پردیسیوں کے مسائل

2019-09-05 21:29:06 Written by سعید احمد

views:495

السلام عليكم 

یہ تو تقریباً اب ہر گھر کی کہانی بن چکی ہے کہ پاکستان میں کچھ بھی نہیں ۔۔یہاں رہ کر ہم سیٹل نہیں ہو سکتے ۔۔اچھے سے سیٹ ہونا ہے تو باہر جانا ہی پڑے گا ۔۔اگر کوئی سمجھانے کی کوشش کرے تو ہم ڈھیروں مثالیں پیش کر دیتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو اس کے پاس کیا تھا ۔اب اس نے کیا کیا بنا لیا هے ۔۔اس طرح کئی بنگلے و گاڑیوں کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔
باہر میں رہنے والے ان کے لیے ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں ۔۔ان کا اچھا اور صاف لباس دیکھ کر دل ہی میں اپنی خوابوں کی دنیا بسا لیتے ہیں ۔ان کے پاس اچھا موبائل دیکھ کر اچھی گاڑی دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔۔
 ۔
سچ کہتے ہیں کہ باہر کے ممالک میں بھی پیسے درختوں سے نہیں لگے ہوتے۔
آج کا میرا موضوع یہی ہے
بیرون ملک میں رہنے والی پاکستانی اور ان کے مسائل ۔
پاکستان میں بھی بہت کچھ هے لیکن ہم جو محنت باہر آ کر کرتے ہیں وہی اپنے ملک میں رہ کر کرتے ہوئے موت پڑتی هے ۔۔
خیر یہ ایک الگ موضوع هے اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا ۔۔
مستقبل کے سہانے سپنے دیکھ کر ہم باہر تو آ جاتے ہیں ۔لیکن دور سے ہمیں جو باہر کے ملکوں میں ہریالی نظر آ رہی ہوتی هے اس کی حقیقت باہر جا کر دو دن میں ہی کھل جاتی هے ۔۔لیکن ہم بتا نہیں پاتے۔کسی سے کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔کیوں کہ  لاکھ دوسروں کے سمجھانے کے باوجود ہم اپنی مرضی سے خود یہاں آتے ہیں ۔اور پھر ہمیں حالات سے سمجھوتا کرنا پڑتا هے ۔۔
اپنے ملک اپنے گھر میں  ہمیں بیٹھے بٹھائے کھانے پینے کو مل جایا کرتا هے۔۔لیکن یہاں کھانے پکانے سے لے کر۔کپڑے دھونے کی حد تک سب کام خود اپنے ہاتھوں سے کرنے پڑتے ہیں۔
وہاں عام روٹین میں سات سے آٹھ گھنٹے کام کرنے والوں کو یہاں بارہ سے 15 گھنٹوں تک کام کرنا پڑتا هے ۔۔پھر اس کے بعد الگ سے دو تین گھنٹے اپنا کھانا پکانا یا پھر موبائل میں لگے رہنا۔۔
اس کے علاوہ اکثر دیکھنے کو ملتا هے دو تین ماہ سیلری نہیں ملتی ۔۔کئی ایسے ہوتے ہیں جو پھنس جاتے ہیں ۔۔جن کی 6 ماہ تک کی سیلری رک جاتی هے ۔۔تب نا وہ اس جگہ سے  کام چھوڑ سکتے ہیں ۔۔نا ان کا کچھ کر سکتے ہیں ۔
نا ہی کسی سے کچھ کہہ سکتے ہیں ۔
ان سب چیزوں کے علاوہ آپ کی سیلف ریسپیکٹ بھی باقی نہیں رہتی ۔۔آپ جس کے پاس کام کرو گے وہ آپ کو اپنی مرضی سے حقارت سے بھی بلائے گا تو آپ کو چپ کر کے سہنا ہو گا یہ سب کچھ۔۔اکثر عام طبقہ جو باہر جاتا هے گلف میں ہی جاتا هے ۔۔جیسے سعودی عربیہ ۔متحدہ عرب امارات ۔۔قطر ۔عمان ۔کویت وغیرہ ۔۔اور یہاں کفیل سسٹم ۔۔اور ان کے بھی اپنے اپنے لاجک ہیں ۔۔آپ جو کام کرتے ہو آپ کے ویزہ پر اس کام کا معنی ہونا چاہیے ۔۔
آپ جس کفیل کے پاس آئے ہو کام اسی کا ہونا چاہیے ۔۔
پھر سال کے بعد اپنا اقامہ ری نیو کراؤ ۔۔اس کے علاوہ پر منتھ کے حساب سے کفیل کو پیسے الگ سے دو ۔
اس حساب سے آپ یہ ذہن میں بنا لیں کہ آپ اپنی 6 ماہ کی کمائی اپنے اقامہ اور کفیل پر لگاؤ گے ۔۔۔باقی کے 6 ماہ جو ہیں وہ آپ کے اپنی بچت یا کمائی جو سمجھیں ۔۔
پردیس میں رہتے ہوئے آپ کے گھر کوئی خوشی غمی ہو تو آپ اپنی مرضی سے نہیں جا سکتے ۔۔چھٹی کے لیے الگ سے اجازت نامہ لینا پڑتا۔۔اس کے بھی پیسے لگتے الگ سے ۔۔اور یہ کفیل کی مرضی ۔چاہے تو ایک گھنٹہ میں لگا دے ۔یا پھر ایک مہینہ بھی نا لگوائے ۔۔
مطلب یہ کہ آپ کے اٹھنے بیٹھنے سے لے کر آپ کے کھانے پینے تک کا آپ پر کوئی اختیار نہیں هے ۔۔آپ کو جو کفیل کہے گا آپ کو کرنا پڑے گا ۔دن کو رات کہے گا تو آپ کہو گے ۔رات کو دن کہے گا تو آپ کو کہنا پڑے گا ۔۔
رات کے دو بجے اس کو کوئی کام پڑ گیا تو آپ کو لازمی اٹھنا پڑے گا ۔۔
اپنی سانس کے علاوہ باقی کچھ بھی ان کی مرضی سے آپ نہیں کر سکتے ہو ۔۔
ہاں کچھ اچھے بھی ہیں ۔۔جن کے دل میں خوف خدا موجود هے ۔۔آپ کو اپنی مرضی سے چھوڑ دیتے ہیں آپ جو بھی کام کرو ۔۔لیکن اس میں بھی بہت سی الجھنیں ہیں ۔۔اگر کسی تفشیشی ٹیم نے پکڑ لیا تو دیکھے گی ۔۔آپ جو کام کر رہے ہو آپ کے کفیل کا هے یا نہیں ۔۔آپ جو کام کر رہے ہو اس کا معنی وہی هے یا نہیں ۔
اس طرح کے اور بہت سے مسلے مسائل ہیں ۔۔

لیکن یہاں والے وہاں والوں کو بتاتے نہیں ۔۔خود یہاں جتنے پریشان ہوں پیچھے والوں کو بتا کر پریشان کرنا نہیں چاہتے ۔۔

لکھنے کا مقصد یہی سبق دینا تھا جو لوگ لاکھ سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھتے وہ یہ تحریر ضرور پڑھیں ۔دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔۔وہاں سے یہاں جو آپ کو دولت کی ریل پیل نظر آ رہی ہوتی هے وہ دولت کتنی اور کیسے ملتی هے اس کی حقیقت یہ هے ۔۔
لہٰذا آنے والے آنا چاہیں تو اپنے ذہن میں یہ سب چیزیں ضرور رکھیں کہ یہ سب کچھ ہوتا هے یہاں ۔۔
بس 100 %  میں سے 15 % ہی لوگ ایسے ہیں جو اچھے سیٹ ہیں یا ان کے کفیل ان کے ساتھ اچھے ہیں ۔۔
باقی 85% باہر کے یہ حالات ہیں 


شکریہ

Comments




POST A COMMENT