اے پیغمبر ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ ( باہر نکلا کریں تو ) اپنے ( چہروں ) پر چادر لٹکا ( کر گھونگھٹ نکال ) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت ( و امتیاز ) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور اللّه بخشنے والا مہربان ہے۔
( سورة الاحزاب آیت ۵۹ )
اسلام جو دین فطرت ہے۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور قدم قدم پر بندہ مومن کو قرآن کے زریعے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ قرآن مجید اللّه کی آخری الہامی اور آسمانی کتاب ہے جس کا ہر حرف روشنی، ہر آیت شفا اور ہر سورت نظام حیات ہے۔ قرآن شریعت اسلامی، احکام، واقعات اور نصائح کا مجموعہ ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی فرد اپنی انفرادی، معاشرتی و اخلاقی کو صحیح رخ دکھا سکتا ہے۔ اسلام اور قرآن کا اہم ترین مقصد انسان کے اخلاق کی تعمیر ہے جس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ تمام قرآنی باتیں اللّه کی ہیں نہ کے انسانی، اس لیے انسان کو ان پر ایمان لانا اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔
عورت معاشرے کا لازمی جزو ہے جس سے انسانی زندگی جنم لیتی ہے اور زندگی کو خوبصورت و حسین بناتی ہے۔ انسانی نسل کی بہتر آبیاری و پرورش کے لیے ضروری ہے کہ عورت بذات خود مثالی کردار کی حامل ہو اور پاک دامن ہو، مستور ہو، مکشوف نہ ہو، وگرنہ بنی آدم جہالت و تاریکی کی آتھاہ گہرائیوں میں گر جائے گی۔ صرف عورت ہی نہیں مرد کا کردار اور سیرت بھی لاثانی ہونا چاہیے۔ اسی عورت کی روحانی پرورش کے لئے اللّه تعالیٰ نے قرآن مجید کی مختلف سورتوں مثلاً سورة النور، سورة الاحزاب اور سورة النساء کی گہری و پر اثر آیات کا انتخاب کیا ہے تا کہ عورت اپنی اہمیت جان سکے اور اپنے اخلاق کی اعلی خطوط پر تعمیر کر سکے۔
سورة الاحزاب قرآن کی بہت وسیع سورت ہے جس میں اللّه تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو بہترین اسباق سے نوازا ہے۔ عورتوں کو پردے کی نعمت دی اور مردوں کو جہاد کی۔ عورت کے پردے کو باعث عزت قرار دیا اور جہاد میں مرد کو غازی اور شہید جیسے مرتبے سے نوازا۔ اسی سورت میں اللّه تعالیٰ نے عورت کے لئے پردے میں پیش آنے والی مشکلات کو اسکے ایمان کی آزمائش کہا ہے اور اس بات کو ایک پہیلی میں مقید کردیا ہے۔ غزوہ احزاب ( عورت کے لئے پردے کی بقا کی جنگ ) بنو قریظہ ( گھر والوں اور قریبی تعلقات کے دغا اور آزمائش ) کے بغیر نہیں لڑی جاتی۔ جب ایک عورت پردہ کرنے کا ارادہ کرتی ہے اگر چہ ماضی میں وہ سخت پردے کی قائل نہ ہو تو معاشرہ اس پر انگلیاں اٹھاتا ہے مگر اسی سورت میں قرآن اسے صبر اور استقامت کی تلقین کرتا ہے۔
نمرہ احمد، جو اپنے خیالات کو الفاظ اور الفاظ کو نصیحت اور نصیحتوں کے زریعے زندگی بدل دینے کا ہنر جانتی ہیں، اردو ناول میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنے ناول " جنت کے پتے " میں اسلام اور قرآن کے تعلق کو افراد خصوصاً عورتوں کی زندگیوں میں ڈھالنے کے لئے بہت ہی پر اثر اور دلوں کو موہ لینے والا انداز اپنایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ مذکورہ ناول میں انہوں نے سورة الاحزاب اور دیگر قرانی سورتوں کے حوالوں سے عورت اور معاشرے کے کردار کی تعمیر کی ہے۔ انہوں نے سورة الاحزاب کی پہیلی، اس کا پس منظر اور پیغام بہت ہی خوبصورت اور شاندار طریقے سے بیان کیا ہے۔ وہ عورتیں جو پردے اور حجاب کی وجہ سے الجھن کا شکار ہیں یا وہ اسلامی طریقے سے پردہ کرنا چاہتی ہیں مگر دل میں معاشرہ آ جاتا ہے، انہوں نے اس ناول کے زریعے آسانی سے قائل کرنے کا رویہ اختیار کیا ہے اور ہمیں آسانی سے قرانی تعلیمات کو سمجھنے اور اسکی آیات میں چھپی گہرائیوں سے پردہ اٹھانے کا طریقہ بتایا ہے۔
" جنّت کے پتے " کا پس منظر ترکی کا ہے جہاں پردے کا عام رواج نہیں اور حجاب کے حوالے سے قانون بڑے سخت ہیں۔ اس ناول کی مرکزی کردار " حیا " شروع میں پردے کی قائل نہیں ہوتی مگر اچھے لوگوں کی صحبت سے وہ دین اور حجاب ( جنّت کے پتے ) کی طرف مائل ہوتی ہے تو اس کے اپنے بھی دشمن بن جاتے ہیں مگر وہ اپنے حق پر قائم رہتی ہے اور اللّه اس کے لئے آسانی پیدا فرماتا ہے۔ حیا دراصل پاکستانی ہوتی ہے اور اسکالرشپ پر ترکی پڑھنے آتی ہے جہاں اس کا کزن " جہاں " رہتا ہے۔ حیا اور جہاں کا نکاح بچپن میں ہی ہو چکا ہوتا ہے مگر وہ دونوں اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان میں خالص محبت کا رشتہ اور نکاح کی سنّت کو زندہ کرنے کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو قبول کرلیتے ہیں۔ جہاں، حیا کا کزن اور شوہر ہونے کے ساتھ ایک پاکستانی جاسوس ہوتا ہے جو ترکی میں مختلف ناموں سے رہ رہا ہوتا ہے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکے اور حیا کے درمیاں کوئی تعلق پروان چڑھے اور وہ وطن کی خدمت سے محروم ہوجاے مگر وقت کے ساتھ وہ حیا کو سب بتا دیتا ہے اور ان کا تعلق ازل تک کے لئے قائم ہوجاتا ہے۔
یہ ناول اپنے اندر آفاقیت اور وسعت لئے ہوۓ ہے جو قاری کی زندگی اور سوچنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ اگرچہ نمرہ احمد کا یہ ناول ان کے پرانے ناولوں میں شمار ہوتا ہے مگر یہ بہترین کی حدوں کو چھوتا ہے۔ اگر اس ناول کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو اس کی چند خامیاں نظر آتی ہیں۔ اس کی سب سے اہم خامی اس ناول کی طوالت ہے جو اس ناول سے استفادے کو مشکل بنا دیتی ہے اور ایسے افراد جو زخیم کتابوں کا شغف نہیں رکھتے ان کے لئے تو اس سے فائدہ اٹھانا ایک کٹھن کام ہے۔ اس ناول کے شروع میں کہانی کا صرف ایک رخ پھر آخر میں دوسرے رخ بتایا گیا ہے جس کی وجہ سے قاری پریشان ہوجاتا ہے اور ناول کی طرف سے توجہ کھونے لگتا ہے، " جنت کے پتے " میں نمرہ احمد کی اس خطا کا احساس زیادہ ہوا۔ چونکہ انسان خطا کا پتلا ہے اور تبدیلی کے زیر اثر ہے اس لئے نمرہ احمد نے اپنی اس غلطی کو درست کیا ہے اور یہ خطا اب نمرہ احمد کے نئے ناولوں میں نظر نہیں آتی جو انکی کے علم دوستی کی زندہ مثال ہے۔
ہم اس ناول کے مرکزی خیال کو چند الفاظ میں سمونا چاہیں تو وہ یہ ہوگا کہ " انسان کی زندگی ایک آزمائش ہے جو مختلف پریشانیوں سے پر ہے جس میں اسے اپنے زور بازو اور اللّه پر توکل کرنا ہوگا کیوں کہ اللّه کافی و کارساز ہے۔ اور ہماری دنیوی اور اخروی زندگی میں کامیابی کا دار ومدار اسی پر ہے "
~ انظر انور