آغاز تو بسم اللہ

آغاز تو بسم اللہ

آغاز تو بسم اللہ انجام خدا جانے لکھاریوں کے لیے اس مصرعہ کا مطلب” وتوکل علی اللہ“ بالکل بھی نہیں ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ ماضی میں چلے جائیں اور اس دن پر آ کر رک جائیں جب آپ نے پہلی مرتبہ قلم اٹھایا تھا،آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کتنے برسوں سے کتنے مہینوں سے یا کتنے دنوں سے لکھ رہے ہیں۔اب آپ ہر اس جگہ کی تلاشی لینا شروع کر دیجیے جہاں آپ کے خیال میں آپ کا کوئی ”ادھورا کارنامہ“ یا پھر کوئی ”بد بخت مکمل تحریر“ پڑی ہوئی مل سکتی ہے۔یہ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے،آپ کا اسٹڈی روم،آفس،الماری، بیگ،بستر کے نیچے،اسٹور روم کی ناکارہ چیزوں کے بیچ میں کہیں،ڈسٹ بن،کچن کا کوئی کیبنٹ یا پھر آپ کے تکیے کے نیچے،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی تمام فائلز الغرض جہاں جہاں آپ نے اپنی ان تمام کاوشوں کو بکھیر رکھا ہے جو نامکمل ہیں یا پھر ان پر ”ناقابل فروخت“ کی مہر لگ چکی ہے۔آپ کی تمام ادھوری اور ریجیکٹڈ محنت آپ کے سامنے آ جائے گی۔اب یہاں پہ آپ پر ایک دلچسپ انکشاف ہو گا،آپ کو پتا چلے گا کہ آپ کی مکمل بدبخت تحریریں گنتی میں ایک یا زیادہ سے زیادہ دو ہوں گی مگر آپ کے ”ادھورے کارنامے“ گنتی میں ہی نہیں آئیں گے۔آپ کی یہ ادھوری تحریریں در اصل ”آغاز تو بسم اللہ انجام خدا جانے“ کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔آپ نے سو چا ”لکھنا ہے“ اور آپ نے لکھنا شروع کر دیا۔پر کیا لکھنا ہے؟ کیسے لکھنا ہے؟ اس پر آپ نے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔آپ نے سوچا ”شروع کیسے کرنا ہے“ اور آپ نے شروع کر دیا۔آپ نے محبت،نفرت،عورت،مرد،اچھائی،برائی جیسا کچھ بھی سوچا،آپ نے ہیرو ہیروئن کے نام بھی سوچے،کہانی کی دھواں دھار ابتدا بھی سوچی،اور وہ سب سوچا جو کسی کہانی کو شروع کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے مگر ”ختم کیسے کرنا ہے“ اس پر توجہ دینے کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں تھا چنانچہ آپ اس مصرعہ کی لپیٹ میں آ گئے اور ادھوری تحریروں سے ادھورے خوابوں کی تکمیل میں لگ گئے مگر خوابوں کی تکمیل کی بجائے آپ کی اسٹڈی ٹیبل،الماری اور ڈسٹ بن آپ کی ناکامیوں سے بھرنے لگی۔ادھوری تحریر کا دوسرا نام ناکامی ہی ہوتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے یہ جاننے سے پہلے آپ کا ایک لطیفہ ملاحظہ کیجیے۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور ٹریفک جام میں پھنس گیا،گرمی اور پسینے سے بے حال ہو کر اس نے ماں کو فون ملایا اور جھنجلائے ہوئے انداز میں سوال کر دیا۔”اماں جی ایک بات تو بتائیں...جب میں چھوٹا تھا تو آپ میرے لیے کیا دعا مانگا کرتی تھیں کہ میں بڑا ہو کر کیا بنوں؟“ ماں نے واری صدقے جاتے ہوئے کہا۔”میں ہر روز اللہ سے دعا مانگتی تھی...اے اللہ میرا بچہ جہاں بھی جائے اس کے آس پاس گاڑیاں ہی گاڑیاں ہوں“ ٹیکسی ڈرائیور نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔”ماں تیری ادھوری دعانے میرا بیڑا غرق کر دیا“ جب آپ کا پیپر ورک مکمل نہیں ہوتا تب ادھوری تحریر جنم لیتی ہے۔یہ پیپر ورک کیا ہے؟ کہانی کا مرکزی نقطہ،پھر ابتدا،کلائمکس اور انجام،یہ سب لکھنے سے پہلے آپ کے دماغ میں صاف ہونا چاہیے۔ کم از کم اتنا صاف ضرور ہونا چاہیے کہ آپ کہانی کو انجام تک تو پہنچا سکیں۔گڈمڈ اور بکھرے ہوئے خیالات کے ساتھ قلم اٹھا کر آپ خود سے اور قلم سے زیادتی کرتے ہیں،پھر ادھوری تحریریں سینے کا بوجھ بن جاتی ہیں،یہ ہمیں ہماری ناکامی کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔اس لئے قلم ہمیشہ مکمل تحریر کی غرض سے اٹھائیے تا کہ آپ کی لگن اور شوق میں اضافہ ہو نا کہ ایک اور ادھوری تحریر لکھ کر اپنی قسمت پر ماتم کرنے بیٹھ جائیں۔یاد رکھیں..ایک لکھاری کے لیے اس کی ادھوری کہانی ادھوری دعا کی طرح ہوتی ہے جو قبول تو ہوتی ہے مگرغلط منزل تک پہنچا دیتی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو آپ لکھاری بننے کی بجائے ”ردی والے“ بن جائیں۔۔۔لکھتے رہیے۔