غیبی مدد

2019-12-09 20:09:10 Written by کنول سہیل قریشی

views:810

افسانہ
         غیبی مدد 
تحریر کنول سہیل قریشی 
مریم جاۓ  نماز پر بیٹھی بہت رورو کر اپنے رب سے رحم وکرم اور تھوڑا سا  زندگی میں سکون کی دعا اپنے رب کاٸنات سے  مانگ ہی رہی ہوتی   ہے کے اچانک سےاس کو اپنے پیچھے سے رونے کی آواز آنے لگتی ہے مریم دل ہی دل میں سوچ رہی ہوتی ہے کہ یہ رو کون رہا ہے  مگر اس سے مریم کا دل بے چین سا ہوجاتا ہے  مریم   روتے ہوۓ انسان کو دیکھنے کیلیے پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے تو سلمان روتا ہوا گھر میں داخل ہوتا ہے مریم  کا دل چھلنی سا ہوجاتا ہے  مریم سلمان کو روتا دیکھ کر پریشان ہوجاتی ہے۔اور کہتی ہے 
سلمان ماما کی جان بیٹا ادھر آو میرے پاس مریم  جاے نماز پر ہی بیٹھی بہت ہی پیارسے سلمان کو اپنے پاس آنے کا کہتی  ہے۔
سلمان بھاگتا ہوا مریم کے پاس آتا ہے مریم سلمان کو اپنی گود میں اٹھا لیتی ہے اور اپنے سینے سے لگا کر کہتی ہے۔
کیا ہوا میری جان کیوں آپ کی آنکھوں سے  موتی مانند آنسو  بہ رہے ہیں۔
ماما آج پھر نعمان وسیم اور کلاس کے سب اسٹوڈنٹس نے میرے پھٹے جوتوں کا مذاق بنایا اور میم نے بھی کہا کے اگر کل تم نے ٣ ماہ کی فیس نہیں بھری تو کل سے  نہیں آنا سلمان روتے روتے مریم کو بتا تا ہے۔
ارے! تو کوئی بات نہیں ماما آپکو کل ہی نۓ شوز اور یونیفارم اور ہاں فیس بھی دے دے گے اسکول میں  چلو اب ماما کی جان یہ اتنے موٹۓ موٹے آنسوں کو صاف کرو مریم پیار سے سلمان کو سمجھتی ہے۔
ماماپکا ناں کل چلے گے ہم لینے سب چیزیں سلمان بہت ہی اداسی اور نم آنکھیں لیے مریم کو کہتا ہے۔
ہاں میری جان پکا مریم پیار سے کہتی ہے 
چلو اب جلدی سے کمرے میں جاوں اور بیٹھوں میں جلدی سے آتی ہوں مریم سلمان کو کمرے میں جانے کا کہہ  کر جاے نماز اٹھتی ہے اور  جاۓ نماز صوفے پر رکھ کر سلمان کے کمرے کیطرف جاتی ہے ۔
*********************************
سلمان تو سو گیا رات کے ١١ بجنے کو آۓ ہیں  اور یہ اب تک نہیں آۓ اللہ خیر کرۓ سب ٹھیک ہی  ہو بس! مریم سلمان کے سر پر ہاتھ رکھے ہوے فکر میں سوچتی ہی  ہے  ۔کہ اتنے میں دروازے بجنے کی آواز آتی ہے۔  جسے سن کر مریم گھبرا سی جاتی  مگر پھر بھی ہمت کر کے دروزے کی طرف جاتی اور کہتی ہے  
کون ہیں نام بتاۓ ؟ کس سے ملنا ہے  آپ کو؟  مریم گھبرتے ہوے دروزے کی طرف کھڑی پوچھتی ہے۔
ارے! دروزا کھولوں میں ہوں عمر ۔
اچھا آپ  ہیں .مریم سکون کی لمبی سی سانس بھرتی ہے اور خوشی سے دروزا کھولتی ہے۔
آج کتنی دیر کردی آپ نے میں بہت پریشان ہورہی تھی آج اتنی دیرہوگی آپ آۓ ہی نہیں اور فون بھی نہیں کیا آپ نے؟ ۔ مریم عمر پر برسات کی طرح سوالات کی بوچھاڑکردیتی ہیں۔عمرصوفے  پر آرام سے بیٹھتے ہوۓ کہتا ہے۔  جاٶ مریم پہلے پانی لاٶپھر بتا تا ہوں سب کچھ ۔
ارے!ہاں  میں تو یہ بھول ہی گٸ تھی سوری ابھی لاتی ہوں ۔
مریم فورا باورچی کھانے سے پانی لاکر عمر کو دیتی ہے ۔
اب بتائیں کیا ہوا تھا؟
ارے! مریم پریشان نہ ہوں وہ دراصل میرے موباٸل میں بیلنس نہیں تھا  اور اتنے پیسے نہیں تھے کے بیلنس پرخرچ کرتا  میرے پاس پیسے نہیں تھے جب ہی وہاں سے  پیدل آیا ہوں عمر بےبس ہوکر کہتا ہے۔
تو  اچھا تو آپ کی باٸیک کہاں گٸ  مریم حیرانی سے پوچھتی ہے؟۔
وہ باٸیک میں نے یوسف  صاحب کو دے دی ہے اور اس کے پیسے قرضے کی قسط کیلیے دے دیۓ ہیں عمر پریشان ہوکر کہتا ہے۔
چلے اللہ سب ٹھیک کردے گے آپ فکر نہ کریں مریم پُر امید ہوکر کہتی ہے۔
واہ واہ! گڈ مریم تمھارا جواب نہیں ہے پریشان نہ ہوں سلمان کو فیس نہ دینے کی وجہ سے نکال رہے ہیں  بچہ کے  لیے پیسے نہیں ہیں قرض سر پر ہے اس کی قسط نہیں جارہی گھر میں فاقے کی نوبت ہے گھر کا کراۓ الگ نہیں دیا اور تم کہتی ہو پریشان نہ ہوں فیکٹری کے مالک نے مجھے آرڈر دیا اور عین وقت پر منع کردیا اب کیا کروں! تم پھر بھی کہوں گی پریشان نہ ہوں عمر ظنزا انداز میں یہ   کہتے کہتے زرا سا ہنستاہے اور پھر  سر پکڑ کر رونے لگ جاتا ہے ۔
آج تھوڑی مشکل آٸی ہے مگر جلدی چلی جاۓ گی الله نے آزمائش میں ڈالا ہے تو وہ ہی نکلے گا وہ ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا ہماری ساری  دعائيں منتظر ہے اس کن فیکون کی وہ ضرور فیکون فرمائے گا بس ختم ہی ہونے والی ہے سب کی سب آزمائش  مریم عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پُرامید ہوکر سمجھتی ہے۔
یار مریم مریم کیسے سمجھوں تمہیں تم معصوم ہو بہت تم اس دنیا کو نہیں جانتی ابھی یہاں سکون سے کوئی  امید پر نہیں زندہ رہے سکتا عمر بہت اطمینان سے مریم کو کہتا ہے ۔
مجھے اس کن فیکون پر پورا یقین ہیں  وہ ہمیں ان سب سے نکالے گا ۔ مریم عمرکو ہمت دیتی ہیں  اور پھر اپنے ہاتھوں سے سونے کی دو چوڑیاں اتار کر عمر کو دیتی ہے۔
اب یہ کیا ہے؟ مجھے نہیں لینی یہ ویسے ہی تمہارے سارے زیورات اس کام کیلیے بیج دیۓ ہے   اب یہ اور  نہیں یہ لے  جاؤ رکھواور میرے لیے کھانا لگاوں عمر بات سمیٹتے ہوۓ مریم کو  بولتا ہے۔
مگر میری تو بات سنۓ میں تو  صرف۔۔۔۔ مریم اتنا ہی کہتی ہے کے عمر بات کاٹنے ہوے کہتا ہے  
میں نے کہا ناں جاو تو جاؤ اگر مگر کچھ نہیں بس یہاں  سے جاؤ سکون لینے دو اب۔عمر مریم کو غصہ کرکے بھیجتا ہے  اور خود بھی اندر کمرے میں چلا جاتا ہے  ۔
*********************************عمر مان ہی  نہیں رہےگھر کے سارے کام رکے ہوۓ ہیں  سلمان کی فیس گھر کا خرچا اور سلمان کے جوتے اے  اللہ! میں کیا کرو سب کچھ کیسے ہوگا میں نے تیرا ہر حال میں شکر ادا کیا ہیں  مگر اب ہمت جواب دے رہی ہے میں شکست حال ہوں میرے پر رحم فرما میری دعائيں سن ان پر کن فیکون فرما میرے گھر پر رحم کر میرے مالک مریم قرآن شریف پڑھتے پڑھتے رو پڑتی ہے اور دعا مانگ ہی رہی ہوتی ہے  کے اتنے میں عمر کی آواز آتی ہے اور مریم قرآن شریف رکھ کر چلی جاتی ہے  *****************************
میں آفس سے آتے آتے لیٹ ہوجاوں گا تم ٹینشن مت لینا اور آج کچھ کرتا ہوں سلمان کی فیس کا کسی سے ادھر مانگتا ہوں عمر یہ مریم کو  کہتے کہتے گھر سے باھر چلا جاتا ہے۔
میں ایسا کرتی ہوں سلمان کو برابر گھر میں تھوڑی دیر کیلیے چھوڑ دیتی ہوں اور خود بازار سے جلدی سے یہ چوڑیاں دے کر کچھ راشن اور گھر کاسامان لے آتی ہوں  مریم یہ شوچتے سوچتے اس پر عمل کرتی ہے اوربازار میں چوڑیوں کی منادی کر کے گھرپیسے لانے کیلیے دوکان سے نکل کر بس اسٹاپ تک آتی ہے جہاں روڈ پر کچھ راش ہوتی ہے  مریم قریب جاکر دیکھتی ہے تو ایک بوڑھی عورت کا ایکسڈنٹ ہو جاتا ہے مریم یہ دیکھ کر کافی پریشان ہوجاتی ہیں کیوں کے سب جمع لوگ بس تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں کوئی اسپتال نہیں لے کر جارہا ہوتا مریم یہ دیکھ کر رکشہ کرتی ہے اور عورت کو قریبی اسپتال میں لے جاتی ہے جہاں عورت کا علاج ہوتا ہے ۔
میڈم یہ لیں ان کا سامان اورآپ پلیز فارم اور بل بھردیں ساتھ ہی  اپنا این آٸی سی بھی جمع کردیں ۔
   آپ کے مریض کو معمولی چوٹ آٸی تھی ان کی پٹی کردی گٸ ہے اور ان کو انجکشن دیا گیا ہے کچھ گھنٹوں بعد ہی انھیں ہوش آۓ گا جب تک آپ  بل دے دیں  نرس مریم کو یہ کہہ کر چلی جاتی ہے۔
مریم پریشان حال ہوتی ہے کیوں کے شام ہواتی ہے اور وہ اب تک گھر نہیں جاپاتی ہے اس ہی حال میں مریم بل مانگتی ہے جو ٥٠٠٠ کا ہوتا ہے 
میرے پاس تو ٨٠٠٠ ہی ہیں اب یہاں ٥٠٠٠ دے دوں گی تو باقی سب کیسے کروں گی اس ہی بات کی جنگ مریم کے دل و دماغ میں ہوتی  ہیں کے مریم بل بھر دیتی ہے انسانيت کے ناتے اور گھر جانے کا ہی سوچ رہی ہوتی ہے کے بوڑھی اماں کے سامان سے فون باربار بج رہا ہوتا ہے  مریم کال اٹھا کر بات کرتی ہے۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ آپ جو بھی ہیں  جن کا یہ موباٸل ہے ان کا ایکسڈینٹ ہوگیا ہے میں آپ کو پتہ سینڈ کرتی ہوں یہاں کا پلیز ان کے گھر والوں کو بھیج دے مریم پریشانی کے عالم میں بنا کچھ سنے سب بول کر فون کاٹ دیتی  ہے اور جلدی سے میسج بہیج کر عورت کا سامان ریسیپشن پر راکھوا کر گھر کیلیے بھاگتی ہے۔
*********************************
میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟ میری طرف دیکھوں اور جواب دو کہاں تھی تم میں ٣ گھنٹے سے تمہارا انتظار کررہا ہوں میں نے سلمان کو برابر کے گھر سے لیا بنا بتاہیں کہاں گی تھی؟ اور اتنی دیر  را ت کے ٨ بج رہے ہیں عمر غضہ میں مریم کو ڈاتے ہوۓ پوچھتا ہے۔ میں ناں وہ بازار سامان لینے گٸی تھی مریم ۔روتے روتے بولتی ہے۔
تو فالتو کا  کیوں رو  رہی ہو میرا دماغ خراب نہ کروں یہ بتاوں اتنی دیر کہاں تھی  اور یہ سب سامان کہاں سے لاٸی ہوں جواب دوں عمر چیخ کے کہتا ہے۔
میں نے وہ سونے کی چوڑیاں دے دیں ویسے بھی میرے کسی کام کی نہیں تھی میں نے سوچا اس کو دے دوں مریم ہمت کر کے  روتے روتے سر جھکے بولتی ہے ۔
میں نے منع کیا تھا نہ پھر کیوں حالات خراب ہے معلوم ہے اس کا یہ مطلب نہیں کے تمہیں ہر چیز کی آزادی ہے کہاں لگی اتنی دیر عمر غصہ بھرے لہجے  سے پوچھتا ہے ۔
کہ اتنے میں ایک آدمی اندار آتا ہے اور عمر کو آواز دیتا ہے 
بھاٸی!  اس کا جواب میں دیتا ہوں۔
دراصل میں عامر رفیق میں ان بوڑھی ماں کا بیٹا ہوں جن کو آپ کی بیگم نے صبح اسپتال لے کے گی ان کا علاج کروایا  اور ان کا  خیال رکھ ہے  میں آپ کا تہہ دل سے شکر  گزار ہوں بہت بہت یہ آپ کا احسان ہیں  میں دراصل بزنس کے کام سے شہر سے باہر تھا جب میں نے ماما کو کال کی آپ نے اٹھاٸی اور سب کہا میں  فورا ماما کے پاس آیا اور وہی ریسیپشن سے آپ کا پتہ ملے تو میں آپکا شکر ادا کرنے آیا دروزا کھولا ہوا تھا تو اس وجہ سے اندر آگیا میں آپ لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں آپ لوگوں نے اتنہ مدد کی ہماری اس وقت۔  عامر عمر کو تسلی سے سب  کچھ بتاتا ہے کر اتنے میں عمر مریم سے اور عامر سے معافی۔مانگتا ہے اپنے رویہ کیلیے۔
ارے! آپ ایسا ناں کرے مجھے معلوم ہے آپ قرض اور اس فیکٹری  کے مال اور گھر کے حالت سے پریشان ہیں اس ہی وجہ سے تھوڑے غصہ میں آگیۓ تھے مریم عمر کو پیار سے بولتی ہے۔
دوسری طرف عامر اپنے کوٹ کی جیب  سے پیسوں کا لفافہ عمر کے ہاتھ میں دیتا ہوۓ  کہتا ہے
 پلیز اس کو منع نہیں کریے گا  میں دل سے در رہا ہوں پلیز 
عمر اورمریم عامر کا شکر ادر کرتے ہوۓ لفافہ رکھ ہی  رہے ہوتے ہے  کے ۔عامر عمر سے پوچھتا ہے اگر 
آپ برا نہ مانے تو ایک سوال تھا آپ کے اوپر قرض اور فیکٹری یہ  کیا مسٸلہ ہے بتاہیں گے کچھ عمر تکلفنا انداز میں بولتا ہے ۔
نہیں بھاٸی اس میں برا کیا مانا میرا نصیب ہی خراب ہے ایک فیکٹری کا بڑا آڈار ملا سوچا قرض اور دوکان رکھ کرمال دوں گا جس سے کاروبار بڑھے گا اس کراۓ کا گھر دے کر اپنا گھر لوں گا  مگر عین وقت پر اس فیکٹری والوں نے  عین وقت پر منع ہی کردیا عمر بہت ہی دکھ سے روتے  ہوۓ بتاتا ہے۔
 اچھا یہ تو بہت ہی برا ہوا الله مدد کرے آپ لوگوں کی۔ اور ہاں  اس فیکٹری کانام کیا ہے ؟عامر سنجیدہ انداز میں پوچھتا ہے۔
 آمین 
وہ ناں  اے کے انڈسٹری ہے عمر عامر کو بتاتا ہے۔
کل آپ اپنی فاٸل آفس میں لے  کے آٸیے  گا دیکھتے ہیں  کیا ہوسکتا ہے۔ چلے اب اجازات دے دیر ہورہی ہے عامر خوشی سے بولتا ہے ۔
مگر آپ کیسے مجھے فاٸل لانے کا  کہہ سکتے ہیں  آپ کون ہے؟ عمر الجھ ہوا پریشانی میں پوچھتا ہے ۔
وہ میری ہی ہے میں مالک ہوں اس انڈسٹری کا اور  میں تہہ دل سے معافی چاھتا ہوں آپ لوگوں  کو میری وجہ سے اتنی تکلیف أٹھانی پڑی چلے اب میں چلتا ہوں آپ صبح  آجایٸے  گا کل سارا مسٸلہ دیکھ لے گے  ان شاء اللہ چلے اب چلتا ہوں ماما کے پاس جانا ہیں عامر اتنا کہہ کر چلا جاتا ہے۔
عمر مریم کے پُریقین اور غیبی مدد پر حیران ہوتا ہے مگرپُر سکون بھی ہوتا ہے  اوردونوں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کیلیے دو رکعت نفل نماز ادا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
جو یقین اللہ پر رکھتے ہیں ان کو کبھی خالی ہاتھ نہیں بھیجا جاتا اس رب کے در سے اس پر کامل یقین رکھنے والوں کو رب جب آزمائش میں ڑالتا بھی ہے تو غیبی مدد بھی کرتا ہے بس اس ذات پاک  پریقین ہونا چاہیۓ  ۔۔۔۔۔۔
********************************

Comments




POST A COMMENT