میں لکھاری ہوں

2019-08-04 14:39:17 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:864

"میں لکھاری ہوں" 

 

’’سنو سنو سب لوگ سن لو۔میں لکھاری ہوں،لکھاری ہوں میں۔میرے قلم کی کاٹ نے دنیا کو ادھیڑ دیا تھا۔میرے الفاظ کے جادو نے کئی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔ہاں میں ہی وہ لکھاری ہوں جس کی لکھی گئی تحریروں کو تم لوگ پڑھتے ہو ۔سنو لوگوں ۔۔میں لکھاری ہوں۔میں جب چاہوں اپنے الفاظ سے کسی کو رلا سکتا ہوں کسی کے لبوں کی ہنسی بن سکتا ہوں۔کیونکہ میں لکھاری ہوں‘‘۔

                                   ٭٭٭

صدیق احمد قریشی نے کتابوں کی دکان یہ سوچ کر بنائی تھی کہ شوق بھی پورا ہو جائے گا اور بچوں کی روزی روٹی بھی پوری ہوتی رہے گی مگر رفتہ رفتہ جب ٹیکنالوجی نے عروج پایا تو انہیں محسوس ہوا ،ان کا یہ فیصلہ نہ صرف غلط تھا بلکہ شوق کو پورا کرنے کی خواہش نے ان کے بچوں کا مستقبل بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔ویسے بھی اب کہاں ملتے تھے پرانے شاعر لوگ،افسانہ نگاراور ان کو پڑھنے والے قاری جو ایک عام سے چائے خانے میں بیٹھ کر چائے کا کپ لبوں سے لگاتے اور لکھاریوں پر گفتگو کرتے۔کوئی منٹو کے قلم کا عاشق ہوتا تو کوئی مشتاق احمد یوسفی کی کسی کتاب کا اقتباس اٹھا کر لوگوں کو ہنسا رہا ہوتا تھا۔کوئی سنجیدگی سے کسی نئے لکھاری کی تحریر میں سے غلطیاں نکال رہا ہوتا تھا تو کوئی اپنی تحریر کی تعریف کرنے میں مصروف ہوتا۔اب تو ہے سوشل میڈیا کا دور جہاں ہر قسم کی گفتگو کی آزادی ہے۔پرانے زمانے میں عاشق لوگ بھی اردو کی شاعری استعمال کرکے محبوبہ کو خط لکھتے تھے اور اب نئے زمانے کے عاشق ہیں جو فیس بک اور واٹس ایپ پر ’’اینجل سارہ ،سویٹی ڈول‘‘سے عشق فرما کر خود کو ماڈرن دور کا رانجھا سمجھتے ہیں۔ان کے عشق کی سچائی میں تب خلل پڑتا ہے جب اینجل سارہ میں سے چاچا بشیر نکلتا ہے۔قصہ مختصر، بدلتے حالات نے صدیق احمد قریشی کے مالی حالات بھی بدل دئیے۔تین دن میں ایک ناول بکتا وہ بھی اتنی سی قیمت پر کہ دکاندار دو وقت کی چائے کے ساتھ بیکری کے بسکٹ کھا سکے۔صدیق صاحب بھی عقل مند تھے اور اس تبدیلی کو بھانپ گئے اس لیے گھر میں ایک دن تینوں بچوں کو کھیلنے بھیج دیا اور خود بیگم صاحبہ کے گوڈے پکڑ کر بیٹھ گئے۔

’’صدیق یہ کوئی وقت ہے؟‘‘نسرین نے شرما کر اردگرد دیکھا۔

’’میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں‘‘ان کا جملہ سن کر نسرین سمجھ گئی کہ شرمانا بیکار گیا ہے ۔اس لیے دوپٹے کا پلو جو کچھ دیر پہلے انہوں نے صائمہ کی طرح پکڑ رکھا تھا،اچانک چھوڑ دیا اور صدیق صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

’’مجھے پیسوں کی ضرورت ہے‘‘انہوں نے چہرے کے تاثرات مسکینوں جیسے کر لئے۔

’’وہ تو آپ جانتے ہیں میرے پاس بھی نہیں ،کوئی نئی بات کریں‘‘نسرین آئی ایم ایف تھی نہ صدیق صاحب پاکستان۔اس لیے صدیق صاحب نے جواب کا برا منائے بغیر اپنی بات مکمل کی۔

’’دکان کے حالات ہمارے ملک جیسے ہی ہیں کسی وقت بھی قرضہ مانگنا پڑ سکتا ہے میں چاہتا ہوں میں کوئی ایک لاکھ روپیہ مزید خرچ کر کے اسے اسکول ،کالجز کی کتابوں کا بک ڈپو بنا دوں ۔یہ ناولز وغیرہ آج کل کوئی نہیں پڑھتا۔نہ کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے‘‘

’’مگر اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘‘

’’تمہارا زیور۔۔‘‘ان کے الفاظ نے بچھو کی طرح کاٹ لیا تھا نسرین بیگم کو۔اس نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ناچنا شروع کردیا۔

’’نہ نہ نہ،ہرگز نہیں،قطرہ وی نہیں ،سوچی وی نہ‘‘ صدیق صاحب نے دونوں کندھے تھام کر اسے روکا اور دنیا جہان کی مسکینیت اپنے لہجے میں سمو کر بولے۔

’’آٹھ سال کا ارباز،چھ سال کا شہباز اور صرف پانچ سال کی گلناز ۔۔ان بچوں کا کیا ہو گا۔کیا یہ بھوکے مر جائیں گے ؟ہرگز نہیں نسرین ،ہرگز نہیں‘‘اچانک ان کی آواز بدلی اور وہ بالکل شاہ رخ خان کے انداز میں بولے۔’’ابھی ان کا باپ زندہ ہے ۔ابھی صدیق احمد قریشی زندہ ہے۔میں اپنا گردہ بیچ دوں گا ۔اس سے کام نہ چلا تو دل اور معدہ بھی نکلوا دوں گا مگر اپنے بچوں کو بھوکا نہیں مرنے دوں گا‘‘

’’میری طرف سے اجازت ہے یہ سب کرنے کی‘‘اس کے اطمینان میں کوئی فرق نہ پڑا۔

’’سوچ لو نسرین ،سوچ لو۔زیور بہت مل جائینگے پر شوہر ایک ہی ہوں‘‘

’’سب کے ایک ہی ہوتے ہیں میں کوئی انگلش فلموں کی ہیروئن ہوں جو تین چار رکھوں گی‘‘نسرین جذباتی بلیک میلنگ میں آتی دکھائی نہیں دی۔

’’ٹھیک ہے نہ مانو تم،میرے جاننے والے ہیں ان کی لڑکی کو کچھ دن پہلے طلاق ہوئی ہے ۔میں اس سے دوسری شادی کر لوں گا گھر دے رہے ہیں اور گاڑی بھی‘‘اس آخری حملے سے سومنات کا مندر فتح ہو گیا۔نسرین کی آنکھ میں آنسو آگئے۔

’’آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے شہباز کے ابا؟‘‘

’’میں ضرور ایسا کروں گا گلناز کی ماں‘‘صدیق صاحب کے جاننے والوں میں جو سب سے امیر ترین تھے ان کے پاس نیا ہونڈا موٹرسائیکل تھا۔گاڑی دینا وہ بھی جہیز میں ،کسی کے بس کی بات نہ تھی پر بچوں کے مستقبل کے لیے اتنے جھوٹ پر انہوں نے خدا سے دل ہی دل میں معافی مانگی۔کچھ دیر پرانے محلے کی شمیم آرا بننے کے بعد آخر نسرین نے زیور دے دیا۔اگلے مرحلے میں اس زیور کی کامیاب فروخت کے بعد صدیق صاحب نے پرانی دکان بیچی اور ہائی اسکول کے سامنے نئی دکان پر نیا بورڈ لگوا لیا’’قریشی بک ڈپو‘‘۔

پرانی دکان سے منٹو صاحب،تارڑ صاحب ،شفیق الرحمن صاحب ،نسیم حجازی اور کئی نئے پرانے لکھاری اٹھ کر گھر میں آ ٓگئے۔ان طرح طرح کی کتابوں کا مطالعہ صدیق صاحب خود کرتے اور جب بچے بڑے ہوئے تو ان کو بھی پڑھنے کو دے دیں۔ارباز کو تو خیر نئے موبائل اور نئی فیشن کی شرٹس کے علاوہ کسی خاص چیز میں دلچسپی نہ تھی البتہ شہباز نے یہ کتابیں پڑھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔نتیجہ وہی نکلا جو صحبت کے اثر کا نکلتا ہے۔کتابوں کی صحبت نے اسے اپنا بنا لیا۔شہباز میٹرک میں پہنچا مگر اس کا مطالعہ کسی بھی طرح ایم اے کے طالب علم سے کم نہ تھا۔اردو زبان پراس کو عبورحاصل ہو گیا۔انہی دنوں اس نے اپنی پہلی تحریر صدیق صاحب کو لکھ کر دکھائی۔یہ ایک معاشرتی موضوع پر لکھی گئی کہانی تھی جو چند کرداروں کے گرد گھومتی تھی۔پختہ انداز اور الفاظ دیکھ کر صدیق صاحب نے جوتی اتاری ۔جس کا پہلا ڈرون حملہ شہباز نے جھک کر بچایا اور دوسراحملہ کرنے کی بجائے صدیق صاحب نے فرمایا۔

’’نالائق ،کسی بڑے لکھاری کی تحریر کو اپنی کاپی پر لکھ کر مجھے ایسے دکھا رہا ہے جیسے خود لکھی ہو‘‘

’’یہ میں نے ہی لکھی ہے ابا‘‘وہ رونے کے قریب تھا۔

’’پکی بات ہے؟‘‘

’’آپ کے سر کی قسم‘‘شہباز نے قسم کی شکل میں ثبوت حاضر کیا۔صدیق صاحب چند منٹ اسے دیکھتے رہے اور پھر گلے لگا کر بولے۔

’’میرا شہزادہ بیٹا تو لکھاریوں سے بھی بڑھ کر لکھتا ہے‘‘شہباز کو جیسے محنت کا پھل مل گیا ہومگر ابھی کامیابی کے میدان اور بھی تھے۔صدیق صاحب نے وہ کہانی ایک سنڈے میگزین میں بھیج دی۔ان کے ایڈیٹر نے پڑھی اور ڈھیر ساری تعریفوں کا معاوضہ دے کر پہلی فرصت میں شائع کردی۔اب یہ سلسلہ چل نکلا۔شہباز کا قلم ایف اے کے بعد عروج پر پہنچا اور اس عروج کا زوال نہ آتا اگر وہ حادثہ نہ ہوتا۔

                                   ٭٭٭

کہتے ہیں حادثے کی پرورش وقت برسوں کرتا ہے مگر وہ حادثہ سمندری طوفان کی طرح ان کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔ارباز نے میٹرک میں تین بار فیل ہونے کے بعد آوارہ گردی کو اپنایا اورمحلے کے مختلف گھروں سے اکثر شکایتیں آنے لگی۔باپ نے پکڑ کر اپنے ساتھ دکان پر بٹھایا مگر اربازکی حرکتوں سے تنگ آ کر خود بھگا دیا۔گلناز آٹھویں اور شہباز ایف اے کے بعد بی اے میں داخلے کا سوچ رہاتھا۔انہی دنوں صدیق صاحب کی دکان پر ایک عجیب شکل کا شخص آنے لگا۔پہلے دود ن تو انہوں نے اس فرنچ کٹ داڑھی اور کھڑے بالوں والے انسان نما شخص پر کوئی توجہ نہیں دی مگر جب وہ باقاعدگی سے آنے لگا تو ان کے ماتھے نے ٹھنکنا ضروری سمجھا۔وہ کچھ خریدتا نہ فروخت کرتا بس دکان کے سامنے پڑی کرسی پر ایسے جم کر بیٹھتا جیسے وہ سادہ اکثریت سے کامیاب ہوکر اس علاقے کا وزیر اعظم بنا ہو۔اس دن بھی سردیوں کی آمد کی نوید سناتی ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ میں وہ شخص آرام سے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا جب صدیق صاحب اس کے قریب آئے اور پوچھا۔

’’جناب آپ روز یہاں آتے ہیں سب خیریت؟‘‘اس نے سر اٹھا کر صدیق صاحب کو گھورا۔

’’میرے یہاں بیٹھنے سے آپ کو بل آتا ہے؟‘‘

’’نہیں ،پرجس کرسی پر آپ تشریف فرما ہیں یہ میری دکان کی ہے اورجس دکان کے سامنے آپ جم کر بیٹھے ہیں دراصل یہی میری دکان ہے‘‘انہوں نے اس نامعقول شکل کے شخص کی بدتمیزی بڑی مشکل سے برداشت کی تھی۔

’’یہ دکان میرے باپ کی ہے بابے اور تو نے چالاکی سے ہتھیا لی تھی‘‘صدیق صاحب دنگ رہ گئے۔یہ دکان انہوں نے ایک جاننے والے کے توسط سے خریدی تھی اور قیمت ادا کی تھی۔ 

’’یہ رہے کاغذات‘‘اس نے جیب سے نکال کر کاغذات لہرائے۔

’’جا بھائی جا،کام کرو اپنا۔میں نے پیسوں سے یہ دکان خریدی ہے ۔یہ جعلی کاغذات کسی اور کو دکھانا‘‘صدیق صاحب واپس اپنی دکان میں آگئے۔وہ شخص چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔کچھ دن بعد یہ ہنگامہ دوبارہ شروع ہوا جب اسی شخص جس کا نام جہانگیر معلوم ہواتھا،نے اپنی دکان کی واپسی کی درخواست دائرکردی۔حالات خطرناک صورت اختیار کر جاتے مگر صدیق صاحب حق پر تھے۔پہلی پیشی میں ہی کیس کا فیصلہ ہو گیا۔جہانگیر صاف جھوٹا تھا وہ صرف ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے بٹورنے چاہتا تھا مگر ناکام رہا ۔کیس کے فیصلے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب آسمان پر کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔صدیق صاحب کی دکان میں اک شخص کی آمد ہوئی ۔چہرے پر نقاب چڑھائے اس شخص کو دیکھ کر صدیق صاحب کی چھٹی حس نے خطرے کا الارم بجا دیا۔انہوں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سامنے والے نے کپڑوں میں سے پستول نکالا اور ان کے دل میں گولی اتار دی۔یہ پہلی گولی ہی ان کے دل کے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔وہ شخص فرار ہو گیا۔گولی کی آواز نے اردگرد کے دکانداروں کو متوجہ کیا۔صدیق صاحب کی کہانی ان کے پہنچنے سے پہلے ختم ہو چکی تھی۔

                                   ٭٭

’’صدیق قریشی کو کسی نے گولی ماردی‘‘’

’اوہ افسوس ہوا۔نیک شخص تھے پتہ نہیں کس ظالم نے یہ ظلم کا پہاڑ توڑا ہے غریبوں پر‘‘کہنے والے نے کہہ دیا۔سننے والے نے سن لیا مگر ظلم کو محسوس وہی کر سکتے ہیں جن پر ظلم کیا گیا ہو۔نسرین اور بچوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔روزی روٹی کمانے والا گھرانے کا واحد فرد قتل ہو گیا تھا۔نسرین کی آنکھیں رو رو کر سوج گئیں۔شہباز باپ کے غم میں نڈھال تھا۔ارباز پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ رہا تھا۔پولیس کو یقین تھا کہ یہ جہانگیر کاکارنامہ ہے مگر ان کے پہنچنے سے پہلے جہانگیر فرار ہو گیا۔اس کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے پڑھ رہے تھے مگر وہ کہیں نہ ملا۔قصہ مختصر۔۔وقت نے حادثے پر مٹی ڈالنا شروع کردی۔صدیق صاحب کی قبر کے پھول خشک ہونے لگے اور ارباز،شہباز تعلیم چھوڑ کرغم روزگار میں الجھ گئے۔ارباز نے دکان سنبھال لی۔شہباز چار پانچ ماہ سنبھل نہ سکا۔دکان پر اسے باپ کی یاد آتی تھی۔حساس دل نوجوان تھا۔چپ چاپ گھر میں رہتا ۔ماں نے اسے اور گلناز کو بمشکل سنبھالا۔شہباز کو قلم کاغذ پکڑائے اور اسے پرانے شوق کی طرف لوٹنے کا کہا۔ڈیڑھ سال بعد گھر کی روٹین واپس لوٹ آئی۔ارباز دکان پر بیٹھتا۔کمائی کرتا۔شہباز کہانیاں لکھتا اور مختلف رسائل اور میگزین میں بھیجتا رہتا۔اکثر شائع بھی ہو جاتیں۔اس کو اتنا معاوضہ مل جاتا کہ وہ گلناز کی فرمائش پر کبھی اسے کپڑے ٰیا جوتے لے کر دے دیتا ۔رفتہ رفتہ اس کا نام بنتا جارہا تھا۔اسی دوران ماں نے گھر کی رونق واپس لانے کے لیے ارباز کی شادی کاشور ڈالا اور دو ماہ بعد مہوش گھر کی بہو بن کر ایک کمرے میں شفٹ ہو گئی۔نسرین اور گلناز الگ کمرے میں سوتی تھیں جبکہ شہباز کا کمراالگ تھا۔گھر میں ایک فرد کا اضافہ ہوا تو کمانے والے بیٹے کی کمائی بھی تقسیم ہونے لگی۔ایسے میں شہباز کو اپنی ذمہ داری کا احساس بڑھ گیا۔ماں اور بہن کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا۔اس نے اپنے قلم کی رفتار میں اضافہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پیسے کی دھن نے اس کی کہانیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔جاب کی تلاش میں نکلتا۔سارا دن گھوم پھرکر کوئی ایسی نوکری تلاش کرنے کی کوشش کرتا جس میں نوکری کے ساتھ اپنی تحریروں کے لیے بھی وقت نکال سکتا۔جب کوئی نوکری نہ ملی تو اس نے اپنا ایک ناول جو طویل تھا اور کافی دنوں سے نامکمل تھا،مکمل کیا اور ایک ڈائجسٹ میں بھیج دیا۔دو ماہ بعد انہوں نے قسط وار یہ ناول شائع کرنا شروع کردیا۔معاوضہ بہتر ملا تو اسے اطمینان حاصل ہوا۔اس دن بھی وہ اپنے کمرے میں ایک ناول پڑھنے میں مصروف تھا جب گلناز آئی اور بولی۔

’’بھائی ،امی بلارہی ہیں‘‘وہ اس کے ساتھ ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔نسرین کے کمرے میں ارباز اورمہوش دونوں موجود تھے۔اسے دیکھ کر ماں کی آنکھ میں آنسو آ گئے۔

’’دیکھ لو شہباز،یہ ارباز کیا کہہ رہا ہے؟‘‘وہ تڑپ کر ماں کی طرف بڑھا۔

’’کیا ہوا امی؟‘‘اربازاور مہوش خاموش اور بیزار بیٹھے تھے۔وہ ماں کو چپ کروانے لگ گیا۔اسی دوران ارباز بولا۔

’’شہباز میں نے کوئی غلط بات نہیں کی میں الگ ہونا چاہتا ہوں میں شادی شدہ ہوں اور یہ میرا حق ہے ‘‘وہ اس کی بات سن کر ساکت رہ گیا۔اس نے زخمی نظروں سے ارباز کی طرف دیکھا۔وہ نظریں چرا گیا۔

’’پر ابھی گلناز کی شادی نہیں ہوئی۔شہباز کنوارہ ہے اور تم واحد کمانے والے ہو اس گھر میں‘‘نسرین نے اونچی آواز میں کہا۔

’’آپ سب میری ذمہ داری نہیں۔میں اپنی بیوی کو مشکل سے پال سکتا ہوں کل کو ہمارے بچے ہوں گے تو کیا کروں گا میں؟شہباز کا کام ہے محنت کرنا ہے اور کر کے کھائے‘‘نسرین پوچھنا چاہتی تھی کہ جس دکان میں وہ بیٹھا ہے وہ کس کی محنت اور پیسے سے بنا ہے مگر پوچھ نہ سکی۔شہباز کچھ دیر خاموش رہا اور آخر تھکے ہوئے لہجے میں بولا۔

’’ٹھیک ہے دکان میں سے ہمارا حصہ الگ کر دیں اور آپ الگ ہو جائیں‘‘ارباز نے اسے گھورا۔

’’دکان میں سے حصہ کوئی نہیں تم لوگوں کا۔میں نے اپنی محنت سے بنائی ہے ابا نے تو سارا کاروبار ڈبو دیا تھا اب کچھ بہتر ہوا ہے گھر میں الگ لے رہا ہوں یہ گھر تم لوگوں کا ہوا۔مجھے میرے حصے کی قیمت دے دیں یا میں کسی کرائے دار کو اپنا کمرا دے دیتا ہوں‘‘اس نے تو جیسے بات ہی ختم کردی۔مہوش کے چہرے کی مسکراہٹ ارباز کے منہ میں بولتی زبان کی ساری کہانی بتا رہی تھی۔دونوں اٹھ کر چلے گئے۔شہباز سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ارباز کا خون اتنی جلدی سفید ہو جائے گا یہ کسی نے سوچا نہیں تھا۔

ارباز نے کوئی وقت نہ لیا۔صرف ایک ہفتے بعد وہ اور مہوش الگ گھر میں شفٹ ہو گئے۔دو کمروں کا یہ مکان مہنگا تھا مگر صدیق صاحب کا کاروبار اتنا نفع دے رہا تھا کہ ارباز یہ خرید سکتا تھا۔مسئلہ نسرین اور شہباز کو بنا جو سگے بیٹے اور بھائی کے خلاف عدالت نہیں جانا چاہتے تھے۔پیسے کہیں سے نہ ملے تو گلناز کے لیے بنایا گیا زیور اور سامان بیچ کر انہوں نے ارباز کا حصہ پورا کیا۔اب یہ گھر ان کا تھا مگر اس کا خرچ کیسے چلانا ہے یہ شہباز کو معلوم نہ تھا۔ساری رات وہ بیٹھ کر لکھتا رہتا اور مہینے کے آخر میں اتنا معاوضہ ملتا کہ تینوں پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے۔دو سال گزر گئے۔عید چھوٹی ہوتی یا بڑی گلناز کے علاوہ کسی کا سوٹ نہ سلتا۔شہباز کی قمیص جگہ جگہ سے پھٹ جاتی۔نسرین کی بوڑھی ہڈیوں میں بھی دم ختم ہونے لگا۔اس نے یکدم ایک فیصلہ کیا۔شہباز کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا۔

’’یہ مکان تین کمروں کا ہے ہماری ضرورت سے زیادہ ہے تم اسے بیچ دو اور گلناز کی شادی کر دیتے ہیں ‘‘مشورہ معقول اور قابل قبول تھا۔قسط وار چلنے والا ناول کتابی شکل میں مارکیٹ میں آیا تو شہباز کے ہاتھ کچھ پیسے آگئے۔ادھر اُدھر بھاگ دوڑ کرکے اس نے گاہک تلاش کیا۔مکان بیچا اورایک فلیٹ خرید لیا۔یہ شہر کے نزدیک ایک بلڈنگ میں تھا۔بچ جانے والے پیسوں سے گلناز کے لیے مناسب جہیز بنایا اور صدیق صاحب کے ایک پرانے دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔رشتہ کافی دن پہلے طے ہوا تھا۔اچھی مڈل کلاس فیملی تھی۔لڑکا سرکاری ملازم تھا۔گلناز کا فرض ادا ہو گیا ۔ماں بیٹا سکون سے رہنے لگے تھے۔شہباز کے قلم میں روانی بحال ہوئی۔انہی دنوں اسے ایک لڑکی کے خط ملنے شروع ہو گئے۔تعریفی خط۔۔۔

                                    ٭٭٭

’’السلام علیکم شہباز صاحب،آپ نہیں جانتے کتنی مشکل سے آپ کا پتہ معلوم کیا ہے آپ کو خط لکھتے وقت میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے میں اپنے احساسات بتا نہیں سکتی ۔شہباز صدیق میرے الفاظ پڑھیں گے یہ سوچ کر میں بے انتہاخوش ہوں ۔میں نے آپ کی ہر کہانی پڑھ رکھی ہے مجھے آپ کے کرداروں سے عشق ہے اگر ہو سکے تو مہربانی فرما کر مجھے خط کا جواب دیجیے گااور ممکن ہو تو اپنا فون نمبر بھی بتا دیجیے گا۔آپ کے الفاظ کی فین۔۔مناہل احمد‘‘

شہباز کو اس سے پہلے بھی ڈائجسٹ کے قارئین کے خط ادارے کے ذریعے ملتے تھے مگر مناہل کا خط سب سے الگ تھا۔نجانے کیوں شہباز نے اسے بار بار پڑھا۔اپنی تعریف سب کو اچھی لگتی ہے اور جنس مخالف کی تعریف تو نشہ طاری کر دیتی ہے۔شہباز نے جوابی خط دو دن بعد بھیجا۔

’’اتنی تعریف اور خلوص کے لیے شکریہ مناہل۔باقی باتیں کال پر کروں گا‘‘اس کے آگے اس نے اپنا موبائل نمبر لکھ دیا ۔یہ سادہ موبائل اس نے کچھ دن پہلے ہی خریدا تھا۔تین چار دن بعد جب وہ اپنے کمرے میں سورہا تھا تو کالر ٹیون بجی۔اجنبی نمبر تھا۔اس نے کال ریسیو کی۔ایک سریلی آواز سنائی دی۔

’’شہباز صاحب؟‘‘

’’جی بات کررہا ہوں ‘‘

’’میں مناہل ،کچھ دن پہلے خط لکھا تھا آپ کو۔او مائی گاڈ مجھے یقین نہیں آرہا ہے میں شہباز صاحب سے بات کررہی ہوں‘‘شہباز ہنس پڑا۔

’’محترمہ ہم بھی زمین پر رہتے ہیں اور آ پ جیسے انسان ہی ہیں‘‘

’’ہاں سر پر آپ کے انوکھے انداز تحریر اور ناولز کی تو ایک دنیا دیوانی ہے‘‘اس نے کھل کر تعریف کی۔

’’شکریہ‘‘اس کے بعد ادبی دنیا کی کئی شخصیات زیر بحث آئیں۔مناہل کا علم محدود تھا مگر اسے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔یہ فون کالیں ہر گزرتے دن کے ساتھ لمبی ہوتی چلی گئیں۔قاری لکھاری کے رشتے سے نکل کر دونوں بے تکلف دوست بن گئے۔’’آپ ‘‘سے ’’تم ‘‘کا سفر جلدی طے ہو گیا۔کبھی کبھی مناہل ہنس کر کہتی۔

’’تم صرف چوبیس سال کے ہو مجھے لگتا تھا پچاس سے اوپر ہو گا‘‘۔

فون کال کی یہ ٹیکنالوجی رنگ لے آئی اور ایک دن مناہل ان کے فلیٹ کے دورازے پر آگئی۔مہنگے ماڈل کی گاڑی میں،جینزاور شرٹ میں ملبوس لڑکی ،آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ لگائے ’’گورے گورے مکھڑے پہ کالا کالا چشمہ‘‘کی عملی تفسیر بنی ہوئی تھی۔وہ واقعی خوبصورت تھی۔فلیٹ اس کے معیار کا نہیں تھا پر صوفے پر بیٹھ کر لمبی گفتگو ہوئی۔نسرین بھی خوش تھی ،اس کا بیٹا اتنا مشہور ہو رہا تھا کہ لڑکیاں اس سے ملنے آرہی تھیں ۔چائے ،چپس،سموسے اور پکوڑے ۔نازک ہاتھوں میں تھام کر کھانے کے ساتھ ساتھ انگلش کے الفاظ استعمال کرتی لڑکی شہباز کے دل میں گھسے جارہی تھی۔اس نے اپنا لکھا ایک افسانہ بھی شہباز کو دکھایا۔املا کی غلطیاں،الفاظ میں ربط نام کی چیز کا کوئی وجود نہ تھا اورپلاٹ بھی روایتی ساس بہو کے موضوع پر تھا۔شہباز نے اس کا دل رکھنے کے لیے ’’اچھا ہے‘‘کہہ دیا ۔

’’میری رائٹنگ ابھی کافی کمزور ہے شہباز ،میں چاہتی ہوں تم اس افسانے میں غلطیاں نکال کر درست کرو‘‘شہباز نے حامی بھر لی حالانکہ افسانے میں سے غلطیاں نکال دی جاتیں تو شاید خالی صفحے ہی رہ جاتے۔شہباز کے پوچھنے پر مناہل نے بتایا کہ

’’ڈیڈ بزنس کرتے ہیں میں نے ماسٹرز کیا ہے اور آج کل ماڈلنگ کرتی ہوں‘‘۔

اس ماڈل لڑکی کا پہلا افسانہ شہباز نے وقت نکال کر سنوارا اور خواتین کے ایک ڈائجسٹ کو بھیج دیا۔شہباز کے الفاظ کا جادو اس افسانے میں شامل تھا۔شائع ہوا تو مناہل کی خوشی قابل دید تھی۔وہ مٹھائی لے کر شہباز کے فلیٹ پر آگئی۔تین ماہ کے عرصے میں وہ دوسری بار مل رہے تھے۔اب کی بار ایک عدد مکمل ناول مناہل کے ساتھ تشریف لایا تھا۔شہباز کا دل بیٹھ گیا مگر عشق کے امتحانوں میں کامیاب ہونے کے لیے اس نے ناول خود دوبارہ ترتیب دے کر،غلطیاں نکال کر اپنے الفاظ میں لکھا اور اب کی بار بھی یہ ناول مناہل کے نام سے قابل اشاعت ٹھہرا۔ناول کی اشاعت کے بعد شہباز نے ایک اخبار میں خبر دیکھی۔

’’مشہور ماڈل مناہل کی ادبی دنیا میں دھوم۔افسانے کے بعد ان کا ناول بھی بہترین رہا‘‘اخباری رپورٹر شاید مناہل کا فین تھا جس نے جی بھر کر اس کی تعریف کی تھی۔

’اب ادب کی تعریف بھی دولت کے سہارے ہوا کرے گی‘‘اس نے تلخی سے سوچا۔مناہل نے اس بار خوشی میں اسے ایک مہنگا سیل فون تحفے میں دیا تھا اور اس کے ساتھ تحفے میں ایک ڈرامے کا سکرپٹ تھا۔ٹھیک ایک سال بعد مناہل احمدکا لکھا گیا ڈرامہ ایک مشہور چینل پر دکھایا گیا۔شہباز البتہ ابھی وہیں تھا جہاں سے ڈیڑھ سال پہلے تھا۔مالی حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی تھی۔اسے حیرت تب ہوئی جب مناہل نے اسے نہ کوئی کال کی اور نہ ہی ملنے آئی۔

’’مصروف ہو گی شاید‘‘اس نے دل کو تسلی دی مگر دل نہ مانا۔ایک ہفتے بعد اس نے مناہل کو خود کال کی۔

’’ہاں شہباز میں تمہیں بتانا بھول گئی میرا کزن امریکا سے واپس آیا اس کے ساتھ میری شادی طے ہو گئی ہے اس سلسلے میں مصروف ہوں‘‘اس کے بعد کال بند ہو گئی اور شہباز کے دل میں محبت والا خانہ بھی۔الفاظ اس سے روٹھنے لگے تو ماں بیٹا صرف ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارا کرنے لگ گئے۔نسرین نے ہمت بندھائی اور بیٹے کو واپس اس کی دنیا میں لے گئی۔ دل میں درد ہو تو اسے الفاظ کی شکل دینا آسان ہوتا ہے اور پڑھنے والا محسوس بھی کرتا ہے۔معاشرے کی تلخیاں اور خود غرض سوچ اس کے الفاظ میں الجھنے لگی۔شہباز صدیق نے عشق و عاشقی او ر محبوبہ کے رخساروں سے نکل کر کچھ الگ لکھا۔اس کی الگ پہچان بنتی گئی مگر ہمارے پاکستان میں یہ مسئلہ ہمیشہ رہا ۔ہمارا لکھاری ہمیشہ مالی پریشانیوں میں الجھا ہے۔کئی بھوکے مرے تو کئی انقلابی سوچ والے جیل میں ڈال دئیے گئے۔شہباز جتنا مرضی اچھا کیوں نہ لکھ لیتا وہ لوئر مڈل کلاس سے مڈل کلاس تک کا سفر طے نہ کر سکا۔تعریفی خط اس نے پڑھنے چھوڑ دیے تھے۔نظر کا چشمہ لگائے وہ چھبیس سال کا شخص وقت سے پہلے بوڑھا لگنے لگا تھا۔نسرین کو جگر کے کینسر نے لپیٹ میں لیا تو اسے اچانک خیال آیا۔ایک عدد بہو کی ضرورت تھی۔یہ خیال پہلے بھی آتا مگر ارباز اور مہوش کی شادی کا تجربہ اسے اس پر عمل کرنے سے منع کر دیتا تھا۔شہباز اس کا علاج کروانا چاہتا تھا مگر اک دن اس نے پاس بٹھا کر کہا۔

’’میں نے اپنی زندگی کی تمام اونچ نیچ دیکھ لی ہے شہباز۔خوشیاں اور غم میری زندگی کا حصہ رہے مگر ایک بات سیکھی ہے میں نے۔گزرے وقت کی تلاش میں ماضی کھنگالنا وقت کا ضیاع ہے۔اب تمہاری باری ہے شہباز شادی کر لو۔اپنی زندگی جیو۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔‘‘شہباز نے ماں کے حکم کے سامنے ہمیشہ کی طرح سرجھکایا۔نسرین نے اپنے آخری دن بستر پر گزارنے کی بجائے بیٹے کے رشتے کی تلاش میں گزارے تھے۔

                                  ٭٭٭

یہ مڈل کلاس لوگوں کا ایک محلہ تھے جس کے ایک عام سے گھر میں نسرین اور شہباز اپنے جاننے والے کے توسط سے آئے تھے۔یہاں موجود لڑکی ثنا شکل وصورت کے اعتبار سے بہتر تھی اور میٹرک تک تعلیم بھی حاصل کی تھی۔اسی نے شہباز اور نسرین کے سامنے چائے اور کھانے پینے کا سامان رکھا۔کچھ دیر بعد انٹرویو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ثنا کے والد صاحب نے پہلا سوال پوچھا ۔

’’تو میاں کیا کام دھندا کرتے ہو؟‘‘

’’جی میں لکھاری ہوں مختلف ڈائجسٹ میں لکھتا ہوں اور میرے چند ناول کتابی شکل میں بھی آچکے ہیں‘‘انہوں نے عدم دلچسپی سے یہ جواب سنا اور دوبارہ بولے۔

’’یہ تو آپ کا شوق ہے میں نے پیشہ پوچھا ہے کام کیا کرتے ہیں کماتے کہاں سے ہیں؟‘‘

’’یہی میرا پیشہ ہے انکل ‘‘

’’آج ڈائجسٹ تمہاری کہانی نہ شائع کریں ۔تمہارے قلم کو وقت کے ساتھ زوال آ جائے تو کیا کرو گے تم؟کہاں سے کھلاؤ گے ثنا کو۔ویسے بھی کتنا معاوضہ مل جاتا ہو گا تمہیں ان کہانیوں سے‘‘بات تلخ تھی مگر سچ تھی۔پہلے رشتے سے صاف انکار ہوا۔دوسرا ،تیسرا،چوتھا اور نسرین کی حالت خراب ہو گئی۔ہمت ہار کر دونوں ماں بیٹا گھر بیٹھ گئے۔ارباز پہلی بار گلناز کی شادی پر آیا تھا اور دوسری بار نسرین کے جنازے پر جس نے ایک رات چپ چاپ شہباز کو دنیا میں تنہا چھوڑا اور چل بسی۔شہباز کی آنکھیں خشک نہیں ہو رہی تھیں۔آنسوؤں نے اپنا ٹھکانہ دیکھ لیا تھا۔وقت گزرتا چلا گیا۔ناول ،افسانے،سائنس فکشن،مائکرو فکشن،رومینٹک ناولٹ اور نجانے کیا کیا۔چالیس سال کی عمر میں شہباز بوڑھا نظر آنے لگا۔سرکے بال سفید ہوئے تو عمر گزرنے کا احساس ہوا۔کئی سالوں سے وہ تنہا تھا۔کھانا ہوٹل سے کھاتا اور کسی مشین کی طرح کمرے میں بند ہو کر لکھتا رہتا۔مالی پریشانی ختم ہو چکی تھی اب بس وہ تھا اور تنہائی تھی۔کبھی کبھی وہ خود سے باتیں کرتا۔خود پہ ہنستا اور خود کو دکھی کرکے روتا۔ماضی کی یادیں اس کا پیچھا نہ چھوڑتی۔انہی دنوں اس نے آب وہوا کی تبدیلی کا فیصلہ کیااورجمع پونجی اکٹھی کر کے شمالی علاقہ جات کی طرف نکل گیا۔بند کمرہ کئی سال سے اسے نفسیاتی مریض بنانے کی کوشش میں تھا۔پہاڑ،سبزہ ،بارش اور کہیں برف باری۔طبیعت سنبھلی تو وہ خود کو تروتازہ محسوس کرنے لگا۔اس شام وہ ایک چائے کے ہوٹل پر بیٹھا چائے پی رہا تھا جب اس کے سامنے ایک بڑی بڑی داڑھی والا شخص آیا۔

’’تمہاری شکل کسی سے بہت ملتی ہے ‘‘وہ اسی ہوٹل کا ویٹر تھا۔

’’ملتی ہو گی‘‘

’’تم لاہورسے آئے ہو؟‘‘

’’ہاں ‘‘شہباز نے حیرت سے اسے دیکھا۔تھوڑی خاموش رہنے کے بعد وہ بولا۔

’’اندرون لاہور کا محلہ‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے شہباز کے پرانے گھر کا ایڈریس بتایا۔

’’ہاں مگر تم کیسے جانتے ہو یہ سب؟‘‘

’’میں جہانگیر‘‘

’’کون جہانگیر؟‘‘

’’وہی جس پر تمہارے باپ کے قتل کا الزام تھا‘‘وہ تلخی سے بولا۔’’حالانکہ قاتل خود تمہارا بھائی تھا‘‘شہباز کو لگا وقت رک گیا ہے۔اس نے پھٹی نظروں سے شہباز کے طرف دیکھا۔

’’تت تم جھوٹ بولتے ہو قاتل تم تھے‘‘

’’اسی الزام کے ڈر سے میں وہاں سے بھاگا۔حقیقت یہ تھی کہ کیس ہارنے کے بعد جب میں گھر آیا تو ارباز میرے پاس آیا۔اس نے مجھے صدیق کو قتل کرنے کے بدلے آدھی دکان دینے کا وعدہ کیا مگر میں نے انکار کردیا۔لالچ نے اسے اندھا کردیا تھا۔تیرا باپ اسے کچھ دن پہلے وہاں سے بھگا چکا تھا کیونکہ ارباز دکان کی کمائی عیاشی میں اڑانا چاہتا تھا۔میرے انکار کے بعد اس نے میرے ہی ایک دوست سے پسٹل خریدا اور مار دیا اس غریب انسان کو۔الزام لگا مجھ پر اور میں جانتا تھا کوئی میری بے گناہی تسلیم نہیں کرے گا۔میں نے گھر بارچھوڑا اور ان برف کی وادیوں میں آگیا‘‘آخری الفاظ کہتے ہوئے اس کی آنکھ میں آنسو آگئے۔شہباز کو لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے ۔جاگتی آنکھوں سے۔جہانگیر کے لہجے میں سچائی کی جھلک اسے بے چین کررہی تھی۔جہانگیر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔شہباز نے چائے چھوڑی اور واپسی کی تیاری پکڑلی۔

                                         ٭٭٭

دو دن بعد وہ صدیق کی دکان کے سامنے کھڑا تھاجہاں ارباز کا چھوٹا بیٹا باپ کے ساتھ دکان پر موجود حیرت سے اردگرد موجود لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ارباز نے اسے کرسی پیش کی اور آنے کی وجہ پوچھی۔

’’ابو کو کیوں مارا ارباز؟‘‘اس کے سوال نے ارباز کے چہرے کا رنگ بدل دیا۔

’’مم میں نے نہیں مارا‘‘

’’آج جہانگیر ملا تھا مجھے،ابو تو ہم سے پیار کرتے تھے‘‘

’’ہاں کرتے تھے پر پیار سے پیٹ نہیں بھرتا شہباز۔میں بھی آج تمہاری طرح تنہا اور بھوکا مر رہا ہوتا اگر ابو کو مارنے کا فیصلہ نہ کرتا‘‘

’’مجھے کوئی سوال کرنا ہے نہ جواب پر میرے الفاظ یاد رکھنا ارباز۔اک دن ایسے ہی یہ میرے بھتیجے کے ہاتھ میں پسٹل ہو گا اور تمہارا سینہ خون اگلے گا‘‘وہ یہی کہہ کر چلا آیا۔اس رات کے بعد ہر رات صدیق احمدقریشی کا چہرہ اسے خوابوں میں دکھائی دینے لگا۔وہ بار بار ایک ہی سوال پوچھتا تھا۔

’’میرا کیا قصور تھا شہباز؟میرا کیا قصور تھا۔۔‘‘اور ملک کا مشہور لکھاری شہباز۔۔چلاتا ہوا اٹھ بیٹھتا۔رفتہ رفتہ اسے جاگتی آنکھوں سے بھی صدیق دکھائی دینے لگا۔بال بڑھ گئے۔داڑھی بڑھ گئی۔کپڑے پھٹ گئے۔اسے نہائے ہوئے ایک ماہ ہو گیا اور پھر وہ چلاتا ہوا اپنے فلیٹ سے نکل آیا۔۔۔

                                       ٭٭٭

سنا ہے آج کل ایک بوڑھا شخص سڑکوں پر چلاتا پھرتا ہے۔۔

’’سنو سنوسب لوگ سن لو۔میں لکھاری ہوں،لکھاری ہوں میں۔میرے قلم کی کاٹ نے دنیا کو ادھیڑ دیا تھا۔میرے الفاظ کے جادو نے کئی لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑلیا تھا۔ہاں میں ہی وہ لکھاری ہوں جس کی لکھی گئی تحریروں کو تم لوگ پڑھتے ہو ۔سنو لوگوں ۔۔میں لکھاری ہوں۔میں جب چاہوں اپنے الفاظ سے کسی کو رلا سکتا ہوں کسی کے لبوں کی ہنسی بن سکتا ہوں۔کیونکہ میں لکھاری ہوں‘‘

لوگ اس پاگل کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کچھ قارئین شہباز صدیق کے لیے اب بھی خط بھیجتے ہیں۔تعریفی خط۔۔۔

                                                                                                    ٭٭٭٭

اعتزاز سلیم وصلی

Comments




POST A COMMENT