اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘

2019-08-26 20:43:02 Written by زحزف مرزا

views:1107

’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘

 

 

رات کے آخر میں صحن میں تاریکی اور ہو کاعالم تھا۔ایسے میں کہیں دور سے فجر کی اذان نے فضا میں پھیلے سناٹے کو توڑا۔صحن کے آگے ملحقہ کمروں میں سے ایک کمرے سے گھنٹی کی آواز دھیمی دھیمی گونج رہی تھی۔ کمرے میں پڑے دو پلنگوں میں سے ایک پلنگ میں ہلکی سی حرکت ہوئی اور اس ذی روح نے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں اور ایک دم اچھل کے بیٹھ گئی جیسے کسی بھیانک خواب سے بیدار ہوئی ہو۔اور آگے بڑھ کر ٹیبل لیمپ سے موبائل اٹھایا اور ساتھ ہی دوسرے پلنگ پر چٹ لیٹی،لحاف اوڑھے مشال کو گھورا۔اس کا دل چاہا اس کو کچا چبا جائے۔کتنی دفعہ منع کیا تھا کہ موبائل پر یہ منحوس ٹون نہ لگایا کرے۔کتنی اذیت اور تکلیف دیتی ہے ’’یہ آواز‘‘۔اسے بہت کچھ یاد آیا لیکن یاد کرنے سے کیا حاصل ۔سو وہ اٹھ کر واش روم میں گھس گئی۔

                         ٭٭٭

’’بسمل ۔۔بسمل۔۔بسمل۔۔باہر آؤ۔دیکھو موسم کتنا خراب ہے میرے بیٹے کو فون کرو۔‘‘کرن بھاگتی ہوئی آئی اور غصے سے بولی۔

’’کیا ہے ماں؟کیوں خود بھی نہیں سوتی اور گھر والوں کو بھی نہیں سونے دیتی‘‘

رقیہ نے معصومیت سے کہا۔’’وہ ابھی تک نہیں آیا‘‘

بسمل نے تاسف سے رقیہ کو گھورا اور دھیمے لہجے میں کہا۔’’ماں وہ کبھی نہیں آئے گا،آپ سمجھتی کیوں نہیں؟۔‘‘

رقیہ نے غصے سے گھورااور بولی تو لہجہ بھیگا بھیگا تھا۔’’وہ ضرور آئے گا‘‘

بسمل آنکھوں میں آنسو لئے کھڑی ہوئی اور چلی گئی۔رقیہ ہنوز بیٹھی رہی اور بڑبڑائی۔’’چار سال ہو گئے اب تو آ جاؤ‘‘

                         ٭٭٭

’’صنوبر دروازہ کھولو۔پندرہ منٹ سے اندر کیا کررہی ہو؟‘‘مشال غصے سے بولی۔کھٹاک سے دروازہ کھلا اور صنوبر تولیے سے چہرہ تھپتھپا رہی تھی اور مشال کو غصے سے گھورا تو مشال کو محسوس ہوا کہ وہ رو رہی تھی کیونکہ آنکھوں میں ہلکا سا گلابی پن تھا لیکن مشال بغیر بولے واش روم میں گھس گئی اور صنوبر نماز پڑھنے کیلئے مصلہ بچھا رہی تھی اور اب اسے صرف سکون چاہیے تھا۔

                        ٭٭٭

صبح ابھی تازہ تھی اور سفیدی سنہری پن میں نہ بدلی تھی۔اسرار کاٹیج کے مکینوں کا ناشتہ میز پر سج چکا تھا۔اور مسٹر اسرار علی نے سامنے سے آتی اپنی بیٹیوں کو محبت بھری نگاہ سے دیکھا تو صنوبراور مشال نے یک زبان سلام کیااور کھانے کیلئے بیٹھ گئیں لیکن صنوبر کا غصہ ہنوزبرقرار تھا۔وہ چھوٹے چھوٹے نوالے توڑنے لگی لیکن دھیان کہیں اور تھا تو صائمہ نے پوچھا۔

’’کیا ہوا صنوبر بیٹا؟‘‘

صنوبر بولی تو لہجہ کاٹ کھانے کو تھا۔’’کچھ نہیں‘‘اور نگاہوں کا زاویہ ماں سے ہٹایا اور مشال کو گھورا،ساتھ ہی ہاتھ سے اشارہ کیا۔’’بس آپ اپنی بیٹی کو سمجھا لیں کہ آئندہ وہ منحوس ٹون نہیں لگائے گی‘‘

صائمہ نے مشال کی طرف دیکھا تو اس نے کندھے اچکائے۔

’’بیٹا کیا ہو گیا ہے تمہیں؟کیوں ان فضول باتوں سے گھر کا ماحول خراب کرتی ہو؟چھوڑ دو ان فضول باتوں کو‘‘صائمہ نے پیار سے سمجھایا۔

لیکن صنوبر تو جیسے پھٹ پڑی اور اٹھ کھڑی ہوئی پھر بولی۔’’مما کیا آپ نہیں جانتیں وہ آواز میرے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح برستی ہے۔مجھے اذیت دیتی ہے۔چار سال قبل اس گھنٹی کی آواز نے کیا کہرام برپا کیا تھا ہماری زندگی میں۔۔میری زندگی اجیرن ہو چکی ہے ماما اور آپ کہتی ہیں فضول باتیں‘‘پھر صنوبر نے پاپا اور مشال کو دیکھا جو تماشائی بنے ان دونوں کی گفتگو سن رہے تھے۔سو وہ آنسو پونچھتی بغیر ناشتہ کیے سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئی اور صائمہ ساکن کھڑی غیرمرئی زاویہ کو گھورتی رہی گویا کہ پانچ سال قبل کے مناظر اس کے سامنے ہوں۔

                            ٭٭٭

 

وہ قد آور شیشے کے سامنے کھڑا اپنی شیروانی کو جانچ رہا تھا۔بال نفاست سے سیٹ کئے ،وجیہہ نقوش ،شاندار شخصیت اور پرکشش اور گہری آنکھیں بالکل شہزادوں جیسی،دفعتاًاس نے قد آور شیشے میں صنوبر کا عکس دیکھا۔جو پیار اور بڑی چاہ سے اس کی طرف ہی متوجہ تھی۔اس کی آنکھیں بہت خوبصورت ،مغرورسی،پتلی بادامی رنگت کی ناک،گہری بھوری پلکیں،نقوش وجیہہ ،وہ صاف رنگت کی،دراز قد دبلی پتلی لڑکی تھی۔

’’کیسی لگی شیروانی؟‘‘راغب بسطامی نے اپنے سراپے کو دوبارہ دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

’’بہت ہی خوبصورت،بالکل آپ جیسی‘‘صنوبر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

’’تو پیک کروا لیتے ہیں پھر‘‘راغب نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔

’’شیور‘‘اور صنوبر راغب کا ہاتھ تھامے کاؤنٹر تک آئی اور پیک کروا کے باہر آئی تو راغب کو مخاطب کیا۔’’راغب پلیز مجھے یونیورسٹی بھی ڈراپ کر دیں‘‘

’’ہاں ضرور،چلو ڈراپ کر دیتا ہوں‘‘اور اس کو ساتھ لیے گاڑی تک آیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اوربڑے پیار سے اس کے چہرے کو تھاما اور پوچھا۔’’تم خوش تو ہوناں اس رشتے سے؟‘‘

’’ہاں بہت خوش ہوں اور ویسے بھی مجھ سے زیادہ اور کون خوش ہو سکتا ہے‘‘

’’ہوں‘‘اس نے سر جھٹکا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔اور صنوبر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی بولتی رہی اور وہ سنتا رہا ۔گویا کہ اس کی عادت تھی اس لڑکی کی ہر بات کو سننا۔یہاں تک کہ گاڑی رکی اور اس کی زبان کو بریک لگا اور وہ گاڑی سے نکل کر یونیورسٹی کے گیٹ پر پہنچی اور بے ساختہ مڑی۔راغب اسی کی طرف متوجہ تھا۔صنوبر نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور راغب نے بھی جواباً ہاتھ ہلایااور وہ مڑ گئی اور راغب تب تک اس کی طرف دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ گیٹ کراس کر گئی۔راہداری میں صنوبر کو زویا نظر آئی اور اس کی طرف قدم بڑھا دئیے اور مسکرا کر’’ہائے‘‘کہا۔زویا نے بھی ’’ہائے‘‘کیا اور ساتھ ساتھ چلتی ایک دوسرے کا حال و احوال پوچھنے لگیں۔

’’بہت خوش لگ رہی ہو،خیریت؟‘‘زویا نے معنی خیز نظروں سے گھورا۔

’’ہاں خوش کیوں نہ ہوں۔کل راغب اپنی فیملی سمیت آئے تھے تو شادی کی تاریخ فائنل کر دی اور میں شادی کا شدت سے انتظار کر رہی ہوں‘‘

’’واؤ یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے یارر۔۔‘‘

’’اور تم بتاؤ زویا،کیوں بکھری بکھری سی رہتی ہو؟۔آگے بڑھو۔جو گزر چکا اسے یاد کرنے سے کیا حاصل؟اب ہاشم چلا گیا ہے تو تم اپنی زندگی اس کی یاد میں برباد کرو گی؟تم تو ایسے مرے جارہی ہو جیسے ہاشم کے ساتھ دنیا بھی ختم ہو گئی ہو۔‘‘صنوبر نے آنکھوں کو پھیر کرکہا جیسے کوئی بہت حقیر سی بات کی ہو۔

’’کیا اتنا آسان کام ہے؟‘‘زویا نے غصے اور حیرانگی سے پوچھا۔

’’تو اور کیا؟‘‘صنوبر نے ناگواری سے کہا۔

’’اچھا ۔۔!ایک بات تو بتاؤ اگر تم سے بھی تمہاری محبت چھین لی جائے تو کیا پھر بھی تم ایسا بولو گی؟کیا پھر بھی تم اتنی آسانی سے سب کچھ کہہ دو گی؟‘‘زویا نے تمام لحاظ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوچھا۔

’’کون سی محبت؟کیسی محبت؟۔۔ایک بات دھیان سے سن لو زویا خان ،مجھے پیار اور محبت کی کمی نہیں ہے۔سب مجھ سے پیار کرتے ہیں میں بھی ان سے محبت کرتی ہوں۔فطری سی بات ہے جس نے آنا ہے جانا بھی تو ہے اور اگر تمہارااشارہ راغب کی طرف ہے تو وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں،میری ہر بات مانتے ہیں اور میں بھی ان سے محبت کرتی ہوں۔ان کی عزت کرتی ہوں۔لیکن اگر وہ مجھے چھوڑ کرچلے بھی گئے تو جلد سنبھل جاؤں گی مگر کبھی انہیں مڑ کر نہیں دیکھوں گی۔ان کی جگہ کوئی اور آ جائے گا اور اگر میں انہیں چھوڑ کر چلی گئی تو وہ مر جائیں گے،میری انا یہ ہرگز گوارا نہیں کرے گی کہ وہ کسی کو پلٹ کر بھی دیکھے۔اور میرا اصول ہے جو میرا ہے وہ ہمیشہ میرا ہی رہے گا لیکن جو مجھے۔۔صنوبر اسرار کو چھوڑ دے تو وہ اسے بھول جائے گی ہمیشہ کیلئے۔۔اور ویسے بھی کوئی میری محبت کو مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا‘‘

’’تم پچھتاؤ گی صنوبر اسرار‘‘زویا نے کہا۔

’’کیا تم شادی پر آؤ گی؟‘‘صنوبر نے یکسر بات کو رد کرتے ہوئے سوال کیا۔

’’شیور!‘‘اور صنوبر پلٹ گئی اور زویا وہاں کھڑی اسے جاتے دیکھتی رہی۔اس بات سے بے خبر ،اس کے کہے الفاظ اس کا تماشا بنانے والے تھے۔

                           ٭٭٭

جب وہ یونیورسٹی سے سیدھا گھر داخل ہوئی تو صائمہ کچن میں مصروف کھانا بنا رہی تھیں۔

’’السلام علیکم مما۔۔!‘‘

’’آ گئی میری بیٹی‘‘صائمہ نے پیار سے پچکارا۔

’’مما کھانا تیار ہے؟‘‘

’’جی میری جان بس تھوڑا انتظار کرو،پھر کھانے کے بعد ماموں کی طرف جانا ہے۔نانو تمہیں یاد کررہی ہیں‘‘

’’مما! راغب بھی آئے تھے کیا؟‘‘

’’صنوبر۔۔!تمیز سے مخاطب کیا کرو۔وہ بڑا ہے تم سے‘‘صائمہ نے غصے سے ڈانٹا۔

’’سوری مما۔۔! کیا راغب بسطامی صاحب ہمارے گھر میں تشریف فرما ہوئے تھے؟‘‘صنوبر مسکرا کر بولی۔

’’تم کبھی نہیں باز آؤ گی صنوبر‘‘

’’انشااللہ مما۔ْْ۔! اب جلدی بھی کریں مجھے بھوک لگی ہے پھر نانو کی طرف جانا بھی ہے اور اور مارکیٹ بھی۔شادی کیلئے جوڑا لینا ہے‘‘

’’لا رہی ہوں کھانا‘‘صائمہ بولی۔

’’مما ویسے آپ بھی بہت خوش ہوں گی دوہری دوہری رشتے داری جو نبھانی ہے‘‘

’’ہاں بیٹا۔۔یہ تو ہے‘‘صائمہ اطمینان سے بولی۔

                                 ٭٭٭

اسرار کاٹیج کے سبزہ زار میں ویٹر زشادی کی تقریب کی تیاریوں میں مصروف تھے۔اندر سے بھی شور شرابے کی آواز یں آ رہی تھیں۔آج بارات کی تقریب تھی اور باراتیوں کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ایسے میں صنوبر کے کمرے کا داخلی دروازہ کھلا تھا۔اس نے گہرے سرخ رنگ کا لہنگا پہن رکھا تھااور شرٹ پر بھی نفیس سا کام تھا۔وہ نفاست سے دوپٹہ سیٹ کئے صوفے پر براجمان تھی۔اتنے میں بارات کی آمد کا شور مچ گیا۔وہ دوڑتی ہوئی باہر بھاگی۔سب مہمان باراتیوں کا استقبال کررہے تھے۔راغب دلہے کے روپ میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔جو اب سٹیج کی طرف بڑھ رہا تھا۔صنوبر کو دور سے زویا نظر آئی۔وہ ہاتھ ہلاتی ہوئی اس کی طرف آئی اور رکھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئیں جہاں راغب اور بسمل ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ بسمل شادی کے جوڑے میں ملبوس پری لگ رہی تھی۔

’’اب تمہارے اور راغب کے درمیان بسمل آ گئی ہیں‘‘زویا نے مسکرا کر پوچھا۔

’’ایسا ویسا کچھ نہیں۔۔بس بسمل کو۔۔سوری بسمل پھپھو کو راغب پسند تھے تو پاپا نے بڑے ماموں سے بات کی نا چاہتے ہوئے بھی راغب کو ماننا پڑااور ویسے بھی میرے اور راغب کے درمیان کوئی نہیں آئے گا۔پھپھو بھی نہیں ۔جو صنوبر اسرار کا ہے اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔کبھی بھی نہیں‘‘

اور وہ اٹھ کر سٹیج کی طرف بڑھ گئی۔زویا نے افسوس سے سرجھٹک دیا اور سامنے دیکھنے لگی جہاں ابجاب وقبول ہو رہا تھا۔راغب کے کان میں صنوبر کچھ کہہ رہی تھی۔وہ سر جھکائے مسکرائے جارہے تھے۔

’’صنوبر تم پچھتاؤ گی‘‘ 

                               ٭٭٭

شادی کے فوراً بعد راغب اور بسمل عمرے کیلئے روانہ ہو گئے۔صنوبر نے دوبارہ یونیورسٹی جوائن کر لی۔آہستہ آہستہ ہنسی خوشی دن گزرتے گئے۔راغب کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت سے بیٹے سے نوازا۔راغب نے صنوبر کے کہنے پر اس کا نام’’کونین بسطامی‘‘رکھا گیا۔بسمل کو مجبوراً قبول کرنا پڑا۔ویسے بھی اس کی عادت ہو گئی تھی کہ راغب اور صنوبر کے بارے میں کچھ بول نہ سکے۔صنوبر کے سامنے بسمل کی کوئی قدر نہیں تھی۔راغب ہر چیز میں بسمل کو چھوڑ کر صنوبر کو ترجیح دیتا۔اس کی ایک آواز پر دوڑا چلا جاتا۔اور اسی چیز نے صنوبر کے غرور وتکبر میں اضافہ کردیا تھا۔لیکن بسمل کو اس وقت سکون ملا جب راغب کی پوسٹنگ کراچی ہو گئی۔بسمل خوشی خوشی اور راغب نا چاہتے ہوئے بھی کراچی شفٹ ہو گیا۔کراچی شفٹ ہونے کے بعد بھی راغب زیادہ ترصنوبر کے رابطے میں رہتا۔لیکن نجانے کیوں صنوبر راغب کو مس کرنے لگی تھی۔اس کا دل چاہتا کہ وہ سامنے بیٹھ جائے اور وہ گھنٹوں اس سے باتیں کرے۔

کچھ دنوں سے راغب کام کے سلسلے میں کشمیر گیا تھا۔سو وہ صنوبر سے رابطہ نہ کرسکا۔کشمیر جانے کے ہفتہ بعد صنوبر کا موبائل راغب کے نام سے جگمگانے لگااور وہ فون کی آواز سنتے ہی بھاگ کر لاؤنج میں آ گئی جہاں صائمہ اور مشال ٹی وی میں مگن تھیں۔تو صائمہ نے پوچھا۔’’کون ہے؟‘‘

’’راغب کی کال ہے‘‘صنوبر نے دھڑکتے دل کے ساتھ جواب دیا۔اور کال پک کرلی لیکن دوسری طرف سے انجانی آواز نے اس کی مسکراہٹ چھین لی۔شاید اس نے کچھ کہا تھا اور صنوبر کا چہرہ سفید پڑتا گیا ۔ایسے جیسے کسی نے سارا خون نچوڑ لیاہو۔

’’کیا ہوا؟کیا کہہ رہا ہے؟‘‘صائمہ نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔وہ ہنوز کھڑی موبائل کو گھور رہی تھی۔تب صائمہ نے اسے جھنجوڑا۔اس نے صائمہ کی آنکھوں میں دیکھا جہاں کچھ بہت بھیانک ہو جانے کا ڈر تھا۔اس نے آہستہ سے کہا۔

’’مما راغب کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔اور مما۔۔۔راغب ماموں اب اس دنیا میں نہیں رہے‘‘صائمہ اور مشال نے رونا شروع کردیا اور صنوبر کو لگا ان الفاظ نے اس کے قدموں تلے زمین کھینچ لی ہے۔اور وہ گرتی چلی گئی۔شاید سب کچھ زلزلے زد میں آ گیا تھا۔

                              ٭٭٭

رقیہ،صائمہ کی والدہ کے گھرمیں سوگواری چھائی ہوئی تھی۔اسرار کاٹیج کا منظر بھی اس سے مختلف نہ تھا۔راغب کے جنازے کو آج ساتواں دن تھالیکن وہاں پھیلی نادیدہ کافور کی مہک اور میت والے گھر کی ویرانی برقرار تھی۔

زویا اسلام آباد سے سیدھا ادھر کو آئی۔ جب اندر داخل ہوئی تو صنوبر اپنے کمرے میں صوفے پر پیر رکھے گال ہتھیلی پر جمائے کسی غیرمرئی نقطے کو دیکھ رہی تھی۔آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔وہ ہنوز بیٹھی سامنے دیکھتی رہی۔زویا کے دل کو کچھ ہوا اور وہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔

’’زویا وہ میرے ماموں تھے۔بہت پیار کرتے تھے۔میرا خیال بھی رکھتے تھے۔مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔میں ان کی عزت بھی کرتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن میں حیران ہوں زویا مجھے کچھ دن پہلے پتہ چلا کہ میں ان سے بہت محبت کرتی تھی۔مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں ان کو مس کروں گی۔‘‘صنوبر نے ویران نگاہوں سے زویا کو دیکھا۔’’زویا!لیکن میں اب چاہتی ہوں کہ کاش وہ سامنے آئیں اور میں ان سے کہوں کہ صنوبر بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔زویا۔۔!تم نے کہا تھا کہ میں پچھتاؤں گی دیکھ لو میں آج پچھتا رہی ہوں‘‘

زویا کے دل کو کچھ ہوا۔’’میرا ایسا مطلب ہرگز نہیں تھا‘‘

’’زویا۔۔! تمہیں پتہ ہے دکھ اورپچھتاوے میں کیا فرق ہے؟میں بتاتی ہوں۔جیسے کسی کے پاس کوئی بہت قیمتی اثاثہ ہواوروہ اس سے دور چلا جائے تو دکھ ہوتا ہے۔اور اسے دکھ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتاہے کہ وہ قیمتی تھا۔لیکن زویا جب انسان کسی ایسی چیز کو کھو دے جو اس کے نزدیک قیمتی نہیں تھی تو اسے دکھ نہیں ہوتا لیکن پچھتاوا تب ہوتا ہے جب معلوم ہو کہ وہ بہت قیمتی اور انمول تھی۔تب وہ ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے اور آج میرا وہی حال ہے،راغب کے فون سے آنے والی آخری کال نے میرا سب کچھ چھین لیا ہے۔میرامان۔۔میرا غرور۔۔میرا تکبر۔۔میری انا۔آج میں خالی ہاتھ ہوں۔دل اجڑ گیا ہے کہ آگے زندگی میں کچھ باقی نہیں رہا‘‘زویا خاموشی سے سنتی رہی اور اٹھ گئی۔کوئی جواب ہی نہیں تھا اس کے پاس۔۔

                                ٭٭٭

آج چار سال بعد بھی اس کی کیفیت میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔صائمہ سیڑھیوں کو دیکھتی رہی جہاں سے صنوبر ابھی ابھی گزری تھی۔

’’میرا تو بھائی مجھ سے بچھڑ گیا ہے لیکن میری بیٹی کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے‘‘

محبت جس سے بھی ہو اس کی قدر کھو جانے کے بعد ہی آتی ہے ۔صنوبر کو بھی قدر آ گئی تھی لیکن۔۔

 

 

’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘

Comments




POST A COMMENT