کوئی ہے جو مجھ سے مُحبت رکھتا ہے

2019-08-31 22:49:53 Written by عبید رضا

views:616

کوئی ہے جو مجھ سے مُحبت رکھتا ہے

 

 

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا دارُالْعَمَل (یعنی عمل کرنے کی جگہ)ہے اور آخرت دارالجزاء (یعنی بدلہ ملنے کا مقام)    

ہم دنیا میں جواچھا یا بُرابیج بوئیں گے اس کی فصل آخرت میں کاٹیں گے بعض اوقات تو دنیا میں بھی بدلہ مل جاتا ہے ، اچھا یا بُرا بدلہ ملنے کو ہمارے ہاں ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘، ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘،’’جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے ‘‘ اور’’مُکافاتِ عمل ‘‘ جبکہ عربی زبان میں ’’کَمَا تَدِینُ تُدَان‘‘،اور انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے 

 ’‘As you sow so shall you reap’‘

یہی بات سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیان فرمائی ہے: 

نیکی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بھلایا نہیں جاتا ، جزا دینے والا (یعنی اللہ ) کبھی فنانہیں ہوگا، لہٰذا جو چاہو بن جاؤ، تم جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔‘‘ 

  (مصنف عبدالرزاق)

انسان ایسے جیتا ہے جیسے اسے کبھی مرنا ہی نہیں لیکن پھر ایسے مرتا ہے جیسے کبھی جیا ہی نہ تھا ۔ کامیاب وہ ہے جو ایسے جیے جیسے مرنے ہی والا ہے اور ایسے مرے جیسے ابھی بھی زندہ ہے ۔

ہمارا خداوند کریم رحمان و رحیم ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رووف ورحیم و رحمت و رحمۃ للعالمین ہیں،صحابہ علیھم الرضوان رحماء بینھم یعنی آپس میں بہت رحمدل تھے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم مسلمان بھی آپس میں مہربان، شفیق،کریم اوررحم دل ہوجائیں ۔

ہمیں چاہئے کہ کسی مسلمان کو تکلیف نہ دیں ، اس کی چیز نہ چُرائیں ،اسے دھوکہ نہ دیں ،اس پر جھوٹا اِلزام نہ لگائیں ، اس کا قرض نہ دبائیں ،اس کی زمین پر قبضہ نہ کریں ، اس کی گھریلو زندگی میں زہر نہ گھولیں ،بدگمانیاں نہ پھیلائیں ،کسی کا دل نہ دکھائیں ،پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں نہ کریں ،اس کا مذاق اڑا کر اس کی عزت کا جنازہ نہ نکالیں ،سازشیں کرکے اس کی ترقی میں روڑے نہ اَٹکائیں اور اس کی برائیاں لوگوں میں پھیلا کر بدنام نہ کریں کیونکہ جو آج ہم کسی کے ساتھ کریں گے کل ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوسکتا ہے ۔اس کے برعکس اگر ہم کسی کی عزت کا تحفظ کریں گے ، اس کے مال میں خیانت نہیں کریں گے ، اسے دھوکہ نہیں دیں گے ، اس سے سچ بولیں گے ،اس کی غیبت نہیں کریں گے ،اس کے بارے میں حُسنِ ظن رکھیں گے ، اس کی خیرخواہی کریں گے تو ہمیں بھی بھلائی کی اُمید رکھنی چاہئے ۔’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘

بغدادِ مُعَلٰی جِسے عُروسِ البلاد کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے اگرآپ بغداد شریف کی تاریخ کا مُطالعہ کریں تُو آپ دیکھیں گے کہ یہ وہ سرزمین ہے جو علم و دانش کا گہوارہ ہے یہی وہ مقدس سرزمین ہیں کہ جہاں دُنیا بھر سے تشنگان علم اپنی پیاس بھجانے کیلئے بڑی بیقراری سے دور دراز کا سفر اختیار کیا کرتے تھے جِس کے بطن سے ایسے ایسے گوہر نایاب آسمان فلک پر چَمکے کہ دُنیا کو مُنور کرڈالا ہزاروں اولیا اللہ نے اِسے اپنا مسکن بنایا اور یہی وہ سرزمین ہے جس پر ہزاروں مہتاب ولایت اندھیروں کو اُجالوں میں بَدلتے رہے۔ یُوں تُوحضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت جُنید بغدادی رحمتہ اللہِ علیہ کے نام ہی اسکی پہچان کیلئے کافی ہیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ لاکھوں اولیاءَاللہ نے اِسے شرف عزت بخشا ہے اِسی سرزمین بغداد کا ایک مختصر سا واقعہ آج آپکو گوشِ گزارکرنے کی سعادت حاصل کررہا ہُوں

 

موسمِ بہار کی ایک سُہانی شام کا ذکر ہے یُوں توپہلی بارش نے تمام شہرکی سڑکوں کو دُھو ڈالا تھا لیکن چند ایک بارشوں کی تاب نہ لاکر شہر کی چند سڑکوں پر پانی جمع ہُوچُکا تھا زمین کی مَٹی اپنی پیاس بھجانے کیلئے اُس پانی کے ساتھ اَٹھکلیاں کررہی تھی جسکی وجہ سے شفاف پانی گُدلاہُوچُکا تھا لگاتار بارشوں کی وجہ سے موسم میں خنکی پیدا ہُوچُکی تھی

 

ایک مجذوب درویش بھی اِس بارش کے پانی میں عشق ومستی سے لبریز چلا جارہا تھا کہ اُس درویش نے ایک مٹھائی فروش کو دِیکھا جو ایک کڑھائی میں گرما گرم دودھ اُبال رہا تھا تُو موسم کی مُناسبت سے دوسری کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کررہا تھا مجذوب کچھ لمحوں کیلئے وہاں رُک گیا شائد بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر تھا۔ مجذوب حلوائی کی بھٹی کو بڑے غور سے دیکھنے لَگا مجذوب کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکن مجذوب کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کیا ہُوتے 

مَجذوب چند لمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعد چَلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دِل حَلوائی سے رَہا نہ گیا اور ایک پیالہ گرما گرم دودھ اور چند جلیبیاں مَجذوب کو پیش کردِیں مَجذوب نے گرماگَرم جلیبیاں گَرما گرم دودھ کیساتھ نُوش کی اور پھر ہاتھوں کو اُوپر کی جانب اُٹھا کر حَلوائی کو دُعا دیتا ہُوا آگے چَل دِیا

مَجذوب کا پیٹ بھر چُکا تھا دُنیا کے غموں سے بے پروا وہ پھر اِک نئے جُوش سے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اُڑاتا چلا جارہا تھا وہ اِس بات سے بے خبر تھا کہ ایک نوجوان نو بیاہتا جُوڑا بھی بارِش کے پانی سے بَچتا بچاتا اُسکے پیچھے چَلا آرھا ہے یکبارگی اُس مَجذوب نے بارش کے گَدلے پانی میں اِس زور سے لات رَسید کی کہ پانی اُڑتا ہُوا سیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کَپڑوں کو بِھگو گیا اُس نازنین کا قیمتی لِباس کیچڑ سے لَت پَت ہُوگیا تھا اُسکے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہُوئی

 

لِہذا وہ آستین چَڑھا کر آگے بَڑھا اور اُس مَجذوب کو گریبان سے پَکڑ کر کہنے لگا کیا اندھا ہے تُجھے نظر نہیں آتا تیری حَرکت کی وجہ سے میری مِحبوبہ کے کَپڑے گیلے ہوچُکے ہیں اور کیچڑ سے بھر چُکے ہیں

مَجذوب ہکا بَکا سا کھڑا تھا جبکہ اُس نوجوان کو مَجذوب کا خاموش رِہنا گِراں گُزر رہا تھا

عورت نے آگے بڑھ کر نوجوان کے ہاتھوں سے مَجذوب کو چھڑوانا بھی چاہا لیکن نوجوان کی آنکھوں سےنِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کر وہ بھی دوبارہ پیچھے کھسکنے پر مجبور ہُوگئی

راہ چلتے راہ گیر بھی بے حِسی سے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غُصے کو دیکھ کر کِسی میں ہِمت نہ ہُوئی کہ اُسے رُوک پاتے اور بلاآخر طاقت کے نشے سے چُور اُس نوجوان نے ایک زور دار تھپڑ مَجذوب کے چہرے پر جَڑ دِیا بوڑھا مَجزوب تھپڑ کے تاب نہ لاسکا اور لڑکھڑاتا ہُوا کیچڑ میں جا پڑا

نوجوان نے جب مَجزوب کو نیچے گِرتا دِیکھا تُو مُسکراتے ہُوئے وہاں سے چَلدیا

بوڑھے مَجذوب نے آسمان کی جانب نِگاہ اُتھائی اور اُس کے لَب سے نِکلا واہ میرے مالک کبھی گَرما گَرم دودھ جلیبیوں کیساتھ اور کبھی گَرما گَرم تھپڑ،، مگر جِس میں تُو راضی مجھے بھی وہی پسند ہے ،، یہ کہتا ہُوا مَجذوب ایکبار پھر اپنے راستے پر چَل دِیا

دوسری جانب وہ نوجوان جُوڑا جوانی کی مَستی سے سرشار اپنی منزل کی طرف گامزن تھا تھوڑی ہی دور چَلنے کے بعد وہ ایک مکان کے سامنے پُہنچ کر رُک گئے وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کر اپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہُوئے بالا خَانے کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا

بارش کے سبب سیڑھیوں پر پھلسن ہُوگئی تھی اچانک اُس نُوجوان کا پاؤں رَپٹ گیا اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گِرنے لَگا

 

عورت زور زور سے شور مچا کر لوگوں کو اپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جسکی وجہ سے کافی لوگ فوراً مدد کے واسطے نوجوان کی جانب لَپکے لیکن دیر ہُوچُکی تھی نوجوان کا سَر پھٹ چُکا تھا اور بُہت ذیادہ خُون بِہہ جانے کی وجہ سے ااُس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہُوچُکی تھی۔

کُچھ لوگوں نے دور سے آتے مَجذوب کو دِیکھا تُو آپس میں چہ میگویئاں ہُونے لگیں کہ ضرور اِس مجذوب نے تھپڑ کھا کر نوجوان کیلئے بَددُعا کی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کا صرف سیڑھیوں سے گِر کر مرجانا بڑے اَچھنبے کی بات لگتی ہے

چند منچلے نوجوانوں نے یہ بات سُن کر مَجذوب کو گھیر لیا ایک نوجوان کہنے لگا کہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نوجوان کیلئے بَددُعا کر بیٹھے یہ اللہ والوں کی روِش ہَر گز نہیں کہ ذرا سی تکیلف پربھی صبر نہ کرسکیں

وہ مَجذوب کہنے لگا خُدا کی قسم میں نے اِس نوجوان کیلئے ہرگِز بَددُعا نہیں کی! 

؟تبھی مجمے میں سے کوئی پُکارا اگر آپ نے بَددُعا نہیں کی تُو ایسا کڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِر کر کیسے ہلاک ہوگیا

؟تب اُس مَجذوب نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیا کہ کوئی اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ موجود ہے

ایک نوجوان نے آگے بَڑھ کر کہا ، ہاں میں اِس تمام واقعہ کا عینی گَواہ ہُوں

؟مَجذوب نے اَگلا سوال کیا ،میرے قدموں سے جو کیچڑ اُچھلی تھی کیا اُس نے اِس نوجوان کے کپڑوں کو داغدار کیا تھا

وہی نوجوان بُولا نہیں ،، لیکن عورت کے کَپڑے ضرور خَراب ہُوئے تھے

مَجزوب نے نوجوان کی بانہوں کو تھامتے ہُوئے پوچھا ، پھر اِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا

نوجوان کہنے لگا،، کیوں کہ وہ نوجوان اِس عورت کا محبوب تھا اور اُس سے یہ برداشت نہیں ہُوا کہ کوئی اُسکے مِحبوب کے کپڑوں کو گَندہ کرے اسلئے اپنی معشوقہ کی جانب اُس نوجوان نے آپکو مارا

نوجوان کی بات سُن کر مجذوب نے ایک نعرۂ مستانہ بُلند کیا اور یہ کہتا ہُوا وہاں سے رُخصت ہُوگیا پس خُدا کی قسم میں نے بَددُعا ہرگز نہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جو مجھ سے مُحبت رکھتا ہے اور وہ اِتنا طاقتور ہے کہ دُنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی اُسکے جبروت سے گھبراتا ہے

 

ہر آنکھوں دیکھا سچ نہیں ہُوتا   

چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے

بڑے بڑے جہاز ڈوب جاتے ہیں

 چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں

بڑے بڑے مضبوط تعلقات کو کھا جاتی ہیں

 چھوٹے چھوٹے شگاف

بڑے بڑے سیلابوں کا سبب بن جاتے ہیں

 چھوٹی چھوٹی سی بیماریاں

بڑے بڑے امراض تک لے جاتی ہیں

 چھوٹے چھوٹے گناہ

 بڑے بڑے گناہوں کا سبب بن جاتے ہیں

 چھوٹی چھوٹی فضول باتیں

سارے ایمان کو خسارے میں ڈال سکتی ہیں

جارحانہ اور طنزیہ انداز ِگفتگو اختیار کرتے وقت ہم اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کرتے کہ ہماری زبان کی ’’تیز دھار‘‘سے نہ جانے کتنے مسلمانوں کے دل گھائل ہوجاتے ہوں گے ! کس سے کس وقت کس انداز میں بات کرنی ہے ہمیں شاید معلوم ہی نہیں ،یاد رکھئے کہ تیروتلوار کے گھاؤتو کچھ عرصے میں مندمل ہوجاتے ہیں لیکن زبان سے لگنے والا زخم بعض اوقات مرتے دم تک نہیں بھرتا ، کسی نے کیا خوب کہا ہے :

چھری کا تیر کا تلوار کا تو گھاؤ بھرا

لگا جو زخم زباں کا رہا ہمیشہ ہرا

 

نیزوں کے زخم تو بھرجاتے ہیں زبان کے گھاؤنہیں بھرتے

 انسان وہ ہے جو مالک حقیقی خدا کا وفادار ہو اور انسانوں کا خیال کرے ۔ ہر وقت بھونکنے اور کاٹنے والا کتا ہوتا ہے اور چیر پھاڑ کرنے والا درندہ اور نفس کی خواہشات میں ڈوبا رہنے والا جانور اور ہر وقت شرارتوں میں لگا ہوا بندر اور دوسروں کی چیزیں خراب کرنے والا چوہا ہوتا ہے انسان نہیں ۔

کاش ہم زندگی کے تمام معاملات میں یہ حدیث سامنے رکھ کر سب کے لئے مہربان بن جائیں اور کسی کو اپنی زبان ہاتھ اشارے عمل سے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ۔ رسول الله ﷺ کا فرمان ہے کہ جو دوسروں کو نقصان پہنچائے خدا اسے نقصان میں ڈالے گا اور جو دوسروں کو مشقت میں ڈالے خدا اسے مشقت میں ڈالے گا

ایک بُزرُگ عَالِم (علیہ الرحمہ) سے ایک شخص نے سوال کیا جناب میں نے دیکھا کہ ایک کُتا میرے گھر میں داخل ہُوا گھر کے جس کمرے میں کُتا داخل ہُوا اُس کمرے میں دَھی کا کونڈا بھی رکھا تھا میں نے للکارا تو کُتا باہر نکلا اُس کا مُنہ گیلا تھا مجھے لگتا ہے کہ کُتّے نے دَھی کے کونڈے میں مُنہ ڈالا ہُوگا۔ 

 

اب آپ بتائیں کیا وہ دَھی قابل استعمال ہے یا نجس ہوگیا ہے؟

 

اُن بُزرُگ عَالِم (علیہ الرحمہ) نے سائل کی جانب توجہ فرماتے ہُوئے اِرشاد فرمایا کیا تُو نے خُود اُس کُتّے کو دَھی کے کونڈے میں مُنہ مَارتے دِیکھا ہے؟

 

اُس شخص نے اکھڑ لہجے میں جواب دیا، کہ آنکھوں سے تو نہیں دیکھا مگر مجھے لگتا ہے کہ اُس کتے نے ضرور اُس دَھی کے کُونڈے میں مُنہ مارا ہوگا!

 

تب اُن بُزرُگ عاَلِم (علیہ الرحمہ) نے بڑے تحمل سے اِرشاد فرمایا کہ اگر تُو نے آنکھوں سے نہیں دیکھا تو یہ صرف تیرا شَک ہے لِہٰذا اُس دَھی کو پاک مانا جائے گا اور اِستعمال بھی کیا جائے گا۔

وہ شخص بیزاری کے عالَم میں کہنے لگا عجیب بات کہی آپ نے کہ میں نے آنکھوں سے نہیں دیکھا اِس لئے دَھی پاک ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کمرے میں دَھی بھی موجود تھا اور کُتا بھی موجود تھا اور یہ کُتّے کی مرغوب غذا بھی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ کُتّے نے دَھی میں مُنہ نا مارا ہُو ، یہ کہتے ہُوئے وہ شخص انتہائی غصہ کے عَالَم میں وہاں سے بکتا جھکتا روانہ ہُوگیا۔

 

کچھ عرصہ بعد وہی شخص اپنے گھر میں مُرغی ذبح کرنے کے بعد اُسکی بُوٹیاں بنا رہا تھا تبھی اُسکی بیگم نے ایک سونے کا ہار اپنے شوھر کو لا کر دِکھایا، ہار انتہائی خوبصورت اور بے مثال کام سے مُزیّن تھا وہ شخص ہار دیکھ ہی رہا تھا کی ایک چیل نے اچانک مُرغی کی ایک بُوٹی پر جھپٹا مارا بے خودی میں اس شخص نے ہار والے ہاتھ سے چیل کو بھگانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ ہار بھی چیل کے پنجوں سے اُلجھ گیا اور چیل گوشت کی بُوٹی کیساتھ ہار بھی لے اُڑی یہ شخص دیوانہ وار چھری لئے اُس چیل کے پیچھے لپکا چیل نے بستی سے کافی دور جا کر اُس ہار کو خود سے جُدا کردیا ۔ ہار چیل کی گرفت سے آزاد ہوکر چند جھاڑیوں میں آ گِرا یہ شخص جھاڑیوں میں ہار تلاش کر رہا تھا کہ اُسے ایک تازہ لاش خُون میں لت پَت نظر آئی لاش دیکھتے ہی اُس شخص کی چیخ بُلند ہوگئی وہاں سے کچھ فاصلے پر چند سِپاھی گُزر رہے تھے چیخ کی آواز سُن کر وہ سِپاھی موقعہ واردات پر آگئے اُنہوں نے ایک لاش کو خُون میں لَت پَت دیکھا تو اُس شخص کو گِرفتار کرلیا وہ شخص چیخنے لگا کہ بھائی یہ قتل میں نے نہیں کیا !

 

سِپاھی کہنے لگے واہ کیا بات کہی ،، لاش موجود ہے، چھری تُمہارے ہاتھ میں ہے ہار بھی تُمہارے ہاتھ میں موجود ہے خُون لاش پر بھی موجود ہے اور تُمہارے ہاتھوں پر بھی لگا ہے پھر بھی کہتے ہُو کہ قتل میں نے نہیں کیا لِہٰذا اُس شخص کو حوالات میں ڈال دِیا گیا۔

 

حوالات میں قید ہُونے کے بعد یہ اپنے سابقہ گُناہوں کو یاد کرتے ہُوئے معافی مانگنے لگا تبھی ایک رات اُسے درویش عَالِم سے کی گئی اپنی بِحث یاد آئی اور ساتھ ہی اپنی گرفتاری کا طریقہ بھی اُسے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ وہ اِس اِمتحان میں صرف اُس درویش سے گُستاخی کے سبب مُبتَلا ہُوا ہے تب اُس نے اللہ کریم کے حضور سچّے دِل سے توبہ کی اور آسانی کیلئے دُعا کرنے لگا صبح دارُوغہ حوالات نے اُسے خوشخبری سُنائی کہ اصل قاتل پکڑا گیا ہے اب جَلد تُمہیں آزاد کردِیا جائے گا

 

قارئین مُحترم اِس واقعہ سے مجھے کئی خُوبصورت باتیں سیکھنے کو مِلی تھیں سو آپ سے شیئر کر لیں

 

اللہ والوں سے اور صاحبان علم سے نہیں اُلجھنا چاہیئے

اللہ والوں کی تعظیم دِل سے کرنی چاہیئے

 کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوسکتا ہے اس لئے آگے بیان کرنے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چُھوڑنا چاہیئے

  خومخواہ بدگمانی اور شک کو دِل میں جگہ نہیں دینی چاہیئے...

 اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو___

Comments




POST A COMMENT