سیریل کلرز

2020-06-17 12:50:00 Written by بحوالہ گوگل،ریڈرز ڈائجسٹ

views:300

1884 سے 1908 کے درمیان چالیس سے زیادہ قتل کرنے والی خاتون "بیلا گینس " کی داستان۔

جسے Queen of black widows

بھی کہا جاتا ہے۔

بیلا گینس 22 نومبر 1859 کو ناروے میں پیدا ہوئی۔ اس کا تعلق ناروے کے ایک پسماندہ اور نچلے طبقے سے تھا۔اس دور کے بہت سارے دوسرے لوگوں کی طرح اسے بھی امریکہ جانے کا شوق تھا۔

1881 میں یہ امریکہ منتقل ہو گئی۔یہاں شکاگو میں اسے پیسے کمانے کا ایک انتہائی آسان طریقہ سمجھ آیا۔" انشورنس فراڈ"

اس کام کی ابتدا اس نے 1893 میں میڈس سے شادی کرنے کے بعد کی۔ان کے چار بچے پیدا ہوئے۔اس کے علاؤہ انہوں نے ایک بچی گود بھی لی جس کا نام جینی تھا۔

اپنے شوہر میڈس کے ساتھ مل کر بیلا نے ایک مٹھائی شاپ کھولی۔

ایک شوہر،بچے اور اپنے کاروبار کے ساتھ بیلا کے پاس انشورنس کی خطیر رقم حاصل کرنے کے بہت سارے مواقع تھے۔

سب سے پہلے ان کے بزنس والی جگہ پر آگ لگی اور اس کے بعد ان کے دو بچے وفات پا گئے۔

بیلا نے ہر چیز کی انشورنس کروائی ہوئی تھی۔

جس دن ان کو انشورنس کی مد میں خطیر رقم ملی اسی دن بیلا کا شوہر انتقال کر گیا۔ ایک ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا اور بتایا کہ میڈس کی موت سٹرئچائن زہر کی بدولت ہوئی ہے۔مگر بعد میں بیلا کے ڈاکٹر نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا اور بتایا کہ میڈس کی موت ہارٹ اٹیک کی بدولت ہوئی ہے۔

 اگرچہ میڈس کے اہل خانہ نے انکوائری کا مطالبہ کیا مگر کسی پر الزام عائد نہیں کیا گیا۔اور بیلا کسی بھی قسم کی تحقیقات سے صاف بچ گئی۔

انشورنس کی خطیر رقم لے کر وہ اپنے باقی کے تین بچوں کے ساتھ انڈیانا آ گئی۔

1901 میں اس نے مک کلونگ روڈ کے ساتھ بیالیس ایکڑ کا ایک فارم خرید لیا۔اتنی پراپرٹی خریدنے کے باوجود بھی بیلا کو مزید ہوس کی ضرورت تھی۔اور کچھ دنوں کے بعد یہاں بھی اس کے فارم کا ایک حصّہ "حادثاتی" طور پر جل گیا۔۔اور نتیجے میں انشورنس کمپنی سے بیلا کو ایک بڑی رقم حاصل ہوئی ۔

یکم اپریل، 1902 کو بیلا گینس نے ایک مقامی قصاب پیٹر گنیس سے شادی کر لی۔پیٹر گینس بھی رنڈوا تھا۔اور اپنے ساتھ دو بیٹیاں بھی لایا تھا۔بیلا نے جب ان لڑکیوں کو دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے اس کی ہزاروں ڈالرز کی لاٹری نکل آئی ہے۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ایک لڑکی کی پراسرار انداز میں موت واقع ہو گئی۔ پیٹر کو شک تو ہوا مگر وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔لیکن احتیاطً اس نے اپنی دوسری بیٹی Swanhild کو اپنے رشتے داروں کے پاس رہنے کے لیے بھیج دیا۔ اور یوںSwanhild کا رشتہ بیلا سے جڑنے کے باوجود وہ اس کے ہاتھوں مرنے سے بچ گئی ۔یہ وہ واحد لڑکی تھی جو بیلا کا شکار نہیں ہوئی۔

گزرتے سالوں کے ساتھ بیلا کی گنتی بھی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ پیٹر نے اپنی بیٹی کو تو بچا لیا لیکن خود کو بیلا کے ظالم وار سے نہیں بچا پایا۔رپورٹس کے مطابق پیٹر کی موت ایک meat grinder کے لگنے سے تب ہوئی جب وہ کچن میں کام کر رہا تھا اؤر meat grinder اوپر والے شیلف سے اچانک گرا اور پیٹر کے سر پر لگا۔

لیکن کچھ دن بعد جینی (بیلا کی رضاعی بیٹی) نے اپنی سکول فرینڈز کو بتایا کہ اس کی ماما نے اس کے پاپا کو گوشت کاٹنے والے اوزار سے مارا تھا۔لیکن وہ یہ بات آگے کسی کو نہ بتائیں۔

(واضح رہے یہ سب باتیں بعد میں معلوم ہوئیں تھیں۔)

گو کہ تفتیشی افسر نے اس دفعہ کافی گہرائی میں تحقیقات کی اور ممکن حد تک انکوائری کی ۔لیکن اسے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔اوپر سے بیلا گینس کے مگرمچھ کے آنسوؤں نے بھی سب کو متاثر کیا ۔جو اس نے پیٹر کی موت پر بہائے تھے۔یہ الگ بات کہ انشورنس کی رقم ملنے کے بعد یہ آنسو خشک بھی جلدی ہو گئے۔پیٹر کی موت کے چھے ماہ بعد بیلا نے ایک بچے کو جنم دیا۔جس کا نام فلپ گینس تھا۔

اپنے دوسرے شوہر کے بعد بیلا گینس نے رقم حاصل کرنے کا ایک نیا اور بہترین طریقہ ڈھونڈ لیا۔وہ مختلف اخبارات میں دولت مند افراد کے لیے اشتہارات شائع کرواتی تھی۔اشتہارات میں لوگوں کے لیے ایک پرکشش آفر ہوتی تھی۔بہت سارے لوگوں نے بیلا کے فارم کی طرف سفر کیا۔اور اس سفر کے بعد وہ دوبارہ کبھی دکھائی نہیں دیے۔

بیلا کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ

اسے لوگوں کو متاثر کرنے اور انہیں رازداری کے ساتھ رقم لے کر فارم تک آنے کے لیے راضی کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔یہ شاید اس کا قدرتی ٹیلنٹ تھا یا مسلسل پریکٹس سے وہ اس کام میں ماہر ہو گئی تھی۔

لوگ اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا کر اس کے ساتھ شراکت داری قائم کرتے اور بعد میں ان کی پراسرار انداز میں موت واقع ہو جاتی تھی۔

جیک روز ووڈ جس نے بیلا گینس کی کہانی لکھی ،اس کے مطابق بیلا قتل کرنے کے بعد لاش ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھی- اور پھر یا تو انہیں اپنے پالتو سور کو کھلا دیتی یا پھر دفن کر دیتی تھی۔ بہرحال وہ جو بھی طریقہ اپناتی تھیl ،لیکن اس نے کبھی اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا۔

 

اٹھائیس اپریل انیس سو آٹھ کی صبح بیلا کا فارم ہاؤس جل گیا۔جب متعلقہ حکام وہاں پہنچے تو انہیں وہاں بیلا کے تین بچوں کی لاشیں ملیں۔جن میں فلپ گینس کی لاش بھی تھی۔

ان لوگوں کو تہہ خانے میں ایک عورت کی بنا سر کے لاش بھی ملی جسے بیلا کی لاش سمجھا گیا۔

مقامی حکام نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ بیلا کو قتل کر دیا گیا ہے۔لیکن آگ لگنے کے کہیں دن بعد Asle Helgelien اپنے بھائی اینڈریو کی تلاش میں نکلا۔اینڈریو ان لوگوں میں سے ایک تھا جو بیلا گینس کے چنگل میں پھنسے تھے۔

Asle Helgelien 

مشکوک اس لیے ہؤا کیونکہ وہ اپنے بھائی اینڈریو اور بیلا کی خط و کتابت سے آگاہ تھا۔ اسے مکمل یقین تھا کہ اس کا بھائی گمشدہ نہیں ہوا بلکہ بیلا نے ہی اسے قتل کیا تھا۔

یہ شک اسے تب ہوا جب ایک بینک ریکارڈ سے اسے معلوم ہوا کہ اینڈریو نے تین ہزار ڈالرز کا ایک چیک کیش کروایا تھا۔انیس سو آٹھ میں تین ہزار ڈالرز کافی بڑی رقم تھی۔اس نے کاؤنٹی شیرف پر اس فارم کو تلاش کرنے کےلئے دباؤ ڈالا جس کا اینڈریو کے خطوط میں ذکر تھا۔فارم کا پتہ چلنے پر اس نے ایک کسان کے ساتھ فارم کا جائزہ لیا۔کچھ مشکوک جگہوں پر کھدائی کرنے کے بعد انہیں ایک جگہ ایک بوری ملی۔جس میں دو ہاتھ،دو پیر اور ایک سر تھا۔

ایسلے ایلگلین نے اس سر کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ اس کے بھائی کا ہے۔ دو دن کی مزید کھدائی کے اور کئی بند بوریاں ملی۔جن میں سر،کندھوں سے علیحدہ کیے ہوئے بازوں اور گھٹنوں سے نیچے کاٹی گئیں ٹانگیں موجود تھیں۔بیلا گینس نے اس معاملے میں کسی پیشہ ور قصائی جیسی مہارت دکھائی تھی۔ملنے والی اکثر لاشوں کی شناخت مشکل تھی لیکن ان میں سے ایک کی با آسانی شناخت ہو گئی۔

یہ لاش جینی کی تھی جو کہ بیلا گینس کی رضاعی بیٹی تھی اور انیس سو چھے سے لا پتہ تھی۔

اخبارات کے لیے یہ ٹاپک "ہاٹ کیک", ثابت ہوا۔حالانکہ اس سے پہلے وہ بیلا گینس کو ہیرو کے طور پر پیش کر رہے تھے۔جو آگ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہلاک ہوئی۔

جلد ہی وہ " انڈیانا کی ڈائن " “Female Bluebeard,”

جیسے ناموں سے مشہور ہو گئی۔ رپورٹرز نے اس کے فارم کو "ڈیتھ گارڈن" کا نام دیا۔

دوسری طرف عام لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ بنا سر کے ملنے والی لاش بیلا گینس کی ہی ہے۔وہ زندہ بھی ہو سکتی تھی کسی نئی جگہ پر نئے شکار کی تلاش میں۔

لیکن تحقیقاتی ارکان نے دوبارہ انکوائری کر کے کچھ پروف اکٹھے کیے اور بتایا کہ بنا سر کے ملنے والی لاش بیلا گینس کی ہی ہے۔

 

بیلا کے علاؤہ لوگوں کا دھیان اس کے پاس کام کرنے والے کسان Ray Lamphere پر بھی گیا۔کچھ عرصہ کے لیے وہ بھی مشکوک رہا۔کیونکہ اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا تھا لیکن اس لیے کسی کو اطلاع نہیں دی کہ لوگ اسے اس کا ذمہ دار نہ سمجھیں۔

لمپئیر پر مقدمہ چلنے کے دوران میڈیا پر اس کے بارے دو مختلف آرائیں قائم ہو گئیں۔

پہلی رائے یہ تھی کہ لمپئیر کو زبان کھولنے سے منع کیا گیا تھا اور دوسری رائے یہ تھی کہ لمپئیر اس سب سے مکمل طور پر غافل تھا۔

لمپئیر کے مطابق اس نے ایک سیدھی سادی زندگی گزاری تھی۔وہ شراب نوشی کا شکار تھا لیکن اس کے ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ بیلا گینس کے جرائم میں شریک تھا۔

لمپئیر کو پہلے صرف غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا کیونکہ بعد میں ہونے والی تحقیق میں ایک کیمیاء دان نے بیلا گینس کے بچوں کی باقیات میں سے اسی زہر کے نمونے پائے جو بیلا استعمال کرتی تھی۔لمپئیر قتل کے الزام سے تو بچ گیا لیکن آتشزدگی کے مقدمے میں وہ خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکا اور اسے اکیس سال کی سزا سنائی گئی۔کیونکہ کسی کے بھی گھر کو جلا دینا چاہے وہ کسی قاتل کا ہی گھر کیوں نہ ہو،سنگین جرم تھا۔

ایک سال قید میں گزارنے کے بعد لمپئیر تپ دق کی وجہ سے انتقال کر گیا۔لیکن مرنے سے پہلے اس نے پادری کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ "اینڈریو" کے قتل کا گواہ تھا۔اس نے بیلا گینس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور اس سے رقم کا مطالبہ کیا۔لیکن بیلا نے اسے صاف انکار کر دیا۔اور جب وہ اپنا سامان لینے کے لیے کھیتوں میں گیا تو بیلا نے اس پر ریپ کا الزام لگا دیا۔

مگر سب سے دلچسپ بات جو اس نے بتائی وہ یہ تھی کہ عمارت کو آگ لگنے سے پہلے وہ ایک نوکرانی کو شکاگو سے یہاں لایا تھا۔

جبکہ عمارت کے جلنے کے بعد وہاں سے صرف ایک عورت کی لاش ملی تھی،وہ بھی بنا سر کے۔۔

دو ہزار آٹھ میں بھی اس کیس سے متعلقہ مزید کچھ ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے لیکن وہ بھی لاحاصل رہے۔لہذا یہ کنفرم نہیں ہو سکا کہ بنا سر کے ملنے والی لاش بیلا گینس کی ہی تھی یا کسی اور کی۔۔

اس کی زندگی اور موت سے متعلق مختلف تھیوریز گردش کرتی رہیں۔جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بیلا نے ایسا کیوں کیا!

ایک آئرش ٹی وی کی ڈاکومنٹری کے مطابق 1877 میں بیلا نے ایک ڈانس شو میں اس وقت شرکت کی جب وہ حاملہ تھی۔

وہاں ایک شخص نے اس کے پیٹ پر لات ماری جس کے نتیجے میں اسے اسقاط حمل کے عمل سے گزرنا پڑا۔

وہ شخص کافی امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس لیے اسے اپنے عمل پر کسی بھی قسم کی کاروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اس شخص کی اس کے بعد جلد ہی موت واقع ہو گئی۔لیکن اس چیز نے بیلا پر گہرا اثر ڈالا۔ جو لوگ اسے جانتے تھے انہوں نے اس کی شخصیت میں کافی تبدیلی محسوس کی۔اس حادثے کے کچھ سال بعد ہی بیلا گینس امریکہ منتقل ہو گئی تھی۔

Comments




POST A COMMENT