ماضی سے حال تک

2019-12-14 20:35:26 Written by شبیر علوی

views:896

بی بی صاحبہ نے ہمارے پاس بیٹھتے ہی ہم سے پوچھا کہ کیا کھاؤ گے ؟ بھوک لگی ہوگی نا تمہیں ۔۔

کھانے کا سن کر ہمیں بہت اچھا لگا لیکن کھانے سے زیادہ ہمیں بے چین کیے ہوئے تجسس ختم کرنے کی فکر تھی 

ہم نے پوچھا آپ کون ہیں ؟؟

بی بی صاحبہ نے اپنے متعلق بتانے سے پہلے کہا کہ سوال بہت اچھے کرتے ہو تم. 

میں جانتی ہوں تمہیں تمہاری باتیں یہاں سنائی تھی کسی نے جو تم درگاہ پہ کرتے تھے تبھی تو بڑےسرکار سے کہلوا بھیجا تھا کہ وہ آپکو یہاں بھیج دیں تاکہ ہم بھی کچھ دن یہاں رکھ سکیں ۔ ۔۔

درگاہ پہ تو آپکی صحیح دیکھ بھال نہیں ہوئی ہو گی 

اچھا بتائیے کیا کھائیں گے آپ ؟

ہم نے بھی کھیر کی فرمائش کر دی جو ہمیں پسند تھی ۔۔ ۔۔

بی بی صاحبہ نے خوشی خوشی کھیر بنانے کا حکم جاری کیا تو وہی خادمہ جو ہمیں دروازے سے لے کر آئی تھیں تیاری میں جت گئیں ۔۔۔۔

کتنے پیارے لگ رہے ہو کل ہم آپکو نئے کپڑے سلوا دیں گے وہ پہننا اور اپنی آنکھوں پہ عینک لگا کر رکھا کرو نظر لگ جائیگی نہیں تو ۔۔۔۔۔

یہ نظر کیسے لگتی ہے ؟ اس سے کیا ہوتا ہے ؟ 

عینک لگانے سے کیا ہم نظر سے بچ جائیں گے ؟

ہماری امی نے کہا تھا کہ ہماری تائی امی نے ہمیں نظر لگا دی اور کوئی جادو کر دیا ہے ہم پر تبھی تو ہمارے امی ابو بڑے سرکار کے پاس چھوڑ گئے ۔۔۔۔۔

بی بی صاحبہ نے ہماری طرف محبت سے دیکھتے ہوئے کہا آج کے بعد کبھی بھی آپکو نہیں نظر لگے گی اور نا ہی کوئی جادو ٹونہ آپ پہ اثرانداز ہو گا ۔۔۔

یہ سن کر ہم خوش ہوئے اور بی بی صاحبہ سے کہا یہ بات آپ ہمارے امی ابا کو بھی سمجھا دیں نا جو ہمیں تائی امی کے گھر نہیں جانے دیتے

بی بی صاحبہ نے کہا کہ ضرور سمجھائیں لیکن جب وہ یہاں آئیں گے ۔۔۔۔۔ 

ٹیلی ویژن گو کہ یہاں بھی نہیں تھا لیکن 

بی بی صاحبہ کے ہاں ہم بہت خوش تھے بی بی صاحبہ کی خادمہ بھی ہمارا بہت خیال رکھتیں تھیں اور سائلین کی صورت میں آنے والی خواتین کے چہروں میں ہم کئی ڈرامے کہانیاں محسوس کرتے رہتے تھے اسکی وجہ شاید بی بی صاحبہ کی قرابت سائلہ خواتین سے گفتگو کے دوران ہمارا پاس رہنا تھا ۔۔

چند ہفتے گزرے ہوں گے کہ بی بی صاحبہ نے ہم سے کہا کہ آج بہت خوشی کا دن ہے بھلا کون آرہا ہے آج ملنے کے لیے 

ہم نے تجسس سے پوچھا کون تو بی بی صاحبہ نے کہا کہ آپکے امی ابو آئے ہیں- 

یہ سن کر خوشی اور دکھ مشترکہ طور پہ ہی ہم نے محسوس کیے ۔۔۔۔

امی سے مل کر ہم نے ابا کے متعلق پوچھا تو معلوم پڑا کہ وہ درگاہ پہ ہیں- 

بی بی صاحبہ کے کہے مطابق ہم تیار ہو کر درگاہ پہ جانے کے لیے گھر سے نکلے تو باہر بڑےسرکار کے وہی خادمِ خاص ہمارے منتظر تھے جو ہمیں یہاں چھوڑ گئے تھے - 

جن بازاروں راستوں سے لے کر آئے تھے انہی راستوں سے درگاہ کی طرف لے کر جا رہے تھے- لیکن ایک فرق تھا تب ہرطرف خاموشی اور اداسی تھی لیکن آج ہرطرف چراغاں سبزرنگ کے کچھ نقوش بنے جھنڈے ہرطرف لہرا رہے تھے تو کہیں بڑے بڑے اسپیکروں میں نعتیہ کلام پڑھے جا رہے تھے - یہ سب دیکھ کر ہمیں اچھا لگ رہا تھا - 

درگاہ کا ماحول بھی بہت بدلا ہوا تھا - 

آج سازندوں نے بھی نئے کپڑے پہن رکھے تھے- لیکن ہم پہلے بڑےسرکار کے پاس گئے جہاں ہمارے ابا میاں بھی باقی سائلین کی صف میں موجود تھے- 

ہم جیسے ہی وہاں پہنچے تو بڑے سرکار ہمارے استقبال میں کھڑے ہوگئے اور آگے بڑھ کر ہمیں گلے سے لگا لیا اور اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھا لیا 

یہ سب دیکھ کر وہاں موجود مجمع ہماری طرف متعجب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا-

ہمارے ابامیاں کو بڑےسرکار نے پاس بلوایا اور کہا کہ اب یہ ہمارا بیٹا ہے اسے اپنے ساتھ آپ لے جا سکتے ہیں لیکن چند دن وہاں رکھ کر یہیں بھجوا دیجیے ہمارے ابا میاں نے ہاں میں ہاں ملائی تو بڑے سرکار نے بات کو دہرایا کہ ہمارا بیٹا ہے ہم اسکو یہاں پڑھائیں گے- 

تبھی ہم نے اچانک بڑے سرکار سے پوچھ لیا کہ آج درگاہ پہ بہت رونق ہے ہم جائیں یہ سب دیکھنے تو انہوں نے کہا کیوں نہیں جاؤ تم بھی سرکار کی خوشی کی آمد میں لگی رونق میں شامل ہوجاؤ عیدِ میلاد کا مبارک مہینہ جاؤ جاؤ دیکھو سب ۔۔۔۔

بڑے سرکار کی زبان سے کسی اور سرکار کی آمد انکی خوشی ایک نیا سوال جنم لے ہی رہا تھا مگر تب تک خادمِ خاص نے بڑے سرکار کو کسی اور طرف متوجہ کرلیا اور ہم بھی یہ بات بات بی بی صاحبہ سے پوچھنے کا سوچ چکے تھے اور اٹھ کر برآمدے سے باہر آگئے 

بڑےسرکار کے برابر بٹھانے اور اپنا بیٹا کہنے کی وجہ سے لوگ ہماری عزت کرنے لگے درگاہ پہ موجود جس ہجوم کی طرف جاتے راستہ دے دیا جاتا لوگ احتراماً جھک جاتے یہ بات ہمارے لیے جہاں خوشی کا باعث تھی وہی پراسرار بھی سوال ہی سوال تھے دل و دماغ میں لیکن ہم مطمئن تھے کہ بی بی صاحبہ سے پوچھ لیں گے ۔۔

بہت دنوں بعد ہم سازندوں سے ملے سبھی نے اپنے ساز بند کردیے اٹھ کر ہم سے ملے وہاں موجود دیگر بزرگ درویش بھی جو ہمیں پہلے بھی یہاں دیکھ چکے تھے سب احتراماً ملے 

ایک سازندے جس کا نام اسلم قوال تھا عمر میں ہم سے بہت بڑا تھا آکر ہمارے پاؤں پکڑ لیے اور کہا کہ ماشاءاللہ جی بڑے سرکار نے جو رتبہ خلافت آپکو عنائیت کی ہے اس کے لیے تو یہاں کئیوں کی عمر بیت گئی مگر وہ یہ مقام حاصل نہیں کر پائے - 

آپکے نصیب بہت اعلیٰ ہیں آپ باکمال ہیں آپ پر نظر خاص ہے- 

ہمارے لیے دعا کیجیے 

اور ہمیں ایک کرسی دی بیٹھنے کے لیے اور خود کلام پڑھنا شروع کردیا ۔۔۔ 

الف آ میاں ڈھولا ساتھے آویں کدانے

تیرا راہ تکیندے تھکے نین نمانے 

۔۔۔۔ 

اوگن ہار پکاراں میں بخش قصور اساں نوں 

کلمے نال توں وقت نزع دے کر مسرور اساں نوں ۔۔

اس کلام کی ہمیں سمجھ تو کچھ نہیں آئی کیونکہ ہمارا دھیان ہمارے سوالوں کی طرف تھا کون ہیں وہ سرکار جنکی آمد پہ یہ خوشیاں ہیں یہ سجاوٹیں ہیں یہ کون سی خلافت ہے جوہمیں دی گئی ہے یہ سب کیا ہے یہ سوچتے سوچتے ہم ایک دم اٹھے اور خادمِ خاص سے کہا کہ ہم بی بی صاحبہ کی طرف جا رہے ہیں بڑے سرکار کو بتا دیجیے گا ۔۔۔ 

ہم آپکو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے آپکے ساتھ آئیں گے - 

آئیے ہم نے کہا اور بی بی صاحبہ کے دروازے تک ساتھ چھوڑ کر وہ واپس چل دیے ہم جب اندر داخل ہوئے تو بی بی صاحبہ جو کئی سائل خواتین کے ہجوم میں تھیں ہمیں دیکھ کر متعجب ہوئیں اور شگفتہ انداز میں خوش آمدید کہا اور ساتھ ہی پوچھ لیا کہ خیریت ہے پریشاں ہیں کیا بات ہے ؟

ہم نے کہا کہ ایک بات پوچھنا ہے آپ سے..! 

وہ ہمارے چہرے سے شائید بھانپ چکی تھیں کہ اس کے سوال آج پھر عجیب ہونگے ۔۔ 

اچھا آپ کمرے میں چلیے ہم آتے ہیں ۔۔ 

کچھ دیر بعد بی بی صاحبہ کمرے میں داخل ہوئیں تو بڑی محبت سے پوچھا کہ اچھا تو کیوں دل نہیں لگا درگاہ پہ لگی رونق میں جناب کا ؟؟ 

بی بی صاحبہ یہ عید میلاد کیاہے ؟ 

کون ہیں وہ سرکار جن کی آمد کی خوشیاں ہیں درگاہ سجائی گئی ہے گلیوں میں چراغاں ہے ؟

اگر سب کے لیے خوشی کی بات ہے تو پھر آپکے گھر میں کیوں نہیں ؟

یہاں کیوں نہیں ایسا ؟

اس سے پہلے ایک بار محرم کا کہہ کر سب کچھ بند کر دیا تھا تب بھی ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا اور آج بھی ہمیں کوئی کچھ نہیں بتاتا بس یہی کہہ جا رہے ہیں کہ خلافت مبارک یہ خلافت کیا ہے ؟ 

ہماری مکمل بات سن کر انہوں نے ایک مسکراہٹ لبوں پہ سجا لی اور کہا اتنے سوال آتے کہاں سے آپکے دماغ میں ؟

بی بی صاحبہ نے پلٹ کر ہم پر سوال کردیا اور آگے بڑھ کر میز پہ رکھا کالے شیشوں والا چشمہ ہماری آنکھوں پہ لگاتے ہوئے کہنے لگیں دل کی باتوں کو آنکھوں سے نہیں کہتے زمانہ خفگی برداشت نہیں کرتا- 

اور چپ رہنا سیکھو 

جن کی آمد پہ خوشیوں کا میلہ سجا ہے وہ کئی صدیاں پہلے آچکے ہیں اور یہ ساری کائنات انہی کے طفیل ہے ۔۔۔ 

لیکن یہ جھلے کملے لوگ نہیں جانتے کہ انہیں راضی کرنے کے لیے بازار گلیاں نہیں 

اپنا اندر سجانا پڑتا ہے - 

دل خوبصورت صاف شفاف کرنا پڑتا ہے 

صرف انکا نام ہی نہیں جپنا ہوتا ان کے دیے گئے درس پہ عمل پیرا ہونا ضروری ہے - 

 

میرے سوہنے تو کیوں خود کو ہلکان کرتا ہے ایسے سوالوں سے 

یہ دنیا تو ایک سمندر کی طرح ہے- 

جس نے بھی خواہشات کی کشتی پہ سوار ہوکر پار لگنا چاہ وہ ناکام ٹھہرے گا - 

یہاں پار وہی لگتا ہے جس نے رضا میں ڈبکی لگائی ۔۔۔

بی بی صاحبہ کی یہ باتیں ہماری سمجھ سے بالاتر تھیں بورئیت سی ہونے لگی ۔۔ 

تبھی ہم نے ان سے پوچھ لیا کہ درگاہ پہ مردعورتیں سب آتے ہیں بڑےسرکار کے پاس لیکن آپکے پاس صرف خواتین ایسا کیوں ہے ؟؟

بی بی صاحبہ باتیں کرتے کرتے اچانک اس سوال پہ مسکرائیں اور کہنے لگیں کہ ہم کسی بھی مرد سے نہیں مل سکتیں کیونکہ ہم پردہ دار ہیں ۔۔ 

اچھا تو پھر ہم بھی تو مرد ہیں ہمیں کیوں رکھا ہوا ہے اپنے پاس ہماری اس بات پہ بی بی صاحبہ ہنسی بمشکل قابو کر پائیں اور کہنے لگیں کہ آپ ہمارے دوست ہیں اس لیے بس اور زیادہ سوال نہیں پوچھتے ۔۔ 

بی بی صاحبہ ایک آخری بات صرف ایک بات بتا دیجیے ہم نے کہاتو انہوں نے کہا ایک بات کا کہہ کر درجن بھر سوال کر دیے اور اب بھی آخری بات رہتی ہے جناب کی خیر بولیے کیا پوچھنا ہے ۔۔۔ 

بی بی صاحبہ جب آپکی شادی ہوجائیگی تو آپکی قسم تب ٹوٹ جائیگی کسی بھی مرد سے نا ملنے والی- 

ہماری بات سن کر بی بی صاحبہ کے چہرے کی رونق ہی ختم ہوگئی ہوجیسے اور انکی آنکھیں ایک آبشار کا منظر پیش کرنے لگیں یہ سب دیکھ کر ہم بھی دلگیر سے ہو گئے اور پشیمان بھی کہ ہم نے ضرور کچھ غلط بات کہہ دی ہے- 

بی بی صاحبہ نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے مسکرا کر کہا کہ تم بہت معصوم ہو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری شادی کبھی بھی نہیں ہوسکتی جانتے ہو کیوں 

؟؟ 

کیوں بی بی صاحبہ ؟ 

اچھا پہلے یہ جان لو کہ یہاں جو بھی راز دار بنتا ہے اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں - 

یا تو ساری ذندگی خاموش رہ کر زندہ رہے یا پھر 

بڑےسرکار کی ناراضی مول لے 

اور انکی ناراضی سخت سزا ہے ۔۔ 

وعدہ کرو کبھی ان باتوں کا ذکر کسی سے نہیں کروگے 

نہیں تو تمہارا نقصان ہوجائیگا 

اور تمہارا نقصان ہمارے لیے دکھ کا باعث ہوگا 

کیا ہمیں دکھ دو گے ؟؟

نہیں بی بی صاحبہ بالکل نہیں ۔۔

بڑے سرکار ہمارے چچا ہیں انکے چھوٹے بیٹے سے ہماری منگنی ہوئی تھی لیکن وہ ایک حادثے میں انتقال کرگئے خانداں میں باقی سب نے فیصلہ کیا کہ ہمیں اب ایسے ہی رہنا ہے چچا کی بہو بن کر 

نا تو ہم کسی اور سے مل سکتے ہیں نا خاندان کی خواتین ہم سے ملتی ہیں ۔۔۔ 

کہ نحوست انکو نا کھا جائے ۔۔۔ 

۔۔۔۔۔ 

ہم بچے ضرور تھے لیکن اتنے بھی بچے نہیں تھے کہ بی بی صاحبہ کے اس غم کو نا سمجھ پاتے 

ہمیں محسوس ہوا کہ بی بی صاحبہ کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ظلم ہو رہا ہے درگاہ پہ لگی رونقیں میلے سجاوٹیں خوشیاں سب ہمیں پھیکی بےکار لگنے لگیں - 

دل چاہ کہ سلطان راہی یا نسطور جن کی طرح سب کچھ بدل کے رکھ دوں- 

مگر ہم بی بی صاحبہ کی گفتگو اور انکے دیے گئے اعتماد کا اثر تھا شائید کہ یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ سب ڈرامے اور فلموں میں ہوتاہے حقیقت میں کچھ اور ہے ۔۔ 

تم اپنی عمر سے کہیں بڑھ کر سیانے اور زہین ہو 

اپنے سوالوں کو ہر کسی کے سامنے لانے کی حماقت کبھی مت کرنا ۔۔۔ 

یہ کہتے ہوئے انہوں نے صندوق سے سو سو روپے کی ایک گتھی نکالی اور ایک رومال میں لپیٹتے ہوئے ہم سے کہا کہ کچھ دن اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھر میں رہ کر آجانا تاکہ کچھ پڑھ لکھ سکو خلافت ملی ہے تو ظاہر ہے کم از کم تعویز لکھنا تو جان سکو ۔۔۔ 

یاد رکھنا خدا معاف کر دیتا ہے لیکن بڑے چچا کے دوسرے روپ میں معافی بالکل نہیں ۔

ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے تھے کہ ہمیں گھر چلے جانا چاہیے کہ یہاں رہنا چاہیے- 

جتنا یہاں سے جانا مشکل لگ رہا تھا اس سے کہیں زیادہ رہنا مشکل دکھائی دےرہا تھا ۔۔۔۔

اتنے میں بی بی صاحبہ کمرے سے باہر آگئیں ہم انکے ساتھ ساتھ باہر صحن جہاں دیگر خواتین کے ہمراہ ہماری والدہ صاحبہ بھی منتظر تھیں- تب انہوں نے ہماری والدہ سے کہا کہ آپکا بیٹا بہت پیارا ہے اسکا خیال رکھیے گا یہ کچھ پیسے ہیں ان کو ضرورت کے لیے رکھ لیں کچھ دیر بعد باہر دستک سے معلوم ہوا کہ تانگہ منتظر ہے - 

ہم والدہ کے ساتھ تانگے میں سوار ہوئے درگاہ سے تانگے میں ابا بھی بیٹھ گئے - 

یہ تانگہ میں ہماری پہلی بار سواری تھی جو گاؤں تک ہوئی- 

اس بار ہمیں خوشی اس بات کی تھی کہ سائیکل پہ نہیں بیٹھنا پڑا ۔۔۔ 

گاؤں پہنچتے پہنچتے ہم نے اپنے ابا سے بھی کئی سوال کیے کئیوں کا جواب ملا کئیوں پہ چپ کرکے بیٹھ تنگ نہیں کرو سننا پڑا ۔۔

گھر آکر ہمیں اک عجیب سی اداسی نے جکڑے رکھا بس ایک دن اچانک ہم اٹھے اور تایا کے گھر چلے گئے - 

جہاں ہمیں دیکھ کر تائی صاحبہ بہت خوش ہوئیں تایا بھی بڑے پیار سے ہمارے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولے اتنے دن لگا دیے تم نے آئے نہیں- تب تائی صاحبہ نے کہا کیوں پریشان کرتے ہو بچے کو آ ہی گیا ہے آخر ہمارا اپنا خون ہے اور اسکا قصور تھوڑی ہے- 

 

چلو بیٹھو قسمت تمہاری بہت اچھی ہے رات کو ہی ہم نے کھیر بنائی تھی ابھی بھی کچھ ہے لگتا ہے تیرے نصیب کی تھی تبھی ہمارے گھر آ ہی گیا تو ۔۔۔۔۔

ادھر کھیر کھا رہے تھے اور دوسری طرف ہمارے تایا صاحب اچانک پھر سے بولے دماغ خراب ہو گیا ہے تیرے ابا کا- 

بھلا کوئی اپنا پتر پیروں کو بھی دیتا ہے - 

ہمارا اپنا باپ اک مشہور حکیم تھا دنیا جانتی تھی اسکو لیکن پتہ نہیں تمہارے ابا کو کیا سوجھی کہ اٹھا کر پیروں کے حوالے کر آیا ۔۔۔

تمہارے امی ابے نے پوری برادری میں مشہور کر دیا ہے کہ ہم لوگ تمہیں تعویذ ڈالتے ہیں ۔۔۔ 

تائی صاحبہ نے تایا کو یہ کہہ کر چپ کروایا کہ کیوں بچے کا خون جلاتے ہو دیکھ نہیں رہے وہ کس قدر پریشان ہے- 

کھیر بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی - 

بڑی بے دلی سے تایا سے پوچھا کہ تایا جی ہمارے دادا کون تھے کیا کرتے تھے - 

کہاں ہیں اور کیوں لوگ ان کے پاس دور دور سے آتے تھے ۔۔۔ 

تایا ابا ہمیں دادا جی کے متعلق بتا رہے تھے ہمیں بی بی صاحبہ کی بات یاد آنے لگی واپس آکر پڑھنا لکھنا سیکھنا تاکہ تعویذ لکھ سکو خلافت ملی ہے تمہیں ۔۔۔ 

 

 

دادا جی کے متعلق معلومات اور ان سے ملاقات کیسے ہو گی- 

بی بی صاحبہ کے پاس دوبارہ حاضری لے کر حاضر ہوں گے 

اگلی قسط میں 

آپکی محبتوں کا شکر گزار 

شبیر علوی

Comments

Tammana Zafer@gemialcom Posted on 2019-12-15 19:21:39

بہت عمدہ لاجواب




POST A COMMENT