امان اللہ

2020-05-18 16:51:17 Written by اعتزاز سلیم وصلی

views:772

                               امان اللہ:کنگ آف کامیڈی

 

عالم پناہ اجازت دیں

 

جنرل ضیاء الحق کا دور بہت سے حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے ۔سیاسی بحث سے ہٹ کر اگر بات کی جائے تو جنرل صاحب فنکاروں کے بہت بڑے مداح تھے اور خود بھی ٹی وی شوز اور تھیٹر وغیرہ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے رہتے تھے۔یہ بھی تھیٹر کا ایک شو تھا جب جاوید قریشی نے اس مشہور کامیڈین کو پندرہ منٹ کا وقت دیا اور کہا۔

’’جنرل صاحب کو ہنسانا ہے اور یاد رہے فوج کو کوئی بات نہیں کرنی نہ جنرل صاحب کو بات کرنی ہے‘‘۔مشہورکامیڈین پریشان ہو گیا۔جنرل صاحب ایک سخت گیر شخص تھے اور ان کو ہنسانا بہت مشکل کام تھا۔اس کے ساتھ ایک اور بہت بڑا مسئلہ تھا کہ جنرل صاحب اگر نہ ہنستے تو کوئی بھی ہنسنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔اس نے پانچ دس منٹ بہت کوشش کی مگر جنرل صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ تک نہ آئی۔جاویدقریشی نے اسے جھڑکا۔

’’کیا کر رہا ہے ۔۔کوئی نہیں ہنس رہا کیوں شو ناکام بنانا چاہتا ہے؟‘‘مشہور کامیڈین نے جواب دیا۔

’’جناب کیا کروں وہ ہنس ہی نہیں رہے‘‘

’’کچھ کر‘‘۔وقت ختم ہونے کے قریب تھا جب کامیڈین جھنجلا گیا۔اس نے آخری حربہ آزمایا۔

’’عالم پناہ کچھ نہیں بولیں گے باقی سب لوگ ہنس پڑو۔۔ہنسو۔۔عالم پناہ اجازت دیں‘‘اس نے صوفے پر بیٹھے ضیاء الحق صاحب کی طرف اجازت مانگنے والے انداز میں کہا۔پورا ہال قہقہے سے گونج اٹھا۔جنرل صاحب بھی بے اختیار ہنس پڑے۔جاوید قریشی نے سر پکڑ لیا۔اسے یقین تھا اب جنرل صاحب کا سارا غصہ اس پر اترے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔اس مشہور کامیڈین کا انداز اتنا بے ساختہ تھا کہ کوئی بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔وقت صرف پندرہ منٹ کا دیا گیا تھا لیکن کامیڈین کا حوصلہ بلند ہو گیا۔اس نے ایک گھنٹہ اور بارہ منٹ اسٹیج پر گزار دئیے۔شو بے حد کامیاب رہا۔سب لوگوں نے کھڑے ہو کر اسے بھرپور داد دی اور جب وہ واپس جا کر اپنی کرسی پر بیٹھا تو جنرل صاحب چلتے ہوئے اس کے پاس آئے اور اس سے ہاتھ ملایا۔

’’بہت متاثر کیا آپ نے۔۔کدھر ہوتے ہیں آپ؟پہلی بار یوں کھل کر ہنسا ہوں۔بہت خوشی ہوئی‘‘ ضیاء  الحق نے دل کھول کر اس کی تعریف کی۔

’’جی شکریہ،میں ادھر لاہور میں ہوتا ہوں‘‘اس نے جواب دیا۔ ضیاء الحق کا رعب بے پناہ تھا اس لئے ان کے سامنے بولتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کو مشکل ہوتی تھی۔اس وقت ان کے ساتھ ان کی بیگم بھی تھی۔

’’بھائی اگر آپ اسلام آباد ہوتے تو آپ کی بیس مرلوں کی کوٹھی ہونی تھی سب سے مہنگے علاقے میں‘‘جنرل صاحب کی بیگم نے تبصرہ کیا۔سب ہنس پڑے۔

’’یہاں بھی اللہ کا شکر ہے بہت اچھا کما رہا ہوں۔کبھی مانگنے کی نوبت نہیں آئی‘‘اس نے اپنے مخصوص عاجزی بھرے انداز میں جواب دیا۔یہ پہلی ملاقات تھی اس فنکار سے ضیاء الحق کی ۔اس کے بعد کئی بار ان کی ملاقات ہوئی۔جنرل صاحب کی بیگم انہیں بھائی اور وہ انہیں باجی کہا کرتا تھا۔یوں یہ منہ بولا رشتہ حکمران اور عوام سے زیادہ عزت و احترام والا تھا۔ایسا مقام بہت کم فنکاروں کو ملتا ہے۔

بات یہاں ضیاء الحق کے دور کی ہو رہی ہے تو بتاتا چلوں۔۔اس دور کے حوالے سے دونام ہمیشہ لئے جاتے ہیں۔ایک ’مولا جٹ ‘فلم اور دوسرا امان اللہ خان کامیڈین۔جس مشہور کامیڈین کا ذکر میں نے کیا ہے وہ جناب امان اللہ صاحب ہی تھے۔ان کی زندگی بھی عجب دھوپ چھاؤں میں گزری ہے۔کہیں مشکلیں تو کہیں آسانیاں۔۔

                                      ٭٭٭

غربت سے شہرت تک 

برصغیر کی تقسیم سے ہمیں ملک پاکستان حاصل ہوا تو ہندوستان کے کونے کونے میں موجود مسلمانوں نے پاکستان کا رخ کیا۔انہی میں ایک خاندان ان گانے بجانے والے چھوٹے فنکاروں کا تھا جو شادی بیاہ میں چار پیسے کمانے کیلئے لوگوں کو تفریح مہیا کرتے تھے۔یہ ایسا دور تھا جب اچھا کما کر کھانے والے بھی مشکل کا شکار تھے ایسے میں چھوٹے موٹے فنکشن کرنے والے کیا کماتے؟۔امرتسر سے لاہور آ کر بسنے والے اس خاندان نے روزی روٹی کیلئے ہجرت کی اور گوجرانوالہ جا بسے۔یہاں اس چھوٹے سے گھر میں 1950 میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام امان اللہ رکھا گیا۔سانولے سے اس لڑکے کی صرف ایک بہن اور تھی۔خاندان غربت اور تنگ دستی کا شکار تھا۔گاؤں میں رہتے تھے تو سارا دن انتظار ہوتا کب باپ واپس آئے گا اور کب کچھ کھانے کو ملے گا۔بچپن کے اس سنہرے دور میں بھی حسرتیں تھیں لیکن ناشکری نہ تھی۔صبر تھا امان اللہ کی ذات میں۔اپنے ساتھ کئی لوگوں کیلئے تفریح کا باعث بن جاتا تھا وہ۔۔

غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک دن گھر میں کچھ بھی کھانے پینے کیلئے نہ تھا۔امان تب چھوٹا سا تھا ۔ماں نے اس سے کہا۔

’’جاؤ۔۔باہر کچرے کے ڈھیر سے مٹر کے چھلکے اٹھا کر لاؤ‘‘امان اٹھا لایا تو امان اور اس کی بہن کیلئے یہی پکایا گیا اور انہیں کھلا کر پیٹ کا جہنم سرد کیا گیا۔

امان اکثر باپ کی مار کا نشانہ بن جاتا تھا۔کبھی کسی شرارت کی وجہ سے تو کبھی کسی اور وجہ سے۔۔

گوجرانوالہ سے یہ خاندان لاہور کے بھاٹی گیٹ آبسا۔حالات تبدیل نہ ہوئے۔ہاں مگر ایک سیاہ دن، اس کی ماں زندگی کی جدوجہد میں شکست کھا کر ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔امان کیلئے وہ دن ایسا تھا جیسے ہر طرف اندھیرا چھا گیا ہو۔اسے لگا جیسے اب کبھی صبح نہیں ہو گی۔وہ روتا ہوا بار بار اپنی بہن سے لپٹ جاتا۔

 باپ کی بیماری نے امان کو صرف چودہ برس کی عمر میں کمانے پر مجبور کردیا۔اس کے ہم عمرلڑکے کھیل کودمیں مصروف ہوتے تھے جبکہ وہ مزدوری کیلئے گھر سے نکل جاتا۔باپ نے اب اسے مارنا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا۔

’’اب اس کی ماں نہیں جو اسے سنبھال سکے‘‘

بھاٹی گیٹ کے اس محلے میں زیادہ تعداد ان جیسے فنکاروں کی اور محنت مزدوری کرنے والے لوگوں کی تھی۔اس لڑکے نے بھی چودہ سال کی عمر میں داتا کے دربار پر محنت کرنا شروع کی۔ٹافیاں،ٹوپیاں اور لچھے بیچ کر وہ دن بھر میں سولہ سترہ روپے کما لیتا۔یہ اس دور میں کافی زیادہ پیسے تھے جب اچھا گوشت صرف ڈیڑھ روپے کلو تھا۔اکثر وہ داتا صاحب کے دربار پر ہی سو جاتا۔دوست اس سے پوچھتے۔

’’تھک نہیں جاتے؟‘‘اور وہ مسکرا کر ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا۔

’’داتا صاحب کے قدموں میں سو کر اور یوں اس طرح محنت کرکے کما کر ،مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے میں جنت میں ہوں‘‘بھاٹی گیٹ سے داتا صاحب کے دربار پر امان اللہ کے کئی چکر لگتے تھے۔ان کے محلے میں ایک اور فنکار طفیل نیازی رہتے تھے جو امان کے والد کے دوست تھے۔وہ ٹینٹ لگا کر تھیٹر شو کیا کرتے تھے۔میلوں میں اسے نوٹنکی کہا جاتا تھا۔طفیل نیازی امان اللہ کی شخصیت میں چھپی ایک اور خاصیت بھی جانتے تھے۔وہ لوگوں کے بولنے کے انداز کی اس شاندار طریقے سے نقل کرتا تھا کہ سننے والے ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتے۔اس دن بھی وہ بھاٹی گیٹ سے کھانا لے کر ایک عرس میں شو کرنے والے طفیل نیازی کے پاس پہنچا تو انہوں نے شو روک کر روٹی کھانا شروع کردی۔اچانک انہیں ایک خیال سوجھا۔

’’امان پتر۔۔چل چڑھ جا اسٹیج پر‘‘

’’پر چاچا میں کیا کروں گا اوپر چڑھ کر؟‘‘اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’وہی کرنا جو تیرا کام ہے ،جو محلے میں دوستوں کے سامنے کرتا ہے نقلیں اتارنا اور لوگوں کو ہنسانا‘‘وہ اثبات میں سرہلا کر اوپر چڑھ گیا۔اتنی سمجھ تو اسے تھی کہ ہنسایا کیسے جا سکتا ہے۔اس نے مشہور گلوکار عنایت حسین بھٹی کے گانے سے آغاز کیا۔وہ ان کی شاندار نقل کر رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے مخصوص بے ساختہ انداز میں بھٹی صاحب کی آواز کو بے سرے گانے میں بدل دیا۔یہ تبدیلی اتنی اچانک ہوئی تھی کہ حاضرین کا قہقہہ گونج اٹھا۔اس نے اسٹیج پر کافی وقت گزارا۔اس کام کے اسے سترہ روپے ملے۔

’’یار یہ کام اچھا ہے لوگوں کو ہنسایا بھی اور پیسے بھی مل گئے‘‘اس نے دل ہی دل میں سوچا۔۔یہ سوچ اسے مستقل تھیٹر میں لے آئی۔

                                       ٭٭٭

جوڑی

اختر حسین البیلا کو کامیڈین کا سردار کہا جائے تو یہ کچھ غلط نہ ہو گا۔ایک وقت تھا جب تھیٹر شو کی دنیا میں اپنی جگہ بنانا انتہائی مشکل کام تھا۔یہاں البیلا جیسے شاندار کامیڈین موجود تھے۔ایسے میں امان اللہ نے تھیٹر کی دنیا میں قدم رکھا۔دلچسپ بات یہ تھی کہ امان اللہ اور البیلا آپس میں گہرے دوست تھے۔اس کے باوجود تھیٹر میں لوگوں کے سامنے انہوں نے خود کو ایک دوسرے کا دشمن ظاہر کرنا ہوتا تھا۔اس لئے عام جگہوں پر یہ ایک دوسرے سے الگ ہی دکھائی دیتے تھے۔البیلا کو لوگ پہچانتے تھے لیکن امان اللہ کی پہچان بعد میں بنی اس لئے لوگ اکثر البیلا سے پوچھتے تھے۔

’’وہ جو آپ کے ساتھ سانولا سا لڑکا ہوتا ہے ،وہ کون ہے؟بڑا چالاک ہے‘‘

البیلا اور امان اللہ کے کیے گئے تھیٹر دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔حقیقی معنوں میں دونوں فنکاروں نے اس تھیٹر شو کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ہر رات شو میں ہاؤس فل ہوتا۔ہر رات ایک نئے سکرپٹ کے ساتھ یہ دونوں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے۔ایک دنیا ان کی دیوانی ہو چکی تھی۔انہی دنوں انہیں لندن میں شو کرنے کا موقع ملا۔دونوں نے فلائٹ پکڑی اور لندن ائیر پورٹ پر اترے۔یہ مسئلہ صدیوں سے ہے کہ انگریز پاکستانیوں کو اچھا نہیں سمجھتے۔ان دونوں کو بھی لائن سے ہٹا کر الگ بٹھا دیا گیا۔کافی وقت گزرگیا۔البیلا جب بھی پوچھنے جاتے،سامنے بیٹھی دو لڑکیاں کہہ دیتیں۔

’’آپ لوگوں کے کاغذات ابھی چیک کر رہے ہیں‘‘۔دونوں اس صورت حال سے کافی پریشان ہو گئے۔ایسے میں امان اللہ کو خیال سوجھا۔

’’البیلا صاحب میں ایک کام کرتا ہوں پر شرط یہ ہے کہ آپ ہنسیں گے نہیں؟‘‘اس نے سوالیہ نظروں سے البیلا کی طرف دیکھا۔

’’کچھ ایسا نہ کر دینا کہ واپس بھیج دیں‘‘

’’داخلے کی اجازت تو دے نہیں رہے،اب یا واپس بھیج دیں گے یا پھر اجازت دے دیں گے‘‘یہ کہہ کر امان اللہ اٹھ کر لڑکیوں کے پاس آیا اور پاسپورٹ کا پوچھا تو وہی جواب ملا۔

’’ابھی ڈاکومنٹ چیک کررہے ہیں‘‘امان اللہ ان کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔اچانک وہ اتنی زور سے کھانسا کہ لڑکیاں اچھل پڑیں۔اس نے بس کھانسنے پر اکتفا نہ کیابلکہ کھانسی کے اختتام پر وہ اتنے عجیب انداز میں ہنسا کہ لڑکیوں کا قہقہہ گونج اٹھا۔دونوں وہاں سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی کمرے میں داخل ہو گئیں۔واپسی پر ان کے ساتھ کچھ اور آفیسر بھی تھے۔وہ شاید انہیں یہ بتا کر لے آئی تھیں کہ پاکستانی کا کھانسی دیکھو۔امان اللہ ایک منٹ خاموش رہا اور دوبارہ ویسے ہی کھانسا ،ساتھ ہی اتنی عجیب ہنسی۔۔ایک لڑکی ہنستے ہنستے نیچے گر پڑی۔آفیسر بھی منہ پر ہاتھ رکھ کر واپس کمرے میں گھس گیا۔کچھ دیر بعد لڑکیاں جب واپس اپنی جگہ پر بیٹھیں تو انہوں نے فوراً انہیں داخلے کی اجازت دے دی۔۔

البیلا امان کے دوست تھے۔۔استاد تھے ۔۔یا بہترین ساتھی۔امان سے کبھی فیصلہ نہ ہو سکا۔2003 میں البیلا کی وفات کے بعد ان کے ذکر پر امان کی آنکھیں ہمیشہ نم ہو جاتیں۔اسٹیج پر چڑھ کرجگتیں کرنے والا یہ شخص دل کا صاف اور اپنوں سے محبت کرنے والا تھا۔البیلا کے بیٹے ہنی البیلا کے ساتھ بھی اس نے کام کیااور اسے ہمیشہ اپنا بیٹا سمجھا۔ہنی ان کو جگت کرتے ہوئے جھجک جاتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا۔

’’امان اللہ اکثر ہمارے گھر آتے تھے اور میں انہیں چچا سمجھتا تھا اس لئے جگت کرتے ہوئے شرم آتی تھی‘‘ایک دن ایسے ہی شو کے اختتام پر امان اللہ نے اسے روک لیا۔

’’تم مجھے جگت کیوں نہیں کرتے؟شو کو شو سمجھو،حقیقت میں چاہے جتنی مرضی عزت دو‘‘ہنی نے ان کی خدمت بھی بہت کی تھی۔۔

                                       ٭٭٭

ریڈیو پاکستان

آج کے اس سوشل میڈیا دور نے ٹی وی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ایسے میں ریڈیو کے بارے میں نئی نسل کو کیا پتا؟۔ایک وقت تھا جب اخبارات کے بعد تفریح اور خبروں کا بہترین ذریعہ ریڈیو پاکستان تھا۔اس سے بڑے بڑے فنکار وابستہ تھے جن میں ننھا،لہری ،منور ظریف اور طارق عزیز جیسے لوگ شامل ہیں۔ریڈیو پاکستان نے طنز و مزاح پر مشتمل کئی دلچسپ پروگرام بھی پیش کئے ہیں۔

ستر کی دہائی میں عارف وقار جو ریڈیو پاکستان میں پرڈیوسر کے طور پر کام کرتے تھے،ایک دن اپنے کمرے میں بیٹھے تھے جب ان کا ایک شاگرد ان کے پاس آیا۔اس کے ساتھ ایک سانولی رنگت کا دبلا پتلا لڑکا تھا۔

’’یہ کون ہے؟‘‘عارف وقار نے غور سے اسے دیکھا۔

’’سریہ امان اللہ ہے نوٹنکی کر چکا ہے ویسے لچھے ٹافیاں بیچتا ہے داتادربار پر‘‘

’’پھر میں کیا کروں؟‘‘اس نے حیرت سے شاگرد کی طرف دیکھا۔

’’سر یہ میرا دوست ہے آپ ایک بار آزما لیں کہ کتنے دلچسپ انداز میں بیچتا ہے یہ چیزیں‘‘عارف وقار نے پہلے اس لڑکے کی شخصیت کا جائزہ لیا جو قطعی غیر متاثر تھی پھر شاگرد کی طرف دیکھ کر بولا۔

’’ریڈیو پاکستان میں لچھے ٹافیاں بیچنے والوں کی جگہ نہیں‘‘

’’سر آپ آزما تو لیں‘‘شاگرد نے ضد کی۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے لڑکے کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا کہا۔اگلے پانچ منٹ لڑکے جو کارکردگی دکھائی۔۔اس سے پورے اسٹوڈیو میں قہقہے گونج اٹھے۔وہ اتنے دلچسپ انداز میں لوگوں کی نقل اتار رہا تھا۔اسے ریڈیو پر کام کرنے کا کہا گیا تو اس نے ایک بار پھر کمال کر دکھایا۔

امان اللہ کی اس کامیڈی میں خاص بات یہ تھی کہ وہ عام زندگی کا مشاہدہ کرتا تھا۔یعنی غریب امیر کے کھانے پینے کا فرق،پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے بولنے کا انداز۔۔اس کے ساتھ وہ حکمرانوں کی کارکردگی کو طنزیہ انداز میں پیش کرتا تھا۔ریڈیو پر وہ سب سے دلچسپ قصہ فوجی پتنگ کیسے اڑاتا ہے،کے نام سے سنایا کرتا تھا۔

                                       ٭٭٭

کامیابیاں

تھیٹر میں قدم رکھنے والے اور گلوکاروں کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنسانے والے امان نے تھیٹر کو شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔پہلے یوں ہوتا تھا کہ تھیٹر کے فنکار خود اپنے خرچ پر سارا انتظام کرتے پھر لوگ اپنی مرضی سے کچھ پیسے پکڑا دیتے تو ٹھیک ورنہ شو ناکام جاتا۔امان نئی سوچ کے ساتھ آیا تھا۔اس نے غربت دیکھی تھی اور دوسرے لوگوں کے حالات سے واقف تھا۔اس لئے جیسے ہی اس نے مقام بنایا۔۔تھیٹر کو کمرشل بنانے میں لگ گیا۔اب یوں ہوتا کہ باقاعدہ ٹکٹ بیچی جاتیں۔انتظامات بھی مخصوص برانڈز اپنے تعاون سے کرتی تھیں۔اس سے فنکاروں کا باقاعدہ معاوضہ طے ہوگیا۔

اسٹیج ڈرامے میں پرفارمنس دکھانے کا موقع اسے 1977میں ملا جب آفندی صاحب نے انہیں ’سکسر‘میں کام کرنے کی دعوت دی۔الحمرا میں دکھایا گیا سکسر اسٹیج کی دنیا کا کامیاب ترین ڈرامہ مانا جاتا ہے۔اس کی کامیابی کا مرکزی کردار امان اللہ ہی تھا۔

امان اب اس دنیا میں اپنی پہچان بنا چکا تھا اس لئے دوسرے شہروں میں بھی آنا جانا شروع کردیا۔اسی دوران اسے پی ٹی وی پر کام کرنے کا موقع ملا۔کیمرے کے سامنے البتہ شروع میں اسے تھوڑی الجھن ضرور ہوئی لیکن بعد میں وہ اس الجھن پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔

یہ کامیابی کسی سرحد کی محتاج نہ رہی۔امان اللہ کو انڈیا میں شو کرنے کی دعوت دی گئی جو اس نے قبول کی۔ممبئی کے ایک ہوٹل میں ان کو کمرا ملا جہاں باقی ساتھی فنکار بھی موجود تھے۔امان اللہ انڈیا کے حوالے سے یادداشتیں بیان کرتے ہوئے یہ واقعہ ضرور سناتا تھا۔

’’میں ہوٹل میں ٹھہرا تھا ۔میرے ساتھ باقی کام کرنے والے سارے انڈین فنکار تھے۔میں جب بھی اپنے کمرے سے باہر آتا،وہ کھڑے ہو جاتے۔۔ایک بار،دو بار،تین بار۔۔آخر میں تپ گیا۔چھٹی بار جب میں گزرا اور وہ ویسے ہی میرے احترام میں کھڑے ہوئے تو میں نے جھنجلا کر کہا۔

’ ؔ’تم لوگوں کا مسئلہ کیا ہے۔۔کیا مذاق ہے یہ؟‘‘وہ سب ڈر گئے۔

’’کک کیا ہوا گرو دیو؟‘‘

’’میں جب بھی یہاں آتا ہوں تب ہی تم لوگ کھڑے ہو جاتے ہو۔کیا میرا اور تمہارا مذاق ہے؟‘‘

’’نہیں گرو دیو۔۔ہم آپ کا مذاق کیسے اڑا سکتے ہیں۔یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے جو آپ ہمارے درمیان ہیں اس لئے ہم ادب و احترام کی وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں‘‘ان میں سے ایک نے وضاحت دی۔

امان انڈین فنکاروں کے اس حسن سلوک سے بہت متاثر ہوا۔انڈیا میں کامیڈی کرنے والے زیادہ تر لوگ اس سے سیکھتے تھے جن میں کپل شرما سرفہرست ہے۔

اور یہ وقت ہے امان اللہ کے راج کا۔۔کنگ آف کامیڈی کا۔۔برصغیر کے سب سے بہترین کامیڈین کا۔۔

تھیڑ کا شو تھا۔امان اللہ کو عین وقت پر کوئی ضروری کام پڑ گیا۔ٹکٹس ساری فروخت ہو چکی تھیں۔ایسے میں امان اللہ نے پرڈیوسر کو مجبوری بتا دی اورشو سے پہلے اعلان کردیا گیا۔

’’ہم معذرت کرتے ہیں امان اللہ آج کے شو میں شرکت نہیں کر سکیں گے جو لوگ اپنی ٹکٹ کے پیسے واپس لینا چاہتے ہیں وہ لے سکتے ہیں‘‘اور اس اعلان کے بعد جو ہوا وہ امان اللہ کو کامیڈی کا بے تاج بادشاہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔تمام ٹکٹس کے پیسے واپس لے لئے گئے۔شو شروع ہونے سے پہلے تھیٹر میں ایک بھی دیکھنے والا نہ بچا تھا۔۔

آج کے مشہور کامیڈین ناصر چنیوٹی،سخاوت ناز اور نسیم وکی ایک ڈرامے میں امان صاحب کے ساتھ پرفارم کررہے تھے۔ان سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ آج امان اللہ کو تنگ کرنا ہے۔’’سولہ برس کی‘‘نام کے اس ڈرامے میں امان اللہ نے صرف پہلا آدھا گھنٹہ شرکت کرنی تھی اس کے بعد کسی کام سے اسلام آباد جانا تھا۔جیسے ہی اس نے اسٹیج پر قدم رکھا،سخاوت ناز اورناصر چنیوٹی کی جگتیں شروع ہو گئیں۔ان کی ہر جگت پر قہقہہ ابل پڑتا۔وہ دونوں بہت خوش ہوئے کہ آج تو ہماری کامیابی کی شہرت کا شور ہر طرف سنائی دے گا۔آدھا گھنٹہ ختم ہوا تو امان اپنی کار میں بیٹھ کر اسلام آباد کی طرف چل دئیے۔کار ایک شاگرد ڈرائیور کررہا تھا۔امان اللہ نے راستے میں گاڑی واپس موڑنے کا کہا۔

’’واپس تھیٹر کی طرف چلو‘‘

’’کیوں؟‘‘وہ حیران ہوا۔

’’آج واپس نہ گئے تو بے عزتی ہو جائے گی‘‘اس نے کار موڑ لی۔جیسے ہی ان کی واپس انٹری ہوئی۔۔انہوں نے ایک ایک کو چن کر گن گن کے بدلے لئے۔اسٹیج کے پیچھے امان اللہ کو سب نے ہاتھ جوڑے۔یہ شو صبح پانچ بجے تک چلتا رہا۔

                                 ٭٭٭

چلا ہوا کارتوس

آفتاب اقبال ،موجودہ وقت کے چند مشہور ترین ٹی وی میزبان اور صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ایک وقت تھا جب تھیٹر اور اسٹیج شو مسلسل زوال کا شکار ہو رہے تھے۔خاص طور پر اسٹیج ڈراموں میں فحش جگتیں اور مزاح کے نام پر اخلاقیات کی دھجیاں اڑ رہی تھیں۔ایسے میں امان اللہ جیسے فنکار جو طنزومزاح کی حقیقی شکل سے متاثر تھے،سخت پریشان ہوئے۔

آفتاب اقبال ایک نئی سوچ لے کر ٹی وی پر سکرین پر آئے۔انہوں نے ان پرانے فنکاروں کو استعمال کرنے کا سوچا۔آفتاب اقبال کے ارادے مضبوط تھے۔ انہوں نے پہلے سہیل احمد کو ساتھ ملا کر ایک پروگرام شروع کیا جس کا نام ’پیروڈی پنچ ‘تھا۔چار پانچ اقساط کے بعد اس پروگرام پر پابندی لگا دی گئی۔اس کی چار پانچ اقساط نے بھی بہت شہرت حاصل کی۔اس کے بعد آفتاب اقبال نے اپنے ایک کردار کو لے کر حسب حال شروع کیا جس میں عزیزی کے کردار نے بے انتہا شہرت حاصل کی۔حسب حال چھوڑنے کے بعد وہ ایک نیا آئیڈیا لے کر جیو نیوز پر آگئے۔اب کی بار انہیں زیادہ کامیڈین کی ضرورت تھی اس لئے انہوں نے کسی سے پوچھا۔

’’ان سب کامیڈین میں سے بہترین کون ہے جو ان کا سردار ہو‘‘جواب ملا۔

’’جی امان اللہ ہے مگر وہ اب چلا ہوا کارتوس ہے۔ٹی وی پر ،کیمرے کے سامنے تو وہ بالکل پرفارم نہیں کر سکتا‘‘۔یہ نام ان کیلئے نیا نہ تھا۔کافی سینئر لوگوں کے اس مشورے کے باوجود امان اللہ کو خبرناک شو میں آفتاب اقبال نے حکیم صاحب کا کردار دیا۔وہ امان اللہ کے ڈرامے ’شرطیہ مٹھے‘سے متاثر تھے۔

آفتاب اقبال کہتے ہیں۔

’’امان اللہ جتنا مزاحیہ اور شوخ مزاج شخص باہر سے دکھائی دیتا تھا۔۔اندر سے حقیقی معنوں میں اتنا ہی معصوم اور بچوں جیسا تھا۔کئی مرتبہ ہم سکرپٹ پر بات کررہے ہوتے تھے تو وہ درمیان میں کوئی ایسی بات کردیتا کہ بے اختیار ان کی معصومیت پر پیار آجاتا۔اس سے کسی کا دکھ درد نہیں دیکھا جاتا تھا۔وہ جونیئرز سے محبت کرنے والا شخص تھا‘‘۔خبرناک نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔اس کے بعد امان اللہ نے ایک اور شو ’’مذاق رات‘‘میں کام کیا جو دنیا نیوزسے نشر ہوا۔اس کے بعدآپ نیوز کے پروگرام ’خبرزار ‘میں بھی امان اللہ کی شرکت شاندار رہی۔

                                       ٭٭٭

خاندان اور کمائی

امان اللہ کی شادی تیئس برس کی عمر میں اپنی کزن سے ہوئی جس سے ان کے چھ بچے ہیں۔کچھ عرصہ بعد انہوں نے دوسری شادی کی ۔یہ بھی اپنے خاندان میں کی تھی۔دوسری بیوی سے ان کے چار بچے ہیں۔تیسری شادی انہوں نے ایک اداکارہ لبنیٰ شمسی سے کی۔تیسری بیوی سے بھی ان کے چار بچے ہیں۔ان کے سات بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں۔

تین شادیاں کرنے کے باوجود امان اللہ کو ہمیشہ اس بات کا پچھتاوا رہا۔حالانکہ چودہ بچوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت اچھا تھا۔جتنا کماتے تھے برابر تقسیم کرتے تھے۔ان کی ایک بیٹی ویب چینل سے منسلک ہے جبکہ ایک اور بیٹی زرغون کے ساتھ وہ اکثر ویڈیوز میں دکھائی دیتے تھے۔’ایک دن جیو کے ساتھ‘پروگرام میں امان اللہ خاندان کے موضوع پر بات کرتے ہوئے رو پڑے۔ان کا کہنا تھا۔

’’میں سب کو یہی کہوں گا کہ کبھی دوسری شادی مت کرنا۔۔زندگی عذاب بن جاتی ہے۔‘‘

امان اللہ نے جب پہلی شادی کی تو تب سے تھیڑ میں سنجیدگی سے کام پر توجہ دی۔اس کام سے انہیں معاوضہ ملنا شروع ہوا۔پاکستان سے باہر شو کرنے کے انہیں زیادہ پیسے ملتے تھے۔ایک مرتبہ بیرون ملک کام کرتے ہوئے ایک شخص ان کی پرفارمنس پر اتنا خوش ہوا کہ اس نے انہیں کافی سارا سونا تحفے میں دے دیا۔اس کے علاوہ بھی ایک شو میں کام کرنے کے وہ دو سے تین لاکھ لیتے تھے۔

امان اللہ خدا کے عاجز بندے تھے۔اکثر کہتے تھے ۔

’’جب میں داتا کے دربار پر کام کرتا تھا تب بھی کمائی میں خوش تھا مگر پھر خدا نے مجھ پر ترس کھایا اور ترقی کرتا چلا گیا‘‘زندگی کے آخری ایام تک انہوں نے محنت کرنی نہیں چھوڑی۔دن رات کام کرکے اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔۔ہاں مگر ہر شخص کی زندگی میں کوئی پچھتاوا ،دکھ یا غم ضرور ہوتا ہے۔۔امان اللہ کی زندگی میں بھی دوسری اور تیسری شاد ی کرنے کا دکھ تھا۔۔۔

                                            ٭٭٭

مشہور ڈرامے ،شو اور ایوارڈ۔۔

امان اللہ آٹھ سو ساٹھ تھیٹر شو کرنے والے پہلے فنکار تھے۔ان کا یہ ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا۔انہوں نے مختلف ڈراموں اور شوز میں کام کیا جن میں

شرطیہ مٹھے

سکسر

بیگم ڈش انٹینا

ڈسکو دیوانے

کھڑکی کے پیچھے

محبت سی این جی

یو پی ایس

چن ورگی

گھر گھر بشیر

کیچپ

سوا سیر

اور ان جیسے لاتعداد مشہور ڈرامے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ان کا ایک اور ڈرامہ ’سولہ برس کی‘بہت مشہور ہوا۔انہوں نے دو ہزار کے قریب ون مین شو کئے۔انڈیا میں بھی کئی کامیاب ون مین شو کئے۔انڈیا کا مشہور ترین کامیڈین کپل شرما انہیں اپنا استاد مانتا ہے۔پاکستان میں مندرجہ ذیل ٹی وی شوز کا حصہ رہے۔

خبرناک

مذاق رات

خبرزار

2018میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔وہ بلاشبہ پاکستان کا فخر تھے۔

                                ٭٭٭

وفات

2018کے آخر میں امان اللہ گردوں اور پھیپھڑوں کے مرض کی وجہ سے ہسپتال میں داخل رہے۔صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے کچھ ٹی وی شوز میں حصہ لیا لیکن طبیعت ساتھ نہ دے سکی۔جنوری 2020 میں ان کی موت کی خبر چلائی گئی جس پر ان کے خاندان کی طرف سے سخت ردعمل شو ہوااور خبر کی سختی سے تردیدکی گئی۔

چھ مارچ 2020 کو لاہور کے ایک ہسپتال میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی تدفین کے سلسلے میں بھی ایک تنازعہ کافی دن رہا جس کی بعد میں تردید کر دی گئی۔

امان اللہ صرف ایک کامیڈین نہیں تھے۔۔وہ طنز و مزاح کی اکیڈمی تھے۔بقول آفتاب اقبال:

’’برصغیر میں سٹینڈ اپ کامیڈی میں امان اللہ کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔ہاں مگر دنیا کی بات کی جائے تو پانچ بہترین میں وہ ضرور شامل ہوں گے‘‘۔۔

                                                                                                        ٭٭٭٭

اعتزاز سلیم وصلی

 

 

 

Comments




POST A COMMENT