ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

ری ویو ٹائم ان ناولز ورلڈ

Muntasha Rasool

ناول : سفال گر

’’ شوق کا کوئی مول نہیں ‘‘ یہ جملہ ہم بارہا سنتے ہیں۔ لیکن کوئی خواہشات کی اندھی تقلید کیسے کرتا ہے ایڈم گرانٹ اس کی مثال ہے۔حاصل کرنے کی جنون میں اس نے بہت کچھ کھویا بلکہ صرف کھویا ہی کھویا۔۔ جس سین میں احمد اپنے باپ ابرہیم کو مار دیتا ہے اس پر تو حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم بھی اس منظر کا حصہ ہوں۔ البا تو وہ بلا تھی جسکی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔ بہت ہی خود غرض اور سفاک تھی وہ۔ پرنیاں کو بیچ منجھدھار میں چھوڑ کر گرانٹ بھی کبھی خوش نہ رہ سکا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے وہ پرنیاں کو کبھی بھلا بھی نہیں پایا۔۔ وہ خط جو اس نے گزشتہ سالوں میں پرنیاں کو لکھے تھے۔۔ ان خطوط کو آخر میں اتنی عجلت سے پیش کیا کہ پڑھ کر تشنگی سی رہی۔۔ اسے تھوڑا سا مصنفہ مزید لکھتی۔۔ احمد ابراہیم وہ کردار ہے جس پر آپ کو شدید قسم کا طیش آئے گا، ترس آئے گا۔۔ ہاں اس سے ہمدردی بھی محسوس کریں گے لیکن اس کے باوجود اس سے نفرت نہیں کر پائیں گے۔۔

پرنیاں جب خواب دیکھتی ہے جس میں آسمان سے بےتحاشہ مردہ تتلیاں زمیں پر گر رہی ہوتی ہیں۔ اس پر تو بے اختیار جھرجھری لینے پر مجبور ہوگئی تھی میں۔ بہت دیر تک میں پرنیاں کے اس خواب کی گرفت میں رہی۔۔ محبت کتنی زورآور ہوتی ہے کہ انسان اپنے ساتھ خدا کو بھی فراموش کر دیتا ہے۔ انکا انجام پرنیاں کیطرح ہوتا ہے وہ ساری زندگی قیدِ تنہائی کاٹتے گزار دیتے ہیں۔۔ بہت ہی جذباتی، پیار میں پاگل پن کی حد تک اندھی اور بزدل لڑکی تھی پرنیاں۔۔ وہ بزدل ہی تو تھی اپنا گھر چھوڑنے کے بعد نہ تو وہ اپنے گھر والوں کو فیس کر سکی اور ہی گرانٹ کے پاس واپس جاسکی۔

حکیم بیگم کا کردار اس ناول میں بہت ہی خوبصورتی سے بشریٰ جی نے تخلیق کیا۔۔ ایک لازوال کردار جسے آپ برسا ہا برس یاد رکھیں گے۔۔ اللہ پر کامل یقین اتنا کے عمر کو بچپن میں بخار کی دوائی کے نام پر پانی پلاتی ہے مگر اللہ کے حکم سے وہ شفا پا جاتا ہے۔۔ یہ اسکا یقین تھا اللہ پر جسے اس نے مایوس نہیں کیا۔۔ اور ہم اچھا گمان تک نہیں رکھتے۔۔۔ بےاختیار ندامت محسوس ہوئی کے ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے۔۔ جبکہ اسکی بیٹی آمنہ بلکل اسکے برعکس تھی۔ حکیم بیگم نے اسلامیات کی کتابیں نہیں پڑھی تھیں وہ الف بے سے بھی نابلد تھی لیکن اپنے خالق کی پہچان اور اس پر بہت زیادہ ایمان رکھتی تھی۔ اس کا حسنِ اخلاق قابلِ تعریف ہے۔ گاؤں کے لوگوں نے اسکا بائیکاٹ کیا ایک مسیحی لڑکی کو زیادہ عرصہ اپنے پاس رکھنے پر لیکن اس کے ماتھے پر کبھی بل نہیں پڑے۔ مہمان نوازی کی ایک اعلیٰ مثال۔۔۔۔ ایک مثال پرنیاں کی دوست بھی تھی وہ کیسے پرنیاں کو زیادہ دن رکھنے سے انکار دیتی ہے۔۔ یہ والا حصہ پڑھ کر آپ زرا بھی یقین نہیں کریں گے کہ آپ ایک کہانی پڑھ رہے ہیں۔۔ حقیقت میں لوگوں کے مزاجوں کو مصنفہ نے زبردست انداز سے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔۔

’’ اس سرد کمرے میں جہاں موسم کی خنکی کے ساتھ موت کی ٹھنڈک بھی تھی، وہ پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں تھا کہ ٹائم پیس آپا کے ہاتھ لگنے سے گِرا ہوگا اور شاید ایسا تب ہوا ہوگا جب اس پر جان نکلنے کی تکلیف طاری ہوئی ہوگی۔

تو کیا اسکی دعا آپا کا مقدر بدل سکتی تھی؟

اگر وہ اللہ سے آپا کے لئے عافیت مانگتا تو کیا وہ دے دیتا؟

کیا اسے یہ منظر دیکھنے کو نہ ملتا جو وہ اب دے دیکھ رہا تھا؟

حکیم بیگم نے بیس سال آمنہ کی اولاد کے لئے دعا مانگی تھی اور ایک پل بھی بےیقین نہ ہوئی تھی کہ اسکی دعا قبول نہ ہوگی اور وہ بیس سیکنڈ بھی شک میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہ سکا تھا، اسے تو ہاتھ اٹھانے سے قبل ہی اپنی دعا کے رد ہوجانے کا یقین تھا۔ آپا کے ٹھنڈے اور اکڑے ہوئے خون آلود ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر وہ خلا میں گھورنے لگا تھا۔ ‘‘

عمر کو بلآخر اللہ پر یقین آگیا۔ اور دعا کی طاقت کا اندازہ ہوا۔ جب وہ مسجد میں بیٹھا ہوتا ہے اور آپا کے لئے دعا کا ارادہ ترک کر دیتا ہے ٹھیک اسی وقت آپا خودکشی کر رہی ہوتی ہے اور آپا کو حقیقتاً اس وقت دعا کی ضرورت ہوتی ہے۔ دھیمے مزاج کا عمر اور اسکا کردار بہت سحر انگیز ہے۔ آپا والے واقعے کے بعد جس طرح سے وہ اللہ پر توکل کر کے صوفیا کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے وہ سب بشریٰ سعید نے اتنی خوبصورتی سے لکھا کے آپ داد دیے بنا نہ رہ سکیں گے۔۔۔ کمال کر دیا بشریٰ جی نے سچ میں۔۔۔ آپ کے قلم میں چونکا دینے والی طاقت ہے۔

ایڈم گرانٹ نے صوفیا کی پرورش بہت ہی سخت خطوط پر کی تھی۔ صوفیا کی جگہ کوئی بھی ہوتا وہ اللہ سے نعوذ باللہ بدظن ہی ہوتا ہے۔۔ ایڈم گرانٹ نے اسے اللہ سے ڈرنا ضرور سکھایا مگر پیار کرنا نہیں۔ اگر ہم اللہ سے ڈرتے رہیں گے تو ہم اس سے محبت کیسے کریں گے۔ کس طرح سے اللہ نے اس کا دل گناہ کرنے سے پھیر دیا اور کس طرح سے ان لڑکوں نے اور دوسرے لوگوں نے مل کر اسے دھتکار دیا چاہے مذاق میں ہی سہی لیکن وہ گناہ سے بچ گئی۔۔ یہ حصہ پڑھ کے تو دل خوشی سے جھوم اٹھا۔۔ بےشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

بہت عرصہ پہلے ہم ٹی وی پر داستان ڈرامہ کا اینڈ دیکھنے پر میری اور میری بہن کی زبانیں گنگ رہ گئیں تھیں اور ہمارے تاثرات کچھ یوں تھے کہ ’’ اس ڈرامے میں کوئی ایک بھی کردار ضایع نہیں گیا۔ چاہے وہ تھوڑی دیر کے لئے ہی اسکرین پر نمودار ہوا ہو۔ اپنی بھرپور ادکاری سے viewers کے دل جیت لئے اس نے۔۔ ڈائریکٹر نے صحیح معنوں میں کرداروں کو مہارت سے استعمال کیا۔۔۔ ‘‘ یہی تاثرات اس کہانی کے اینڈ پہ میرے تھے۔۔ ابتدا سے لے کر اختتام تک اس کے سحر میں بندہ اتنا کھو جاتا ہے کے ایک ہی نشست میں جب تک آپ ناول ختم نہ کر لیں اس کے ہر صفحے پر نظریں جمی رہتی ہیں۔۔ پورا ناول میں سانس روکے پڑھتی رہی۔۔ بشریٰ سعید کی کہانیاں انسان اور اللہ کا رشتہ مضبوط کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔۔ ان میں یہ سبق ہوتا ہے کہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق کے پیچھے بھاگنے سے بندہ صرف تہی داماں ہی رہتا ہے۔۔ وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ انسان مایوس کر دیتا ہے مگر اللہ نہیں۔۔۔ اللہ کی طرف پلٹنے والے راستے ہمیشہ کھلے ہی ملتے ہیں۔۔۔ انتہائی مشکل موضوع پر قلم اٹھانا اور ہر

کردار کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انہیں منطقی انجام تک پہنچانا۔۔ یہ کمال صرف بشریٰ سعید ہی کر سکتی ہیں۔۔۔۔ بشریٰ سعید کا یہ ناول بے پناہ داد کا مستحق ہے۔۔۔ شاہکار ناول اسے کہتے ہیں۔۔