ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

2020-05-18 19:41:10 Written by رض ہو چغتائی

" دی گاڈ فادر"ایک مشہور زمانہ کرائم ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دھائی میں لکھا تھا بتاریخ 10 مارچ 1969ء کو شائع ہوا۔

ناول کے شروع ہی میں فرانسیسی ناول نگار بالزاک کا فقرہ نظر آتا ہے۔

"Behind every great fortune there is a Crime".(اس جملے کو انگلش میں ہی انجوائے کرنے کی کوشش کیجئے)

 

ہمارے بیشتر قاری اس لافانی فقرے کو ماریو پوزو کی تخلیق گردانتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے، یہ جملہ بالزاک کا ہے جو انہوں نے کتاب کے آغاز میں اس وقت لکھا تھا جب انہیں پروف ریڈنگ کے لیے ناول پیش کیا گیا تھا۔۔!

ماریو پوزوجب یہ ناول لکھ رہے تھے تو ان کے حالات بے حد خراب تھے، وہ سسلین مافیا پر لکھ رہے تھے یہ ایک ایسا موضوع تھا جو اس وقت کاسب سے بڑا مسئلہ تھا، جس پر بڑے بڑے قلم کار اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کے قلم کی سیاہی کہیں ان کی زندگی کو ہی سیاہ نہ کر دے۔

 عجیب بات یہ ہے کہ اس بات کی بھنک پیراماؤنٹ پکچرز کے مالکان کے کانوں میں پڑ گئی، وہ فورا ماریو پوزو کے پاس پہنچے اور اسی ہزار ڈالر میں وہ ساٹھ صفحوں کا نامکمل مسودہ خرید لیا اور اس طرح اس پر فلم بنانے کا ارادہ کر لیا۔۔

اس بات پر ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ سسلین مافیا ایسی کیا ٹرم ہے کہ جس پر قلم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔۔۔جس کی اتنی اہمیت تھی کہ نا مکمل مسودہ خرید لیا گیا۔۔۔تو مافیا کی وضاحت یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جنوبی اٹلی میں، خاص طور پر سسلی کے جزیرے میں، مجرموں نے اپنے اپنے گروہ بنا لئے تھے۔ پھر ان سب گروہوں نے باہم متحد ہو کر ایک انجمن سی بنا لی۔ اسی کو مافیا کہتے ہیں۔

یہ مافیا اتنا طاقتور ہو گیا کہ کاروباری افراد، باغات کے مالک، کارخانہ دار، کرنسی کا کام کرنے والے، سب انکے محتاج ہو کر رہ گئے۔ جو مافیا ”معاملہ“ طے نہیں کرتے تھے اُنکی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں تھی اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا تھا۔ دو بہادر مجسٹریٹوں جوانی فالکن اور پا ¶لو برسلینو نے مافیا پر ہاتھ ڈالا لیکن 1990 کی دہائی میں دونوں کو قتل کر دیا گیا۔اٹلی سے امریکہ کی طرف ہجرت کی لہر چلی تو مافیا کی شاخ امریکی ساحلوں پر بھی پہنچ گئی۔ وقت گزرنے کےساتھ ساتھ امریکی مافیا کی جو دراصل اطالوی ہی تھے ایک آزاد تنظیم بن گئی۔ یہ اور بات کہ سسلی کے جرائم پیشہ گروہوں کےساتھ یہ تعاون کرتی تھی۔ 

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امریکہ کے چھبیس شہر مافیا کا شکار ہو کر رہ گئے۔ شکاگو، بوسٹن، پٹس برگ، فلاڈلفیا، نیو جرسی، نیویارک، میامی، لاس ویگاس اور کئی دوسرے شہروں میں جرائم کی زیر زمین تنظیموں نے پولیس کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ صرف نیویارک میں پانچ جرائم پیشہ فیملیز کام کر رہے تھیں(انہی فیملیز کا ذکر آگے ناول میں آئے گا)یہ اور دوسری فیملیز مافیا کی ماتختی میں ہوتے ہیں۔ خاندان کا سربراہ مافیا کے اجلاس اٹینڈ کرتا ہے۔ سربراہ کو باس یا ڈان کہا جاتا ہے۔ خاندان کا جو رکن بھی واردات کرےگا اس میں سے باس کا ”حصہ“ باس کو پہنچایا جائےگا۔ باس کا انتخاب ووٹوں سے ہوتا ہے لیکن عام طور سب کو معلوم ہی ہوتا ہے کہ اگلا باس کون ہو گا۔ باس کے بعد دوسری طاقتور شخصیت کو ”انڈر باس“ کہا جاتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ خاندان کے روزمرہ کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔ باس کے بعد اس کا بھی ہر واردات یا کاروبار میں مقررہ حصہ ہوتا ہے۔

مافیا کے قوانین دلچسپ ہیں اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ اہم ترین قانون ”اُمرتا“ ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ کسی صورت میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کچھ نہیں بتانا۔ دوسرا قانون یہ ہے کہ مکمل رکن ہونے کیلئے اطالوی نسل سے ہونا لازمی ہے۔ ہاں، رفیق یا پارٹنر کوئی بھی سکتا ہے۔ ایک اصول یہ بھی ہے کہ کسی دوسرے خاندان سے اپنے خاندان کے کاروبار کا ذکر نہیں کیا جائےگا۔ ارکان ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کرینگے۔ قتل کی صورت میں باس کی اجازت کے بغیر بدلہ نہیں لیا جائےگا۔ سب سے زیادہ دلچسپ اصول یہ ہے کہ خاندان کے اندر، کوئی ممبر، کسی دوسرے ممبر کی بیوی کو بُری نظر سے نہیں دیکھے گا۔ مونچھیں یا داڑھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ہم جنسی کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ مافیا کی سزائیں بھیانک ہوتی ہیں۔ قتل کرنے کے بعد کبھی کبھی ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ایک بار نیویارک کے مافیا نے اپنے ایک دشمن کو قتل کیا تو اُسکے منہ میں مردہ فاختہ ٹھونس دی۔ ایک ممبر کو، جو وارداتوں میں سے باس کو حصہ نہیں دے رہا تھا، قتل کر کے اسکے جسم میں تین سو ڈالر ٹھونسے گئے، اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص لالچی تھا۔۔۔

فیملیز اور مافیا کا تعلق سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ کہانی مافیا فیملیز کے کے درمیان گھومتی ہے۔۔۔

اس میں 1954تا 1955کے عرصہ تک کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تاہم درمیان میں کہانی کے مرکزی کردار یعنی وائیٹو کورلیون کے بچپن اور جوانی کے زمانے کو بھی فلیش بیک میں بیان کیا گیا ہے۔جس سے یہ واضح کیا گیا کہ کہانی کا مرکزی کردار جرائم کی دنیا میں داخل کیسے ہوا۔ اطالوی زبان میں وائیٹو کورلیون کا مطلب ہے لائن ہارٹ۔یعنی شیر کا دل۔ ”گاڈ فادر“کی کہانی میں کورلیون ایک ڈان ہے اور اپنے پورے خاندان کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔اس ناول کے زیادہ تر واقعات حقیقت پر مبنی ہیں یہ مسلسل جدوجہد اور حوصلے کی کہانی ہے جو آپ کو عملی دنیا میں زندہ رہنے کے رازوں سے آشنا کرے گی۔ یہ ناول ایک ایسی دنیا کی کہانی ہے جس میں کوئی کسی پر رحم نہیں کرتا اور جس میں صرف طاقت ور کو ہی زندہ رہنے کا حق ہے۔ اس ناول میں ذہانت،فراست،ڈپلومیسی،گن فائٹ،چالاکی،بہادری،محبت اور مافیا کی زیر زمین سفاکیاں عمدگی سے بیان کی گئی ہیں۔

 گاڈ فادر کا اصل نام ویٹو ویٹلینی تھا جو کہ اٹلی کے ایک گاؤں کارلیون میں رہتا تها۔ ویٹو کے باپ کو مافیا کے چیف نے قتل کر دیا تو وہ اٹلی سے جان بچا کر نیو یارک بھاگ گیا لیکن یہاں بھی اسے مافیا نے سکون نہ لینے دیا ویٹو نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید نہیں بھاگے گا اور اپنی دنیا خود تعمیر کر کے اس کی بادشاہی کرے گا۔ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو ویٹو سے ویٹو کارلیون بنا اور پھر امریکہ کا خطرناک ڈان بن گیا ویٹو بہت فطین تھا اور اس نے اپنی فطانت سے امریکہ کی پانچ مافیا فیملیز کو گهٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

اس کے دو بیٹے سینٹینو اور مائیکل بھی اس دھندے میں اس کے ساتھ پوری طرح ملوث ہیں۔ ڈان ہونے کی وجہ سے کورلیون کے بہت سے دشمن بھی ہیں اور کاروباری رقابتیں بھی اپنا پورا رنگ دکھاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک رقابت کا نتیجہ کورلیون کے قتل کی سازش صورت میں سامنے آتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے اس کی جان تو بچ جاتی ہے لیکن وہ کوئی انتظامات سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتا، اس طرح پورے خاندان کا بوجھ اور باپ کے کاروبار کا بوجھ دونوں بیٹوں کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔ 

وہ یہ کام اپنے دو ساتھیوں پیٹر کلیمنزا اور سیلوا ٹور ٹیسیو کی مدد سے کرتے ہیں۔ مائیکل جب اپنے باپ کے قاتل سولوزو اور اس کے ساتھ ایک ڈرگ لارڈ کے لئے کام کرنے والے آئرش پولیس افسر کیپٹن میک کلسکی کو قتل کرتا ہے تو دونوں مافیا گینگز کے درمیان مکمل جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک بھائی سینٹینو قتل کر دیا جاتا ہے اور اپنے گینگ کی ذمہ داری مائیکل کو اٹھانا پڑتی ہے۔مائیکل خود کو سدھارنے اور اپنے کاروبار کو قانونی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن حالات کی دلدل میں وہ اتنا گہرا دھنس چکا ہوتا ہے کہ باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بے رحم اور جنونی بن جاتا ہے۔اسکی دہشت ذہانت اور سفاکی ان چاروں فیملیز کو اپنے بلوں میں چھپنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ اپنے خاندان کے تمام دشمنوں کا خاتمہ ایک رات ایسے کرواتا ہے کہ ذہانت دنگ رہ جاتی ہے اور اپنے بھائی کے قاتل کے لیے ایسی سزا تجویز کرتا ہے کہ ایک لمحہ کے لئے جسم میں سنسنی دوڑ جاتی ہے,بھائی کا قاتل کون ہے؟ خاندان کی ایک اہم شخصیت "۔۔۔"

اس کے بعد مائیکل نیو یارک سے شفٹ ہوتا ہے اور اپنے کاروبار کو کس طرح آگے بڑھاتا ہے قاری کے لیے ذہانت اور فراست کے نئے دور کھولتا ہے۔۔۔محمود احمد مودی صاحب نے اس کے ترجمہ میں ایسی کمال زبان استعمال کی ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ہندوستان کی کوئی ایکشن مووی دیکھ رہے ہیں اور کوئی دادا بھتہ وصول کرنے سے ذیادہ ہیرو گری کرتا نظر آ رہا ہو، انہوں نے 207 صفحات پر ایک ایسا فن پارہ لکھا ہے شاید انگلش زبان میں پڑھنے والے اس قدر لطف اندوز نہ ہوں جس قدر اردو تحریر کی روانگی نے اور لمحہ بہ بدلتے انداز نے اپنے ساتھ جکڑے رکھا۔۔

میں پورے اعتماد سے کہہ سکتی ہوں دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے آپ ایک ہی نشست میں پڑھ کر ہی دم لیں گے کہ مائیکل ہے کیا چیز آخر؟؟

اور ہم اس بات کو کیسے اگنور کر سکتے ہیں جب عدالت عظمیٰ نے "پانامہ سکینڈل کا فیصلہ سنایا تو آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا،اور ہمارے سابق وزیر اعظم نے اس کو جیل میں منگوا کر پڑھا کہ مجھے جج صاحب نے ڈان کے مماثل کہا یا گاڈ فادر کا لقب دیا؟؟

جی ہاں یہی جاننے کے لئے ابھی قاف قلم سے جلد رابطہ کریں اور لنک حاصل کریں اور بتائیں کتنی نشستوں کی ضرورت پڑی اس دادا گری سے نمٹنے کے لیے۔۔۔!!!