ماضی سے حال تک

2020-04-15 16:50:18 Written by شبیر علوی

views:419

ماضی سے حال تک 

قسط نمبر پانچ 

******** 

ایک طرف ہمیں درگاہ لےجانے کی تیاری تھی اور دوسری طرف ہوٹل کے نقصان اور زخمی ہونے والے کرکٹ کے شیدائی کی فکر سب کو تھی کہ اسے کچھ ہو گیا تو پولیس کیس بنے گا ۔۔ 

 

نانا جی کے ہم عمر کچھ لوگ گھر آئے

  اور طے یہ پایا کہ نانا جی ہوٹل والے کا نقصان رہنے دیں۔

  مگر زخمی کے علاج معالجہ کا خرچ اٹھائیں ہوٹل والے کا بھی دارو ہے۔  

 اکٹھ کرنے سے باز نہیں آتا محلے میں چائے دودھ بیچے بس ۔۔۔ 

   ایک بزرگ نے یہ حتمی فیصلہ سنایا اور ناناجی سے گلے مل کر رخصت ہوئے سب ۔۔۔ 

 

اگلے روز ہمیں بڑے ماموں کے ساتھ درگاہ پر روانہ کردیا گیا ۔۔ ۔۔  

ماموں کے ساتھ دورانِ سفر ہم بالکل خاموش تھے ۔

   ایک جگہ جہاں بس بدل کر کسی دوسری بس میں بیٹھنا تھا ماموں نے وہاں ہم سے کھانے کو پوچھا تو ہم نے شکرپارے کھانے کی فرمائش بتائی   

کیونکہ ہم نے نام سن رکھا تھا لیکن کبھی کھائے نہیں تھے    

تاہم اس موقع کو غنیمت جان کر شکرپاروں کا ذائقہ بھی چکھنا چاہتے تھے 

آج اس خواہش کی تکمیل پائی تو  

   معلوم پڑا کہ یہ تو وہی خرمے ہیں جو ہمارے گاؤں میں غلام علی عرف گومی حلوائی بناتا ہے۔

  اور ہم روز دو روپے کے عوض تین خرموں کی ضد کرتے اور چاچا گوما پھر ڈرا دینےوالی آنکھوں سے کچھ لمحات گھورنے

 کے بعد جب پریقین ہوجاتا کہ

  اس نے

  ایسے نہیں جانا تو چھوٹے چھوٹے تین خرمے دے کر ہمیں کان سے پکڑ کر گھر کی راہ پہ لگا دیتا 

 نیا جاننے کی خوشی اور اپنی لاعلمی کا افسوس یکساں تھے ہمارے چہرے پر 

 کہ ایک نئی معلومات ماموں نے بتائی کہ پچھلی بس سے اترتے وقت کسی ضرورت مند نے ماموں کی جیب پر اپنا نصف ایمان مکمل کر لیا ہے ۔

بمشکل یہی چھ روپے تھے قمیض کے سامنے والی جیب میں جو بچ گئے۔

  وہ بھی شکرپاروں کی نذر کرنے کے بعد معلوم ہوا ۔۔۔۔ 

 

اب اگلا سفر مشکل ہوگیا اب کیا کریں ؟

یہ پریشانی تو ماموں کی تھی لیکن ان سے زیادہ ہمیں محسوس ہورہی تھی   

بس بھی آنے والی ہے پیسے بھی نہیں ہمارے ماموں اور ہم ایک دوسرے کو تسلی بھی نہیں دےسکتے تھے۔

 کیونکہ ہماری پریشانی ایک ہی تھی ویسے بھی اس وقت کرائے کے لیے روپوں کی ضرورت تھی محض باتوں سے تو مسئلہ حل نہیں ہونے والا ۔۔۔  

ہم نے ماموں سے کہا کہ اگر ہم کوشش کریں تو یہ سفر پیدل کیا جاسکتا ہے  

ماموں نے جواباً کہا کہ پچاس میل کیسے چلیں پیدل ؟ کس سے کہیں کون ایسے میں ہماری 

 مدد کرے ؟

 کسی سے مانگ بھی نہیں سکتے اس اثناء میں بس بھی آگئی ۔

کنڈیکٹر سے ماموں نے بات کی ہمارے پاس کرایہ نہیں ہے اور جانا بھی ہے ۔ 

بس کنڈیکٹر نے ساتھ لےجانے سے صاف انکار کردیا ۔۔۔۔ 

بس نکل گئی ماموں مذید پریشان ہوئے کہ اچانک ہمیں ایک ترکیب سوجھی ہم نے ماموں سے کہا کہ اب آپ ہمیں کوشش کرنے دیں ۔۔۔    

ماموں ہمیں گھورتے ہوئے بولے کہ تم کیا کروگے لوگ گداگر سمجھیں گے بےعزتی ہوجائیگی ۔۔  

ہم نے بتایا کہ نہیں ہوگا ایسا ۔

 آپ ہمارے ساتھ آئیں دور کھڑی چند ایک کاروں تک ۔۔۔ 

ماموں اور ہم کاریں جہاں کھڑی تھی وہاں چلےگئے ۔۔ 

ایک کار کے پاس جاکر رکے تو بہت سارے ڈرائیور ہمارے قریب آئے اور پوچھنے لگے کہ کہاں جانا ہے ؟

  ہم نے کہا کہ ہمیں آپکی مدد چاہیے سب نے کہا کیا مدد کرسکتے ہیں ؟

تب ہم نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کیا تو ہمارے ماموں خاموش بت بنے محوِ حیرت رہے ۔۔ ۔۔  

کچھ دیر بعد معاملات طے پانے کے بعد ہم کار میں سوار درگاہ کی طرف گامزن سفر تھے ۔۔۔ 

کار ڈرائیور کو راستے میں ہم نے شکرپارے جو بڑی دیر سے ہمارے ہاتھ میں ہی تھے کھانے کی دعوت دی پہلے تو اس نے جھجھکتے ہوئے شکریہ کہہ کر انکار کیا لیکن پھر کچھ دیر بعد خود ہی ہمارے ہاتھ سے شکرپارا لے کر کھالیا ۔۔۔ 

 

راستے میں انکار اور کھانے کی وجہ بھی بتائی 

جو بالکل معقول تھی 

بمشکل ایک گھنٹہ بعد ہی ہم درگاہ پر پہنچ چکے تھے   

وہاں پہنچ کر ہمیں بہت اچھا محسوس ہوا سب ہمارے ساتھ پیار محبت سے مل رہے تھے بڑے سرکار کے پاس کچھ سائل موجود تھے برآمدے میں جب ہم وہاں گئے تو بڑے سرکار نے بھی ہمیں پہلے سے زیادہ اہمیت دی ۔۔۔۔  

ہم نے جلدی سے کاروالے کے ساتھ ہونے والے معاملات بتائے تو بڑے سرکار نے کار والے کے لیے پیسے خود اپنی جیب سے ادا کردیے اور کاروالے کا شکریہ بھی ادا کیا  

۔۔۔۔۔ 

ہمارے ماموں جو لائے تو ہمیں ساتھ تھے 

مگر اب یوں لگ رہاتھا کہ انہیں ہم لے کے آئے ہیں 

بہت معترف ہوئے ہماری زہانت سے ۔  

 

بڑےسرکار سبھی سائلین کو بتارہے تھے کہ چھوٹی عمر میں ہی بہت زہین اور مضبوط اعصاب کا مالک ہے ہمارابچہ 

ایک سائل نے کہا کیوں نہیں جی آخر آیکی نظرخاص کا کرم جو ہے ۔ 

ہمارے ماموں کو بڑےسرکار نے واپسی سفر کے لیے کچھ پیسے دیے اور   

تسلی کے ساتھ ہمارے ہاتھوں زخمی ہونے والے کی صحت بہتری کو دعافرمائی اور رخصت کی اجازت دےدی 

کاروالے کو پیسے تو بہت دیر پہلے مل چکے تھے لیکن ابھی موجود تھا وہ ساری گفتگو بڑے انہماک سے سنتا رہا کہیں کہیں ہماری تعریف میں کوئی کمی رہ جاتی تو وہ کہہ دیتا کہ بہت خوداعتمادی ہے اس میں ۔۔ 

 میں تو بہت متاثر ہوں اس سے  

باتیں بھی تو صحیح کہتا ہے ۔۔ 

بھلا کرکٹ میچ کی ہار جیت سے کیا ملنا تھا کسی کو ؟

جو اتنا فساد برپا ہوگیا ؟

   ہمارے بادشاہ بھی پتہ نہیں کیوں اس کھیل پر پیسہ خرچ کرتے ہیں ؟

  غربت میں پھنسے ہوئے لوگوں کو روزگار دینا چاہیے  

تعلیم و تربیت تحقیق پر لگائیں خاں رقم 

   اور اس وقت کی وزیرِ اعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کو کوسنا شروع ہوگئے ۔ 

کار ڈرائیور کی بات سن کر ایک درویش جو کہ وہاں موجود تھے کہنے لگے  

غریب عوام کو بھی چاہیے ناں کہ ایسے کھیل پر اپنا وقت ضائع نا کریں  

کیا مل جانا تھا اگر وہ میچ ہمارا ملک جیت بھی جاتا ؟ 

ملک میں عورت کی حکمرانی ہے کام ہی سارے غلط ہورہے ہیں ۔۔  

اس گفتگو کو بڑےسرکار نے ہلکی سی گلے میں خراش کرکے ختم کروایا ۔۔۔۔ 

اسی اثناء میں درگاہ سے ملحقہ مسجد سے نمازِ عصر کے لیے اذان سن کر ہم پہلی بار خود سے ہی نماز ادا کرنے مسجد چلے گئے ۔ 

صحیح طرح سے وضو کرنا اور نماز ادا کرنے کے طریقہ کار سے ہم بالکل ناواقف تھے  

دیکھا دیکھائی وضو کرکے ہم سب سے پچھلی صف میں جا کر کھڑے ہوگئے  

سب سے آگے امام صاحب پچھلی صف میں پانچ سات ادھیڑعمر افراد اس کے پیچھے ہم  

 

اگر کوئی دیکھ لیتا تو لازماً کہتا ہے کہ ایک امام آگے اور ایک امام پیچھے ہے ۔۔  

دعا کے بعد جب امام صاحب سے مصافحہ کرکے سب جانے لگے تو ہم مصافحہ کے بعد پاس بیٹھ گئے اور امام صاحب سے نماز کی ادائیگی کا صحیح طریقہ پوچھنے لگے 

امام صاحب نے کہا کہ ابھی میں نے ایک ختم شریف پڑھنے جانا ہے محلے میں ایک گھر   

 آپ کل آئیے اور نماز کے باقاعدہ درس میں حصہ لیجیے ۔۔ 

کچھ دیر ہم مسجد میں بیٹھے رہے پھر وہاں سے اٹھے واپس درگاہ جانے کے لیے   

ابھی راستے میں ہی تھے کہ بڑے سرکار کے خاص خدمت گار ملے جو ہمیں تلاش رہے تھے 

 

انہوں نے کہا کہ بی بی صاحبہ نے یاد فرمایا ہے 

۔۔ 

 

کچھ دیر بعد ہم بی بی صاحبہ کے پاس پہنچ چکے تھے  

بی بی صاحبہ نے گلے مل کر ہمارا استقبال کیا اور سب حال احوال لیے ۔۔ 

اچھا تو اب اتنا بڑے ہوگئے ہو کہ پیغام بھجوا کر بلوانا پڑتا ہے بی بی صاحبہ نے مسکراتے ہوئے کہا  

شرمندہ سے ہوکر ہم کچھ مسکرائے اور معذرت کے انداز میں بتایا کہ ایسی بات نہیں ہم خود آنے والے تھے بسسس ۔۔۔۔ 

۔۔۔۔  

جب تک سوئے نہیں بی بی صاحبہ نے ساری

 خیر خبر لی کیسے ہمارا جھگڑا ہوا کیوں ہم جذبات میں آئے ؟

  اور پھر آخر میں کاروالے کو کیسے ہم نے راضی کیا کہ وہ ہمیں درگاہ تک چھوڑ آئے ۔۔  

 

اگلے روز ہم امام مسجد کے پاس چلے گئے کہ نماز سیکھیں لیکن ہم مطلب پوچھتے تھے کہ ثناء ۔ تعوذ کا مطلب کیا ہے ؟

 مولوی صاحب مطلب سمجھانے سے قاصر رہے ہمارا دل نہیں لگا اور 

 ہم درگاہ چلے آئے ۔۔ 

جہاں کچھ وقت سازندوں کے پاس بیٹھ کر لطف اندوز ہوئے اور پھر بی بی صاحبہ کے پاس گھر چلے گئے جہاں کچھ سائل خواتین بی بی صاحبہ کے پاس موجود تھیں ۔

ہم نے سب کے سامنے ہی پوچھ لیا کہ بی بی صاحبہ یہ مولوی صاحب ہمیں نماز کے بجائے ثناء پڑھاتے ہیں مطلب بتاتے نہیں  

ثناء کیا ہے ؟

وہاں موجود کچھ خواتین خاموش جبکہ کچھ ہنسنے لگی بی بی صاحبہ نے ہمیں کمرے میں جانے کو کہا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 

 

اس رات ہمیں ہمیں بی بی صاحبہ نے جگایا اس طرح جاگنا ہمارے معمول کے خلاف تھا ۔ 

گھر میں سناٹا اور خاموشی تھی ہم حیران بھی

 تھے اور پریشان بھی 

بی بی صاحبہ نے کہا اب تم بڑے ہوگئے ہو  

آؤ تمہیں وہ سبق سکھائیں جس کی تمہیں 

   اب بہت ضرورت ہے 

اور ہمیں ساتھ لاکر

             بی بی صاحبہ نے ہمارا منہ ہاتھ دھلوایا اور اپنے ساتھ صحن میں بنے چھوٹے چبوترے پر لگے ہوئے بستر نما گدے پر بٹھا لیا ۔۔ 

 پوچھا کیسا لگ رہا ہے ہر طرف خاموشی اور اندھیرے کا منظر ڈر تو نہیں لگ رہا ؟

ہم نے کہا آپ کے ہوتے ہوئے کیسا خوف ؟ 

 

بی بی صاحبہ نے کہا ہوا کھاؤ گے ؟

یہ بڑی دلچسپ بات تھی ہمارے لیے کہ ہوا بھی کھائی جاسکتی ہے ۔

بی بی صاحبہ نے ہمیں بتایا کہ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے جسم کو غذا کی ضرورت ہے ہوا کی بھی ضرورت ہے اس کے لیے تازہ صحتمند ہوا کھانا چاہیے اس سے سکون ملےگا  

اور پھر انہوں ہمیں ہوا کھانے کی ترکیب کچھ یوں بتائی کہ سانس اندر کی جانب لے جاکر کچھ لمحہ روک کر پھر منہ کی طرف سے آہستہ آہستہ باہر نکال دینا ۔۔ 

بی بی صاحبہ نے یہ عمل جب ہم سے پانچ بار کروایا تو ہمیں اپنے اندر ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہوئی ہمارا دل چاہ بس ایسے سناٹا ہی رہے کتنا پرلطف لمحہ ہے ۔۔

بی بی صاحبہ نے کہا اس طرح تمہیں یکسوئی ملے گی تمہارے اندر حوصلہ پیدا ہوگا 

تمہاری خوداعتمادی بڑھے گی تحمل مزاج بن جاؤ گے اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنو اور ان پر قابو کرو خود پر بادشاہی کرنے کا فن عطا ہوگا ۔۔  

کچھ دیر بعد فجر کی اذان ہونے لگی

 بی بی صاحبہ نے نماز کی ادائیگی کے متعلق بتایا اپنے خالق کی تعریف کرنا اس سے معافی مانگنا اس کے عطا کردہ انعامات کا شکر ادا کرنا اور اپنے دل و دماغ کو جو تمہارے جسم کا سب سے طاقتور حصہ ہے 

خالق کے سامنے جھکا دینا ۔۔  

بی بی صاحبہ کی یہ باتیں آدھی سمجھ آرہی تھیں اور کچھ سر سے گزر رہی تھیں  

لیکن اچھا محسوس ہورہاتھا تازہ ہوا کھانے کے سبب ایک اطمنان سا آرہا تھا 

  رات کو پہلے کبھی یوں جاگے نا تھے

شاید اسی کا اثر تھا کہ ہم کب دوبارہ سوگئے نہیں معلوم ۔۔ 

آنکھ کھلی تو خود کو اپنے بستر پر پایا 

دن کافی چڑھ آیا تھا ۔۔ 

دوبارہ سے اٹھ کر منہ ہاتھ دھویا بی بی صاحبہ کی خادمہ نے ناشتہ کروایا کچھ وقت گزاری کو درگاہ جانے کو جی چاہ  

سانس بار بار روک کر ہم خود چیک کرتے رہے کہ ہم میں حوصلہ آتاہے کہ نہیں ۔۔ 

ہم درگاہ کی طرف جارہے تھے تب راستے میں کریانہ کی ایک دکان جہاں سے ہم بسکٹ لینے کے لیے چلے گئے وہاں ایک طرف لکڑی کے بینچ پر بیٹھے تین افراد ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر خوش ہورہے تھے اور  

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو نازیبا الفاظ میں بہت کچھ کہے جارہے تھے ۔ 

ہم نے دکاندار سے جوکہ جانتا تھا کہ ہم بی بی صاحبہ کے ہاں سے ہیں

  اس سے پوچھ لیا کہ چاچا یہ کیوں اس طرح خوش ہورہے ہیں تو دکاندار چچا نے کہا کہ رات سری لنکا نے ہندوستان کو رولا دیا ۔

ہار گئے سورمے سیمی فائنل اور رو پڑے ۔۔ 

صبح کی ہوئی مشق کا اثر تھا شاید کہ ہم نے بڑے تحمل سے پوچھا چچا اس میں یوں خوش ہونے والی کیا بات ہے ؟

اس سے آپ کا یا پھر ان کا کیا فائدہ ؟ 

دکاندار چچا نے کہا کہ فائدہ تو کوئی نہیں بس خوشی ہے چھوٹے سرکار ۔۔  

اب ہم نے وہاں سے روانگی میں ہی عافیت جانی کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ چند دن پہلے ہمارے ہاتھوں ایسا جنونی زخمی ہوچکا ہے ۔۔ 

ہمیں بہت خوشی محسوس ہورہی تھی کہ ہم بحث کا حصہ نہیں بنے برداشت کرگئے ہیں ۔ 

درگاہ پر پہنچے تو کچھ وقت سازندوں کے پاس بیٹھے رہے جہاں انہوں نے آج ہمارے آنے پر  

میرا پیا گھر آیا کلام سنایا ۔ 

ہمارا اب یہ معمول تھا کہ دن بھر درگاہ پہ بڑے سرکار کے پاس آنے والے سائلین کی باتیں سننا بڑے سرکار کے لکھے ہوئے تعویز دیکھتے رہنا کسی وقت امام مسجد کے پاس جانا اور نماز کے متعلق جانکاری لینا ۔۔ 

سکون مگر سانس روک کر کی جانے والی مشق سے ملتا تھا ۔ 

بی بی صاحبہ ہر رات ہی ہمیں جگاتیں اور اس مشق کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نماز میں یکسوئی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا درس دیتیں کہ جب تک نہیں پتہ چلتا کہ ترجمہ کیا ہے اپنی مادری زبان میں ہی رب کو پکارتے رہو ۔۔ 

اپنی زبان میں ہی اس سے خیر مانگتے رہو 

وہ تمہاری زبان سمجھتا ہے سنتا ہے ۔ 

ہم نے بی بی صاحبہ سے اپنے دادا کی طرح حکیم بننے کی خواہش کا ذکر بھی کیا تو 

انہوں نے کہا سب سے بڑا حکیم رب آپ ہی ہے 

تم اس سے ہی کہو وہ ہر کام کرنے پر قادر ہے کوئی راستہ بھی مہیا کرے گا کہ 

تم ایک اچھے طبیب بن جاؤ گے ۔ 

تمہاری آنکھیں ہی ایسی ہیں کہ کئیوں کو شفا ملے گی ۔ 

ہماری آنکھوں میں ایسا کیا ہے ؟

آج پھر اپنی آنکھوں کی تعریف سن کر یہ جاننے کو دل چاہ ۔۔ 

بی بی صاحبہ نے کہا تمہاری آنکھوں میں ایک شفاف جہاں ہے بہت پیاری ہیں تمہاری آنکھیں ۔۔ 

 

 ورلڈ کپ 1996 ختم ہوچکا تھا  

سری لنکا کی ٹیم فاتح قرار پائی

  بے نظیربھٹو کے ہاتھوں رانا ٹونگا کو ٹرافی لیتے ہوئے تصویر ہم چچا دکاندار کے پاس اخبار میں دیکھ چکے تھے ۔۔ ۔  

ہر کوئی جے سوریا ۔ ڈی سلوا ۔ راناٹونگا ۔ کے گیت گارہا تھا ۔ ایک بندے نے کہا سری لنکا کے پاس

  ماہنامہ ( روشن ماہنامہ ) جو ہے تبھی وہ ورلڈکپ جیت گئے ۔ 

ہمارے پاس روزنامہ بھی نہیں تبھی ہم ورلڈکپ ہارگئے ۔

  چند دنوں بعد ہی سنگاپور میں ہونے والے سنگر کپ کے فائنل میں ثقلین مشتاق کا طلسم چل گیا اور ڈرامائی انداز میں کرکٹ کی ورلڈ چمپیئن ناقابلِ شکست چلی آرہی سری لنکن ٹیم کی پاکستان کرکٹ ٹیم سے شکست پر دکاندار چچا سمیت سبھی افراد بہت خوش و خرم نظر آرہے تھے  

یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہجر کے ماروں کو شبِ وصل کی مسرت مل گئی ہو ۔۔۔۔ 

ہمارا دل چاہ کہ ان سے پوچھیں کہ اس کھیل میں ایسی کیا شے ہے کہ خوشی اور غم کا اس قدر پرجوش مظاہرہ ۔ 

 

ایسے کون سے مسائل ہیں جو حل ہوگئے ہیں ؟ جن کا برسوں سے رونا بھی روتے آرہے ہو ۔۔ 

لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتے تھے کیونکہ ہمیں اب برداشت کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ آرہی تھی کہ لیلیٰ کا مجنوں قیس تو یونہی بدنام تھا 

اصل جنونی تو ہمارے ساتھ ہیں ۔۔ 

ہم سوچتے ہوئے بس آگے نکل آئے اور درگاہ پر پہنچ گئے کچھ دیر سازندوں کے پاس رکے اور پھر بڑے سرکار کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ہمارے نانا صاحب ۔ ہمارے والد اور ماموں کو ساتھ لیے حاضر ہوئے  

ہمیں باربار گلے مل رہے تھے نا جانے کیوں آج اتنا پیار جتلایا جا رہا ہے ہم سمجھ نہیں پائے تھے ۔۔ 

 

کچھ دیر بعد ناناصاحب نے بڑے سرکار کو بتایا کہ   

جس آدمی سے جھگڑا ہوا تھا اور وہ زخمی ہوکر ہسپتال میں چلا گیا تھا 

وہ کل رات اللہ کے حضور حاضر ہوگیا ہے  

پنچائیت کے کہے مطابق علاج معالجہ کا خرچ کہتے تھے

  مگر اب معاملہ بگڑ گیا ہے 

تھانے چلے گئے ہیں وہ لوگ ۔ 

تھانیدار نے کہا ہے وہ لڑکا پیش کیا جائے پرچہ درج ہوگیا ہے ۔ 

محلے کے کچھ معتبر افراد کی وجہ سے مہلت ملی ہے ۔۔  

پیر جی کچھ کیجیے اب آپ ۔۔  

بڑے سرکار نے ہمارے نانا صاحب کو کچھ حوصلہ تسلی دی  

اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اس دن بڑے سرکار نے جب اس کی صحت یابی کے لیے دعا کر دی تھی تو پھر وہ کیوں فوت ہوگیا ؟ 

 

فوت ہونا ہی تھا تو چلو آج ہو جاتا  

 سنگرکپ میں اپنی پسندیدہ ٹیم کے جیتنے 

  کی خوشی ہی ساتھ لے جاتا ۔ 

 

ہم تھانے پیش ہوئے کہ نہیں ؟ 

کیا ہوا تھانے میں ؟ 

بڑےسرکار اور بی بی صاحبہ کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟ کیسے اور کیوں ہم آج لکھ رہے ہیں؟

        

  جانیے گا اگلی قسط میں ۔ 

آپکی محبتوں کا طلب گار 

شبیرعلویماضی سے حال تک 

قسط نمبر پانچ 

******** 

ایک طرف ہمیں درگاہ لےجانے کی تیاری تھی اور دوسری طرف ہوٹل کے نقصان اور زخمی ہونے والے کرکٹ کے شیدائی کی فکر سب کو تھی کہ اسے کچھ ہو گیا تو پولیس کیس بنے گا ۔۔ 

 

نانا جی کے ہم عمر کچھ لوگ گھر آئے

  اور طے یہ پایا کہ نانا جی ہوٹل والے کا نقصان رہنے دیں۔

  مگر زخمی کے علاج معالجہ کا خرچ اٹھائیں ہوٹل والے کا بھی دارو ہے۔  

 اکٹھ کرنے سے باز نہیں آتا محلے میں چائے دودھ بیچے بس ۔۔۔ 

   ایک بزرگ نے یہ حتمی فیصلہ سنایا اور ناناجی سے گلے مل کر رخصت ہوئے سب ۔۔۔ 

 

اگلے روز ہمیں بڑے ماموں کے ساتھ درگاہ پر روانہ کردیا گیا ۔۔ ۔۔  

ماموں کے ساتھ دورانِ سفر ہم بالکل خاموش تھے ۔

   ایک جگہ جہاں بس بدل کر کسی دوسری بس میں بیٹھنا تھا ماموں نے وہاں ہم سے کھانے کو پوچھا تو ہم نے شکرپارے کھانے کی فرمائش بتائی   

کیونکہ ہم نے نام سن رکھا تھا لیکن کبھی کھائے نہیں تھے    

تاہم اس موقع کو غنیمت جان کر شکرپاروں کا ذائقہ بھی چکھنا چاہتے تھے 

آج اس خواہش کی تکمیل پائی تو  

   معلوم پڑا کہ یہ تو وہی خرمے ہیں جو ہمارے گاؤں میں غلام علی عرف گومی حلوائی بناتا ہے۔

  اور ہم روز دو روپے کے عوض تین خرموں کی ضد کرتے اور چاچا گوما پھر ڈرا دینےوالی آنکھوں سے کچھ لمحات گھورنے

 کے بعد جب پریقین ہوجاتا کہ

  اس نے

  ایسے نہیں جانا تو چھوٹے چھوٹے تین خرمے دے کر ہمیں کان سے پکڑ کر گھر کی راہ پہ لگا دیتا 

 نیا جاننے کی خوشی اور اپنی لاعلمی کا افسوس یکساں تھے ہمارے چہرے پر 

 کہ ایک نئی معلومات ماموں نے بتائی کہ پچھلی بس سے اترتے وقت کسی ضرورت مند نے ماموں کی جیب پر اپنا نصف ایمان مکمل کر لیا ہے ۔

بمشکل یہی چھ روپے تھے قمیض کے سامنے والی جیب میں جو بچ گئے۔

  وہ بھی شکرپاروں کی نذر کرنے کے بعد معلوم ہوا ۔۔۔۔ 

 

اب اگلا سفر مشکل ہوگیا اب کیا کریں ؟

یہ پریشانی تو ماموں کی تھی لیکن ان سے زیادہ ہمیں محسوس ہورہی تھی   

بس بھی آنے والی ہے پیسے بھی نہیں ہمارے ماموں اور ہم ایک دوسرے کو تسلی بھی نہیں دےسکتے تھے۔

 کیونکہ ہماری پریشانی ایک ہی تھی ویسے بھی اس وقت کرائے کے لیے روپوں کی ضرورت تھی محض باتوں سے تو مسئلہ حل نہیں ہونے والا ۔۔۔  

ہم نے ماموں سے کہا کہ اگر ہم کوشش کریں تو یہ سفر پیدل کیا جاسکتا ہے  

ماموں نے جواباً کہا کہ پچاس میل کیسے چلیں پیدل ؟ کس سے کہیں کون ایسے میں ہماری 

 مدد کرے ؟

 کسی سے مانگ بھی نہیں سکتے اس اثناء میں بس بھی آگئی ۔

کنڈیکٹر سے ماموں نے بات کی ہمارے پاس کرایہ نہیں ہے اور جانا بھی ہے ۔ 

بس کنڈیکٹر نے ساتھ لےجانے سے صاف انکار کردیا ۔۔۔۔ 

بس نکل گئی ماموں مذید پریشان ہوئے کہ اچانک ہمیں ایک ترکیب سوجھی ہم نے ماموں سے کہا کہ اب آپ ہمیں کوشش کرنے دیں ۔۔۔    

ماموں ہمیں گھورتے ہوئے بولے کہ تم کیا کروگے لوگ گداگر سمجھیں گے بےعزتی ہوجائیگی ۔۔  

ہم نے بتایا کہ نہیں ہوگا ایسا ۔

 آپ ہمارے ساتھ آئیں دور کھڑی چند ایک کاروں تک ۔۔۔ 

ماموں اور ہم کاریں جہاں کھڑی تھی وہاں چلےگئے ۔۔ 

ایک کار کے پاس جاکر رکے تو بہت سارے ڈرائیور ہمارے قریب آئے اور پوچھنے لگے کہ کہاں جانا ہے ؟

  ہم نے کہا کہ ہمیں آپکی مدد چاہیے سب نے کہا کیا مدد کرسکتے ہیں ؟

تب ہم نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کیا تو ہمارے ماموں خاموش بت بنے محوِ حیرت رہے ۔۔ ۔۔  

کچھ دیر بعد معاملات طے پانے کے بعد ہم کار میں سوار درگاہ کی طرف گامزن سفر تھے ۔۔۔ 

کار ڈرائیور کو راستے میں ہم نے شکرپارے جو بڑی دیر سے ہمارے ہاتھ میں ہی تھے کھانے کی دعوت دی پہلے تو اس نے جھجھکتے ہوئے شکریہ کہہ کر انکار کیا لیکن پھر کچھ دیر بعد خود ہی ہمارے ہاتھ سے شکرپارا لے کر کھالیا ۔۔۔ 

 

راستے میں انکار اور کھانے کی وجہ بھی بتائی 

جو بالکل معقول تھی 

بمشکل ایک گھنٹہ بعد ہی ہم درگاہ پر پہنچ چکے تھے   

وہاں پہنچ کر ہمیں بہت اچھا محسوس ہوا سب ہمارے ساتھ پیار محبت سے مل رہے تھے بڑے سرکار کے پاس کچھ سائل موجود تھے برآمدے میں جب ہم وہاں گئے تو بڑے سرکار نے بھی ہمیں پہلے سے زیادہ اہمیت دی ۔۔۔۔  

ہم نے جلدی سے کاروالے کے ساتھ ہونے والے معاملات بتائے تو بڑے سرکار نے کار والے کے لیے پیسے خود اپنی جیب سے ادا کردیے اور کاروالے کا شکریہ بھی ادا کیا  

۔۔۔۔۔ 

ہمارے ماموں جو لائے تو ہمیں ساتھ تھے 

مگر اب یوں لگ رہاتھا کہ انہیں ہم لے کے آئے ہیں 

بہت معترف ہوئے ہماری زہانت سے ۔  

 

بڑےسرکار سبھی سائلین کو بتارہے تھے کہ چھوٹی عمر میں ہی بہت زہین اور مضبوط اعصاب کا مالک ہے ہمارابچہ 

ایک سائل نے کہا کیوں نہیں جی آخر آیکی نظرخاص کا کرم جو ہے ۔ 

ہمارے ماموں کو بڑےسرکار نے واپسی سفر کے لیے کچھ پیسے دیے اور   

تسلی کے ساتھ ہمارے ہاتھوں زخمی ہونے والے کی صحت بہتری کو دعافرمائی اور رخصت کی اجازت دےدی 

کاروالے کو پیسے تو بہت دیر پہلے مل چکے تھے لیکن ابھی موجود تھا وہ ساری گفتگو بڑے انہماک سے سنتا رہا کہیں کہیں ہماری تعریف میں کوئی کمی رہ جاتی تو وہ کہہ دیتا کہ بہت خوداعتمادی ہے اس میں ۔۔ 

 میں تو بہت متاثر ہوں اس سے  

باتیں بھی تو صحیح کہتا ہے ۔۔ 

بھلا کرکٹ میچ کی ہار جیت سے کیا ملنا تھا کسی کو ؟

جو اتنا فساد برپا ہوگیا ؟

   ہمارے بادشاہ بھی پتہ نہیں کیوں اس کھیل پر پیسہ خرچ کرتے ہیں ؟

  غربت میں پھنسے ہوئے لوگوں کو روزگار دینا چاہیے  

تعلیم و تربیت تحقیق پر لگائیں خاں رقم 

   اور اس وقت کی وزیرِ اعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کو کوسنا شروع ہوگئے ۔ 

کار ڈرائیور کی بات سن کر ایک درویش جو کہ وہاں موجود تھے کہنے لگے  

غریب عوام کو بھی چاہیے ناں کہ ایسے کھیل پر اپنا وقت ضائع نا کریں  

کیا مل جانا تھا اگر وہ میچ ہمارا ملک جیت بھی جاتا ؟ 

ملک میں عورت کی حکمرانی ہے کام ہی سارے غلط ہورہے ہیں ۔۔  

اس گفتگو کو بڑےسرکار نے ہلکی سی گلے میں خراش کرکے ختم کروایا ۔۔۔۔ 

اسی اثناء میں درگاہ سے ملحقہ مسجد سے نمازِ عصر کے لیے اذان سن کر ہم پہلی بار خود سے ہی نماز ادا کرنے مسجد چلے گئے ۔ 

صحیح طرح سے وضو کرنا اور نماز ادا کرنے کے طریقہ کار سے ہم بالکل ناواقف تھے  

دیکھا دیکھائی وضو کرکے ہم سب سے پچھلی صف میں جا کر کھڑے ہوگئے  

سب سے آگے امام صاحب پچھلی صف میں پانچ سات ادھیڑعمر افراد اس کے پیچھے ہم  

 

اگر کوئی دیکھ لیتا تو لازماً کہتا ہے کہ ایک امام آگے اور ایک امام پیچھے ہے ۔۔  

دعا کے بعد جب امام صاحب سے مصافحہ کرکے سب جانے لگے تو ہم مصافحہ کے بعد پاس بیٹھ گئے اور امام صاحب سے نماز کی ادائیگی کا صحیح طریقہ پوچھنے لگے 

امام صاحب نے کہا کہ ابھی میں نے ایک ختم شریف پڑھنے جانا ہے محلے میں ایک گھر   

 آپ کل آئیے اور نماز کے باقاعدہ درس میں حصہ لیجیے ۔۔ 

کچھ دیر ہم مسجد میں بیٹھے رہے پھر وہاں سے اٹھے واپس درگاہ جانے کے لیے   

ابھی راستے میں ہی تھے کہ بڑے سرکار کے خاص خدمت گار ملے جو ہمیں تلاش رہے تھے 

 

انہوں نے کہا کہ بی بی صاحبہ نے یاد فرمایا ہے 

۔۔ 

 

کچھ دیر بعد ہم بی بی صاحبہ کے پاس پہنچ چکے تھے  

بی بی صاحبہ نے گلے مل کر ہمارا استقبال کیا اور سب حال احوال لیے ۔۔ 

اچھا تو اب اتنا بڑے ہوگئے ہو کہ پیغام بھجوا کر بلوانا پڑتا ہے بی بی صاحبہ نے مسکراتے ہوئے کہا  

شرمندہ سے ہوکر ہم کچھ مسکرائے اور معذرت کے انداز میں بتایا کہ ایسی بات نہیں ہم خود آنے والے تھے بسسس ۔۔۔۔ 

۔۔۔۔  

جب تک سوئے نہیں بی بی صاحبہ نے ساری

 خیر خبر لی کیسے ہمارا جھگڑا ہوا کیوں ہم جذبات میں آئے ؟

  اور پھر آخر میں کاروالے کو کیسے ہم نے راضی کیا کہ وہ ہمیں درگاہ تک چھوڑ آئے ۔۔  

 

اگلے روز ہم امام مسجد کے پاس چلے گئے کہ نماز سیکھیں لیکن ہم مطلب پوچھتے تھے کہ ثناء ۔ تعوذ کا مطلب کیا ہے ؟

 مولوی صاحب مطلب سمجھانے سے قاصر رہے ہمارا دل نہیں لگا اور 

 ہم درگاہ چلے آئے ۔۔ 

جہاں کچھ وقت سازندوں کے پاس بیٹھ کر لطف اندوز ہوئے اور پھر بی بی صاحبہ کے پاس گھر چلے گئے جہاں کچھ سائل خواتین بی بی صاحبہ کے پاس موجود تھیں ۔

ہم نے سب کے سامنے ہی پوچھ لیا کہ بی بی صاحبہ یہ مولوی صاحب ہمیں نماز کے بجائے ثناء پڑھاتے ہیں مطلب بتاتے نہیں  

ثناء کیا ہے ؟

وہاں موجود کچھ خواتین خاموش جبکہ کچھ ہنسنے لگی بی بی صاحبہ نے ہمیں کمرے میں جانے کو کہا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ 

 

اس رات ہمیں ہمیں بی بی صاحبہ نے جگایا اس طرح جاگنا ہمارے معمول کے خلاف تھا ۔ 

گھر میں سناٹا اور خاموشی تھی ہم حیران بھی

 تھے اور پریشان بھی 

بی بی صاحبہ نے کہا اب تم بڑے ہوگئے ہو  

آؤ تمہیں وہ سبق سکھائیں جس کی تمہیں 

   اب بہت ضرورت ہے 

اور ہمیں ساتھ لاکر

             بی بی صاحبہ نے ہمارا منہ ہاتھ دھلوایا اور اپنے ساتھ صحن میں بنے چھوٹے چبوترے پر لگے ہوئے بستر نما گدے پر بٹھا لیا ۔۔ 

 پوچھا کیسا لگ رہا ہے ہر طرف خاموشی اور اندھیرے کا منظر ڈر تو نہیں لگ رہا ؟

ہم نے کہا آپ کے ہوتے ہوئے کیسا خوف ؟ 

 

بی بی صاحبہ نے کہا ہوا کھاؤ گے ؟

یہ بڑی دلچسپ بات تھی ہمارے لیے کہ ہوا بھی کھائی جاسکتی ہے ۔

بی بی صاحبہ نے ہمیں بتایا کہ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے جسم کو غذا کی ضرورت ہے ہوا کی بھی ضرورت ہے اس کے لیے تازہ صحتمند ہوا کھانا چاہیے اس سے سکون ملےگا  

اور پھر انہوں ہمیں ہوا کھانے کی ترکیب کچھ یوں بتائی کہ سانس اندر کی جانب لے جاکر کچھ لمحہ روک کر پھر منہ کی طرف سے آہستہ آہستہ باہر نکال دینا ۔۔ 

بی بی صاحبہ نے یہ عمل جب ہم سے پانچ بار کروایا تو ہمیں اپنے اندر ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہوئی ہمارا دل چاہ بس ایسے سناٹا ہی رہے کتنا پرلطف لمحہ ہے ۔۔

بی بی صاحبہ نے کہا اس طرح تمہیں یکسوئی ملے گی تمہارے اندر حوصلہ پیدا ہوگا 

تمہاری خوداعتمادی بڑھے گی تحمل مزاج بن جاؤ گے اپنے دل کی دھڑکنوں کو سنو اور ان پر قابو کرو خود پر بادشاہی کرنے کا فن عطا ہوگا ۔۔  

کچھ دیر بعد فجر کی اذان ہونے لگی

 بی بی صاحبہ نے نماز کی ادائیگی کے متعلق بتایا اپنے خالق کی تعریف کرنا اس سے معافی مانگنا اس کے عطا کردہ انعامات کا شکر ادا کرنا اور اپنے دل و دماغ کو جو تمہارے جسم کا سب سے طاقتور حصہ ہے 

خالق کے سامنے جھکا دینا ۔۔  

بی بی صاحبہ کی یہ باتیں آدھی سمجھ آرہی تھیں اور کچھ سر سے گزر رہی تھیں  

لیکن اچھا محسوس ہورہاتھا تازہ ہوا کھانے کے سبب ایک اطمنان سا آرہا تھا 

  رات کو پہلے کبھی یوں جاگے نا تھے

شاید اسی کا اثر تھا کہ ہم کب دوبارہ سوگئے نہیں معلوم ۔۔ 

آنکھ کھلی تو خود کو اپنے بستر پر پایا 

دن کافی چڑھ آیا تھا ۔۔ 

دوبارہ سے اٹھ کر منہ ہاتھ دھویا بی بی صاحبہ کی خادمہ نے ناشتہ کروایا کچھ وقت گزاری کو درگاہ جانے کو جی چاہ  

سانس بار بار روک کر ہم خود چیک کرتے رہے کہ ہم میں حوصلہ آتاہے کہ نہیں ۔۔ 

ہم درگاہ کی طرف جارہے تھے تب راستے میں کریانہ کی ایک دکان جہاں سے ہم بسکٹ لینے کے لیے چلے گئے وہاں ایک طرف لکڑی کے بینچ پر بیٹھے تین افراد ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر خوش ہورہے تھے اور  

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو نازیبا الفاظ میں بہت کچھ کہے جارہے تھے ۔ 

ہم نے دکاندار سے جوکہ جانتا تھا کہ ہم بی بی صاحبہ کے ہاں سے ہیں

  اس سے پوچھ لیا کہ چاچا یہ کیوں اس طرح خوش ہورہے ہیں تو دکاندار چچا نے کہا کہ رات سری لنکا نے ہندوستان کو رولا دیا ۔

ہار گئے سورمے سیمی فائنل اور رو پڑے ۔۔ 

صبح کی ہوئی مشق کا اثر تھا شاید کہ ہم نے بڑے تحمل سے پوچھا چچا اس میں یوں خوش ہونے والی کیا بات ہے ؟

اس سے آپ کا یا پھر ان کا کیا فائدہ ؟ 

دکاندار چچا نے کہا کہ فائدہ تو کوئی نہیں بس خوشی ہے چھوٹے سرکار ۔۔  

اب ہم نے وہاں سے روانگی میں ہی عافیت جانی کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ چند دن پہلے ہمارے ہاتھوں ایسا جنونی زخمی ہوچکا ہے ۔۔ 

ہمیں بہت خوشی محسوس ہورہی تھی کہ ہم بحث کا حصہ نہیں بنے برداشت کرگئے ہیں ۔ 

درگاہ پر پہنچے تو کچھ وقت سازندوں کے پاس بیٹھے رہے جہاں انہوں نے آج ہمارے آنے پر  

میرا پیا گھر آیا کلام سنایا ۔ 

ہمارا اب یہ معمول تھا کہ دن بھر درگاہ پہ بڑے سرکار کے پاس آنے والے سائلین کی باتیں سننا بڑے سرکار کے لکھے ہوئے تعویز دیکھتے رہنا کسی وقت امام مسجد کے پاس جانا اور نماز کے متعلق جانکاری لینا ۔۔ 

سکون مگر سانس روک کر کی جانے والی مشق سے ملتا تھا ۔ 

بی بی صاحبہ ہر رات ہی ہمیں جگاتیں اور اس مشق کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نماز میں یکسوئی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کا درس دیتیں کہ جب تک نہیں پتہ چلتا کہ ترجمہ کیا ہے اپنی مادری زبان میں ہی رب کو پکارتے رہو ۔۔ 

اپنی زبان میں ہی اس سے خیر مانگتے رہو 

وہ تمہاری زبان سمجھتا ہے سنتا ہے ۔ 

ہم نے بی بی صاحبہ سے اپنے دادا کی طرح حکیم بننے کی خواہش کا ذکر بھی کیا تو 

انہوں نے کہا سب سے بڑا حکیم رب آپ ہی ہے 

تم اس سے ہی کہو وہ ہر کام کرنے پر قادر ہے کوئی راستہ بھی مہیا کرے گا کہ 

تم ایک اچھے طبیب بن جاؤ گے ۔ 

تمہاری آنکھیں ہی ایسی ہیں کہ کئیوں کو شفا ملے گی ۔ 

ہماری آنکھوں میں ایسا کیا ہے ؟

آج پھر اپنی آنکھوں کی تعریف سن کر یہ جاننے کو دل چاہ ۔۔ 

بی بی صاحبہ نے کہا تمہاری آنکھوں میں ایک شفاف جہاں ہے بہت پیاری ہیں تمہاری آنکھیں ۔۔ 

 

 ورلڈ کپ 1996 ختم ہوچکا تھا  

سری لنکا کی ٹیم فاتح قرار پائی

  بے نظیربھٹو کے ہاتھوں رانا ٹونگا کو ٹرافی لیتے ہوئے تصویر ہم چچا دکاندار کے پاس اخبار میں دیکھ چکے تھے ۔۔ ۔  

ہر کوئی جے سوریا ۔ ڈی سلوا ۔ راناٹونگا ۔ کے گیت گارہا تھا ۔ ایک بندے نے کہا سری لنکا کے پاس

  ماہنامہ ( روشن ماہنامہ ) جو ہے تبھی وہ ورلڈکپ جیت گئے ۔ 

ہمارے پاس روزنامہ بھی نہیں تبھی ہم ورلڈکپ ہارگئے ۔

  چند دنوں بعد ہی سنگاپور میں ہونے والے سنگر کپ کے فائنل میں ثقلین مشتاق کا طلسم چل گیا اور ڈرامائی انداز میں کرکٹ کی ورلڈ چمپیئن ناقابلِ شکست چلی آرہی سری لنکن ٹیم کی پاکستان کرکٹ ٹیم سے شکست پر دکاندار چچا سمیت سبھی افراد بہت خوش و خرم نظر آرہے تھے  

یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ہجر کے ماروں کو شبِ وصل کی مسرت مل گئی ہو ۔۔۔۔ 

ہمارا دل چاہ کہ ان سے پوچھیں کہ اس کھیل میں ایسی کیا شے ہے کہ خوشی اور غم کا اس قدر پرجوش مظاہرہ ۔ 

 

ایسے کون سے مسائل ہیں جو حل ہوگئے ہیں ؟ جن کا برسوں سے رونا بھی روتے آرہے ہو ۔۔ 

لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتے تھے کیونکہ ہمیں اب برداشت کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ آرہی تھی کہ لیلیٰ کا مجنوں قیس تو یونہی بدنام تھا 

اصل جنونی تو ہمارے ساتھ ہیں ۔۔ 

ہم سوچتے ہوئے بس آگے نکل آئے اور درگاہ پر پہنچ گئے کچھ دیر سازندوں کے پاس رکے اور پھر بڑے سرکار کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ہمارے نانا صاحب ۔ ہمارے والد اور ماموں کو ساتھ لیے حاضر ہوئے  

ہمیں باربار گلے مل رہے تھے نا جانے کیوں آج اتنا پیار جتلایا جا رہا ہے ہم سمجھ نہیں پائے تھے ۔۔ 

 

کچھ دیر بعد ناناصاحب نے بڑے سرکار کو بتایا کہ   

جس آدمی سے جھگڑا ہوا تھا اور وہ زخمی ہوکر ہسپتال میں چلا گیا تھا 

وہ کل رات اللہ کے حضور حاضر ہوگیا ہے  

پنچائیت کے کہے مطابق علاج معالجہ کا خرچ کہتے تھے

  مگر اب معاملہ بگڑ گیا ہے 

تھانے چلے گئے ہیں وہ لوگ ۔ 

تھانیدار نے کہا ہے وہ لڑکا پیش کیا جائے پرچہ درج ہوگیا ہے ۔ 

محلے کے کچھ معتبر افراد کی وجہ سے مہلت ملی ہے ۔۔  

پیر جی کچھ کیجیے اب آپ ۔۔  

بڑے سرکار نے ہمارے نانا صاحب کو کچھ حوصلہ تسلی دی  

اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اس دن بڑے سرکار نے جب اس کی صحت یابی کے لیے دعا کر دی تھی تو پھر وہ کیوں فوت ہوگیا ؟ 

 

فوت ہونا ہی تھا تو چلو آج ہو جاتا  

 سنگرکپ میں اپنی پسندیدہ ٹیم کے جیتنے 

  کی خوشی ہی ساتھ لے جاتا ۔ 

 

ہم تھانے پیش ہوئے کہ نہیں ؟ 

کیا ہوا تھانے میں ؟ 

بڑےسرکار اور بی بی صاحبہ کیا کردار ادا کرتے ہیں ؟ کیسے اور کیوں ہم آج لکھ رہے ہیں؟

        

  جانیے گا اگلی قسط میں ۔ 

آپکی محبتوں کا طلب گار 

شبیرعلوی

Comments




POST A COMMENT