پاکستانیوں کی اقسام

2020-03-11 14:00:27 Written by Aitzaz Saleem Wasli

views:448

پاکستانیوں کی اقسام

خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد نے جہاں پاکستان میں کرونا کے خوف کم کرنے میں مدد کی ہے وہیں پاکستان کے کونے کونے میں موجود سوشل میڈیائی دانشوروں کو ایک نیا موضوع بھی فراہم کیا ہے۔اس بحث میں حصہ لے کر جہاں کافی سارا وقت ضائع کیا جا سکتا ہے وہیں آپ پاکستانیوں کے نیک خیالات بھی جان سکتے ہیں۔

میں نے ایف بی پر آوارہ گردی کرکے یہ پوسٹ تیار کی ہے جس میں آپ پڑھ سکیں گے دیش کے چپے چپے میں موجود لوگوں کے بارے میں۔۔تو چلتے ہیں اس بحث کے حساب سے لوگوں کی پہلی قسم کی طرف

1۔ایکسٹرا ذہین پاکستانی

اس قسم میں وہ پاکستانی آتے ہیں جن کی مرغی انڈہ نہ دے تو یہ امریکی اور یہودی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ان کے خیال میں ہماری تمام خرابیوں کی جڑ دراصل انڈین ایجنسی را ہے۔اس لئے یہ لوگ جان چکے ہیں کہ ماروی سرمد اور خلیل دادا کی بحث اور گالیاں وغیرہ دراصل کسی نامعقول رائٹر کا سکرپٹ تھیں اور یہ سب ایک سازش کے تحت ہو رہا ہے جس سے ملکی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ہو سکتا ہے جلد اس گالیوں بھری بحث کا تیسرا چہرہ بھی سامنے آ جائے۔اس لئے تیار رہیں جلد خلیل صاحب کا وہ بنگلہ آپ کو دکھایا جائے گا جو گالیوں والی بحث کے نتیجے میں ملنے والے کیش سے انہوں نے خریدا ہو گا۔۔

2۔مرد پاکستانی

اس قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جن کے خیال میں خلیل صاحب نے بالکل صیحح کیا اس بے زبان لڑکی کے جواب میں بدزبانی کرکے۔۔اس لئے اس کی ڈی پی لگا دی جائے ساتھ میں اسے محمد بن قاسم جتنی عزت دی جائے جس نے ایک مسلمان بہن کی پکار پر سفر کیا تھا بس فرق یہ ہے کہ محمد بن قاسم مسلمان بہن کی پکار پر آیا تھا اور خلیل صاحب مسلمان کی ماں بہن ایک کرنے آئے تھے۔۔اس کے علاوہ اس قسم کے پاکستانیوں کو مکمل حق حاصل ہے ہر قسم کی گالیاں دینے کا کیونکہ یہ جانتے ہیں عورت کا صرف مشرقی روپ ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔

3۔ادبی پاکستانی

تیسری قسم میں آتے ہیں ادبی پاکستانی جو دوستوں میں چاہے ماں بہن ایک کریں مگر انہیں گالیاں دئیے جانے پر شدید اعتراض ہے۔ان کے خیال میں دونوں غلط ہیں نہ ماروی سرمد عورتوں کی نمائندہ ہے نہ خلیل صاحب مردوں کے۔۔ہاں مہک ملک کے دونوں ہو سکتے ہیں۔۔اس قسم کے لوگوں کا ادب اپنی پوسٹ سے لے کر اپنے کمنٹس تک محدود ہوتا ہے۔۔۔اور فیس بک کی دنیا میں ان کا کام ہراس شخص کو بلاک کرنا ہوتا ہے جو کوئی غیراخلاقی بات کرتا ہے۔۔چاہے ان سے یا کسی اور سے۔۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کی بات میں دخل دے کر گالیاں سنتے ہیں پھر جواب میں لڑکی کو اتنا کہتے ہیں’’تم اپنی زبان گندی نہ کرو اس قسم کے لڑکوں سے بحث کرکے‘‘۔

4۔بلاول بھٹو پاکستانی

یہ وہ پاکستانی ہیں جن کے خیال میں خلیل صاحب شدید ترین غلط تھے۔انہیں عورت سے بحث ہی نہیں کرنا چاہیے تھی اور اگر اس معاملے میں پڑنا تھا تو ماروی کی ہر بات کو ’’جی مرشد‘‘کہہ کر ہاں میں ہاں ملانی تھی۔۔اس کے علاوہ ان کے خیال میں عورت مارچ عورت کو اس کے اسلامی حقوق دلوانے کیلئے تھا۔۔اس قسم کے لوگ اپنی بیوی سے شدید ڈرتے ہیں۔اس لئے مولوی کی تقریر سن کر بیوی کو انڈین فلم دکھانے برقعہ میں لے جاتے ہیں ہیا ہیا ہیا

5۔ملنگ پاکستانی

یہ سب سے بہترین قسم ہے۔انہیں بس اتنا پتا ہے کہ مارچ کے مہینے میں عورت مارچ ہو رہا ہے۔۔کیوں ہو رہا ہے یہ علم نہیں۔۔ہاں اپریل میں عورت اپریل ہرگز نہیں ہو گا۔۔اس قسم کے پاکستانی عمران خان کے وعدے پورے ہونے کے منتظر ہیں انہیں میرا جسم میری مرضی سے کوئی مطلب نہیں۔۔ہاں میرا جوتا۔۔مسجد سے باہر چرانے والے کی مرضی۔۔پر انہیں شدید اعتراض ہے۔۔اور ان میں سے کچھ لوگ صنم ماروی جیسی بہترین سنگر کا اتنی فضول بحث میں نام سن کر حیران ہو رہے ہیں۔

آپ کس قسم کے پاکستانی ہیں۔۔ہمیں ضرور بتائیں۔۔..

 

Comments




POST A COMMENT