ادبی بحث
جب سے فیس بک کے ادبی گروپس میں ایڈ ہوا ہوں میں نے
بہت مخصوص قسم کی بحث دیکھی ہے یہاں۔۔
رائٹرز پر ہونے والی اس بحث کا مقصد ویسے تو
اپنی اپنی رائے دینا ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ چنگا
بھلا جھگڑا بن جاتا ہے۔۔میں اس طرح کی باتوں
میں دخل دیتا ہوں مگر کم کم۔۔کیونکہ فیس بک یوز
کرنے کے ابتدائی دور میں ہم ویرات کوہلی اور اے
بی ڈویلئرز والے جھگڑے نمٹا چکے ہیں۔۔جہاں ہر
پانچ منٹ بعد بات گالیوں پہ ختم ہو جاتی تھی۔۔چلو
یہاں تو پھر بھی خیر ہے۔۔ویسے میں نے فیس بک
پر نوٹ کیا ہے۔۔یہاں بحث میں کوئی ہارتا جیتتا
نہیں۔۔ایک اپنی بات پر ڈٹ جاتا ہے پھراسے وہاں
سے آرمی بھی نہیں ہلا سکتی۔۔چلو آئیں آج ذرا آپ
کو بتاؤں۔۔ادبی گروپس کے چند مشہور
جھگڑے۔۔۔
1۔ مظہر کلیم اور صفی صاحب
اس بحث کا جنم جنم اور نسل نسل کا ساتھ ہے۔۔آج
کل یہ معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہے مگرکب تک رہے گا یہ
کوئی نہیں جانتا۔۔صفی صاحب کے فین مظہر کلیم
کو رائٹر ہی نہیں مانتے اور مظہر کلیم کے فین
کہتے ہیں۔۔کہ اس نے عمران کو بہت ہائی لیول تک
پہنچایا۔۔اب میں مزے کی بات بتاتا ہوں۔۔سو میں سے
پچانوے فیصد لوگوں نے ایک رائٹر کو پڑھا ہے۔۔
دوسرے کو پڑھا ہی نہیں۔۔تین فیصد لوگوں نے
دونوں کو پڑھا ہے اور باقی دو فیصد نے کسی کو
نہیں پڑھا یہ بس فسادی ہیں جو صرف جھگڑا
کروا کر خود ایک سائیڈ پر ڈھم ڈھما ڈھم کرتے
ہیں۔۔۔میرا خیال ہے بحث صرف وہ لوگ کر سکتے
ہیں جنہوں نے دونوں کو پڑھا ہو۔سمجھا ہو۔۔اور
پھر بات کی ہو۔۔باقی تو صرف ایک مرید کی طرح
اپنے پیر کی سپورٹ ہی کریں گے۔۔وہ بحث نہیں
ڈھٹائی بن جاتی ہے اور بندہ بندہ نہیں رہتا بلکہ
اپوزیشن بن جاتا ہے۔۔۔اس لیے یہ بحث اکثر بغیر نتیجے
کے ختم ہو جاتی ہے۔۔ایسی بحث کی یہ بات اچھی
ہے کہ بہت کم یہ بحث گالیوں تک جاتی ہے۔۔اور
گالیاں بھی بڑی ادبی ہوتی ہیں۔۔
2۔ نمرہ احمد۔
عمیرہ احمد
یہ بڑی زنانہ بحث ہوتی ہے۔۔اکثر اس بحث میں یہ ڈر
رہتا ہے کہ سامنے والی لڑکی ابھی منہ بنانے والی
ایموجی بھیج کر انگلش میں کہے گی’’آئیم لیونگ
دس گروپ۔۔‘‘ اور بس ڈھم ڈھما ڈھم۔۔اس بحث
صرف وہ بندہ پڑے جسے گھر میں کوئی کام نہ ہو۔۔
کیونکہ سامنے والیوں نے بریانی کو دم دے کر آرام
سکون سے پانچ چھے کمنٹ کرنے ہیں۔۔پھر بچوں
کا سلا کر دوبارہ شروع ہو جانا ہے۔۔۔اس لیے وہ بندہ
جسے گھر میں کوئی کام ہو۔۔وہ اس بحث میں ہار
جائے گا۔۔اب اس بحث میں پڑنے والے بھی کئی
قسم کے لوگ ہیں۔۔کچھ وہ جنہوں نے صرف ایک
کو پڑھا۔۔کچھ نے دونوں کو جبکہ کچھ ایسے ہیں
جنہوں نے چند اقتباس پڑھ کر اندازہ لگایا ہوتا ہے کہ
نمرہ اور عمیرہ نے مذہب کا تڑکا لگایا ہے۔۔کچھ
میرے جیسے فسادی ذہن کے ہوتے ہیں۔جو لڑکیوں
اور خواتین کو آپس میں لڑتا دیکھ کر خوشی
محسوس کرتے ہیں۔۔اور اگر ان میں سے اپنی کوئی
دوست ہو تو۔۔دلیل دیے بغیر کہتے ہیں’’یار چھوڑو
اس بحث کو۔۔کیوں اپنا وقت کررہی ہو۔۔‘‘اس بحث
میں زنانہ دلائل بڑے کامیاب ہوتے ہیں یعنی’’ مجھے
پتہ ہے تم نے یہ پوسٹ میری نند کی چاچی کی
پھپھی کی نانو کی پڑوسن کی وال سے چرائی ہے
ہاں۔۔‘‘اور کچھ تو اتنے جذباتی کمنٹ کرتی ہیں۔۔
یقین مانیں آنکھ میں آنسو آ جاتے ہیں۔۔۔’’ نمرہ کو
میں نے پڑھا۔۔اس نے مجھے نقاب کی اہمیت
بتادی۔۔میں سدھر گئی۔۔‘‘ ہائے توبہ۔۔خیر یہ بحث
کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔۔کبھی آوارہ گردی کر کے
دیکھیں کسی جگہ پر یہ بحث ضرور ہو رہی
ہوگی۔۔
3۔ مزاح نگاروں کی بحث
میرا خیال ہے سب سے کام کی یہ بحث ہوتی ہے۔۔
کیونکہ بہت کم لوگ ہیں جو مزاح نگار کو پڑھتے
ہیں۔۔اور جس نے جس کو پڑھا ہو۔۔دوسرے کو کچھ
ایسے مشورہ دیتا ہے’’اس کو نہیں پڑھا۔۔پھر تو
کسی کو نہیں پڑھا۔۔۔‘‘ اور کوئی ایسا ہوتا ہے جس
نے کسی کو نہیں پڑھا ہوتا تو ایسے سر جھکاتا ہے
جیسے فریج میں سے فروٹ چوری کرتے ہوئے پکڑا
گیا ہو۔۔اس طرح کی بحث میں دلائل بھی بڑے مزے
کے ہوتے ہیں۔۔’’ ارے بھائی اب ہر بندہ ایسا مزاح تو
لکھ نہیں سکتا کہ تیرا منہ چوسے آم جیسا ہے۔۔
کچھ مشتاق صاحب جیسے ہیں۔۔جنہوں نے طنزیہ
انداز میں لکھا ہے۔۔‘‘اور دوسرا کہے گا’’ ارے جائیں
بھائی۔۔جو مزہ شفیق الرحمان صاحب کی سادگی
میں ہے۔۔وہ مشتاق صاحب کی معنی خیزیت میں
کہاں؟۔۔۔‘‘یوں یہ بحث مزے مزے کے کمنٹس لیے
ختم ہو جاتی ہے۔۔
4۔ منٹو
یہ بحث ایک سال پہلے منٹو صاحب کے ایک ناکردہ
جرم کی سزا میں شروع ہوئی۔۔۔کچھ نامعقول
لوگوں نے ان کا ایک افسانہ’’بو‘‘ یونیورسٹی کے
نصاب میں شامل کر لیا ہے۔۔۔انٹرنیٹ پر سرچ کریں تو
یہ افسانہ ڈرامے کی شکل میں یوٹیوب پر بھی
موجود ہے اور اس کا انگلش ترجمہ بھی ایک ویب
سائٹ پر ہے۔۔خیر اب بحث میں دو طرح کے لوگ ہیں
ایک وہ جو منٹو کو معاشرے کی تلخ سچائی بتانے
کی وجہ سے درست سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے
وہ جو انہیں فحش کہتے ہیں۔۔مزے کی بات یہ ہے
کہ اسی فیصد لوگوں نے اس افسانے کا صرف وہ
ایک صفحہ پڑھا ہے جو فیس بک پر گھوم رہا ہے۔۔
اور یہی لوگ اس جھگڑے کو بلاوجہ بڑھا رہے
ہیں۔۔منٹو کو بھی گالیاں دی جارہی ہیں۔۔کچھ لوگ
صرف نام پر تنقید کررہے ہیں۔۔ یونیورسٹی والے سارا
فساد مچا کر خود ڈھم ڈھما ڈھم کررہے ہیں۔۔۔اس
بحث کے دلیلیں ایسی ہوتی ہیں کہ پڑھ کر کان سرخ
ہو جاتے ہیں۔۔۔میں سمجھتا تھا خواتین اس بحث
میں حصہ نہیں لیں گی لیکن سب سے زیادہ تماشا
انہوں نے بنایا ہوا ہے۔ ویسے یہ بحث ساس بہو کی
لڑائی جیسی ہے۔۔بیٹا ماں کی بات سنے تو وہ سچی
لگتی ہے اور بیوی کی سنے تو وہ۔۔کوئی ملنگ ہو تو
آرام سے کہے’’مار آ شیخا ڈھول تے گھائیں۔۔‘‘ ڈھم
ڈھما ڈھم۔۔خیر دیکھیں یہ بحث کب ختم ہوتی ہے
اور بھی بہت سے ایسے جھگڑے ہیں جو کبھی
پھر ڈسکس کریں گے۔۔۔اب تک کے لیے اتنا ہی۔۔۔
شکریہ
ادبی بحث