جدید دور کا جون ایلیاء اور بدتہذیب حافی

2020-04-15 14:41:53 Written by Zoya Mashkoor

views:1276

#چیلنج_نمبر_3

#نئے_دور_کا_جون_ایلیا_اور_بدتہذیب_حافی

 

ہم جس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں اُس دور میں سوشل میڈیا کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی اہمیت اور قدر وقیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ فیسبک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے ایپس نے جہاں نئے ٹیلنٹس کو متعارف کرایا ہے وہیں کم عمری میں شادی کرنے والے جوڑے، چائے والا ارشد، اور "میرا بستہ واپس کرو" کہنے والا احمد شاہ جیسے لوگوں کو بھی فری میں شہرت دوام بخشی ہے۔ غرض یہ کہ سوشل میڈیا وہ پلیٹ فارم ہے جہاں مادھوری ناچے یا کوئی باندری، تماش بینوں کا ہجوم دونوں نے ہی اکھٹا کر لینا ہوتا ہے۔ تالیوں اور سیٹیوں سے تواضع دونوں کی ہی ہوتی ہے۔ مگر فرق ہوتا ہے تماش بینوں کے ذوق کا۔ وہ ذوق اور حسِ لطافت جو مادھوری کا ناچ دیکھنے والوں میں ہوتی ہے، وہ بھلا باندری کا ناچ دیکھنے والوں میں کہاں؟

ایسا ہی حال آج کل کے ان شاعروں کا ہے جنہوں نے تُک بندیاں کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اردگِرد سراہے جانے والوں کا مجمع تو اکھٹا کرلیا ہے مگر ان تماش بینوں میں زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے جن کے لئے بندر کا تماشا بھی بڑا پرکیف و پرلطف ہوتا ہے۔ 

مرزا غالب، میر تقی میر، میر درد، ناصر کاظمی، امیر مینائی اور پتا نہیں کون کون سے شاعر جہنیں ہم نصابوں میں اپنا شاعری ذوق ڈیویلپ کرنے کی خاطر پڑھتے آئے ہیں، بلاوجہ ہی اتنی بھاری اور وزنی شاعری کر گئے۔ بھلا ان کی ایسی فلسفیانہ شاعری کا کیا فائدہ جنہیں سمجھنے کے لئے لمبی لمبی تشریحات کا سہارا لینا پڑے؟ اصل میں تو انھیں ان نئے دور کے نوجوان شاعروں سے حقیقی شاعری کی تربیت حاصل کرنی چاہئیے تھی، جو اپنے نصابوں میں شامل فلسفیانہ شاعری سے نالاں وبیزار ہوئے طالب علموں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی کرامات کے ذریعے لاکھوں سے زائد فین فالونگ حاصل کر چکے ہیں۔ 

فیسبک یا ٹک ٹاک یا کسی بھی ابلاغی میڈیم کے ہوتے ہوئے اب مشہور ہونا کوئی ایسی مشکل بات نہیں رہی ہے۔ بس آپ کو لفظوں کی ہیرا پھیری کر کے قافیہ ملانا آنا چاہئیے۔ باقی وزن شزن گئی تیل لینے۔

آج کل نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والے شاعر تہذیب حافی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیے:

تیرا چپ رہنا میرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا

پھر موصوف دو شعر بعد اسی غزل میں فرماتے ہیں کہ،

اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں

چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا

اب کوئی بتلائے کہ شاعر کی محبوبہ کے چیخنے پر شاعر کا گلا بیٹھا ہے یا محبوبہ کی خاموشی پہ اسے آواز دے دے کر؟ خیر جو بھی ہے، پانی پلادو یار شاعر کو۔۔۔۔ 

ایک اور شعر پڑھئیے!

تجھ کو بتلاتا مگر شرم بہت آتی ہے

تیری تصویر سے جو کام لیا جاتا ہے

اب سمجھ آیا تہذیب حافی کو لوگ بدتہذیب حافی یونہی نہیں کہتے۔ 

یہ سنئیے!

اب اس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں

کہ ہم گھر میں نئی الماریاں بنوا رہے ہیں۔۔۔۔

واہ واہ۔۔۔ اب پتا چلا کہ بچوں میں اس شاعر کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے۔ خیر سے ہم بھی بچپن میں عید کے موقع پر ایسی ہی تُک بندیاں کیا کرتے تھے۔ 

ایک اور۔۔۔

میں اس کو ہر روز بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا

سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے

کیا کہانی بیان کر دی بھئی۔ واہ واہ۔۔۔۔۔

فون، واٹس ایپ یا ای میل کا ذکر شعروں میں آ جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ کبوتر، چٹھی، خط، لفافہ۔۔۔ سب گزرے وقت کی باتیں ہیں۔ جدت کا دور ہے بھائی۔۔۔ جدت کا۔۔۔!!

 

یہ شاعر اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ، "میں اپنی شاعری کے ذریعے فلسفے پیش نہیں کرنا چاہتا۔" 

میری مانئیے تہذیب حافی صاحب! خود پر یہ ظلم کبھی کیجئیے گا بھی نہیں۔ یہ آپ سے نہ ہو پائے گا۔۔۔!!

 

اب آتے ہیں علی زریون کی طرف۔ 

علی زریون آج کل سوشل میڈیا پہ کافی مقبول ہیں۔ جون ایلیا جیسا حلیہ بنا کر گھومنے والے، جون جیسی شاعری کرنے والے اور اس پہ مستزاد یہ کہ جون کے بیٹے کے ہمنام بھی ہیں۔ اس بناء پر انہیں سب نئے دور کا جون ایلیا کہتے ہیں۔ یہ تو ظلم کی انتہا ہوگئی بھئی۔ ایسا ظلم تو اشتیاق احمد کے چاہنے والوں نے انھیں دورِ حاضر کا ابن صفی قرار دے کر بھی نہیں کیا تھا۔ 

ذرا انکی شاعری ملاحظہ فرمائیں:

چائے پیتے ہیں کہیں بیٹھ کے دونوں بھائی

جا چکی ہے نا؟ تو بس چھوڑ ! چل آ ! جانے دے

واہ واہ، کیا بات ہے بھئی۔۔!

یہ اپنے دوست کو بریک اپ کے بعد چائے کی دعوت دیتے ہوئے اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہونے کی صلاح دے رہے ہیں۔ یہ ہے وہ "چیز" جو انھیں نئے بچوں میں قبولِ عام دیتی ہے۔ جسٹ موو آن یار۔۔۔۔!!!!

علی زریون پہ کلوز کرتے ہوئے یہ شعر کون بھول سکتا ہے۔ خیال چیک کریں۔

کس نے جینز کری ممنوع ؟؟

پہنو ! اچھی لگتی ہو۔

فارسی میں سعدی، اُردو میں غالب، پشتو میں خوشحال خان خٹک اور انگریزی میں شیکسپیئر نے عمدہ سے عمدہ اشعار تخلیق کر ڈالے مگر اس اعلیٰ پائے کی شاعری کبھی کسی نے نہ کی جو دورِ حاضر کے علی زریون صاحب کر گئے۔ لفظ "کری" پہ غور فرمائیں ذرا۔ اردو شاعری کی تاریخ میں شاید ہی کسی شاعر نے صیغۂ ماضی کا استعمال اس طرح سے اپنے شعر میں کیا ہو۔ کیا کہنے بھئی زریون صاحب کے۔۔۔ 

اس شعر سے معلوم ہوتا ہے جیسے شاعر کی محبوبہ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں جینز اور اس قسم کے اشتہا انگیز لباس پہننے پر پابندی عائد ہے۔ مگر ان کی محبوبہ اس پابندی سے اختلاف رکھتی ہے اور جینز پہننا چاہتی ہے۔ لیکن اس میں یہ حوصلہ مفقود ہے کہ وہ کھل کر اختلاف اور اپنی مرضی کر سکے۔ اس لئے شاعر پہلے مصرعے میں سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ "کس نے جینز کری ممنوع؟" اور پھر ایک شانِ مفتیانہ سے اگلے مصرعے میں حکم کی صورت میں فتویٰ جاری کرتے نظر آتے ہیں کہ "پہنو!"۔ اب چونکہ موصوف مدلل انداز میں بات کرنے کے عادی ہیں اس لئے ساتھ اس حکم کی وجہ بھی بیان کردیتے ہیں کہ "اچھی لگتی ہو"۔ واہ واہ۔۔۔۔ اس حسِ لطافت پر داد تو بنتی ہے۔

 

سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی تک بندیاں کرنے والوں پہ داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے دراصل انگلش میڈیم میں پڑھے لکھے، شاعری اور اردو ادب کی تہذیب و روایات سے قطعی نابلد سامعین ہیں۔ شاعری یہ نہیں ہوتی کہ قافیے ملانے کی دوڑ میں بھاگتے ہوئے ہانپ کر کوئی بھی بے وزن و بے بحر دو سطور گھسیٹ کر فائنل کردیں۔ خدارا عقل کو ہاتھ ماریں اور ہوش کے ناخن لیں۔ عوام الناس کا شعری ذوق تو ویسے ہی روبۂ زوال ہے۔ میرا قطعاً یہ کہنے کا مقصد نہیں ہے کہ سارا بگاڑ ان سوشل میڈیا کہ شاعروں کا پیدا کیا ہوا ہے بلکہ اگر آج اردو لکھنے میں زندہ ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ نئے موبائلوں اور کمپیوٹر میں اردو لکھنے کا آپشن موجود ہے ورنہ لوگ پہلے بھی آرام سے رومن اردو لکھتے تھے آج بھی لکھتے رہتے اور آہستہ آہستہ کتابیں وغیرہ اپنے لکھنے والوں کو پیاری ہو جاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی بھی بگاڑ اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہر خرابی کے پیچھے عرصہ دراز سے ایک سلسلہ چلا آرہا ہوتا ہے اور ایک وقت میں آکر یہ بگاڑ پوری طرح سے ظہور پذیر ہو جاتا ہے۔ جبکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ خرابی لمحہ موجود میں پیدا ہوئی ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا کے عام ہونے سے قبل یہ پست ذوقی صرف مشاعروں تک محدود ہوا کرتی تھی، مگر اب اس پست ذوقی کی ترویج کے لئے فیسبک بھی بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے ذوق کا معیار بلند کریں اور جو اس داد وستائش کا مستحق ہے صرف اسے اس سے نوازیں۔ جبکہ نوجوان شعرا کے پورے گروہ جو سراسر فیسبک کی پیداوار ہیں، ان سے کہنا چاہونگی کہ براہِ مہربانی وہ اپنی کسی تخلیق کو عام کرنے سے قبل ثقہ اور معتبر شعرا سے مشورہ کرلیا کریں۔

 

شکریہ

Comments




POST A COMMENT