ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

 

تبصرہ 

ناول : جنت کے پتے

لکھاری : نمرہ احمد 

میں نے جنت کے پتے ناول کا بہت شور سنا تھا تجسس کے مارے پڑھنے کی تیاری پکڑی۔ کہ آخر ایسا ہے کیا۔۔ اور لے کر آئی " جنت کے پتے " کی کتاب پہلے پہلے پڑھنا شروع کیا تو " حیا سلمان " جو بہت ہی آزاد خیال اور حجاب نہ لینے پر خدا کا شکر ادا کرنے والی ایک لاپرواہ لڑکی دیکھائی گئی ..

جنت کے پتے میں جو بہت اہم موضوع ہے وہ ہے " حجاب " حیا سلمان جو پردے کی اہمیت کا انداز نہیں کرتی تھی اسُ پر ایسے ایسے واقعے ہوئے کہ وہ اللہ کی طرف راغب ہوئی بیشک اللہ جسے چاہئے وہ اپنی طرف راغب کرسکتا ہے حیا کو اللہ کی طرف راغب کرنا کا وسیلہ " جہان سکندر " جس نے " میجر احمد " بن کر جنت کے پتوں کی اہمیت بتائی بیشک شوہر کو ایسا ہی ہونا چاہیئے " جہان سکندر " حیا سلمان کی نظروں میں نہ آ کر بھی ہر زندگی کے موڑ پر اسُ کے ساتھ کھڑا تھا اسُ کا سایہ بن کر اس ہی طرح حیا کو حجاب کی طاقت و اہیمت بتانے میں اہم کردار " عائشے گل " بھی تھی جو ہر بات صاف لفظوں میں بتانے والی یہ نہیں کے کسی کے پیچھے پڑھی کہ تم اسکارف لو بلکہ اپنے عمل و لفظوں سے اس طرف راغب کروایا ..

اب آتے ہیں ہمارے " جہان سکندر " کی طرف جو اس ناول کا ایک اہم حصہ ہیں جہان سکندر کی کہانی پڑھ کر مجھے رونا بھی آیا کہ ہمارے ملک کے محافظ فوجی جوان کس کس مشکل و کھٹن راستوں سے گزرتے ہیں واقعی جب تک انسان اسُ کو خودُ کی جگہ پر نہیں رکھتا وہ دوسرے کا درد نہیں سمجھ سکتا جہان سکندر ہماری خوفیہ ایجنسی کا ایک کامیاب " میجر جہان سکندر احمد " جسے زندگی نے ہر دوکھ سے آشنہ کروایا سب سے بڑی خاندان کی نفرت جو انسان کو اندر ہی اندر مار دیتی ہیں کچھ نہ کرکے لوگوں کی نظروں میں مجرم بننا یہ انسان کو کھوکھلا کردیتی ہے سب کے منہ سے " غدار کا بیٹا " سننا اپنے ماموں کے منہ سے اپنے لیئے نفرت بھرے لفظ سننا اپنے ماں کو بھائی کی یاد میں آنسوں بھاتے دیکھنا کس کس درد سے گزرا پھر وہ جیل آہاں وہ کہانی پڑھ کر مجھے اپنے وطن کے محافظوں اور فوجی جوانوں پر فخر ہوا واقعی کیا کچھ نہیں کرتے ہمارے گمنام مجاہد گھر سے دوری پیاروں کی یاد پھر پکڑے جاو تو پتہ نہیں ہوتا کفن ملے گا بھی یا نہیں کسی اپنے کو میری قبر ملے گی بھی یا نہیں لیکن ہر چیز پر حاوی آجاتی ہے وطن کی محبت شہادت کا رتبہ اس ہی طرح جہان سکندر نے بھی بچپن سے اپنی زندگی میں ہر دوکھ دیکھے ...

اب آتے ہیں اپنے معاشرے کی طرف کے کہانی کا ایک رخُ یہ بھی ہے جو ایک یقیقت ہے .

اگر کوئی دنیا کو چھوڑ کر خدا کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کررہا ہے اور پردہ کررہا ہے تو سب سے بڑا شیطان بن کر ہماری سو کالڈ لبرل سوساٹی آتی ہی مطلب اگر ایک جوان اور بالغ لڑکی حجاب لے رہی ہے تو ایسی ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ اللہ توبہ " یہ جوانی میں کیا شوق چڑگیا " " ارے ابھی عمر ہی کیا ہے " " آنٹی لگ رہی ہو چادر لے کر " " گرمی سے طبیت خراب ہوجائے گی " " ارے ابھی تو آزاد گھومنے کے دن ہے بڑھاپے میں کرنا یہ سب " " کچھ دن کا شوق ہے " " رشتے اچھے نہیں آئے گے " " عمر سے بڑی لگ رہی ہو " " شادی میں تو اتار دو " ارے بھی ہمارے معاشرے کو ہوکیا گیا ہے مطلب ہم مسلمان نے اور مسلم ملک میں رہتے ہیں تو مغربی کلچر کیوں اپنائے ہم مسلمان ہے ہمیں حکم ہے پردے کا اللہ کو پسند ہے لیکن یہ ہماری عوام اللہ اللہ مطلب خودُ پردہ نہیں کرسکتے تو دوسرا کررہا ہے اسےُ تو کرنے دو اسُ کا ہوسلہ بڑھاو اسُ کا ساتھ دو اور یہ کیا بات ہے کہ شادی میں تو اتار دیتی کیا شادی میں سب محرم ہوجاتے ہیں نہیں نہ یہ ٹاپک بہت اچھا تھا کہ ہم سب رشتے داروں کے جانے کے بعد مہندی کے فنکشن میں ڈانس وغیرہ کرتے ہیں وہاں بھی تو ڈی جے ویٹر کیمرہ مین سب ہوتے ہیں کیا وہ ہمارے محرم ہے نہیں نہ اور پھر بات آتی ہے کہ یار اتنی گرمی میں کیوں یہ اسکارف لیا ہوا ہے ارے بھئی قبر کی گرمی کیوں بھول جاتے ہوں یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ بال اگر نامحرم کی زینت بناوگے تو آگ میں جلوگے ... پھر اس میں اہم کردار ماں باپ کا بھی ہوتا ہے کہ اگر بچی پردہ کررہی ہے تو اسُ کا ساتھ دے لیکن نہیں ساتھ دینا تو دور وہ تو دیکھتے ہی منع کردیتے ہیں پھر فکر خاندان کی ہوجاتی ہے کہ سب سے بڑی لگ رہی ہے رشتہ اچھا نہیں آئے گا لوگ باتیں بنائے گا بھئی ایک اچھے اور خاندانی مرد کو باحیا باحجاب ہمسفر چاہیئے ہوتا ہے نہ کہ چلتی پھرتی شو پیس ...

خاندان کی نفرت و تلخ لفظ و لہجہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے جنت کے پتے ناول میں لکھاری نے بڑے ہی اہم موضوع پر لکھا ہے جو کہ آج کے معاشرے میں اہم ہیں " حجاب " " خاندان کی تلخ لہجے " " صبر " " اللہ کی طرف راغب ہونا .."

حجاب کو ہم لوگوں نے شاید بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے مطلب اگر آپ حجاب کر رہے ہو تو یا تو آپ کو غریب.. یا جاہل سمجھا جائے گا ارے میری بہنوں یہ کیا بات نکال لی ہے مطلب حجاب صرف غریب پر نہیں اللہ نے فرض کیا ۔ سب پر فرض ہے پڑھے لکھے خاندانی و عزت دار لوگ جو اصل پڑھے لکھے ہوئے گے آپ انُ لوگوں کو دیکھو مغربی ملک میں رہے کر بھی حجاب کر رہی ہے پردہ کے لیئے لڑ رہی ہیں اور آپ، آپ لوگ تو مسلم ملک میں رہتے ہیں اور پڑھے لکھے ہو کر بھی جاہلوں والی باتیں کیا ہو گیا ہے پاکستان کی عوام کو کیا بنے گا ہمارا مطلب اتنی چھوٹی سوچ میرا بیسٹ اور فیورٹ ناول جنت کے پتے اس ہی لیے ہے ۔۔

یہ لکھاری نے جو آج کل کی معاشرے کی حقیقت لکھی ہے وہ بلکل صحیح ہے یہ بات وہ لڑکیاں سمجھ سکتی ہے جو حجاب کر رہی ہیں اور مسلم ملک میں رہے کر بھی لوگوں کی تلخ باتیں سن رہی ہے ہم مغربی کلچر کی بےحیائی و خوبصورتی کو دیکھ کر اسُ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں لیکن شاید ہم اسُ خوبصورتی کے پیچھے چھپے عزاب و آگ و دلدل کو نہیں دیکھ پا رہے شاید ہمارا ایمان کمزور ہے ۔لیکن ابھی سنبھل گئے تو بچ جائیں گے ورنہ تو بس اللہ ہی مالک ہے ۔۔

بیشک وہ جب چائے جسے چائے اپنی طرف بلاسکتا ہے ہم تو بہت گنہگار لوگ ہیں بس اللہ ہی رحم کرے ہم پر ۔۔۔

 

جنت کے پتے کہ یہ اہم موضوع ہیں جس پر میں نے بات کی امید ہے پسند آیا ہوگا ...

سکینہ زیدی

کراچی