قتیل شفائی:گیت نگاری کا شہزادہ

2020-05-09 16:03:33 Written by Aitzaz Saleem Wasli

views:398

 

 

الفت کی نئی منزل

 

پاکستان فلم انڈسٹری کے ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو ایک بات دکھائی دے گی،وہ یہ کہ سپرہٹ فلمیں دینے والی اس انڈسٹری نے اس وقت کی ضرورت کے عین مطابق کمال کے گانے اور غزلیں ریکارڈ کیں۔اس دور کے شاعر اور نغمہ نگاروں نے جہاں آنے والی کئی صدیوں تک اپنے لکھے گیتوں سے مداحوں کے دلوں پر راج کیا وہیں چند ایسے نام بھی گزرے ہیں جو آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔اس کا نام بھی انہی ناموں میں شامل ہے اور رہے گا۔

یہ1956 کا زمانہ ہے۔انورکمال پاشا کی فلموں کا زمانہ،ان کی فلموں میں گیت لکھنے والوں کی ایک لمبی قطار ہے مگر ان کے نزدیک صرف تین لوگ ہی اہمیت کے حامل ہیں۔تنویر نقوی،سیف الدین سیف اور وہ۔۔یہ تینوں شاعر جہاں ایک دوسرے کے بہترین دوست ہیں وہیں ان کا ایک دوسرے سے مقابلہ بھی ہے۔تینوں میں سے کوئی ایک بھی اچھا گانا لکھ دیتا تو باقی دو جب تک اس کے مقابلے کی شہرت حاصل نہ کر لیتے،انہیں چین نہ پڑتا۔انور کمال پاشا کیلئے یہی مقابلہ بازی ہی کامیابی کی کنجی تھی۔اس کے پاس بہترین چیز ہی منتخب ہو کر آتی۔اسی زمانے میں ان کی فلم ’گمنام‘کا گانا سیف الدین سیف نے لکھا اور اس کی گونج پورے ملک میں سنائی دی۔یہ گانا شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔اقبال بانو نے اپنی آواز میں اس گانے کو کیا خوب نبھایا۔یہ گانا تھا۔

                              پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

سیف صاحب کے اس گانے نے جہاں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے وہیں ان کے ساتھی دو شعرا کیلئے مشکل کھڑی کردی۔خاص کر وہ اب پریشان تھا اور اس گانے کے ریکارڈ کو توڑنا چاہتا تھا۔اگلی فلم کیلئے انور کمال پاشا نے ایک سین بیان کرکے اسے گانا لکھنے کی فرمائش کی۔اس کے پاس’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘کا ریکارڈ توڑنے کیلئے یہ سنہری موقع تھا۔اس نے بھی ایک گانا لکھا اور انور کمال کے سامنے رکھ دیا۔گانے کی شاعری پڑھ کر انور کمال خاموش ہو گئے۔ان کی خاموشی کا مطلب تھا کہ وہ بول انہیں پسند نہیں آئے۔انور کمال نے یہی گانا اپنے والد کو سنایاجنہوں نے اس پر سخت تنقید کی کیونکہ یہ روایت سے ہٹ کر تھا۔اس شاعر کا دل جیسے ٹوٹ گیا ہو۔انور کمال نے ایک بار پھر سیف الدین سیف سے رابطہ کیا اور اس منظر کیلئے گانے کی فرمائش کردی۔سیف الدین سیف نے اس منظر کیلئے گانا لکھ کردیا جس کے بول تھے۔۔

                         نہ جا اب چھوڑ کے بسمل ٹھہر جا

                       میں زندہ ہوں مرے قاتل ٹھہرجا

گانے کے یہ بول پڑھ کر انور کمال نے اس شاعر کا لکھا گیا گانا سیف الدین کے سامنے رکھا۔سیف صاحب نے اپنے اور اس کے گانے کا موازنہ کیا اور پھر گہری سانس لے کر بولے۔

’’سچ تو یہ ہے کہ اس کا لکھا گیا گانا مجھ سے کہیں بہتر ہے اس لئے اس کے گانے کو مسترد کرنا ناانصافی ہو گی‘‘انور کمال کیلئے یہ الجھن کا حل تھا۔سیف صاحب کی تعریف کے بعد وہ بھاگ کر پھر شاعر کے پاس گئے۔۔اور اس سے پوچھا۔

’’وہ گانا کدھر ہے؟‘‘

’’میں نے بیچ دیا۔۔ایک ہزار روپے میں‘‘شاعر نے سرد لہجے میں جواب دیا۔

’’میرے ساتھ ڈرامے نہ کرو۔۔یہ لو چیک‘‘انور کمال نے ایک ہزار روپے کا چیک اسے دیا اور کہا۔’’چلو اب گانا دو مجھے‘‘یہ معاوضہ پہلے کی نسبت زیادہ تھا۔اس نے خاموشی سے اپنا گانا انور کمال کو دے دیا۔اس بار بھی گلوکارہ اقبال بانو تھیں اور گانا تھا۔

                        الفت کی نئی منزل کو چلا،تو ڈال کے بانہیں بانہوں میں۔۔۔۔

                       دل توڑنے والے دیکھ کے چل،ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

اس گانے کے بعد لوگ سیف الدین سیف کے گانے کو بھول گئے۔مقبولیت کے وہ سارے ریکارڈ جو پائل کی چھم چھم سے نکلے تھے،الفت کی نئی منزلوں میں کھو گئے۔لوگوں کی زبانوں پر یہ گانا تھا اور اس شاعر کا نام۔۔قتیل شفائی

                                ٭٭٭

اورنگزیب خان

ہری پور،ہزارہ ایک خوبصورت علاقہ ہے جہاں ہر طرف ہریالی دکھائی دیتی ہے۔ایک عجیب سا مزاج ہے اس کی آب و ہوا کا۔تھوڑا شاعرانہ مزاج رکھنے والا ہر شخص یہاں سکون محسوس کرتا ہے۔اب ہری پور تحصیل ہے مگر ایک زمانے میں یہ ایک گاؤں تھا۔ہزارہ کے لوگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ہزارہ کو اس لئے ہزارہ پکارا جاتا ہے کیونکہ کسی زمانے میں یہاں ایک ہزار گاؤں آباد تھے۔انہی میں ایک ہری پور تھا۔ہریالی سے بھرپور ہری پور۔اسی زمانے میں یہاں آباد ایک خاندان جس کا تقریباً ہر شخص ان پڑھ مگر لکھ پتی تھا،کے ایک گھر میں وہ بچہ پیدا ہوا جس کا نام اورنگزیب خان رکھا گیا۔24دسمبر1919کو پیدا ہونے والے اورنگزیب کے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔پہلی بیوی سے تب تک کوئی اولاد نہ تھی۔دوسری بیوی سے پہلی اولاد اور وہ بھی بیٹا،اورنگزیب کی خوش قسمتی ہی کہا جائے گا۔یہ خوش قسمتی تھی جس نے اورنگزیب کے بچپن کو حسین بنا دیا۔اس کی ہرخواہش پوری کر دی جاتی،ہر خواب تعبیر پا جاتا۔ہر شوق کی تکمیل مل جاتی۔دولت تھی اور گھرانے کی عزت بھی۔اورنگزیب کی ایک سگی بہن اور ایک سوتیلا بھائی تھا ۔

ابتدائی تعلیم کیلئے ہری پور کا اسکول ہی چنا گیا۔اورنگزیب لاڈ پیار کے باوجود بگڑا نہ تھا۔اس کی ماں سادہ عورت تھی ،لاڈلے بیٹے کو سنبھال کر رکھا ۔اس لئے ہری پور کی آب و ہوا اسے شاعری کی طرف لے آئی۔ابتدا میں اسے موسیقی کا شوق تھا لیکن دو کشتیوں کا سوار ہونے کی بجائے اس نے شاعری کو چن لیا۔

وہ پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا جب بزم ادب کا سیکرٹری بن گیا۔اس کے والد کو اپنے بیٹے کی خوشیاں عزیز تھیں۔سیکرٹری بننے کی خوشی میں کئی لوگوں کو دعوت دے ڈالی۔اس کے ساتھ ہی بیٹے کو ادب کے میدان میں بڑھتا دیکھ کر شاعری اور دوسری کتابوں کا ڈھیر لگا دیا۔ایک عام ان پڑھ شخص کی طرح اورنگزیب کے والدکی سوچ بھی یہی تھی کہ ان کا بیٹا حاتم طائی ،عمروعیار اور اس طرح کے مشہور افسانوی کرداروں کو ہی پڑھے گا پھر گاؤں کا ماحول ہی ایسا تھا جس میں ادب پسند لوگ کم ہی تھے لیکن اورنگزیب کا جہاں اور تھا۔اس نے پانچویں کلاس کے بعد ہی شاعری شروع کر دی۔شاعری میں اتنی پختگی تھی کہ کوئی یقین نہ کرتا۔اکثر لوگ سمجھتے تھے اورنگزیب کسی اور سے شاعری لکھواتا ہے۔

چھٹی کلاس میں گورنمنٹ ہائی اسکول ہری پور میں مضمون نویسی اور شاعری کا ایک مقابلہ ہوا جس میں اپنی نظم پیش کرنے پر اورنگزیب کوانعام ملا۔ان دنوں اسکول کے ہیڈ ماسٹر خواجہ محمد اشرف تھے،وہ اورنگزیب کی اس کامیابی پر بہت خوش ہوئے لیکن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہ تھا کہ یہ شاعری اورنگزیب لکھتا ہے۔ان سب کا خیال تھا کہ وہ شاعری عنایت سے لکھواتا ہے جو اس کا دوست اور نویں جماعت کا طالب علم تھا۔خواجہ محمد اشرف نے اسے آزمانے کیلئے ایک مصرع دیا اور اس پر پوری غزل لکھنے کو کہا ۔اگلے دن آٹھ دس اشعار لکھ کر اورنگزیب نے انہیں پکڑا دئیے۔وہ غزل پڑھ کر حیران ہوئے۔

’’تم تو بہت اچھا لکھتے ہو‘‘اورنگزیب اس شاباش پرخوش تو ہوا مگر ابھی لوگوں کو یقین دلوانا باقی تھا۔عنایت سے جب بھی لوگ شاعری کے بارے میں پوچھتے وہ بجائے یقین دلوانے کے،خود پر شک اور بڑھا دیتا۔اس بات کا غصہ اورنگزیب کو بھی تھا۔ایک دن غصے میں آ کر اس نے ایک پوری نظم لکھ ڈالی جس میں عنایت کی اس دوغلی دوستی کی خوب بے عزتی کی۔ نتیجے میں لوگوں کو یقین ہو گیا کہ شاعری وہ خود ہی لکھتا ہے۔

اورنگزیب شروع سے نماز روزے کی پابندی کرنے والا لڑکا تھا۔اس کا مزاج اسے خود کو ایک مکمل شخص بنانے کی جستجو میں مصروف رکھتا تھالیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ہنسی خوشی گزرتی زندگی میں اچانک دکھ کے موڑ آ گئے۔

                                   ٭٭٭

نیکی

فلم انڈسٹری ایک سراب ہے اس میں حقیقی زندگی کی خوشیاں تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب قتیل شفائی کی شاعری پاکستان فلم انڈسٹری پر چھائی ہوئی تھی۔چند ایک فلموں کو چھوڑ کر تقریباً ہر فلم کے گانے انہی سے لکھوائے جاتے۔اس لئے فلم انڈسڑی میں ان کا نام تھا۔لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔انہی دنوں ایک عورت جو فلموں میں چھوٹے موٹے کردار نبھاتی تھی،کچھ دن ان کے آس پاس دکھائی دینے کے بعد اچانک غائب ہو گئی۔

چند دنوں بعد جب وہ واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی تھی۔اس نے قتیل شفائی کو علیحدہ ملنے پر آمادہ کیا اور انہیں ایک گھر میں آنے کی دعوت دی۔جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں ان کی خوب آؤ بھگت کی۔ظاہر ہے یہ سب کسی مطلب کیلئے تھا۔انہوں نے اس خدمت کی وجہ دریافت کی تو اس عورت نے عجیب لہجے میں کہا۔

’’یہ میری بیٹی ہے جو ابھی میٹرک میں پڑھ رہی ہے۔اس میں اچھی اداکارہ بننے کی صلاحیت ہے مگر میں جانتی ہوں فلم انڈسٹری میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو شرافت سے کسی نئے ٹیلنٹ کو جگہ دیں۔آپ اسے اپنی ذمہ داری پر فلم میں لے جائیں اور اپنا لیں‘‘یہ کھلی دعوت تھی۔قتیل چند لمحوں کیلئے ساکت رہ گئے۔ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی ایسی بات کر ے گا۔کچھ دیر بعد وہ بولے تو ان کی آواز میں ٹھہراؤ تھا اور لفظوں میں طاقت۔

’’سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ،تمہاری نظروں میں میں ایک عمدہ انسان ہوں گا مگر حقیت میں ،میں بھی مرد ہوں۔تم نے غلط بات اور غلط راہ پکڑی ہے بہتر ہے اسے پڑھاؤ ایک دو سال بعد اس کی شادی کر دینا‘‘اس انکار نے چند لمحوں کیلئے عورت کو حیران کردیا۔قتیل یہی کہہ کر چل پڑے۔اس کے بعد چار پانچ سال تک وہ عورت دکھائی دی نہ اس کی بیٹی۔

ان دنوں قتیل کراچی میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں آئے تھے۔ایک سفر کے دوران جب وہ ٹیکسی سے نیچے اترے تو ایک گاڑی پاس سے گزر ی۔کچھ دور آگے جا کر گاڑی رک گئی اور اس میں سے وہی عورت نیچے اتر کر بھاگتی ہوئی قتیل کی طرف آئی۔اس نے گرمجوشی سے ان سے ہاتھ ملایا۔

’’آپ یہاں کیسے؟‘‘

’’ایک مشاعرے کے سلسلے میں آیا ہوں‘‘قتیل نے بتایا۔

’’آپ میرے گھر ضرور آئیے گا‘‘اس نے ایڈریس لکھوا کر بڑے مان سے انہیں دعوت دی جس کا وہ انکار نہ کر سکے۔مقررہ وقت پر جب وہ ان کے گھر پہنچے تو اس نے انہیں ساتھ لیا اور اپنی بیٹی کے گھر لے کر چلی گئی۔یہاں ایک بار پھر ان کی خوب خدمت کی گئی۔عورت نے قتیل کے پیروں پر سر رکھ کر کہا۔

’’اگر اس دن آپ مجھے نہ روکتے تو شاید اب تک میرا اور میری بیٹی کا مستقبل تباہ ہو چکا ہوتا،میں نے اسے پڑھا کر اس کی شادی کر دی ،اب اس کا شوہر اچھا ہے اور اپنا کام کرتا ہے۔اپنے گھر میں خوش ہے یہ‘‘خودغرض دنیا میں کی جانے والی یہ نیکی قتیل کو برسوں یاد رہی۔

                               ٭٭٭

مشکلات

اورنگزیب بس سولہ سال کا تھا جب 1935 میں اس کے والد کاسایہ اس کے سر سے اٹھ گیا۔باپ کے ہوتے ہوئے جو آسانیاں تھیں وہ پل بھر میں غائب ہو گئیں۔نتیجے میں میچور ہونے کا سفر اسے جلد طے کرنا پڑا۔وہ دن جب حقیقت میں اس کے ہنسنے کھیلنے کے دن تھے،اس کے کندھوں پر بوجھ لاد دئیے گئے۔۔گھر کی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ۔

خاندان میں زیادہ تر تعداد ان پڑھوں کی تھی۔اورنگزیب کی ماں ایک سادہ عورت تھی۔کسی نے مشورہ دیا۔’’پڑھائی میں کیا رکھا ہے،کاروبار کروا دو۔۔بیٹھ کر کھائے گا ساتھ میں خاندان کو بھی کھلائے گا‘‘یہ اورنگزیب کیلئے پہلا جھٹکا تھا۔اسکول ا س سے چھوٹ گیا۔ایک کھیلوں کے سامان کی دکان بنا کر دے دی گئی۔ایک سولہ سال کا لڑکا جس نے پیسے خرچ کرنا سیکھا تھا۔۔کمانا نہیں،کاروبار کیسے کر پاتا؟

نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا۔پہلی ناکامی اورنگزیب کا مقدر بن گئی اور کھیلوں کا سامان کوڑیوں کے بھاؤ بک گیا۔اس کے بعد کسی پہلے جیسے’سیانے‘کے مشورے سے سائیکلوں کی دکان بنا کر دے دی گئی جس کا انجام بھی کھیلوں کے سامان کی طرح ہوا۔اورنگزیب اب کاروبار سے مایوس ہونا شروع ہو گیا تھا۔ایبٹ آباد میں اسے بزازی کی دکان بنا دی گئی جو صرف تیرہ دن چلی۔

اس دوران اورنگزیب کی شادی کر دی گئی۔اب ذمہ داری بڑھ چکی تھی۔یہ باپ کی کمائی گئی دولت تھی جو اب تک گھر چلا رہی تھی یا پھر کاروبار کرنے میں مدد دے رہی تھی۔۔ناکام کاروبار۔ناکامیوں سے تنگ آ کر اورنگزیب نے نوکری کرلی۔میونسپلٹی میں محرر بھرتی ہوکر اورنگزیب نے زندگی کی پہلی ملازمت کی۔یہ نوکری ٹھیک چل رہی تھی۔کاروبار میں ناکامی کے بعد اورنگزیب کو یہ نوکری راس آ گئی مگر اس کا مزاج افسران کو ہرگز راس نہ آیا۔اس کی خوش لباسی اور شاعری میں شہرت،دفتر میں اس کی عزت ایک ایسے ہی مغرور ایڈمنسٹریٹر کو حسد میں مبتلا کر گئی جس کے نتیجے میں اس نے اورنگزیب سمیت اس کے تین ساتھیوں پر غبن کا مقدمہ بنا کر انہیں حوالات میں بند کروا دیا مگر اورنگزیب جیسے نوجوان کو ہرانے کیلئے یہ طریقے فضول تھے۔غبن کے کیس سے وہ باعزت بری ہو گیا اور اس نے ایڈمنسٹریٹر کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرنا شروع کردی۔اس کی طاقت تھی قلم جس سے اس نے اخباری سطح پر اس ایڈمنسٹریٹر کے خلاف خوب لکھا۔ایڈمنسٹریٹر ڈر گیا۔اس نے اورنگزیب کو بلایا اورکافی خوشامد کی۔رسمی کلمات کے بعد اس سے پوچھا۔

’’کیسے ہو تم؟کچھ موٹے ہو گئے ہو؟‘‘

’’الحمدللہ ٹھیک ہوں جیل میں بھی کھانا گھر سے جاتا تھا،کام کاج تھا نہیں،اس لئے موٹا ہو گیا ادھر‘‘اس نے طنزیہ انداز میں جواب دیا۔

’’چلو اب یہ قصہ ختم کرتے ہیں،یہ لو‘‘ایڈمنسٹریٹر نے دراز سے پرمٹ نکالا۔اس زمانے میں ان پرمٹ پر تیل اور چینی مفت ملتی تھی۔’’یہ پرمٹ لو،گھر میں ضرورت ہو گی تیل چینی کی‘‘اورنگزیب نے چپ چاپ وہ رکھ لیا اور واپس آ کر اخبارات میں اس پرمٹ کی کاپیاں بنا کر بھیج دیں اور لکھا۔

’’ایک ایڈمنسٹریٹر جو جعلی کیس بنا کر پہلے خود ملازمین کو پھنساتا ہے اور احتجاج کرنے پر رشوت پیش کرتا ہے‘‘ایڈمنسٹریٹر کی خوب بے عزتی ہوئی اور اس کا ٹرانسفر کہیں اور کردیا گیا۔ملازمت بحال ہو جانے کے باوجود اورنگزیب کا وہاں دل نہ لگا ۔اسے وہ لوگ ذہنی غلام لگتے تھے۔اس نے ملازمت کو خیرآباد کہا اور ہری پورسے راولپنڈی چلا آیا۔

                               ٭٭٭

قتیل شفائی

ماں باپ کے لاڈلے اورنگزیب پر اب بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ تھا۔خاندان کیلئے روزی روٹی کمانا اب اس کیلئے پہلی ترجیح تھی۔راولپنڈی میں اس کے والد کا بنایا گیا ایک مکان تھا جہاں اس کی پھوپھو اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی،وہ وہاں آ کر رہائش پذیر ہو گیااور ٹرانسپورٹ کمپنی میں بطور بکنگ کلرک نوکری کرلی۔یوں روزی کا بندوبست ہو گیا اور اورنگزیب کو اپنے شوق کو پورا کرنے کا وقت بھی مل گیا۔اورنگزیب کی شاعری کی صیحح اصلاح راولپنڈی میں ہوئی۔پنڈی کا ماحول تب شاعرانہ تھا۔تقسیم سے پہلے کے اس زمانے میں ادب سے لگاؤ رکھنے والے کافی لوگ اس شہر میں جمع تھے۔یہیں اورنگزیب کی ملاقات حکیم محمد یحییٰ شفا صاحب سے ہوئی۔اس سے پہلے وہ اپنی شاعری میں زیب کا تخلص استعمال کرتا تھا مگر حکیم صاحب کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد اس نے اپنا ادبی نام تبدیل کر لیا۔

ہری پور میں امام باڑا تھا جہاں شیعہ حضرات کی محفلوں میں شرکت کی وجہ سے اورنگزیب کو لفظ ’قتیل‘بہت پسند تھا اور شفا صاحب کی شاگردی کے بعد اس نے ساتھ میں شفائی ملا کر پورا نام قتیل شفائی رکھ لیا جو اس کی پہچان بن گیا۔

راولپنڈی میں وہ پھوپھی کے گھر ادب پسند دوستوں کوبلاتا اور خود بھی تھوڑا وقت مشاعروں کو دیتا تھا۔آج کل آسائش پسند لوگوں کیلئے قتیل شفائی نے عمدہ مثال قائم کی۔وہ صرف چند گھنٹے سو کر باقی سارا وقت شاعری اور نوکری کو دیتا۔یوں اس کا نام بنتا چلا گیا۔انہی دنوں ایک مشاعرے میں انہوں نے ایک شعر پڑھا۔

                       گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

                       کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے

یہ شعر اتنا مشہور ہوا کہ اس نے نام قتیل شفائی مشہور کر دیا۔یہ شروعات تھیں اور سیڑھی پر رکھا گیا پہلا قدم تھا۔راولپنڈی سے مری تبادلہ ہونے کے بعد قتیل شفائی کی شاعرانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا۔مری میں قیام کے دوران بھی ان کی ملاقات کئی بڑے شاعروں سے ہوئی۔ مری ،راولپنڈی ٹرانسپورٹ میں قتیل شفائی نے کافی عرصہ کام کیا۔ان دنوں تقسیم کی آندھی نے ہر چیز کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ مشکلات کا شکار تھے۔قتیل مسلم لیگ کا حامی تھا ،اس نے آزادی کے سلسلے میں اپنی شاعری لکھی اور اپنے مخصوص ترنم میں کئی جلسوں میں سنائی بھی۔۔

ان دنوں وہ ایک عجیب مشکل کا شکار تھا۔اس کی پہلی دونوں اولادیں نامعلوم بیماری کی وجہ سے موت کا لقمہ بن گئیں۔ایک بیٹی اور بیٹے کے مر جانے کے بعد اولاد کی تڑپ اسے تڑپانے لگی۔۔اللہ نے ایک بار پھر کرم کیا اور اسے ایک بیٹا عطا کیا جس کا نام پرویز رکھا۔پرویز کے بعد مسرت،ثمینہ اور ان کے بعد تنویر اور نوید۔۔یوں ان کے کل سات بچے پیدا ہوئے جس میں سے دو وفات پا گئے۔۔

1946میں وہ راولپنڈی سے لاہور آ گیا جہاں ادب لطیف میں اسے ملازمت مل گئی۔وہ خوش تھا کہ یہ نوکری اس کے شوق اور طبیعت کے مطابق تھی۔۔لیکن یہ جان کر اسے دھچکا لگا کہ وہاں کے مالک چودھری نذیر صاحب نے ان کی تنخواہ صرف چوہتر روپے رکھی تھی جبکہ ٹرانسپورٹ کمپنی میں ان کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپے تھی۔اس نے اسسٹنٹ ایڈیٹر کی یہ نوکری چھوڑی اور واپس راولپنڈی چلا گیا۔

                                   ٭٭٭

ناکام محبت

یہ بات تو طے تھی کہ کم عمری کی شادی کے باوجود قتیل شفائی کا جو عجب مزاج تھا ،وہ کبھی قابو میں نہیں رہا۔وہ فطرتاً شاعر تھے اور شاعروں کے بارے میں کافی حد تک درست کہا جاتا ہے کہ شاعر محبت کرتے ہیں،شادی نہیں۔۔بہرحال۔۔یہ ان کے عروج کا زمانہ تھا۔پاکستان میں ریلیز ہونے والی ہر فلم میں ان کا گانا ضرور شامل ہوتا اور ایک وقت تو ایسا بھی تھا کہ عید پر ریلیز ہونے والی چار فلموں میں سے تین کے گانے قتیل صاحب کے لکھے ہوئے تھے۔’الفت کی نئی منزل کو چلا‘ کو اقبال بانو کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔وہ ان دنوں ملتان میں ہوتی تھیں اور لاہور آنے سے کتراتی تھیں کیونکہ وہاں ان کا چلا چلایا کام تھا جہاں سے روز آمدنی ہو جاتی جبکہ لاہور فلموں میں کبھی کبھی کام ملتا تھا۔انہی دنوں دو فلمیں مقابلے میں بننا شروع ہوئیں۔ایک ’عشق لیلیٰ ‘ جبکہ دوسری ’لیلیٰ مجنوں‘۔لیلیٰ مجنوں انور کمال پاشا کی فلم تھی جس میں چھ گانے تھے جو تین چار نغمہ نگاروں نے لکھنے تھے جبکہ عشق لیلیٰ جگدیش آنند کی فلم تھی جس کے چودہ گانے تھے اور یہ سب قتیل شفائی نے لکھنے تھے۔انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور چودہ گانے لکھے۔

ان کی ایک پرانی غزل’پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جاؤ‘ کو بھی اس فلم میں شامل کیا گیا۔قتیل شفائی کے مشورے سے اس غزل کیلئے بھی اقبال بانو کو منتخب کیا گیا۔شہزاد احمد شہزاد اقبال بانو کے قریب تھے۔قتیل شفائی نے ان سے بات کی۔

’’میری ایک غزل کیلئے اقبال بانو کی آواز منتخب کی گئی ہے ،اگر آپ لا سکیں تو؟‘‘

’’ملتان کا چکر لگے گا‘‘وہ تیار ہو گئے۔یوں وہ دونوں ملتان پہنچے اور اقبال بانو کو تیار کیا۔اقبال بانو لاہور آئیں اور یہ غزل گائی تو ایک بار پھر قتیل کی شاعری اور ان کی آواز کا جادو چل گیا ۔۔بات صرف گانوں تک محدود نہ رہی ،اقبال بانو کو قتیل شفائی میں دلچسپی تھی،اس بات کا اندازہ انہیں اقبال بانو کے خط سے ہوا جو ملتان سے لکھا گیا تھا۔اب وہ لاہور میں سیٹل ہونا چاہتی تھیں۔قتیل نے ان کی مدد کی اور وہ لاہور آ گئیں۔یہاں قتیل کو بھی احساس ہوا کہ اقبال بانو کی محبت کی شدت ان کیلئے بڑھتی جا رہی ہے۔یہ جنون بڑھ کر دیوانگی کی شکل اختیار کررہا تھا۔۔اقبال بانو ان کے حسن اخلاق اور شاعری سے متاثر تھیں۔قتیل نہیں چاہتا تھا کہ بیگم سکینہ کے ساتھ ان کی ازدواجی زندگی جو پہلے بھی کچھ متاثر تھی ،مزید خراب ہو لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔۔

اقبال بانو ملتان کو بھول چکی تھیں ۔۔اب قتیل کی لکھی غزلیں تھیں اور ان کی آواز۔عورت کی محبت مرد کی توجہ حاصل کر لیتی ہے۔قتیل کے قدم بھی بہک گئے۔۔یہ فلمی دنیا کا ایک یاد گار افیئر تھا جس میں قسموں وعدوں سے لے کر جذبات ۔۔سب کچھ بہہ گئے۔اقبال بانو اور قتیل کی یہ محبت چار سال رہی۔قتیل عشق اور محبت میں حد سے بڑھ گئے۔ نتیجے میں ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہوئی اور بری طرح ہوئی۔یہی وقت تھا جب عشق کا نشہ رفتہ رفتہ اترنے لگا۔۔اور ایک شام مشترکہ دوست کے کہنے پر جب قتیل اور اقبال بانو نکاح کیلئے کوٹھی پر گئے،وہاں معمولی سی بات کا مسئلہ بنا کر آپس میں لڑ پڑے۔۔یہ ساتھ ختم ہو گیا۔۔محبت کی چوٹ تھی،سہنی تو پڑنی تھی لیکن یہ قربانی اپنی بیوی اور تین بچوں کو بچانے کیلئے ضروری تھی۔ ان کی ساکھ اس اسکینڈل کے بعد شدید متاثر ہوئی،بیوی جو پہلے ان پر شک کرتی تھیں،اب اس سے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔نتیجے میں قتیل کی پوری توجہ ایک بار پھر اپنی پناہ گاہ یعنی شاعری کی طرف لوٹ گئی۔اب ان کی شاعری میں جوانی کا شوق۔۔حسن کی تعریف کی بجائے ایک درد تھا۔قتیل کہتے ہیں۔

’’شاید اقبال بانو بھی میری شاعری میں موجود زندہ کرداروں میں سے ایک کردار تھی کیو نکہ میں نے کبھی روایتی شاعری نہیں کی جو حقیقت میں دیکھا ،وہی لکھا‘‘اور کہتے ہیں جس کی محبت ناکام ہوتی ہے اس پر کامیابیاں مہربان ہوتی ہیں،اس جملے میں کتنی صداقت ہے یہ تو خدا جانے لیکن حقیقت میں ٹوٹے دل سے کی گئی ان کی شاعری نے لوگوں کودیوانہ بنا دیا ۔

                            کسی کے عشق میں ہم جان سے گئے لیکن

                               ہمارے نام سے رسم وفا چلی تو ہے۔۔

                                   ٭٭٭

گیت نگاری

لاہور میں اپنی پسندیدہ ملازمت کی کم تنخواہ کا دکھ تھا لیکن قتیل کو خدا نے ایک ایسا دماغ دیا تھا جو ہر مشکل میں اسے خودبخود تحریک دیتا تھا۔۔آگے بڑھنے کی،کچھ نیا کرنے کی۔۔راولپنڈی میں ہونے والے ایک مشاعرے میں اس کی ملاقات محبوب اخترسے ہوئی۔چونکہ قتیل شاعری میں اپنا نام پیدا کر چکا تھا اور اس کا ایک دیوان بھی مارکیٹ میں آچکا تھا،سو محبوب اختر اس سے واقف تھے۔وہ فلم لائن کے بندے تھے اور ممبئی میں خیالستان پروڈکشن بنانا چاہتے تھے۔تب تقسیم کی ہوا نے ابھی آندھی کی شکل اختیار نہیں کی تھی اس لئے انہوں نے قتیل کو پہلی بار بطور نغمہ نگار چنا۔قتیل بہت خوش ہوا اور اس کے ٹوٹے خواب دوبارہ جڑنے لگے۔یہاں اس کی تنخواہ پانچ سو روپے رکھی گئی جو یقینا اس زمانے میں ایک بڑی رقم تھی۔یہ فلم ادھورے خواب کے نام سے بنائی جانی تھی اور اس میں دلیپ کمار اور نرگس کو لیڈ رول دیا جانا تھالیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔1947شروع ہوتے ہی ہندومسلم فساد نے اس فلم سمیت ہر چیز کو لپیٹ میں لے لیا۔فلم ادھورے خواب،ادھورا خواب ہی بن گئی۔اس بات کا سب سے زیادہ دکھ قتیل کو تھا کیونکہ اس کا گانا بھی ریکارڈ ہو چکا تھا۔اس فلم کی شوٹنگ دو تین بار منسوخ ہونے کے بعد کاسٹ بدل کر بھی کی گئی لیکن حالات نے اجازت نہ دی۔البتہ قتیل کے لکھے گئے گانے نے کئی ہدایت کاروں کی توجہ حاصل کی۔

فلمی میدان میں بطور گیت نگار اس کی پہلی فلم مکمل نہ ہو سکی لیکن جگن ناتھ آزاد کے کہنے پر اس نے اپنی ایک غزل ریڈیو پر پڑھنے کی حامی بھری۔جب وقت آیا تو اس نے غزل جگن ناتھ کو دکھائی جنہوں نے پہلا شعر ہی پڑھ کر منہ بنا کر کہا۔

’’یہ کمزور ہے کچھ اور لکھو‘‘اس پر قتیل ضد میں آگیا اور اپنی غزل کی بے عزتی برداشت نہ کی ۔اس نے ریڈیو پر وہی غزل جا کر پڑھ دی۔اس کا پہلا شعر تھا۔۔

                               تمہاری انجمن سے اٹھ کردیوانے کہاں جاتے

                                جو وابستہ ہوئے تم سے افسانے کہاں جاتے

یہ غزل بہت مشہور ہوئی اور رسالوں کے بعد ریڈیو پر بھی قتیل کا چرچہ ہونے لگا۔تقسیم کا مشکل وقت دیکھنے کے بعد قتیل شفائی کا بھی مشکل وقت شروع ہو گیا۔ایک ہندو عورت چندر کانتا کے ساتھ اس کے تعلقات کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی۔ساتھ میں وہ مالی طور پر بھی مسائل کا شکار ہو گیا۔ یوں تقسیم کے بعد وہ کئی دن ادھر اُدھر روزگار کی تلاش میں بھٹکتے رہے اور کئی چھوٹی موٹی نوکریاں کیں۔اس دوران پاکستان کی پہلی فلم بنانے کی تیاری شروع کر دی گئی۔’تیری یاد‘کے نام سے بنائی جانے والی اس فلم میں قتیل کے گانے ہٹ ہو گئے یوں پاکستان کی پہلی فلم کے ساتھ ساتھ اس کی گیت نگاری کا بھی آغاز ہو گیا۔

قتیل شفائی نے مجموعی طور پر دو سو ایک فلموں میں اڑھائی ہزار گانے لکھے۔ان کی وجہ شہرت گیت نگاری ہے مگر ان کا ہمیشہ اصرار رہا کہ انہوں نے ادب کی بھی خدمت کی ہے۔

انورکمال پاشا کی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے بہت ترقی کی۔اس دوران وہ پروگریسو رائٹر گلڈ کے سیکرٹری بھی بن گئے۔۔جس کی وجہ سے انہیں پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔۔جب پاکستان بھارت کے حالات کچھ بہتر ہوئے تو انہوں نے کئی بار ممبئی کا سفر کیا اور بالی ووڈ کیلئے بھی کئی لازوال گیت تخلیق کئے ۔مہیش بھٹ کی جب پہلی بار قتیل شفائی سے ملاقات ہوئی تو اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

’’قتیل صاحب ،آپ تو ہمیں کروڑ پتی بنانے آئے ہیں‘‘

قتیل شفائی کے وہ گانے جو آجکل زبان زدعام ہیں۔۔ان میں

٭صدا ہوں اپنے پیار کی

٭اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں

٭یہ وادیاں یہ پربتوں کی شہزادیاں

٭الفت کی نئی منزل کو چلا

٭شامل ہیں۔وہ واقعی گیت نگاری میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔انڈین فلم میں ان کا گانا جو آج بھی سپر ہٹ جانا جاتا ہے۔وہ تھا’بانٹ رہا تھا جب خدا،سارے جہاں کی نعمتیں‘

                                    ٭٭٭

تصانیف

قتیل شفائی کا پہلا شاعری مجموعہ ان کی چھوٹی عمر میں لکھے گئے گیتوں پر مشتمل تھا جو 1947میں مارکیٹ میں آیا اور انہیں اس زمانے میں دوسو روپے معاوضہ دیا گیا۔یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ان کے مندرجہ ذیل مجموعے شائع ہوئے۔

٭ہریالی

٭گجر

٭جلترنگ

٭روزن

٭جھومر

٭مطربہ

٭چھتنار

٭گفتگو

٭پیراہن

٭آموختہ

٭ابابیل

٭برگد

ٔٔ٭گھنگھرو

٭سمندر میں سیڑھی

٭پھوار

٭صنم

٭پرچم

انہوں نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی جسے وہ مکمل نہیں کر سکے لیکن وہ ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘ ‘ کے نام سے شائع ہوئی۔

                                 ٭٭٭

اعزازات

قتیل شفائی کو فلمی گانوں کی وجہ سے کئی ایوارڈز سے نواز ا گیا جن میں

٭صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی جو 1994میں دیا گیا

٭آدم جی ادبی ایوارڈ

٭امیرخسرو ایوارڈ

٭نقوش ایوارڈ

اس کے علاوہ ان کے بیس گانوں نے ’بیسٹ سونگ‘کا ایورڈ جیتا۔بھارت کی مگھد یونیورسٹی میں ان کی گیت نگاری پر پی ایچ ڈی بھی کی گئی اور بہاولپور یونیورسٹی میں ان کی ادبی خدمات پر مقالے تحریر کئے گئے۔

                                 ٭٭٭

آخری وقت

اور یہ آخری چند سال ہیں۔فیض احمد فیض،ساحرلدھیانوی اور اس طرح کے کئی دوسرے مشہور لوگوں کا دوست ۔۔انڈین اور پاکستانی فلم انڈسٹری کو لازوال گیت لکھ کر دینے والا قتیل۔۔روس ،سعودی عرب اور کئی دوسرے ممالک گھومنے کے بعد اب پھنسا ہوا ہے۔عمر کے آخری دور میں بھی اس کے گیتوں پر عروج ہے۔۔اور ہاں۔۔ایک عشق بھی انہیں مجبور کر رہا ہے۔رشمی بادشاہ کا عشق انہیں کئی بار انڈیا جانے پر مجبور کر چکا۔وہ خود کو اٹھارہ سال کا محسوس کررہے ہیں۔۔وہ اورنگزیب جس کی خوش لباسی کی ایک دنیا دیوانی تھی اور کئی دل اس کے قدموں کے تلے روندے گئے تھے۔

پھر۔۔لاڈلی بہن کی موت نے انہیں بھی موت کے نزدیک کر دیا۔دکھ تھا اور شدید تھا۔اب قتیل بستر پر ہیں۔۔زندگی سے کوئی دکھ نہیں ،کوئی پچھتاوا نہیں۔ان کی اکیاسویں سالگرہ دھوم دھام سے منائی گئی ہے۔۔

گیارہ جولائی کا سورج طلوع ہوا اور ساتھ ہی گیت نگاری اور شاعری کا سورج غروب ہو گیا۔۔2001 کے سال کا وہ دن قتیل شفائی کی زندگی کا آخری دن تھا۔۔

                               درو دیوارپہ حسرت سی برستی ہے قتیل

                               جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے۔۔

                                                                                                        ٭٭٭٭

Comments




POST A COMMENT