تمہیں کیا،یہ میری زندگی ہے

2020-03-09 13:47:52 Written by Mah Rukh Arbab

views:370

 

 

"میرا جسم میری مر۔۔آہ"

"نالائق، نامعقول تو کیا, تیرا باپ بھی یہ بوری اندر پہنچائے گا۔چل اٹھ۔بارش ہوگئی تو تمام گندم تباہ ہوجائے گی۔پھر جسم تیرا ہوگا اور لاٹھی میری ہوگی"اباجی کی لاٹھی ایک قوس بناتی ہوئی اس کی پیٹھ سے آملی۔

اور نیوٹن کے کسی نہ کسی قانون کو بہانہ بناتی ہوئی، اباجی کے بازو کی تمام طاقت چھڑی سے ہوتی ہوئی اس کے اندرونی سکوت کو تہہ وبالا کرگئی۔

"ہائے مرگیا۔۔مرگیا اماں جی۔"ایک بلند آہنگ چیخ کے ساتھ وہ ناچ اٹھا۔

"ہاں اسی طرح ماں کو یاد کیا کر،، فلاح پائے گا"اباجی کے لبوں پر مطمئن مسکراہٹ نمودار ہوئی۔اور لاٹھی ٹیکتے اندر چل دیے۔

******

صبح صبح خواب خرگوش سے جگاکر دکان پر پہنچنے کا حکم صادر فرماکر اباجی تو چلے دکان کی اور۔۔

مگر میاں سرفراز کے ذہن پر چھائے مارچ کے ابرآلود بادل ان کے عقل وشعور کو کچھ یوں دھندلاگئے تھے ،کہ آج کل انہیں ہر ایک عمل، اپنے بنیادی مردانہ حقوق کی خلاف ورزی محسوس ہوتا تھا ۔مگر اپنی ہی صنف کےرویے سے وہ شدید تشویش میں مبتلا تھے۔ان کے کھلاڑی مخالف ٹیم پر حملے کرنے میں یوں مصروف تھے کہ اپنے گول کے دفاع سے یکسر غافل ہوچکے تھے۔اور کوئی وقت آیا چاہتا تھا کہ کھیل کا پانسا یکسر پلٹ جاتا۔مگر تب شاید وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا۔۔لہٰذا اپنے ناسمجھ کھلاڑیوں کو شعور دینے کے بجائے انہوں نے اپنے طور پر مردانہ حقوق کی بحالی کی جدوجہد شروع کی ۔

آخر قطرہ قطرہ ہی قلزوم بنتا ہے۔یہ سوچتے وقت بھی ان کے ذہن میں اپنی کمرے کی ٹپکتی چھت کا خیال حاوی تھا۔جو کئی بار کی شکایت کے باوجود اباجی مرمت کروانے کے لئے تیار نہ تھے۔اس طرح کی ان گنت زیادتیاں ان سے اور ان کی صنف سے ہمیشہ روا رکھی گئی تھیں۔

مگر اب نہیں۔۔انہوں نے سر سے کفن باندھتے ہوئے سوچا۔

 ذہن میں ان تمام مطالبات کو دہراتے ہوئے جس کے بینر اکثر و بیشتر میڈیا پر چکراتے رہتے تھے ۔وہ خاموشی سے باہر نکلے۔

عام طور پر چند طاقتور افراد چالبازی سے عوام کی اکثریت کو مغلوب رکھتے ہیں۔مگر اس گھر میں استحصالی طبقہ اکثریت میں تھا۔

اباجی کے بعد اور شزاء چھوٹی بہن تک ان کے حقوق کو چٹکیوں میں اڑایا کرتی تھی۔

مگر برا ہو ان کے پرفیوم کا جس کی چیختی ہوئی خوشبو دور سے ان کی آمد کے نقارے بجا دیا کرتی تھی۔

اماں جو باورچی خانے میں مصروف تھیں جلدی سے باہر نکلیں۔اور ایک طائرانہ نگاہ سرتا پیر اس پر ڈالی۔

جان سینا کی تصویر سے مزین سیاہ ٹی شرٹ، سرخ برمودا شارٹس اور الٹی پی کیپ پہنے وہ اپنی دانست میں پورے جان سینا دکھ رہے تھے۔

پوئزن کی خوشبو دورونزدیک رقصاں تھی۔

اماں جی نے ناک سکیڑ کر کچھ سونگھا اور ایک زوردار چھینک ماری۔۔

"یہ تو دکان پر جارہا ہے؟ "کڑک لہجے میں پوچھا گیا۔

"جی اماں"ہاتھ سے کیپ درست کی گئی ۔

"وہاں تجھے مین ہول میں اترنا ہے؟ "دوسرا سوال پہلے سے زیادہ ڈاھڈا تھا۔

"نہیں تو اماں۔۔گٹر میں کیوں اترنا۔۔حاجی بشیر غنی کا بیٹا ہوں ہول سیل اسٹور کا مالک"اس نے فخر سے گردن اکڑائی۔

"تو پھر یہ کسی کاکے کی پتلون چڑھا کے تجھے کون سی قبر کھودنی ہے۔ وے بے ہدایتا، "اب کے لہجے میں طعن کے ساتھ افسوس بھی تھا۔۔

اب وہ ان کی تفتیش کا سبب جان کر سٹپٹایا۔کیا بتاتا اباجی کی دکان کے عین سامنے لڑکیوں کا بیوٹی سیلون تھا۔

"وہ اماں جی۔۔مولوی صاحب نے کہا تھا۔ہمیشہ ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنو"اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی کرنی مولوی پر ڈالتے ہوئے جان بچائی۔

"اچھا"اماں کچھ حیران نظر آئیں۔ہھر کبیدگی سے اس کے لباس پر ایک نظر ڈالتی دوبارہ اندر گھس گئیں۔وہ جان بچ جانے پر شکر ادا کرتا جلدی سے باہر نکلا ذہن اس وقت بھی اپنے مردانہ حقوق کی بالادستی قائم کرنے کے منصوبے سوچ رہا تھا۔جب موبائل ہاتھ میں تھامے کھمبے سے ٹیک لگائے وہ اپنا فیسبک اسٹیٹس چیک کررہا تھا۔ پنڈلی پر ایک چبھن سی محسوس ہوئی تو 

پلٹ کر دیکھا۔غفور چاچا بڑے سے تنکے سے اس کی پنڈلی پر ڈرلنگ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔وہ پھدک کردور ہوا۔

"سلام چاچا۔۔اصلی ٹانگ ہے لکڑی کی نہیں بنوائی"۔اس نے دوسرے پیر سے ٹانگ سہلائی۔

"وہ تو ٹھیک ہے پتر ۔۔میں بس یہ دیکھ ریا سی۔یہ نیکر تو اپنے نکے کاکے کی تو پہن کر نہی نکل آیا۔۔یا پتلون پہنتے قد بڑھ گیا۔یہ چھوٹی رہ گئی۔آج کل دے جواناں دا دماغ تو ویسے ہی موبائلوں میں الجھا رہتاہے"وہ جلدی ٹلنے کے موڈ میں نہیں تھے۔

اس نے بیچارگی سے آسماں کی جانب دیکھا

"یاالہی۔۔ہم اپنی مرضی کے کپڑے بھی نہیں پہن سکتے اب اگر وہ جان سکتا کہ یہ لفظ مرضی ،اسے آگے کتنا ذلیل کروانے والا ہے تو اسے اپنی لغت سے ہی خارج کردیتا۔

دکان پرپہنچا تو اباجی خطرناک موڈ میں باہر ہی موجود تھے ۔بار بار آسمان کی جانب نگاہ اٹھاتے پھرراستہ دیکھتے جہاں سے میاں سرفراز کو نمودار ہونا تھا۔

اس نے رفتار بڑھائی اورجلدی سے وہاں پہنچا۔۔مگر سعادت مندی کا یہ مظاہرہ کچھ کام نہ آیا۔اور اباجی چھڑی سے اس کی پیٹھ سہلاتے اندر چلے گئے۔تمام بوریاں خود سے بھی لیٹ آنے والے ملازم کے ساتھ اندر پہنچا کر جب وہ گھر پہنچا تو اسے خود پر کسی پٹ سن کی بوری کی گمان ہورہا تھا۔

لباس تبدیل کیے بنا صوفے پر جاپڑا کہ اب وہاں سے کبھی نہ اٹھے گا۔ٹی وی پر سرچ کرکر کے بہت مشکل سے فیشن چینل نکالا۔

اور کیٹ واک شروع ہونے کو تھی۔جب کوئی شے اڑتی ہوئی اس کے چہرے سے آٹکرائی ۔ہاتھ میں تھام کر دیکھا کشن تھا۔دروازے پر شزاء دونوں ہاتھ کمر پر جمائے کھڑی تھی۔

"بھائی! "وہ َخراب تیوروں کے ساتھ چیخی۔"تم ڈھنگ سے نہیں بیٹھ سکتے۔۔یہ گھر ہے ۔۔کوئی چوک نہیں۔۔اس طرح بیٹھنا ہے تو اپنے دوستوں کے پاس جاؤ۔میری سہیلیاں آرہی ہیں۔"

اس نے حیرت سے اپنے انداز نشست بلکہ استراحت کو دیکھا۔

ایک ہاتھ سر کے نیچے دیے۔۔دونوں پیر دیوار پر رکھے وہ اطمینان سے لیٹا تھا۔بظاہر اس انداز میں کوئی خرابی نہیں تھی۔

پھر نظر شارٹس پر پڑی جو سرک کر گھٹنوں سے اوپر چڑھ آئے تھے۔ٹی شرٹ کھسک کر سینے تک پہنچ چکی تھی۔وہ جلدی سی سیدھا ہو بیٹھا ۔۔

"لو بیٹھ گیا صحیح سے۔۔کہیں سکون سے بیٹھ بھی نہیں سکتے اس گھر میں۔اب کیا تمہاری سہیلیاں یہاں بیٹھیں گی میرے ساتھ؟ "وہ غصے میں کھول رہا۔۔اتنی حقوق کی پامالی ۔اتنا استحصال

"نہیں ۔۔وہ تو اس کمرے میں بیٹھیں گی۔۔مگر میں نہیں چاہتی وہ یہاں سے گزرتے ہوئے بھی تمہیں اس ناگفتنی حالت میں دیکھیں "وہ شیطانی انداز میں مسکرائی۔

"ناگفتنی"اس کا خون کھولنے لگا۔۔کاش وہ یہ تمام الفاظ اسے کہہ سکتا۔مگر اباجی کی لاٹھی کا ڈر شدید غصے میں بھی دماغ کو بیدار بیداری رکھتا تھا۔

وہ چوٹی جھلاتی مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔اور وہ وہیں اٹن شن بیٹھا کھولتا رہا۔

تھوڑی ہی دیر میں حسیناؤں کی ایک پوری پلٹن وہاں سے قطار بناکر گزری۔وہ اتنے غصے میں تھا کہ انہیں گھورنا بھی بھول گیا۔لڑکیوں کی دبی دبی ہنسی یہ واضح کرنے کو کافی تھی کہ شزاء اور اس کا تمام مکالمہ ان کے کانوں تک بخوبی پہنچا ہے۔

اس نے کشن پٹخا اور ریموٹ ڈھونڈا تاکہ آواز بڑھا سکے۔اور یہ دیکھ کر اس کیا امیدوں پرپورا بحر اوقیانوس پڑگیا کہ کیٹ واک ختم ہوچکی تھی۔اس کے دل سے ہوک سی اٹھی ۔۔اور ریموٹ زمیں پر پھینک کر اماں جی سے اپنی مرضی کی زندگی جینے کا حق مانگنے کو پر تولنے لگا۔

****

It's my life, my worries

It's my life my problems.. 

تمہیں اس سے کیا۔۔تمہیں اس سے کیا۔۔میں کھاؤں کہ نہ کھاؤں تمہیں اس سے کیا۔۔۔۔"وہ علی عظمت کی مانند وجد میں سر ہلاتا جھومتا جھامتا اپنی دانست میں انتہائی لیٹ نائٹ کچن میں داخل ہوا تھا۔رات میں اماں جی کے بنائے گئے کریلے گوشت سے بوٹیاں الگ کرکے کھانے کے باوجود اس کی داڑھ جوں کی توں سوکھی تھی۔

وہ تو خدا بھلا کرے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی ہوم ٍڈیلیوری سروس کا ورنہ وہ اور اس جیسے کئی مظلوم کریلے کھانے پر مجبور ہوتے۔

پیزا کا ڈبہ ہاتھ میں تھامے اس نے اوون کھولا۔ڈبہ اندر رکھنے ہی لگا تھاجب ملک الموت کی سی سرگوشی گونجی۔۔

"بھائی میں بھی کھاؤں گی"

وہ اچھل ہی تو پڑا تھا۔ڈائننگ ٹیبل کے ایک کونے پر لیمپ جلائے وہ ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی۔پہلے تو اثبات میں سر ہلانے ہی والا تھا۔پھر دماغ کا شیطانی خانہ ایکٹو ہوا اور اسے ایک ایک کرکے وہ تمام زیادتیاں یاد آنے لگیں جو اس گھر میں اس سے روا رکھی جاتی تھیں۔

"میں تمہارا نوکر ہوں؟ اپنا کھانا خود گرم کرو۔۔"اس نے ڈبہ اندر رکھنے کے بجائے اپنی ضرورت کے مطابق چند ٹکڑے پلیٹ میں رکھے اور پلیٹ اندر ٹھونس کر فاتحانہ انداز میں شزاء کو دیکھا۔اور اس کی جانب دیکھ کر ایک پل کو دہل سا گیا۔اگر آنکھوں سے آگ نکل سکتی تو وہ اس وقت شزاء کی نگاہوں کی آگ سے بھسم ہوچکا ہوتا۔وہ گردن ترچھی کیے خون پی جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔اس نے جی کڑا کیا۔اور ہمت جواں رکھی۔

آج یا آر یا پار۔۔ دل میں سوچا۔۔

"بھائی۔۔شرافت سے میرے لیے بھی گرم کرو یا پھر تمہاری وہ شرٹ اباجی کو دکھاتی ہوں جس پر شکیرا کی تصویر بنی ہے"وہ غصے پر قابو پاکر ٹھنڈے لہجے میں بولی تھی۔اور میاں سرفراز کی ہمت کا غبارہ وہیں پھس ہوگیا۔بوکھلا کر اس کے پاس آیا۔

"تم نے کہاں دیکھی؟ وہ تو الماری میں بہت نیچے رکھی تھی "

"اماں جی تمہاری الماری کی صفائی کرنے لگی تھیں تاکہ فالتو کپڑے نکال سکیں وہیں نیچے دبی ہوئی تھی۔"وہ بے اعتنائی سے بولی۔۔غصہ ابھی برقرار تھا۔

"مارے گئے"وہ کراہا۔۔"اماں جی نے بھی دیکھ لی۔۔کچھ بولی تو نہیں؟ "

"نہیں ۔۔انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا یہ کیا ہے۔۔میں نے ہی سمجھایا کہ ایک لڑکی ہےجو۔۔"

"اوہ۔۔بس کردے میری بہن۔۔تم میری بہن ہو یا دشمن۔تشریح کرکے بتانا ضروری تھا۔"وہ چیخ اٹھا۔۔

"ہاں تو میں نے کیا اپنی جانب سے بتایا ۔۔؟جو بنا ہوا تھا وہی بولا"وہ بھی اسی کی بہن تھی۔ہار کہاں مانتی۔

"اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اماں ابا جی کو نہ بتائیں۔دونوں میں اسرائیل، انڈیا جیسی دوستی ہے۔۔کیا کروں کیا کروں؟؟ "وہ کمرے میں تیز تیز ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا

"اچھا ابھی کہاں ہے وہ شرٹ۔۔؟"

"اماں جی کے پاس انہوں نے پونچھا بنانے کیلیے نکال لی۔۔"وہ اطمینان سے بولی۔

"کیا غضب کیا ۔۔وہ اسحاق کی تھی۔۔بیچارہ بڑے دل سے لایا تھا۔۔اس کی منگیتر نے اسی دن دھمکی دی کہ شرٹ نہ بدلی تو وہ اسے شرٹ سمیٹ جلادے گی۔تب سے بیچارہ اسے سنبھالے بیٹھا تھا بس"اس کی آواز رقت آمیز ہوگئی نگاہوں میں وہ دردناک منظر گھوم گیا جب اسحاق تقریباً روتے ہوئے شرٹ اس کے حوالے کر رہا تھا۔کیونکہ اس کی منگیتر کو شک تھا کہ وہ شرٹ اس نے تاحال سنبھال رکھی ہے۔

"میری بہن مجھے وہ شرٹ اباجی تک پہنچنے سے پہلے لادو دیکھو میری چمڑی کی سلامتی اب تمہارے ہاتھ میں ہے "

وہ گھگھیائے ہوئے لہجے میں بولا۔۔

 ایک چالاک مسکراہٹ شزاء کے چہرے پر نمودار ہوئی

"ایک شرط ہے۔۔کل مجھے ایک پرفیوم لاکر دوگے۔۔۔اس کے بعد شام میں میری سہیلی کے گھر ڈراپ کروگے۔۔اور ابھی مجھے پیزا کے ساتھ شیک بھی بناکر دوگے۔۔منظور؟ "

وہ ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا۔۔اسے یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ اس چھٹکلی سے ہمیشہ مات کھا جاتا ہے۔۔کیا ضرورت تھی اماں جی کو اس چڑیل کو پیدا کرنے کی۔۔جبکہ میں اکیلا ہی انہیں مصروف رکھنے کو کافی تھا۔اس کی سوچ شاید چہرے پر لکھی جارہی تھی۔جب ہی شزاء نے ایک غصیلا ہنکارا بھرتے ہوئے سوالیہ انداز میں ہاتھ اس کے چہرے کے سامنے لہرایا۔۔وہ چونکا 

"منظور ہے۔۔"مرے مرے لہجے میں کہا گیا۔۔مگر وہاں کس کو پرواہ تھی۔

*****

"اماں جی! "

صبح صبح ایک بڑا سا پرچہ لیے وہ مرغیوں کے لئے پالک کترتی اماں جی کے سامنے کھڑا تھا۔

"کیا بات ہے"انداز ازحد مصروفیت کا تھا۔

"میں اب اس گھر میں نہیں رہ سکتا"اس نے پرچے میں دیکھ کر پہلا مکالمہ بولا۔۔

"تو کہاں جائے گا؟ "

اماں جی نے بنا ہاتھ روکے پوچھا۔۔اور اس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔یہ تو سوچا ہی نہیں تھا۔بلکہ بات یہاں تک پہنچے گی یہ نہیں سوچا تھا۔

مگر اب بات چلی تھی تو اسے منزل تک پہنچانا ضروری تھا ۔

"کسی فٹ پاتھ پر رہ جاؤں گا۔۔یہ اہم نہیں ہے۔۔مگر اب یہ زور زبردستی نہیں چلے گی۔میں اپنی "مرضی "سے رہنا چاہتا ہوں"اس نے گردن اکڑا کر صفحے پر نظر جماکر ایک ایک لفظ پڑھ ڈالا۔خدشہ تھا۔اماں جی کے سامنے فی البدیہہ بولنا شروع کیا تو کہیں حقوق کے چارٹر کی دفعات بھول نہ جائے۔

اور پھر ایک ایک کرکے اس نے وہ تمام حقوق گنوادیے جس کی پامالی ایک عرصے سے اس گھر کا وطیرہ تھی۔اماں جی خاموشی سے ہاتھ روکے بس ایک انگلی ناک پر رکھے حیرت سے اسے بولتے دیکھ رہی تھیں۔

اپنی بات مکمل کرکے جب وہ پلٹا تو اماں جی کے ذہن میں اس کے مطالبات کی ادائیگی کا طریقہ کار طے ہوچکا تھا

*****

"ذرا چہرہ یہاں گھمائیے۔۔۔جی اب ان کے کندھے پر ہاتھ رکھیے ۔۔مسکرائیے۔۔"اور اس کا دل چاہا روپڑے۔۔۔مسلسل دس گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے۔۔فوٹوگرافر کی ہدایات پر عمل کرتے کرتے اسے اپنا آپ کسی کٹھ پتلی جیسا محسوس ہورہا تھا۔دل چاہا بول دے نہیں مسکراتا میری مرضی۔

مگر مرضی کے نام پر اس کے ساتھ جو ہاتھ ہوا تھا۔اب وہ اس لفظ سے ہی ڈرنے لگا تھا۔اماں جی اور اباجی نے اس کی مرضی والے کیڑے پر شادی کا اسپرے کردیا تھا۔اب وہ چاہتا بھی تو گھر چھوڑنے کی بات نہ کرتا۔۔

ایک پل کو فوٹوگرافر کیمرے کی جانب متوجہ ہوا تو اس نے جلدی سے کھنچی ہوئی باچھیں سمیٹ کر چہرے کو ریلیکس کیا۔تب ہی نظر برابر بیٹھی دوسری کٹھ پتلی پر پڑی۔وہ مسکراتے ہوئے اسی کی جانب متوجہ تھی۔نظر ملی تو مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی جیسے وہ اس کی حالت سے واقف ہو۔۔

"آپ پریشان نہ ہوں۔۔آپ سارا دن ہنستے رہیں۔ تو بھی مجھے معلوم ہے شادی میں آپ کی مرضی شامل نہیں۔کوئی بات نہیں مجھے بھی یہاں سزا کے طور پر بٹھایا گیا ہے۔"وہ کھلکھلائی۔۔تو موتیوں جیسے دانت چمک اٹھے ۔

اور اتنے عرصے میں پہلی بار اس کے جلتے دل پر جیسے سکون کی پھوار پڑی۔۔

مظلوموں کی فہرست میں خود کو تنہا نہ پانے کا خیال بڑا جاں فزا تھا۔

 

 

Comments




POST A COMMENT