ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

2020-06-12 19:09:29 Written by حور العین اقبال

views:231

ناول (یارم)

تبصرہ نگار (حورالعین اقبال)

تبصرہ (37)

 

 

 

"کہانی کی شروعات ہوتی ہے ایک توہم پرست گھرانے سے جہاں ہر فرد کو یقین ہے کہ ان کے گھر میں رہنے والی "امرحہ" ایک "منحوس"لڑکی ہے اور دنیا میں ہونے والا ہر حادثہ اسہی کی مرہون منت ہے اور وہ تمام لوگ ایک فرض شناس انسان ہونے کے ناتے یہ بات ہر آنے جانے والے کے سامنے دہرانہ اپنا فرض سمجھتے ہیں، یہ حال صرف گھر والوں کا ہی نہیں بلکہ خاندان کے دیگر افراد بھی اس مرض کا شکار نظر آتے ہیں حد تو یہ ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس ہنسنے ہنسانے کو موضوعات ختم ہوجاتے ہیں تو جی امرحہ بیبی کی جنم کنڈلی کھول کر قصے دہراے جاتے ہیں اور خوب ہی ٹھٹھے لگاءے جاتے ہیں جس شخص کا مذاق اڑایا جارہا ہے اسکے احساسات اسکے جذبات جاءیں چولہے میں ہماری بلا سے، ہر بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے نقصان کو معصوم امرحہ کے سر منڈھ کے اس کی دو عدد منگنیاں تڑوا کر ان ظالموں نے اسے آدھا پاگل بنا دیا ہے، یوں تو امرحہ جی کے دیگر بہن بھائ بھی رج کے نکمے ہیں مگر کیا کہیے کے اماں،ابا کو ہماری ہیروءن کو کوسنے سے فرصت ملے تو کہیں دھیان دیں نا٠٠لیکن شکر ہے رب کا کہ اس انڈین ڈراموں کے زیر اثر خاندان میں ایک خوف خدا رکھنے والی شخصیت دادا جان پاءے جاتے ہیں جن کی پوتی میں جان ہے ورنہ ہماری امرحہ نے تو کب کی خودکشی کرلی ہوتی اور ہم منہ لٹکاءے رہ جاتے، چلیں جی کبھی لالچ دے کر کبھی پچکار کر اور کبھی الو بنا کر دادا جی روتی شکل پوتی کو گریجویشن کروا ہی دیتے ہیں٠٠"

 

 

 

  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں تک کے قصے میں تو ہم نے یہ جانا کہ جب مذاق کریں تو ذرا لفظوں کو قابو میں رکھیں کہ کہیں آپ کا مذاق کسی کی شخصیت کو مسخ نہ کردے اور ساتھ ہی اگر آپکے اردگرد لوگوں کی چیزوں کی"منحوسیت"،"سبز قدمی"پر یقین رکھنے والے لوگ نہیں پاے جاتے تو خدا کا بہت بہت شکر ادا کریں کیونکہ یہ واقعی بڑی "نعمت"ہے٠

 

 

 

*اب چلیں گے کہانی کے دوسرے حصے کی جانب جہاں ہماری ہیروین خوش قسمتی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے مانچیسٹر یونیورسٹی میں داخلہ پا جاتی ہیں مایوسی کے کنویں سے نکل کر کھٹے میٹھے جذبات کے سمندر میں غوطہ زن ہوتی ہیں اور ہم عوام ان کا پلو تھامے پیچھے پیچھے، ذرا اس رنگین دنیا کے ہم بھی تو نظارے کریں٠٠مانچیسٹر کی خوبصورت فضاوں کا تعارف کرواتے مصنفہ ہمیں کبھی نہ مایوس ہونے اور نہ ہارنے کے گہرے سبق دیتی ہیں ساتھ ہی رنگ برنگے لوگوں سے ملوا کر مختلف ثقافتوں سے روشناس کروایا جاتا ہے٠٠ان سب کے ساتھ اپنا دور طالبعلمی یاد آجاتا ہے( اوہو ہو مجھے اتنا بڈھا نہ سمجھیں یہی اپنے ٢٠١٦ میں تو میں نے گریجویشن کیا ہے) دوستوں کے ساتھ کی گئی شرارتیں، امتحانوں کے دنوں میں پاگلوں کی طرح پڑھنا اور پھر سیمسٹر کے آخر میں ایسے دعوت اڑانا جیسے پورا سیمیسٹر بڑی محنت کی تھی،(لیکن ہماری امرحہ نے بندوق کے زور پر ہی سہی مگر واقعی بڑی محنت کی تھی) زندگی کا خوبصورت ترین وقت سامنے آتا ہے تو کہانی اور پرکشش لگنے لگتی ہے٠٠ایک بات بتاوں کہ جس وقت میں نے یہ ناول پڑھا تھا مجھے کارل"دی فتنہ"سے ملنے کا بڑا شوق تھا لیکن کیا ہے کہ جب شادی ہوئی اور میاں صاحب میں چنی منی سی وہ خصوصیات پائ گءیں تو یقین کریں میں نے توبہ استغفار کرلیا(ہاہاہا) ہاں "عالیان" کو دیکھنے کا شوق بدستور باقی ہے اور "لیڈی مہر"جیسی عظیم عورت جو ہمارے"عبدالستار ایدھی" کا عکس ہیں جو رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر محبت کرنا سکھاتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ انسان اسی وقت انسان کہلاتا ہے جب وہ "انسانیت" کا احترام کرنا جانتا ہے ٠٠" سائ کا کردار بڑا پراسرار سا لگا گہرے راز چھپایا ہوا ایک شخص جو سب کے دکھ سکھ اپنے اندر دفن کرلیتا ہے اور دوبارہ نام تک نہیں لیتا "٠٠صبر و برداشت کا پیکر سلونی سی "سادھنا"٠٠ارے ہاں ایک عدد "سپر وومین" بھی ہے یہاں٠٠جی جی وہی ہماری"ویرا" تو جناب بات یہ ہے کہ ہر کردار اتنا مکمل ہے کہ ان سے بے اختیار محبت ہوجاتی ہے٠٠ کہیں"بہادری"کا سبق ملتا ہے تو کہیں" انسانیت" کا کہیں"خوش" رہنے کا تو کہیں"معاف"کردینے کا٠٠اتنے ڈھیر سارے جذبات جو کہیں آپ کو رلاتے ہیں تو کہیں ہنساتے ہیں خاص کر عالیان کے امرحہ کے لیے محسوسات، محبت جتانے کے سنہرے انداز اسکا خیال رکھنا، مذاق کرنا،معافی مانگ لینااور پھر یکدم ہی اس سے ناراض ہوجانا اور اس شدت سے ہوجانا کہ پڑھتے پڑھتے میرا دل دھڑک دھڑک جاتا، لیکن شکر ہے رونے دھونے اور ڈھیروں ناراضگی کے بعد"ہیپی اینڈینگ"ہو جاتی ہے اور ہمارے ساتھ ساتھ دیگر قارءین کے دل کو بھی قرار آجاتا ہے٠٠ اوہ یہ بتانا تو بھول ہی گئ ناول میں "فارسی" کا تڑکہ شاندار ہے٠٠"

*"تنقید کی جہاں تک بات ہے تو میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کہانی کئ جگہ طوالت کا شکار نظر آتی ہے جس کو دیکھ کر سچی بات ہے کہ میں تو آگے بڑھ جاتی ہوں اور شاید دوسرے بہت سے قاری بھی ایسا ہی کرتے ہوں٠٠دوسری بات امرحہ کو مانچیسٹر میں ایڈجسٹ ہونے میں کوئ دشواری ہی پیش نہیں آئ نہ زبان کا مسلہ ہوا جبکہ دوسرے ملک جاکر انسان کو بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے خاص طور پر امرحہ جیسی لڑکی کو جو انتہائ دبو تھی٠٠تیسری چیز یہ کہ ایک جملے پر اتنی "خاص اسکالرشپ"ایک ایسے انسان کو دے دی جائے جو بلکل بھی اہل نہیں بلکہ رزلٹ میں ردوبدل کر کے دھوکے کا مرتکب ہوا ہو٠٠

۔

بس یہی کچھ چھوٹی موٹی باتیں عجیب لگیں باقی پورا ناول بہت شاندار ہے ایک خوبصورت سفر جو آپ کا دل موہ لے گا٠٠"

 

(حورالعین اقبال)

Comments




POST A COMMENT