خاموشی

2019-09-15 17:07:04 Written by ماہ رخ ارباب

views:565

خاموشی۔۔

 

آج اسے قتل عمد کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

وہ فیصلہ سننے کے بعد پتھریلی، سپاٹ نگاہوں سے پچھاڑیں کھاتی نوبیاہتا بیوی اور خشک مگر بے روح ،ناسمجھ آنکھوں سے ایک ایک کا چہرہ تکتی ماں کو دیکھ رہا تھا۔

جیسے فیصلے کے جاں گسل الفاظ اس کی سماعت پر تو گرے ہوں۔مگر شعور تک نہ پہنچ پائے ہوں ۔ اس کی نگاہ مایوسی سے سر جھکائےآنسو ضبط کرتے اپنے بھائی پر پڑی۔جو ماں کو سہارا دے رہا تھا۔ یا نہ جانے اس کا سہارا لے رہا تھا۔۔

کمرہء عدالت کی خاموش فضا میں اچانک بھانت بھانت کی سرگوشیاں گونجنے لگی تھیں۔۔دونوں وکیل جو دوران مقدمہ ایک دوسرے پر تند و تیز دلائل کی بوچھاڑ کرتے رہے تھے۔۔

اس وقت صدیوں سے بچھڑے دوستوں کی طرح ایک دوسرے کا احوال دریافت کر رہے تھے۔۔عدالت میں موجود کچھ نامہ نگارکچھ اور جنہیں کیس سے زیادہ اس کے سزا یافتہ ہونے میں دلچسپی تھی۔۔نگاہوں میں نفرت بھرے اسے گھور رہے تھے جیسے محض تمازت غیظ سے اسے بھسم کر دینا چاہتے ہوں۔

اس نے سوچا۔۔کتنی بے کار زندگی جیتے ہیں ہم۔۔اور سوچتے ہیں ایک ہمارے نہ ہونے سے دنیا بدل جائے گی۔ابھی جو اس کے غم میں نڈھال ہیں۔تختہء دارپر اس کے ساتھ جانا چاہتے ہوں گے ۔اس کی قبر کے ساتھ ہی اپنا ٹھکانہ کرلینا چاہتے ہوں گے۔

مگر جلد ہی نسیان ایک نعمت بن کر ان پر اترے گا۔۔اور انہیں زندگی کے دھارے میں شامل کرلے گا۔

یہ سوچ ہی دل کی رگوں کو کاٹ ڈالنے والی تھی۔

اس نے اس تمام منظر کی کرب انگیزی سے نگاہ چرائی ۔اوردور۔۔کورٹ روم کی کھڑکی سے نظر آتے، میدان میں کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگا۔۔۔

اچانک ایک سپاہی قریب آیا۔اور اس کو بیڑیوں میں جکڑ دیا۔۔پرسکون ہی سہی۔۔وہ اب قتل کا مجرم تھا۔سزائے موت کا قیدی۔۔اسے باہر مچلتے عوام کے سامنے اس حال میں لے جانا ضروری تھا۔کہ ان کے غضب کو قرار آئے اور وہ اشتعال ،جلاؤ گھیراؤ کی صورت بقیہ عوام کو نہ بھگتنا پڑے۔۔

راہداری میں وہ ہجوم جمع تھا۔جو اس کے کیس کی ابتداء سےبطور تماشائی جمع ہوتا رہا تھا۔ایک ایسا شخص جو سرکار کی جانب سے محافظ کا حلف اٹھاتا ہے۔اور پھراس حلف سے غداری کرتا ہے۔وہ ہر ایک کے لئیے قابل نفرین تھا۔

"اب تو انت ہو گئی۔آج تو بتادے نواز علی! تونے اسے کیوں مارا۔"اس کے بیڑیوں میں جکڑے گھسٹے ہوئے قدم یکدم ساکت ہوئے تھے۔یہ اس کی بیوی کی آواز تھی۔ جو رو رو کر نڈھال گرنے کے قریب تھی۔

اس نے دوڑ کر اسے سہارا دینا چاہا۔تب ہی ایک پولیس والے کے دھکے نے اسے آگے بڑھنے پر مجبور کردیا۔

"چل اوئے! آگے لگ"

وہ پھر سے پیر گھسیٹتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔بیڑیاں اب کہ زیادہ وزنی لگنے لگی تھیں۔

++++

اس پر اس سیاستدان کے قتل کا الزام تھا۔جس کی "حفاظت "کے لئیے وہ معمور تھا۔

یہ ایک دہرا جرم تھا ۔قتل اور حلف سے غداری۔دونوں ہی ناقابل معافی جرائم۔اگر قتل کسی عام شخص کا ہوتا تو بھی اس کی سزا موت ہے۔یہاں تو مقتول ہزاروں دلوں کی دھڑکن،ایک مسیحا کا درجہ رکھنے والا سیاستدان تھا۔ ایک نیک نام ،عوامی طور پر مقبول سیاستدان کے قاتل کو پورا ملک پھانسی پر لٹکا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔جس نے ایک محسن انسانیت کو اپنی

ڈیوٹی کے چوتھے ہی دن اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا ۔جب وہ کھانے کی میز پر اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھا۔اس نے اس کی بیوی اور معصوم بچوں کے سامنے ہی اسے خون میں نہلادیا۔۔اس نے یہ تمام کاروائی ایک گوناگوں سکون سے انجام دی تھی۔حتی کہ بعد از قتل ،،کمال جی داری کا مظاہرہ کئیے۔اس وقت تک گن ہاتھ میں لئیے خاموش بیٹھا رہا ۔جب تک دوسرے گارڈز نے آکر اسے حراست میں نہیں لے لیا۔اس نے ہر سوال کے جواب میں ایک خاموشی کی قبا اوڑھ لی۔اور وہ پراسرار خاموشی جو اس دن اس پر طاری ہوئی۔وہ دفاعی وکیل سے لے کر وکیل استغاثہ ۔اور پھر اس کی ماں، بیوی اور بھائی کی جرح سے بھی نہ ٹوٹی۔ اس کا بھائی کیس کی حتی الامکان پیروی کرتا رہا۔

اس کے آفیسروں کے پیچھے دوڑتا رہا۔مگر وہ بھی کیا کرتے جب ملزم ہی صحت جرم پر اڑا ہو۔جیسے زندگی سے بیزار ہو۔باپ کی موت کے بعد اس نے چھوٹے بھائی کو بچوں کی طرح پالا تھا۔ہر ملاقات پر وہ اس کا زخم زخم وجود دیکھ کر اندر ہی اندر تڑپتا۔نئے زخموں کی تعداد گنتا ۔اور نئے سرے سے ایک ہی سوال پوچھتا۔

"نواز علی کیوں کیا تونے ایسا؟؟تیرے آفیسر کہتے ہیں۔۔نواز ہمیں قتل کی وجہ دے دے۔ہم اسے دار سے کھینچ لائیں گے۔بس تو زبان کھول دے"

اور وہ آنکھوں میں بے بسی بھرے خاموشی سے اسے دیکھتا رہ جاتا۔اگر اسے اپنے لفظوں کی بے وقعتی کا ڈر نہ ہوتا تو شاید وہ زبان کھول ہی دیتا۔وہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سچ تھا۔جس پر جھوٹ کی ایک بھی تہمت اسے جیتے جی مار دیتی۔یہی خوف اسے مستقل زبان بندی پر اکسائے ہوئے تھا۔ اسی خوف کے زیر اثر وہ ہر طرح کا دباؤ اور تشدد سہہ گیا تھا۔مگر آج جب موت چند گھنٹوں کے فاصلے پر تھی۔۔تو جیسے اس کے ذہن میں تمام واقعات کی ایک فلم سی چلنے لگی تھی۔

+++

"وہ ایک ابرآلود دن تھا۔تیز ہواؤں کے جھکڑپہاڑوں کے درمیان واقع اس چھوٹے سے قطعہ زمین پر موجود درختوں کو جھومنے پر مجبور کررہے تھے۔ایسے میں ایک ہیلی کاپٹر اچانک کہیں سے نمودار ہوا تھا۔۔سرمئی بادلوں کے پس منظر میں اس کی سیاہ رنگت کو دیکھ پانا قریب قریب ناممکن ہوتا اگر اس کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نہ موجود ہوتی۔

وہ کچھ دیر کسی عقاب کی مانند فضا میں ٹھہرا رہا اور اچانک اس میں سے گول گول کھمبیاں نیچے گرنے لگیں۔زمین کے قریب پہنچتے پہنچتے ان رنگین پیراشوٹوں سے لٹکتے سیاہ وردی میں ملبوس نوجوان بھی واضح ہونے لگے ۔جن کے سینوں پر لگے بیج انہیں پولیس کے خاص کمانڈو ونگ سے متعلق ظاہر کررہے تھے۔

زمین پر گرتے ہی تیز ہوائیں انہیں پیراشوٹ سمیت کھینچنے لگیں۔برق رفتاری سے اس جدید اڑن کھٹولے سے خود کو الگ کرکے انہوں نے تیزی سے اسے سمیٹا اور اپنے اہنے ہتھیار سنبھالتے ایک جگہ آکھڑے ہوئے ۔یہ تمام کاروائی ایک سنسان چھوٹی سی وادی میں عمل میں آئی تھی۔جہاں سے کافی دور ایک چھوٹا سا کاٹیج ان کا ٹارگٹ تھا۔وہ کل سات بہترین تربیت یافتہ اور جدید اسلحے سے لیس سپاہی تھے۔ان میں سے ہر فرد اکیلا تین افراد پر بھاری تھا۔آپریشن کی تمام تفصیلات ہہلے سے طے شدہ ہونے کے باوجود موقع محل دیکھ کر کمانڈر نے ان کو دو ذیلی ٹیموں میں تقسیم کردیا تھا۔

 

"ٹیم الفا!تم لوگ پہلے اوپر سے چارج کروگے۔ گرفتاری لینے کی کوشش کرنا۔اورہم یہاں سامنے سے ہلہ بولیں گے۔اگر فائر ہوتا ہے تو خود کو محفوظ کرنا ہے جواب نہیں دینا۔کیونکہ تمہارے ساتھی اندر ہوں گے۔چارج ہم کریں گے۔

ٹیم الفا!تم اوپرسے ہمیں کور دوگے۔اگر کوئی مکان سے نکلتا نظر آئے تو اسے ہٹ کرنا ہے"۔۔ انہوں نے تیسری بار وہی ہدایات سنیں۔تو اس نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی۔وہ ان کا کمانڈر فیصل تھا جو تفصیل سے ہر بات بار بار سمجھانے کا عادی تھا۔

"جوان! یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے مذاق نہیں ہے۔اس کے کمانڈر کی گرجدار آواز گونجی تو اس نے جلدی سے چہرے پر گھمبیر تاثرات طاری کرلیے۔

اس چھوٹے سے مکان کے اندرخطرناک دہشت گرداور ان کے منصوبہ ساز و سہولت کار(جسے عرف عام میں ماسٹرمائنڈ کہا جاتا ہے)کے موجود ہونے کی مصدقہ اطلاعات موجود تھیں۔

انہوں نے اپنے کمانڈر کے حکم کے مطابق عمل کیا تھا۔وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ خاموشی سے چھت پر رینگ گیا تھا۔مگر تب ہی سبزے اور جھاڑیوں کی اوٹ سے اس نے ایک سر ابھرتا دیکھا۔اس نے اسنائیپر کی دور بین کو فوکس کیا ۔۔وہ ایک ادھیڑ عمر مہربان سا چہرہ تھا جو انہی کی سمت دیکھ رہا تھا۔مگر حیرت انگیز طور پر وہ کہیں زمین سے برآمد ہوا تھا ۔شاید مکان کے اندر کوئی خفیہ دروازہ موجود تھا۔مگر قبل اس کے کہ وہ اس شخص کو ٹارگٹ کرسکتا ایک زوردار دھماکے کی آواز گونجی تھی۔اس نے نیچے موجود اپنے ساتھیوں کو کسی کھلونے کی مانند اڑتے ہوئے دیکھا۔اور پھر خود بھی دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگیا۔مشن مکمل طور پر ناکام رہا تھا۔

ان کا اصل ہدف پہلے ہی نکل چکا تھا۔البتہ گھر میں موجود بارودی مواد نے انہیں بھاری جانی نقصان پہنچایا تھا۔کسی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی اور وہ اپنے ساتھیوں کے لاشے اور زخم گنتے رہ گئے تھے۔

عقلمند ہر ناکامی سے سیکھتے ہیں۔۔اور اس ناکامی نے انہیں بتایا کہ دشمن کی دشمنی سے زیادہ دوستوں کی دغا بازی چوٹ دیتی ہے۔

 ۔۔اس کے کئی ساتھی شہید ہوئے تو کئی ہمیشہ کے لئیے کسی معذوری کا شکار ہوگئے۔

دہشت گرد نکلنے سے پہلے وہاں بارودی مواد نصب کرگئے تھے۔وہ کسی کا چہرہ تک نہ دیکھ پائے۔حالانکہ بعد میں کافی لوگوں کو قریبی گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔مگر یہ سانپ کے بعد لکیر پیٹنے کا عمل ثابت ہوا۔

۔وہ پولیس کی اسپیشل کمانڈو فورس تھی۔سخت تربیت اور زیر نگرانی رکھنے کے باوجود نقب اندر سے لگائی گئی۔ 

نواز علی جو اس حادثے میں شدید زخمی ہو کر سماعت کی کمزوری کا شکار ہوچکا تھا ۔مزید ایسی خطرناک ڈیوٹیوں کے لئیے نااہل قرار دیاگیاتھا۔۔اب ایسے آپریشنز میں اس کی شمولیت خود اس کی جان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتی تھی۔مگر فرض شناسی کے صلے میں اسے پولیس میں نسبتاً آسان ذمہ داریاں دی جانے لگیں تھیں۔

آج اسے ایک سیاست دان کی حفاظت پر تعینات کیا گیا تھا۔جسے ملک دشمن عناصر کی جانب سے کافی عرصے سے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

وہ ایک خوش باش ادھیڑ عمر شخص تھا۔جو بہت کم غصے میں نظر آتا تھا۔اکثر فیاضی سے ملازمین کو بخشش دیتا رہتا۔نواز علی اس کے گھر میں آکر بہت خوش تھا۔۔

جب ایک دن اسےوہاں ایک شناسا چہرہ نظر آیا۔وہ چہرہ جو اسے اکثر تھانے میں مختلف کیسز کی فائلوں میں لگا ہوا نظر آتا مگر ہر بار محض ایک فون کال اسے آزادی کا پروانہ عطا کردیتی۔اسے وہاں دیکھ کر محض چونکا تھا۔۔مگر اس کی اپنے مربی سیاستدان کے ساتھ ہوئی گفتگو سننے کے بعد اسی رات اس نے سیاستدان کو گولی مار دی۔

++

لوگ کہتے ہیں وقت کبھی نہیں رکتا۔شاید انہوں نے کبھی موت کا انتظار نہیں کیا ہوگا۔جب ہر آہٹ موت کی آہٹ محسوس ہوتی ہے۔ وہ لا متناہی سوچوں کے جنگلوں میں بھٹک رہا تھا۔خوبصورت یادوں کی تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ ایک خوبصورت لمحے کو مٹھی میں قید کرنے ہی والا تھا۔ جب اچانک کال کوٹھڑی میں شور سا گونجا۔

وہ سمجھ گیا ملک الموت وردی میں ملبوس اسے لینے آ پہنچے۔

وہ خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا۔جیل کی سیاہ، اذیتوں کی دھول سے اٹی راہداریوں سے گزرتے ہوئے اس کی نگاہ صبح کے اس پہر جاگتے ہوئےکچھ قیدیوں پر پڑی۔اور اسے پہلی بار ان کی آنکھوں میں ان جذبات کی نمی نظر آئی ۔جس کی تلاش میں وہ ہر نگاہ کے جہان دروں کی خاک چھان آیا تھا۔مگرتلاش میں صرف نفرت کے صحراؤں کی خاک ملی تھی۔

وہ جذبہء احترام تھا۔۔۔۔

شاید یہ بھی میری طرح آگہی کا عذاب رکھتے ہیں۔۔اس نے سوچا۔

وہ تختہء دار پر کھڑا تھا۔مگر نقاب چڑھانے سے انکاری تھا۔ایک اس جیسے رضاکارانہ طور پر الزام قبول کرنے والے کی جانب سے ایسی مزاحمت حیران کن تھی۔جلاد نقاب ہاتھ میں تھامے منتظر تھا کہ اپنا کام کرے اور گھر جائے

تب ہی قیدی نے کچھ کہنے کی مہلت مانگی۔ 

"ہاں بولو!کیا کہنا ہے؟"جلاد نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

"میں چاہتا ہوں۔۔ تم میرا یہ اعترافی بیان ریکارڈ کرو۔اور میرے بعد ٹی وی پر دے دو۔"

جلاد نے ایک پل کو اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا۔تختہ دار کے بنے کمرے سے باہر سلاخوں کے پیچھے جیلر اور ڈاکٹر موجود تھے۔اس نے جیلر کی جانب دیکھا۔تو جیلر نے کچھ سوچتے ہوئے ایک سپاہی کو اشارہ کیا۔اس نے موبائل نکال کر کیمرہ آن کر لیا۔نواز نے بولنا شروع کیا تو لہجہ مضبوط اور آواز بے خوف تھی۔

"میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں۔کہ وہ ،،خوشنما چہرے والا شخص۔۔ جسے میں نے جہنم رسید کیا۔وہ ایک غدار تھا۔جس کے ہاتھ پر آپ کے بچوں کا ہی نہیں۔ہمارے کئی ساتھیوں کا خون ہے۔جس حملے نے ہم سے ہمارے کئی وفادار ساتھی چھین لئیے ۔اس حملے کے دوران یہ شخص وہاں موجود تھا۔مگرجو میں جانتا ہوں اسے ثابت کرنے کو نہ میرے پاس کوئی ثبوت ہے نہ گواہ ۔جو میں نے سنا اور دیکھا آپ کو نہیں دکھا یا سنا سکتا۔۔لوگوں کے دلوں میں بنے تقدس کے بتوں کو توڑنا محض لفظوں کی مدد سے۔۔میرے لئے ناممکن تھا۔مگر اب یہ ایک مرتے ہوئے شخص کا بیان ہے۔مجھے امید ہے اسے آپ لوگ جھوٹ نہیں سمجھیں گے۔ایک عفریت سے دنیا کو پاک کرنے کے لئیے جو 

مجھے مناسب لگا میں نے کیا۔باخدا میں دغاباز نہیں۔نہ ہی حلف کا منکر ہوں۔۔"یہ کہہ کر اس نے کلمہ پڑھا اور اس کے کلمہ پڑھتے ہی جلاد نے لیور کھینچ لیا۔

گھر واپس جاتے ہوئے بشارت نامی سپاہی کو کچھ خیال آیا تو اس نےفون میں نواز علی کا بیان نکال کر دیکھنا شروع کردیا۔ایک بار ۔۔پھر دو بار۔اور پھر۔۔۔

نفرت سے ایک جانب تھوک دیا۔

ویڈیو ڈیلیٹ کرتے ہوئے اسکی بڑبڑاہٹ واضح تھی۔۔

"حرام خور، ہمارے لیڈر کا قاتل، جھوٹ بولتا ہے"

۔ہر پل نواز علی کے کیس پر نگاہ رکھنے والا میڈیا عین اس وقت چوک گیا جب اس کا جسد خاکی دار سے اتارا جا رہا تھا۔۔کیوں کہ وہ اس وقت ملک کے متعدد گوشوں میں ہونے والی تخریبی کاروائیوں میں ہوئی اموات کے اعداد و شمار جمع کرنے میں مصروف تھا۔

 

Comments




POST A COMMENT