رائٹر ہیں تو پینٹر مت بنیں
ہم فرض کر لیتے ہیں کہ دو لوگ کسی سرسبز پہاڑ پر ایک ساتھ کھڑے ہوئے ہیں،ان میں سے ایک رائٹر ہے اور دوسرا پینٹر۔ان دونوں کے سامنے ایک منظر ہے جس میں بارش کے بعد آسمان پر دائیں سے بائیں ایک لمبی سی دھنک دکھائی دے رہی ہے،سورج غروب ہونے والا ہے اور دور اس کی کرنوں کے نیچے کوئی گلہ بان اپنا ریوڑ ہانکتا ہوا گھر کو جا رہا ہے،آسمان پر پرندوں کے غول بھی اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔وہ دونوں اس منظر سے متاثر ہیں،اب پینٹر کے لیے یہ ایک تصویر ہے جسے وہ کینوس پر اتارنا چاہتا ہے،اسے ایسا کرنا بھی چاہیے،مگر رائٹر کے لیے وہ صرف ایک منظر نہیں بلکہ بہت ساری کہانیاں ہیں،مثلاً بارش کی کہانی،دھنک کے سات رنگوں کی کہانی،گلہ بان کی کہانی اور پرندوں کے غول کی کہانی۔پینٹر اس منظر کو ایک تصویر کی شکل میں پیش کرے گا تو داد پائے گا مگر رائٹر ایک صفحے پر یہ سب کچھ بیان کرے گا تو اس کی کہانی شاپنگ بیگ بن جائے گی۔تصویر میں جتنے زیادہ رنگ ہوں وہ اتنی ہی دلچسپ ہوتی ہے مگر لفظ ایک وقت میں صرف ایک کہانی ہی بیان کر سکتے ہیں۔ہم اس بات کو ایک پیراگراف سے سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
” اسے پیاس لگی تھی،اندھیرے میں اس کے قدم کچن کی طرف جانے لگے،کچن میں کھٹکا ہوا تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آن ٹکا،ٹانگیں کانپنے لگیں،اچانک ڈور بیل بجی،وہ الٹے قدموں دوڑتا ہوا دروازے تک پہنچا،سامنے وہ کھڑی تھی،وہ ہمیشہ کی طرح سن سا ہو گیا،اس کی آنکھوں کی معصومیت اور بھولی مسکان اسے کسی اور وادی میں لے جانے لگی،ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اس کے منہ پر پڑا،اچانک پیچھے سے بلی کی ” میاؤں “ کی آواز آئی،اس نے مڑ کر دیکھا تو نوکیلے دانتوں اور اندھیرے میں چمکتی آنکھوں والی بلی اس پر حملے کے لیے تیار تھی،وہ خوفزدہ ہو کر چلایا اور اس کی آنکھ کھل گئی “
اب اگر آپ سے سوال کیا جائے کہ آپ اس پیراگراف کی مدد سے بتائیں کہ کہانی ” شعاع “ کی ہے ” جاسوسی “ کی ہے یا ” ڈر “ دائجسٹ کی ہے تو آپ کیسے بتائیں گے؟یہ میں نے ہاتھ ہلکا رکھا ہے ورنہ حال ہی میں جو کچھ میں نے پڑھا ہے اس کے بعد دو دن تک میرے دماغ کی نسیں موٹی پتلی ہوتی رہیں۔کہانی لکھنے سے پہلے خود سے پوچھ لیں کہ بھئی آپ کیا کرنے والے ہیں؟ قارئین کو خوفزدہ کرنے والے ہیں،ان کے جذبات ابھارنے والے ہیں یا پھر انہیں پر اسرار وادیوں میں دھکیلنے والے ہیں،آپ سب کچھ ایک ساتھ کریں گے تو قارئین بدک جائیں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ آپ آل راؤنڈر بننے سے پہلے کسی ایک میڈیم میں اپنا لوہا منوا لیجیے،ہر فن مولا بننے کی کوشش میں آپ رائٹر سے پینٹر بن جائیں گے،پھر آپ کی کہانی میں اتفاقات کی بھرمار شروع ہو جائے گی،کہانی ضرورت سے زیادہ ڈرامائی ہونے لگے گی اور آپ اپنے مدعے سے توہٹیں گے ہی،اوپر سے کہانی شروع محبت کے احساس سے ہوگی اور انجام بنگالی بابا کے جادو پر ہو گا۔
مجھ سے ملنے ایک جاننے والے آئے،میں سمجھا کسی کام سے آئے ہیں،میں نے انہیں بٹھایا اور دعا سلام کے بعد سوالیہ انداز سے ان کی طرف دیکھا۔انہوں نے شروعات صبح ناشتے کے ذکر سے کی،پھر بائیک میں پٹرول بھروایا،دو تین جنازے پڑھے ایک ولیمہ اٹینڈ کیا،اس دوران لنچ کیا،کچھ دوستوں سے ملے اور ڈنر تک گھر پہنچ گئے۔وہ دو گھنٹے مسلسل بولنے کے بعد جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں جان پایا کہ یہ مجھے اپنے دن کی روداد سنانے آئے تھے جس میں کچھ بھی خاص نہیں تھا۔آپ کہانی کوضرورت سے زیادہ رنگوں سے پینٹ کرنا شروع کریں گے تو آپ کی کہانی بھی میرے جاننے والے کی باتوں جیسی فضول اور بے تکی ہو جائے گی۔
ایک اور بات یہ ہے کہ کہانی کا انجام لکھنے سے پہلے سے اسے ایک مرتبہ پڑھنے کی زحمت بھی کر لیں تا کہ آپ کو خود بھی پتا چل جائے کہ آپ کی کہانی ہے کیا .... اور اس کا انجام لوگ ہضم بھی کر پائیں گے۔میں نے جو کہانی پڑھی اس میں بے شمار کہانیوں کے بعد اتنا سمجھ میں آیا کہ ایک لڑکے سے دو لڑکیاں پیار کرتی تھیں اور آخر میں جناب سے یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ میں کس کی طرف ہاتھ بڑھاؤں تو اس نے خود کشی کر لی۔حد ہے یار ... دونوں کو انکار کر دیتا یا پھر دونوں سے شادی کر لیتا،چار کی اجازت تو ویسے بھی ہے۔تو ایسا ہے کہ پوری کہانی قلم سے لکھنے کے بعد آخر میں راکٹ لانچر مت اٹھا لیا کریں،کہانی کے انجام کو متاثر کن بنانے کا یہ عجیب فارمولا ہے کہ آپ آدھے کرداروں پر بلڈوزر چلا دیں اور جو بچ جائیں انہیں ماتمی لباس پہنا دیں اور آپ کی کہانی کا موضوع ” محبت “ ہو۔کسی کردار کو رخصت بھی کرنا ہے تو اس انداز میں کیجیے کہ پڑھنے والا ” دکھ “ یا ” خوشی “ محسوس کرے،اپنے بال نہ نوچنے لگ جائے۔
” تم دونوں کی محبت کا قرض اب مجھے اپنی جان دے کر اتارنا ہو گا “ لاحول ولا قوۃ
ہماری اماں جان اس کہانی کو پڑھ لیتیں تو ” دھر لخ دی لعنت ای “ تک کہہ ڈالتیں۔آپ بہرحال لکھتے رہیے .....