قائد کے ساتھ ملاقات

قائد کے ساتھ ملاقات

قائد کے ساتھ ملاقات

=======

میں ابھی نیند سے مکمل نہیں جاگا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کمرے میں چاندنی سی بھر رہی ہے اور عجیب سی خوشبو پھیل گئی ہے , نیند ٹوٹتی محسوس کی تو لحاف کو اچھی طرح سے اوپر لیا تا کہ آدھی موت سے ٹوٹتا تعلق پھر سے جوڑ لوں

ابھی اس کوشش میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پایا تھا کہ اک سوبر سی آواز سنائی دی

" ینگ مین ، گیٹ اپ "

میں کافی حیران ہوا کہ آج تک مجھے گھر میں کسی نے قومی زبان کا استعمال کرتے ہوئے نہیں جگایا آج بین الاقوامی زبان کون سرہانے بول رہا ہے

جلدی سے لحاف چہرے سے ہٹایا تو آنکھیں چندھیا گئیں کیونکہ کمرہ سفید چاندنی سے بھرا ہوا تھا ، دونوں ہاتھوں سے آنکھوں کو خوب رگڑا کہ شاید اس برق تجلی میں کچھ دیکھنے کے قابل ہو سکوں

خیر آنکھوں کو کافی رگڑا لگایا تو بقول انور مسعود " لکھ دا کیمرہ " کچھ دیکھنے کے قابل ہوا

جو دیکھا تو آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں کیا دیکھتا ہو کہ قائد دونوں ہاتھ پیچھے باندھے مجھے غصے سے گھور رہے ہیں

میں نے حوصلہ پیدا کر کے کہا کہ آپ یہاں کیسے ? میں عالم ارواح میں پہنچ گیا یا آپ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے پھر سے آ گئے ? اگر دوسرے مقصد کیلئے آئے ہیں تو اب ایمان ، اتحاد ، تنظیم والے نعرے پر لبیک کہنے والے جا چکے اب آئی آئی ، زندہ ہے ___ زندہ ہے اور ایک واری فیر _____ کا دور ہے " بڑی دیر کی مہربان آتے آتے "

قائد کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھ کر میں چپ ہو رہا تو قائد گویا ہوئے

" لیزی ینگ مین رات کو بارہ بجے تک فیس بک استعمال کرنے والوں کے پاس میں کبھی نہیں آؤں گا اب البتہ اگر قوم اب بھی میرے اصول کام ، کام ، اور کام پر کاربند رہے تو میں ہر وقت قوم کیساتھ ہوں

میں نے قائد کے منہ سے فیس بک والی بات سنی تو بات بدلنے کیلئے پوچھا کہ کیا حضرت اقبال بھی تشریف لائے ہیں ?

قائد نے جواب دیا نہیں ! وہ آجکل کے نوجوانوں سے ناراض ہیں

میں نے پوچھا ، وہ کیوں قائد ?

قائد نے فرمایا کیونکہ اقبال کہتا ہے کہ آجکل کے نوجوان اپنے بے سر و پا شعر بھی مجھ سے منسوب کر کے فیس بک پر لکھ دیتے ہیں

میں یہ جواب سن کر کھسیانی سی ہنسی ہنسنے لگا

پھر قائد نے فرمایا چلو باہر لان میں بیٹھتے ہیں اور باہر کو چل دئیے

میں بھی پیچھے چل پڑا ، ہم لان میں جا کر کرسیوں پر بیٹھ گئے دھند چھٹ چکی تھی اور دھوپ نکل آئی تھی

قائد نے بیٹھتے ہی سگار سلگا لیا

سگار دیکھ کر ہمارے اندر بھی نیکوٹین کی مانگ میں اضافہ ہونے لگا ، ہمت مجتمع کی اور قائد کے سامنے سگار کیلئے دست سوال دراز کر دیا

قائد نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور اک لمبا کش لگا کر کہا یہ جنتی سگار ہے اور تمہارا کوئی کام جنتیوں والا نہیں

قائد کا یہ ٹکا سا جواب سن کر میں نے قائد کو جذباتی بلیک میل کرنے کا ارادہ کیا اور روہانسی شکل بنا کر کہا ، قائد میں آپکی قوم کا مستقبل ہوں اور آپ مجھے اک سگار نہیں عنایت فرما رہے اٹس ناٹ فئیر جینٹل مین

قائد یہ سن کر زیر لب مسکرائے اور ایک سگار میری طرف بڑھا دیا

میں نے تبرک سمجھ کر وہ سگار پکڑا اور سلگا لیا

سگار کے دھوئیں نے پاسبان قوم اور معمار قوم کے درمیان خاموشی پیدا کر دی

میں کوئی سوال سوچتا پھر اسے نا معقول خیال کر کے جھٹک دیتا

آخر کار میں نے آٹھ بجے والے ٹاک شوز میں روز سنے گئے اس سوال کو قائد کے سامنے بھی رکھ دیا کہ ملکی حالات پر آپکا کیا خیال ہے ?

قائد نے کہا اس سوال کا جواب تمہیں پھر کبھی دوں گا ، ابھی مجھے غم اس بات کا ہے کہ میری قوم کے کچھ حلقے میرے مقاصد ، جدوجہد ، اور میری نیت پر انگلی اٹھا رہے ہیں میرے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں

میں نے کہا قائد میں آپکی بات سمجھا نہیں

قائد نے فرمایا ینگ مین آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ علیحدہ وطن کا مطالبہ جناح نے مسلمانان برصغیر کی بھلائی کیلئے نہیں بلکہ اپنے مفادات کیلئے کیا تھا ، سنتالیس کے فسادات کیوجہ مجھے گردانتے ہیں ، مولانا آزاد جسے میں نے " کانگریس کا شو مین " کہا تھا اسے میرے مد مقابل کھڑا کر کے مجھے جھوٹا اور اسے سچا قرار دیتے ہیں

کوئی شیعہ کہتا ہے تو کوئی سنی اور کچھ تو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دیتے ہیں

میں نے غصے اور غم کی ملی جلی کیفیت میں کہا ، قائد وہ بے غیرت بکواس کرتے ہیں

قائد نے میری طرف گھور کے دیکھا اور کہا شٹ اپ ینگ مین میں ایسے الفاظ برداشت نہیں کروں گا

میں نے کہا قائد آئی ایم سوری آپ اس بات کو سنجیدہ مت لیں وہ ٹولہ اسلام اور پاکستان مخالف ایجنسیوں کا آلہء کار ہے ، پیسے اور مراعات کی چمک نے ان کو اندھا کر دیا ہے ، ہم پاکستانی تو صرف اس قائد کو جانتے ہیں جس کے بارے میں اک قبائلی سے جب پوچھا گیا کہ تمہیں جناح کی بات سمجھ آتی ہے ? تو اس نے کہا نہیں ! لیکن میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جناح جو بھی کہتا ہے سچ کہتا ہے

قائد نے میری بات سن کر کہا تم اس بات کا یقین رکھو کہ تمہارے قائد نے جو جدوجہد کی اپنی ذات کی نفی کر کے صرف اور صرف برصغیر کے مسلمانوں کو ظلمت کے اندھیرے سے نکالنے کیلئے کی

میں نے کہا قائد کہ میں صرف اک بات جانتا ہوں " مسٹر جناح زندہ باد "

ب

قائد مسکرائے اور اٹھ کھڑے ہوئے

میں نے پوچھا قائد کہاں چل دئیے ?

قائد نے جواب دیا اقبال کو جا کر منانا ہے کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ میں سالگرہ اس کے ساتھ مناؤں لیکن میں ادھر نکل آیا اب جا کر " شکوہ " سنوں گا اور بن پڑا تو جواب شکوہ اسکو سناؤں گا

میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہے جینٹل مین لیکن آپ یہ سگار مجھے دے جاتے تو ......

قائد نے قہقہہ لگایا اور سگار والا پیکٹ مجھے پکڑا دیا

پھر دھند سی چھا گئی اور وہ دھند میں نظروں سے اوجھل ہوتے گئے

اور کہیں دور سے یہ نغمہ گونجتا سنائی دیا

" ملت کا پاسباں ہے ، محمد علی جناح

ملت ہے جسم جاں ہے محمد علی جناح 

 

"عمر شریف"