تبدیلی

2019-10-09 19:58:07 Written by محمد شاہد

views:602

تبدیلی                                                     تحریر: محمد شاہد                                        جیسے ہی پیپر سے فارغ ہو کر جامعہ سے نکلا تو گیٹ پر دوست کو مُنتظِر پایا،کہنے لگا آٶ میں تُمہیں سَٹاپ تک چھوڑ آتا ہوں،میں نے بھی موقع کو غنیمَت جانا اور فوراً سے بھی پہلے اُس کے باٸیک پر سَوار ہو کر غیر اِرادی طور پر گنگنانے لگا(اُڈی اُڈی جاواں ______) سٹاپ پر پُہنچ کر اُسے رُخصت کیا اور اپنے شہر جانے والی گاڑی پر سوار ہو گیا٠                                     ویسے تو ہمارے علاقے کی رَسم ہے کہ جو بندہ گاڑی میں نیا داخل ہوتا ہے وہ سلام کرتا ہے مگر جیسے ہی میں گاڑی میں داخل ہوا تو ایک بیس باٸیس سالہ لڑکا پہلے سے ہی گاڑی میں موجود تھا،میرے داخل ہوتے ہی ساتھ والے بندے سے کہنے لگا ماشاءاللہ کتنا صاف سُتھرا سوٹ پِہنا ہوا ہے اِس آدمی نے اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا  کہ بھاٸ آپکے کپڑے اتنے سفید اور بِلکل صاف شفاف ہیں تو ضرور آپ کوٸ اچھا کام کرتے ہوں گے،میں نے جواباً کہا جی الحَمْدُ ِللّٰہ بُرا کام اللّٰہ پاک دُشمن سے بھی نہ کرواۓ٠          تھوڑی دیر بعد پوچھنے لگا کہ مَنڈی آپکو معلوم ہے میں نے اِثبات میں سَر ہلایا،اِسی طرح باربار اُلٹے سیدھے سوالات کبھی مجھ سے پوچھتا کبھی دوسرے لوگوں سے،سارے راستے میں اُس لڑکے نے سب لوگوں کی ناک میں دم کیۓ رکھا آخر منڈی آگٸ اور ہم نے ڈراٸیور سے کہا اُستاد اِسے اُتارنا یہاں منڈی کے پاس،اتنا سُننا تھا کہ گاڑی کے رُکنے کا اِنتظار کیۓ بغیر دروازہ کھول کر چھلانگ لگا دی اور ڈراٸیور کو دو چار دُعاٸیں دے کر چلتا بنا،نہ ٹِکٹ نہ کرایہ،یہ تو اچھا ہوا کہ رَش کیوجہ سے گاڑی بالکل کم رفتار سے جارہی تھی وگرنہ-----------            میں بھی اپنے شہر میں گاڑی سے اُترا اور گاٶں جانے والی سَڑک پر ایک جان پہچان والے مولانا کی کریانہ شاپ پر تھوڑا سستانے کیلیۓ بیٹھ گیا،اتنے میں ایک بھکارن آگٸ،مولانا صاحب نے اُسے ایک سِکّہ تھماتے ہوۓ کہا ”باجی دِن میں ایک ہی بار آیا کریں“بس پھر کیا تھا بھکارن جی مولوی پر برس پڑیں اور جو کچھ کہہ سکتی تھیں کہہ کر چلی گٸیں،میں نے پوچھا مولوی صاحب چکر کیا ہے،کہنے لگا بس یار نہ پوچھ جب سے تبدیلی آٸ ہےایک ایک بھکاری دن میں چار چار چکر لگا جاتا ہے،بندہ خالی لوٹا بھی نہیں سکتا کہ بُری بات ہے اور باربار کچھ دے بھی نہیں سکتا کہ شہر میں ایسے بیسیوں لوگ پھرتے ملتے ہیں اور مزے کی بات کہ یہ لوگ تھوڑے پر راضی بھی نہیں ہوتے،مولانا صاحب اپنی بات ختم بھی نہ کر پاۓ تھے کہ بے اِختیار میرے مُنہ سے نکلا روک سکو تو روک لو تبدیلی----------------                 تبدیلی کا نام سُن کرمولانا صاحب چکرا گٸے اور کہنے لگے یار کچھ خیال کرو یہاں آس پاس کے لوگوں نے اگر سُن لیا تو تمھاری درگت کے ساتھ ساتھ میری بھی دو چار ہَڈیاں کام سے فارغ کر دیں گے،میں نے کہا مولانا معاف کرنا زبان پِھسل گٸ تھی اور پھر حسبِ عادت اُستاد نصرت کا گیت                 (سوچتا ہوں_______________) گنگناتے ہوۓ اپنے گھر کی راہ لی ------------

Comments




POST A COMMENT