جرم نشان چھوڑتا ہے

2020-04-09 15:55:55 Written by نگاہ حسیب

views:768

 

احمر اور توصیف نہ صرف اچھے دوست تھے بلکہ کپڑے کےکاروبار میں شراکت دار بھی تھے. کچھ عرصہ پہلے ہی دونوں دوستوں نے اس کاربار کی شروعات کی تھی جو انکی محنت اور لگن سے چمک اٹھا تھا. احمر کے والد کے پاس کچھ سرمایا تھا جس سے انہوں نے احمر اور اسکے دوست کو یہ کام شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا. ابتدا میں توصیف کے پاس زیادہ جمع پونجی نہیں تھی مگر وہ مارکیٹنگ میں قائل کردینے کی صلاحیتیں رکھتا تھا. احمر کو اپنے ساتھ ایک ایسے ہی انسان کی ضرورت تھی. احمر ایک الگ گھر میں اپنی بیوی اور پانچ سالہ بچے کے ساتھ رہتا تھا جبکہ توصیف کے والدین بھی اسکے ساتھ رہا کرتے تھے.. اچھا بھلا کام چل رہا تھا جب اچانک ایک روز انکی زندگیوں میں جیسے طوفان آگیا.. 

***

پولیس احمر اور توصیف کے آفس پہنچی ہوئی تھی جہاں علی الصباح ڈاکوؤں نے کارروائی کی تھی. توصیف اور احمر دونوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا.. بیان کے مطابق وہ دونوں آفس میں موجود تھے جب اچانک دروازہ کھول کر دو ڈاکو داخل ہوئے اور رقم کا مطالبہ کرنے لگے. مزاحمت کے نتیجے میں وہ دونوں کو گولیاں مار کر چلتے بنے. فائرنگ کے نتیجے میں احمر کو دو گولیاں لگیں تھیں جو کہ جان لیوا ثابت ہوئیں تھیں جبکہ توصیف کی ٹانگ میں گولی لگی تھی اور اسکی حالتکچھ دیر میں خطرے سے باہر تھی. 

پولیس اس وقت جائے وقوعہ کا جائزہ لینے میں مصروف تھی. انسپکٹر وحید نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے اپنے اسسٹنٹ کو مختلف جگہوں سے فنگر پرنٹس لینے کی ہدایت کی اور خود خون کے نشانات کا جائزہ لینے لگا. ایک طرف خون کے نشانات زیادہ تھے جہاں احمر گرا ہوا تھا اس جگہ کو ایک دائرہ کھینچ کر اسے نمایاں کر دیا گیا تھا. میز کی طرف نظر دوڑائی تو اسے گلاس اور دوسرے کاغذات بکھرے ہوئے نظر آئے دوسری جانب زمین پر گلدان گر کر ٹوٹا ہوا تھا. .ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے مزاحمت کے دوران کافی ہاتھاپائی بھی ہوئی ہو. آفس کا دروازہ ساؤنڈ پروف تھا. آفس میں کام کرنیوالے چند لوگوں کا بیان لیا جارہا تھا.. ڈکیتی کی واردات کے علاوہ اب یہ ایک قتل بھی تھا جس کی جلد از جلد تحقیقات ضروری تھیں. 

***

چند گھنٹے بعد پولیس توصیف کا بیان لے چکی تھی. احمر کی موت کی خبر نے اسے گہرا صدمہ دیا تھا. بیان کے دوران بھی وہ احمر کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑتا.. 

"مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا انہیں پیسے ہی چاہئے تھے تو فائرنگ کیوں کرڈالی. احمر کو کیوں مار ڈالا ظالموں نے.. اب کہاں سے لاؤں اسے, آہ! میرے دوست".

احمر کی بیوی اور باقی گھر والوں پر تو جیسے قیامت ٹوٹ چکی تھی. اسکی بیوی فرحین صرف اپنے بچے کی خاطر خود کو سنبھالے ہوئے تھی. توصیف نے اس سے فون پر بات کی تھی اور اسے حوصلہ رکھنے کو کہا تھا.. ہونی ہوچکی تھی اور اب صرف رسمی تعزیت باقی رہ گئی تھی..

***

 

گیٹ پر موجود گارڈ اور ورکرز نے ڈاکوؤں کا جو حلیہ بتایا تھا اسکے مطابق پولیس اپنا ریکارڈ چیک کر چکی تھی. اگر چہ انہوں نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے مگر اسکے علاوہ بھی انکا حلیہ کسی ریکارڈ سے میچ نہیں ہوتا تھا. سی سی ٹی وی فوٹیج غائب تھی.

انسپکٹر وحید اور اسکا اسسٹنٹ دونوں اپنے آفس میں موجود تھے.  

"سر, ہو سکتا ہے وہ کوئی عام سے ڈاکو ہوں اور انکو آج تک پولیس کی ہوا ہی نہ لگی ہو.. " اسسٹنٹ فرخ نے اسے سوچتے دیکھ کر کہا.. 

"نہیں فرخ اگر وہ لوگ اتنے ہی اناڑی ہوتے تو گولیاں مارنے کی حماقت نہ کرتے.. ڈاکو کتنے بھی ماہر کیوں نہ ہوں فائر کرنا انکا آخری آپشن ہوتا ہے. جس دلیری سے وہ گولیاں مار کر گئے اسکے بعد وہ پکڑے بھی نہیں گئے.. نہ کوئی انہیں پہچانتا ہے اور نہ ہی انکی موٹر سائیکل رجسٹرڈ تھی.. یہ منجھے ہوئے کھلاڑیوں کا کام نظر آرہا ہے.. ہمارے پاس زیادہ دن نہیں ہیں ہمیں جلد سے جلد انہیں پکڑنا ہے یہ اب ایک قتل کا معاملہ ہے صرف ڈکیتی کا کیس نہیں رہا.. " وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا. 

"لیکن سر , فی الحال ہم اس کیس میں کیا کر سکتے ہیں سوائے انہیں ڈھونڈنے کے." فرخ نے الجھتے ہوئے کہا.. 

"کچھ تو ہوگا فرخ کچھ تو ہوگا ایسا. مجرم جتنا بھی چالاک کیوں نہ ہو, جرم اپنا کوئی نہ کوئی نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے,کوئی غلطی تو ہوئی ہوگی ہمیں وہی سراغ ڈھونڈنا ہے". انسپکٹر نے پرجوش لہجے میں کہا. 

*** 

انسپکٹر وحید اس وقت احمر کی بیوہ کے گھر پہنچ چکا تھا. وہ تعزیت کیلئے آیا تھا جسکے بعد اس نے انہیں تسلی دی کہ وہ مجرموں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے.. 

" وہ بہت ڈسٹرب رہنے لگے تھے لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ انکا وقت قریب آرہا ہے, انکی موت انہیں بلا رہی تھی.. " فرحین (احمر کی بیوہ) نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا.. 

" ڈسٹرب کس وجہ سے تھے وہ.. کوئی ٹینشن؟ " انسپکٹر نے پوچھا. 

"کچھ کاروباری الجھنیں تھیں یہی بتایا تھا انہوں نے اب مجھے اور کیا بتاتے.. انسپکٹر صاحب احمر کی تو کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی پھر انہیں قتل کیوں کر دیا گیا, کیا وہ صرف پیسے لیکر نہیں جا سکتے تھے کم سے کم انکی جان تو نہ لیتے... " وہ رونے لگی.. 

"اس واقعے سے ایک دن پہلے انکی کسی سے کوئی ملاقات ہوئی تھی یا وہ کہیں گئے تھے؟" انسپکٹر نے کسی خیال کے تحت پوچھا. 

"وہ کہیں گئے تو نہیں تھے مگر انکا ایک کزن اشتیاق ان سے ملنے آیا تھا.وہ کافی عرصے بعد ان سے ملا تھا اور احمر بھی خوش ہوئے تھے اس سے مل کر " فرحین نے یاد کر کے بتایا. 

"کہاں ہوتے ہیں یہ اشتیاق صاحب؟ " اس نے پوچھا

" اسی شہر میں رہتے ہیں یہاں سے زیادہ دور نہیں ہیں" 

"کیا وجہ تھی کہ وہ اتنا قریب رہنے کے باوجود بہت عرصے بعد ملا تھا احمر سے؟" وہ دلچسپی لیتے ہوئے بولا. 

"انسپکٹر صاحب , وجہ کچھ ذاتی نوعیت کی ہے کیا یہاں بتانا ضروری ہوگا.. " وہ الجھی ہوئی بولی. 

"دیکھیں بی بی یہ ایک قتل کا معاملہ ہے اور ہمیں ہر پہلو کو دیکھنا ہوتا ہے آپ پلیز تعاون کیجئے گا جو بھی بات ہو آپ کو ہمیں آگاہ کرنا چاہئے. " وہ سخت لہجے میں بولا. 

"دراصل کچھ سال پہلے اشتیاق نے احمر کی چھوٹی بہن کیلئے رشتہ بھجوایا تھا جسے احمر نے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ وہ کوئی خاص کام نہیں کرتا.. اسلئے دونوں خاندانوں میں کچھ دوری پیدا ہوگئی تھی. خاندان کے کچھ لوگوں نے اس بات میں پڑ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی جس کے باعث اب انکے تعلقات پہلے سے بہتر تھے.. " اس نے تفصیل بتائی.

تھوڑی دیر معلومات لینے کے بعد انسپکٹر اٹھ کھڑا ہوا. 

***

اگلے روز انسپکٹر وحید توصیف کے گھر پر تھا. اسکی خیریت معلوم کرنے کے بعد اس کے کاروباری معاملات کی تفصیل معلوم کی.. توصیف کے بتانے پہ معلوم ہوا کہ انکے کاروباری معاملات مناسب چل رہے تھے اور کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے احمر فکر مند یا پریشان رہتا.. تھوڑی دیر ادھر ادھر کی معلومات لینے کے بعد انسپکٹر چل دیا. 

***

انسپکٹر وحید کے ذہن میں ایک کشمکش جاری تھی. توصیف اور فرحین دونوں کے بیانات میں تضاد تھا.. توصیف اپنے ہی کاروباری مسائل سے بےخبر ہو اس بارے میں جانتا نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا تھا. کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کوئی سازش ہو جسے ڈکیتی کا رنگ دیا گیا ہو, اور اگر فرض کر لیا جائے کہ یہ سازش ہے تو کون کر سکتا ہے. توصیف کے بارے میں ایسا سوچا نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہ خود زخمی ہوا تھا تو پھر فرحین... 

اسکا ماتھا ٹھنکا.. یہ فرحین بھی تو ہو سکتی تھی ہو سکتا ہے کسی وجہ سے وہ احمر کے ساتھ خوش نہ ہو اور ایسا اسی نے سوچا ہو, اور اسی وجہ سے اس نے اسکے کاروباری معاملات میں پریشانی اور پھر دشمنی کا ذکر کیا تا کہ پولیس کا شک کہیں اور چلا جائے... لیکن فرحین ایسا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ یہ بات کر کے اسے شک میں نہ ڈالتی..اب تک کی تفشیش کے مطابق تو یہ ایک ڈکیتی کا کیس ہی تھا وہ ایسا رسک ہی کیوں لیتی. یہ مفروضہ کمزور تھا. اس نے خود ہی اپنے خیال کی تردید کر دی. 

اشتیاق کا اس کیس میں مشکوک کردار ہو سکتا تھا ہو سکتا ہے وہ اس سے انتقام لینا چاہتا ہو اور اس نے احمر سے ملاقات کر کے خود کو ممکنہ شک سے بچایا ہو درحقیقت وہ کسی سازش میں ملوث ہو. یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ احمر کی حرکات وسکنات پر نظر رکھے ہوئے ہو اور اس روز کی ملاقات اسی سلسلے میں ہو.  

انسپکٹر کا ذہن بری طرح الجھ گیا تھا.  

***

 

احمر کے فون کال کی تفصیل معلوم کرنے پر پتا چلا کہ آخری کال ایک ٹیکسٹائل ڈیلر کے چھوٹے بھائی کی تھی. 

جب اس سلسلے میں معلومات کی گئیں تو اس شخص کے بیان سے معلوم ہوا کہ اس نے احمر کو ایک ڈیل کے سلسلے میں کال کی تھی. وہ احمر کو اپنی کمپنی کا ایک کانٹریکٹ لینے کیلئے اصرار کررہا تھا جبکہ احمر نے اسے منع کردیا تھا.. اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے پولیس کی کوشش جاری تھی. 

***

اشتیاق کے بارے میں معلومات سے پتا چلا کہ وہ ان دنوں ایک نیا کاربار شروع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا جس کے سلسلے میں وہ احمر سے اس روز ملا تھا.. 

خفیہ ذرائع سے پتہ چلا کہ اشتیاق کے روابط میں معمول سے ہٹ کر کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی.. اسکے حلقہ احباب میں کوئی ایسا آدمی بھی نہیں ملا جو ایسے کام میں اسکی مدد کرتا.. بظاہر اشتیاق کا اس کیس سے کوئی لنک نظر نہیں آتا تھا... 

****

انسپکٹر وحید اپنے آفس میں بیٹھا اسی سوچ میں غرق تھا. توصیف کے مطابق انکے کاروباری معاملات اچھے چل رہے تھے اور دوسری طرف اس نے ایسی کسی ڈیل کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا تھا جس کے حوالے سے آخری کال احمر کو ملائی گئی تھی..

ڈیلر کے بارے میں معلومات کی گئیں تو پتا چلا کہ ایک مشہور ٹیکسٹائل کمپنی کے اونر کا چھوٹا بھائی پس پردہ ریجیکٹڈ مال کی سپلائی کرتا تھا جبکہ اسے پیتل پہ سونے کا پانی چڑھانے جیسے کام کا خوب تجربہ تھا. 

وہ سستا مال مہنگے داموں ایسے بیچا کرتا کہ گاہک کو اس دھوکے کی ہوا بھی نہ لگتی.ایسے انسان کا احمر کا کال کر کے اسے کسی کانٹریکٹ پر اصرار کرنا کچھ عجیب سا تھا. 

احمر اور توصیف کے بارے میں معلومات کرانے پہ پتہ چلا تھا کہ انکا کام شفاف تھا اور انہوں نے بظاہر کبھی بھی گاہکوں کو بے وقوف بنا کر مال نہیں بنایا.. مارکیٹ میں انکی ریپوٹیشن ہمیشہ اچھی رہی تھی.. 

***

دوسرے روز انسپکٹر وحید توصیف کے آفس میں موجود تھا.. کچھ تھا جو اس کہانی میں مسنگ تھا, وہ اسی کی تلاش میں تھا..

وہ ایک جانب دیوار کی جانب چہرہ کئے کھڑا تھا کہ اسے دیوار میں کچھ عجیب سا نظر آیا. وہ تھوڑا حیران ہوا پہلے اسے لگا یہ اسکا وہم ہے مگر ایسا نہیں تھا. ایک ٹائل اسے دوسری ٹائلوں سے کچھ مختلف لگی. 

اس نے اسسٹنٹ کو فوراً پکارا اور تھوڑی دیر میں وہ اور اسکے آدمی یہ اندازہ لگانے میں کامیاب ہو گئے کہ ٹائل لگی دیوار دوسری جانب سے کھوکھلی ہے جو عام طور پر دیکھنے سے پتہ نہیں چلتا.. یہ کیا ہو سکتا تھا کوئی خفیہ رستہ یا پھر کوئی لاکر... وہ اسی سوچ میں تھے. 

تھوڑی ہی دیر میں توصیف کو آفس طلب کر لیا گیا..

"توصیف صاحب , جب ڈاکوؤں نے پیسے طلب کئے تھے تو آپ نے انکے حوالے کیوں نہ کر دئیے جب کہ آپکو اندازہ ہو گیا کہ وہ گولی چلا دیں گے.. ؟" اس نے پوچھا. 

"پیسے بینک میں ہیں ہم کیش ساتھ نہیں رکھتے تھے. ہم نے انہیں بتایا تھا مگر انہوں نے ہماری بات کا یقین نہیں کیا اور گولی چلا دی. " توصیف آہستہ سا بولا.. 

"کیا واقعی پیسے بینک کے لاکر میں ہی ہیں؟" انسپکٹر نے معنی خیز لہجے میں پوچھا.. 

"جی ہاں" وہ اطمینان سے بولا. 

"اچھا تو پھر یہ کیا ہے" انسپکٹر نے دیوار کی جانب اشارہ کیا.  

تھوڑی دیر میں ہی پولیس کے آدمیوں نے دیوار سے ٹائلیں ہٹانی شروع کردی اور ایک چوکور خانہ انہیں نظر آیا.  

"یہ سب کیا ہے توصیف صاحب, آپکو اپنی اور اپنے دوست کی زندگی سے زیادہ عزیز تھی یہ دولت جو آپ نے انہیں اسکا نہیں بتایا.. آپ اپنی اور اسکی جان بچا سکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا.. کیوں" انسپکٹر کہتا گیا  

اتنے میں اسسٹنٹ فرخ کی آواز آئی.. 

"سر, نقدی کے علاوہ یہاں ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے"

انسپکٹر نے توصیف کی طرف دیکھا.. 

"وہ لائسنس یافتہ ہے اور میں نے اپنی حفاظت کی غرض سے رکھا ہوا ہے.. توصیف پریشان سا بولا. 

انسپکٹر نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی.. 

***

 لاکر سے ملنے والے پستول میں تین گولیاں موجود تھیں.

انسپکٹر نے ایک خیال کے تحت ان دونوں کو لگنے والی گولیوں کا ان گولیوں کے ساتھ موازنہ کروایا چونکہ یہ ایک قتل کا کیس تھا اسلئے ان کو لگنے والی گولیوں کو محفوظ رکھا گیا تھا..

رپورٹ سے معلوم ہوا کہ انہیں ماری جانیوالی گولیاں اسی پستول سے چلائی گئیں تھیں..یہ اس کیس کی اہم پیش رفت تھی.. کیس نے ڈکیتی کے بجاۓ قتل کی سازش کا رخ اختیار کر لیا تھا.. پولیس نے توصیف کو حراست میں لیکر اس سے پوچھ گچھ شروع کی. شروع میں تو اس نے کافی ہٹ دھرمی دکھائی مگر پولیس کے ریمانڈ پر اس نے منہ کھول دیا.. 

"ہاں ہاں میں نے ہی مارا تھا اسے, کیا کرتا میں؟ لالچ میں آگیا تھا میں . مجھے ایک ڈیل ملی تھی. میں کم پیسوں میں ڈیفیکٹڈ مال خرید کر مہنگا بیچنا چاہتا تھا. مگر احمر نہیں راضی ہوتا تھا, کہتا تھا یہ بے ایمانی ہے. جس کاربار کی ابتدا حلال سے کی وہ اسے کھوٹا نہیں کرنا چاہتا تھا.اسکی موٹی عقل میں یہ بات ہی نہیں آتی تھی کہ پیسہ اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے آج کل کون دیکھتا ہے کہ حلال ہے یا حرام. میں نے اسے منانےکی ہر ممکن کوشش کر ڈالی..میں نے اس ڈیلر کے ذریعے بھی احمر کو اس ڈیل کیلئے راضی کرنے کی کوشش کی, میرا خیال تھا کہ اسے میری بات سمجھ نہ بھی آئے تو ایک کمپنی کے اصرار پر وہ ضرور غور کرے گا.. آج ہر کوئی پیسے کی دوڑ میں لگا ہوا ہےکیا ہو جاتا اگر وہ میری بات مان لیتا..

  دولت کے لالچ نے مجھے اس قدر اندھا کردیا کہ میں اپنے ہی دوست کے قتل کی منصوبہ بندی کر بیٹھا.وہ مر جائیگا تو اس سارے کاربار پہ میرا اکیلے قبضہ ہوگا اور میں اپنی مرضی سے سیاہ کو سفید کیا کروں گا اس خیال نے میری راتوں کی نیند اڑا دی. .. میں نے کرائے پر ڈاکو حاصل کیے تھے. سی سی ٹی وی کی ہارڈ ڈسک میں نے اسی رات نکال دی تھی.جعلی ڈاکوؤں کے آنے سے پہلے بھی میں اور احمر اسی پر بحث کررہے تھے میں نے جان بوجھ کر اسے مشتعل کیا جس پہ اس روز بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی. مجھے لگا کہ یہ مزاحمت کی ایک کوشش نظر آئیگی. جب ڈاکو وہاں پہنچے تو میں نے پستول لاکر سے نکال کر احمر پر گولیاں چلا دیں. ہاں میں نے اپنے ہاتھوں سے احمر کو قتل کردیا. میں نے ہی مار ڈالا اسے.. جرم سے بچنے کیلئے میں نے جعلی ڈاکوؤں سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ میری ایک ٹانگ میں گولی ماریں گے جس سے میری جان کو کوئی خطرہ نہ ہوتا اور گولی لگنے سے کسی کا مجھ پر شک نہ جاتا. مجھےٹانگ میں گولی مار کر انہوں نے منصوبے کے مطابق پستول لاکر میں رکھ دیا تاکہ پکڑے جانے کے باوجود آلہ قتل برآمد نہ ہوسکے.. لاکر کا آئیڈیا اسلئے استعمال کیا کیونکہ وہ پستول لائسنس یافتہ ہے. اگر کسی کا شک جاتا بھی تو انہیں فنگر پرنٹس نہ ملتے کیونکہ ڈاکو اور میں نے دونوں نے دستانے چڑھا رکھے تھے جنھیں وہ پلان کے مطابق اپنے ساتھ لے گئے تھے. "

توصیف نے انہیں اپنی تیار کی ہوئی گھناؤنی سازش بے نقاب کرتے ہوئے روتے ہوئے بتایا. 

" دولت کی خاطر تم نے بہت صفائی سے اپنے ہی جگری دوست کی جان لے لی. افسوس تو یہ ہے کہ تم نے صرف ایک گھر برباد نہیں کیا بلکہ دوستی جیسے سچے اور پاکیزہ رشتے کو بھی آلودہ کردیا.. مگر اس سب میں تم یہ بھول گئے کہ چاہے مجرم کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو, انجانے میں وہ جرم کا کوئی نہ کوئی سراغ ضرور چھوڑ جاتا ہے جو قانون کو بالآخر اس تک پہنچا دیتا ہے..تمہارا منصوبہ واقعی کامیاب رہتا اگر تم پستول کو فوری طور پر اس لاکر میں نہ چھپا دیتے.. یہ تمہارے گھر میں بھی ملا ہوتا تو شاید تم پر شک نہ جاتا. تم نے پولیس کو اس خفیہ لاکر کے بارے میں نہ بتا کر بھی ایک بھونڈی غلطی کی. خود کو زخمی کرنے کی پلاننگ سے تم نے یہ سمجھا کہ تم پہ کوئی شک نہیں کریگا مگر تم اس پلاننگ کے باوجود یہ غلطیاں کر بیٹھے.. کارباری معاملات میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے یہ بتا کر تم نے خود کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی مگر تمہیں یہ علم نہیں تھا کہ خود کو کور کرنے کی کوشش مجرم کی سب سے پہلی غلطی ہوتی ہے.

جرم کوئی بھی ہو سزا تو مل کر ہی رہتی ہے شکر کرو اس دنیا میں کڑی سزا مل جائیگی تو ہو سکتا ہےکہ آخرت میں تمہاری پکڑ کچھ ڈھیلی ہو سکے. "

انسپکٹر نے یہ کہتے ہوئےایک ٹھنڈی سانس بھری اور کیپ اتار کر میز پہ رکھ دی....

Comments




POST A COMMENT