۔ان میں آرتھر ایلن شامل تھا جس کی بیس سال سے زائد عرصہ نگرانی کی گئی۔اسے 2010مشکوک شخص سمجھا جاتا رہا۔ایلن کے ایک دوست کے مطابق ایلن اس کے سامنے کئی بار لوگوں کو قتل کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکا تھا۔اس دوران ایلن ایک بارہ سال کے لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار بھی ہو ا۔دو سال قید میں رہا اور اس دوران زودیاک بھی خاموش تھا۔ کئی بار اس کے گھر کی تلاشی لی گئی۔۔اس کے علاوہ جس ٹائپ رائٹر سے زودیاک ٹائپ کرتا تھا اسی کمپنی کا رائٹر اس کے گھر سے 1991میں ملا۔2001میں ایلن اور اس کے دوست کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا جو کہ زودیاک کے ڈی این اے سے میچ نہ کر سکا۔یہ الگ بات کہ زودیاک کا ڈی این اے کی کبھی تصدیق نہ ہو سکی کہ یہ قاتل کا ہے بھی یا نہیں۔

2007میں ایک شخص ڈینس کیف مین نے دعویٰ کیا کہ زودیاک اصل میں اس کا باپ جیک ٹیرینس ہے۔ایف بی آئی نے اس بار بھی ڈی این اے کا سہارا لیا لیکن یہ بھی ناکام رہا۔

اس کے علاوہ بھی کئی لوگ شک کا مرکز رہے مگر زودیاک نہ مل سکا اور نہ ہی کسی کو اس حوالے سے گرفتار کیا جا سکا۔

زودیاک آج بھی شمالی کیلیفورنیا میں ایک معمہ کہلایا جاتا ہے۔

                                                                                                           ٭٭٭

Comments




POST A COMMENT