تبصرہ : شبنم شاہد
ناول : جنت کے پتے
جنت کے پتے ناول واقعی زبردست رہا۔ پڑھ کر انسیت سی ہو گئی اس ناول سے۔ جس کا اثر زائل ہونے میں کافی وقت لگا۔ سب سے پہلے تعریف کروں گی اس ناول کی۔
شروع میں پڑھ کر ایسا لگ سکتا ہے جیسے بھوت آسیب کا چکر ہو۔ مگر لکھا انتہائی شاندار ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں منڈلائی تھی کہ عبدالرحمان اور ڈولی جہان سکندر ہی ہیں۔ جہان سکندر کا کردار بہت اچھا تھا۔ بےشک وہ تھوڑا غصے والا تھا مگر پھر بھی اچھا انسان تھا۔ حیا کے ساتھ وہ یوں بات کرتا تھا جیسے وہ اسے جانتا ہی نہ ہو۔ یہ بات مجھے بہت ہی چبھتی تھی۔ جہان شروع شروع میں لاپرواہ اور بدتمیز انسان لگتا تھا مگر بعد میں واقعی یہ غلط فہمی دور ہو گئی۔ اس نے کس طرح اپنی
زمیداری نبھائی اور سب سے بڑھ کر اپنے ماموؤں کو بھی معاف کیا۔ حالانکہ یہ بڑے ظرف کی بات تھی۔ اس نے دل سے انہیں معاف کیا یہ بات اس میں خوب تھی۔ زبردست سین تھا وہ جب ولید اور اس کے باپ کے سامنے وہ خود کا تعارف کرواتا ہے۔ حیا کہ ساتھ ساتھ ہمیں بھی دھچکا لگا۔ خوشی کا دھچکا ! بیچاری حیا کا جنجر بریڈ بھی توڑا غلطی سے اور سب سے ہنسی والی بات کے حیا ہر بار اس پر غصے کچھ توڑ پھوڑ دیتی تھی۔ تب مسکراہٹ چہرے پر آ جاتی تھی۔ کبھی جوس تو کبھی سلش۔
حیا کی سوچ شروع شروع میں بہت بری تھی۔ خود کو ڈھکے بنا ہی وہ باہر چلی جایا کرتی تھی۔ ان سب چیزوں کو وہ برا نہیں سمجھتی تھی۔ اس کے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے اس کے کزن بھی اس کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اسے سب سمجھ آتا گیا۔ وہ خود کو ڈھانپنا بھی شروع ہو گئی۔ سب کچھ چھوڑ دیا صرف اللّٰه کے لیے اور ایک اچھی مسلمان بننے کے لیے۔ اس کی تمام مشکلات بھی دور ہوتی گئیں۔ جو جو اس نے کیا اس کے لیے واقعی ہمت چاہیے ہوتی ہے اور لوگوں کو فیس کرنے کے لیے بھی۔ فرقان تایا نے بھی اسے کتنا غلط سمجھا تھا۔ سب سے بڑھ کر حیا نے بزنس بھی سنبھالا تھا یہ بات بہت ہمت کی تھی۔ سلیمان کی طبیعت خراب کے بعد فرقان کے دل میں بھی لالچ ابھر گئی یہ بلکل بھی اچھی بات نہیں تھی۔ ہر کردار ہی اچھے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ڈی جے کا کردار یاد گار ہی رہے گا۔ وہ بہت ہی مزاحیہ لڑکی تھی۔ جس کی موت کا بےحد صدمہ دل کو پہنچا تھا۔ اس کی بات " انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک وہ خود ہار نہ مان لے " ابھی تک دل میں موجود ہے۔ اس ایک جملے نے واقعی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس جملے کو سوچ کر یوں لگتا ہے جیسے ہمت مل رہی ہو۔ اس نے اپنے ہر ڈائلاگ میں ہی چہرے پر سمائل بکھیر دی۔ نام بھی بہت ہی اعلی تھا " ڈے جے " سوٹ کرتا تھا اسے۔ ہالے نور کو بھی ٹھیک جواب دیتی تھی اور ٹالی سے اسکا جلنا بہت ہی مزاحیہ تھا۔ سب سے کیوٹ کردار ڈی جے کا ہی تھا۔
عائشے گل کا کردار سب سے خوبصورت تھا۔ نہایت ہی اچھی لڑکی تھی وہ۔ اس نے ہی حیا کو بدلنے میں مدد دی۔ یہ منظر تکلیف دہ تھا کہ اسے بھی جہان سے محبت ہو گئی۔ حیا کی وجہ سے ہی وہ اس سے دور ہو گئی۔ یہ بات بھی اس کی اچھائی کا ثبوت تھی۔ اپنی بہن کو بھی بہت اچھے سبق سکھاتی رہی وہ۔ ایک اچھی بہن کا کردار بھی بہت خوب نبھایا اس نے۔ واقعی اپنے سے چھوٹی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ سبق سکھانے چاہیئیں تا کہ وہ اچھی مسلمان بنیں۔ یہ بات میں نے بھی سیکھی ہے۔
جہان کے کردار کو تو بیان کرنے کے لیے لفظ نہیں ہیں۔ مگر جیسے اس نے حیا سے بےرخی برتی تھی غصہ ہی آتا تھا۔ حیا کہ پیچھے بہت لوگوں کو لگایا اس نے۔ سب سے بڑھ کر عبدالرحمان بن کر بھی اس کو پریشان کیا۔ خیر یہ تو معلوم ہے کہ اس کا مقصد حیا کو تنگ کرنا نہیں تھا۔ حیرت تو یہ پڑھ کر ہوئی تھی کہ بہارے گل جہان سے شادی کرنے کی بات کر رہی تھی۔ ماموؤں کو معاف کر کے بھی اس نے بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا۔ ملک کی خدمت کی جبکہ اس کے بر عکس اس کے باپ نے غداری کی تھی۔ جہان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ پرفیوم کے اصلی نقلی ہونے کی بھی پہچان سمجھ میں آ گئی۔
ہالے نور بھی ایک اچھی لڑکی تھی۔ معتصم کا کردار بھی اچھا تھا اس نے حیا کی بہت مدد کی تھی۔
جہاں تک ولید اور حیا کی کزن ارم کی بات ہے ان کا تو ذکر کرنے کا دل ہی نہیں چاہتا۔ ارم اور ولید دونوں بلکل بھی اچھے نہیں تھے۔ دونوں نے حیا کے ساتھ بلکل بھی اچھا نہیں کیا۔ جہان نے جو سی ڈی بدلنے کا کام کیا وہ نہایت زبردست تھا۔ ارم کا تو چہرہ دیکھنے والا ہو گا۔ جہان کو حیا کے آئی لو یو کا جواب بھی دینا چاہیے تھا۔
ناول کے آخر میں عائشے اور بہارے کی بہت یاد آئی۔ یہ ناول ہمیشہ ہی یاد رہے گا۔ خوب لکھا ہے۔
تنقید یہی کہ جہان کو سب کچھ ہی پتہ چل جاتا تھا۔ جیسے کہ حیا اس کے گھر کے باہر آ گئی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سارے بندے ہی اس کے اپنے تھے حیا کہ ساتھ۔ اور وہ وہاں وقت پر بھی پہنچ گیا جہاں حیا کو لوگوں نے باندھا اور اس کے سر پر ویکس ڈالی تھی۔ بس یہ باتیں حقیقت سے دور لگیں۔ اور دوسری بات نہ ہی کبھی جہان نے اسے آئی لو یو کہا اور نہ ہی کبھی بےچاری کا ہاتھ پکڑا۔ اب بندے کو اتنا تو سنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔ خیر واقعی یہ سب یادگار رہے گا۔ کاش کہ اس کا دوسرا پارٹ بھی آ جاتا تو کیا ہی مزہ آتا۔