پیارا پاکستان

2019-08-27 15:06:30 Written by انشاء مریم

views:526

یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان۔۔۔۔

آج ہم آپ کو ہمارے ملک کے پانچ صوبوں میں رہنے والے پانچ قسم کہ لوگوں کے بارے میں گراں قدر معلومات فراہم کرنے والے ہیں!

یہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

1: فارغ البال لوگ؛

یہ عوامی اور عمومی طبقہ اول اول اتنا عام نہ پایا جاتا تھا لیکن جس تناسب سے وطنِ عزیز میں الو کی آبادی کم ہوئی یہ نسل اُسی رفتار سے پروان چڑھی۔ یہ لوگ اتنے فارغ ہوتے ہیں کہ چلتی چیونٹی کا راستہ تک روک لیتے ہیں، گلی میں گزرتے کتے کو بلاوجہ پتھر مار کر اُس کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ حتی کہ اکثر عوام کی یہ قسم گلیوں میں سخت گرمی کے موسم میں " گرم آنڈےےے" کا راگ الاپتی بھی نظر آتی ہے۔

2: فارغ العقل لوگ؛ 

یہ وہ عوامی حلقے ہیں جہاں عقل نامی چڑیا پر مار کر بھی راضی نہیں کجا کہ اس چڑیا کی پرواز۔۔۔ عوام کی اس قسم میں سر میں پایا جانے والا دماغ نامی عضو ہمیشہ غیر فعال رہتا ہے۔ ایسے لوگ ہر قومی و غیر قومی مسئلے پر اپنی رائے کو ترجیح دیتے ہیں گویا کہ تمام ملکی مسائل کا حل انھی کی زنجبیل میں چھپا ہے۔ یعنی کرائے کی ڈگری پر نام لکھا ہے میاں فاضل!

3:فارغ العمل لوگ؛  

عوام کی یہ قسم پاکستان کے تمام طول و عرض میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہ لوگ اعلی افکار و نظریات کے علمبردار ہیں ۔ ان کی باتیں سن کر آدمی خود کو ان کہ پاوں کی خاک سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے دانشور آج کل سوشل میڈیا کے گلی کوچوں میں وافر مقدار میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

4:فارغ التحصیل لوگ؛

یہ طبقہ بھی تمام صوبوں میں پایا جاتا ہے۔ اس طبقے کا من پسند مشغلہ اپنے تمام کامیاب و ناکام تجربات اپنی آنے والی نسلوں پر بذریعہ دھونس،دھمکی تھوپنا ہے۔ یہ لوگ اعلی پائے کےعقل مند ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ زیادہ عقل مندی انھیں زمانہ حال میں جینے سے روکے رکھتی ہے۔ ان طرزِ کہن کے دلدادہ لوگوں کے لیے آئینِ نو کی روش اتنی ہی بری ہے جتنی کہ شوگر کے مریض کے لیے شکّر۔

5:فارغ المال لوگ؛

سوہنی دھرتی کے قرب و جوار میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی جیب میں تو دھیلا بھی نہیں ہوتا مگر ان کی نظر ہمیشہ تاج محل کی سودا بازی پر ٹکی رہتی ہے۔ یہ لوگ اپنا امیر بننے کا شوق اپنے محبوب کے خواب میں جا کر پورا کرتے ہیں۔ ہینگ لگی نا پھٹکڑی اور رنگ بھی آتا ہے چوکھا!

پاکستان نامی گلدستہ اور بھی اس طرح کے لاتعداد روشن و رنگین پھولوں کا مرکز ہے لیکن آج کا مضمون یہیں پر ختم ہوا اس سے پہلے کہ کوئی قلم کار کو اوپر بیان کردہ اقسام سے تمثیل دینے کا سوچے!

بقلم انشاء مریم

Comments




POST A COMMENT