#ری_ویو_ٹائم_ان_ناولز_ورلڈ
تحریر (تاوان)
تبصرہ (ماہا ایمان )
تبصرہ (33)
تاوان پڑھتے سولا سال گزر چکے ہیں مگر میرا نہیں خیال کہ آج بھی تاوان میں کوئی بوریت ہے بلکل ویسا ہی ہے جیسا پہلے دن تھا۔ اس میں محتلف واقعات کا سلسلہ ہے جو مجھے ہمیشہ سے اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہے
شاہ جہان بی ائے ایل ایل بی اور اسکی یکطرفہ محبت۔
یہ محبت ہی در اصل اس کہانی کی شروعات بنی نادان محبت کا نادان اظہار اور ظلم کا ناختم ہونے والا سلسلہ جو اس واقع سے چل نکلا وہ دراصل یہ ہمارے معاشرے میں موجود اس رویئے کا پس منظر بیان کرتی کہانی ہے جس میں طاقتور کمزور پر اپنا قانون چلا رہا ہے اور کمزور محکوم ہے۔
شفتہ پر شیخ عاصم کے بڑے بھائی کی نظر بد۔
یہ واقع جس نے شاہ جہان کو بی ائے ایل ایل بی سے استاد جہانی بنا دیا ، اسٹریٹ فائٹر، جوش سے لڑنے والا جو ماں جی اور والد کے اچانک وفات کے بعد اور چچی کے ظلم کے بعد ماں جائی کی حفاظت میں عرب شیخ سے جاٹکرایا ہے اور اسے قتل کیا یہ پیک تھی اس کہانی کی جہاں حق نے فیصلہ کرلیا کہ باطل سے لڑنا ہے۔
ہمساتھ کا قتل۔
استاد جہانی کو شفتہ کے آنسووں نے جیل پہنچایا اور جیلر عادل کے جبر نے اسکے اندر کا جہانی مرنے ہی نہ دیا وہ واقع جب زہر سے جہانی کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور ہم ساتھ کے قتل کے بعد جیلر کا کالو جانی پر ہونے والا تشدد ہمارے تھانے کے اور جیل کے روائتی ماحول کا سب سے بہترین عکس تھا۔
آغا قادر زمان و مجتبی صاحب۔
یہ کردار بار بار کہانی میں آئے پہلے قادر ذمان نے جیل سے جہانی کو اغواہ کرکے شفتہ کو اغواہ کرکے ساہی صاحب کو قتل کروانے کی کوشش کی تو پھر پھرمجتبی صاحب نے ناہید بیگم کے ساتھ اپنا افئیر چھپانے کے لیئے بطور ڈرائیور استعمال کیا بڑا دلچسپ کردار تھا ہمارے سیاست دانوں کا خالص سچا کردار !
عیسی جان۔ اور چاند ماری
عیسی جان کا کرار بہت سے واقعات میں رہا بشر کے قتل میں وادی میں چاند ماری میں اور ائیرہوسٹسز کے اغواہ میں جہاں سیاست دان قادرزمان نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش بھی کی مگر وقتی طور پہ ناکام رہا ولن کے معیار سے کہیں اوپر تھا یہ کردار ظالم اور بے رحم ۔
زریں گل اور بیگم زریں گل کی گلابی اردو۔
استاد صیب اور فرنگیوں سے انتقام زریں گل کی پہچان رہا حتی کہ مسٹر جی کلارک کی بدولت اسے ان انگریزوں پہ تھوڑا رحم بھی آیا مگر بدر منیر کبھی اس کے سر سے اترا نہیں۔دوسری طرف اسکا پیار بھی انمول رہا ادھار لے لے کر استاد صیب کی خدمتیں شروع کردیں واقعتا زریں گل ایک نایاب دوست تھا۔
صفدر اور انجم۔
صفدر کی استاد جہانی سے لڑائی ایسے موقع پر ہوئی جب دونوں ایک ہی مقصد کو نکلے تھے شفتہ اور انجم کی واپسی کا مقصد اور پھر صفدر یار غار بن کر ہی رہا افریقہ میں صفدر کے ساتھ منسلک واقعات کمزور دل کے پڑھنے کے نہیں ہیں ویرا کا صفدر کے قریب آنا اور صفدر کا شاہ جہان سے لڑنا ایک ایسے جادو کے زیر اثر جو لارثیوں کی فطرت میں تھا واقعتا سحرانگیز تھا۔
مونابہ اور غلامی ۔
افریقہ میں غلامی کے کاروبار میں جہاں لارثیوں کو متاثر کیا وہیں اور بھی واقعات ہوئے جن میں مونابہ کا واقعہ سب سے منفرد رہا حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک مومل بھی اپنے آپ میں سحر تھا اور پھر جب افریقہ سے غلامی کا پردہ اٹھا وہ انسانی جدوجہد کی لازوال تخلیقی سوچ تھا ۔
سائیں عالی اور سروج۔
دونوں کردار ہی انوکھے تھے سروج سے کبھی نفرت ہوتی تھی کبھی پیار آتا تھا اور سائیں عالی پہ تو پیار ہی آتا تھا مزے دار ریسپیز کا بیڑا غرق کرنے میں ہر فن مولا سائیں عالی شاہ جنات کے حاکم اور اپنی باتوں میں عجیب و غریب مگر کھرا بندہ ۔
دفینہ سائیں عالی اور زریں گل کی دوسری جنگ عظیم والی سب مشین گن۔
جھنگ میں دفینہ نکالنے اور قبیلے کے حملے کے بعد جس طرح جہانی صفدر اور زریں گل ٹرک سے فرار ہوئے وہ اس کہانی کا سب سے شدیدمشکل سین تھا ہر لائن پہ دھڑکا لگا رہتا تھا مگر کمال نشانہ بازی کی زریں گل نے اور کمال ڈرائیونگ کی شاہ جہان نے مگر اس سفر کا اختتام وہاں ہوا جہاں نہیں ہونا تھا یعنی انڈین پنجاب !
شکرا سمیت سبھی مصروف رہے ہند سے پاکستان ہر جگہ لڑائی جھگڑے ہوئے اور اس دفینے کے چکر میں جہاں کئی گناہ گار اور بے گناہ لوگ مارے گئے وہیں سیاستدان بھی بے نقاب ہوئے مجتبی اور آغا قادر زمان نے اپنا روائتی کردار ادا کیا مگر سائیں عالی سروج اور شاہ جہان کے کردار سب پہ بھاری رہے اور مسٹر جی کلارک جیسا ایماندار شخص بھی سامنے آیا یہ ثابت ہوگیا کہ انسانیت کسی رنگ میں مقید نہیں ہے ماریہ ٹرسٹ جیسے قید خانے کے خاتمے میں مسٹر جی کلارک نے سائیں عالی کی مدد سے کلیدی کردار ادا کیا خاص طور پر سائیں عالی کا کردار بہت مضبوط تھا جس طرح اس نےلارثیوں کو سنبھالا اور منظم کیا اور انہیں ظالم کے خلاف لشکر بنوا کر ظلم کو
مٹایا اور کنک کی جگہ پر مظلوم لارسیوں کو کھڑا کیا وہ اس کردار کو اور مضبوط کرتا ہے
بردہ فروش مائکل۔
اس کردار کو شیطان کی تقریبا سبھی صفات دے دی ہیں رائٹر نے ایک طرف تو وہ ایشیا سے افریقہ تک انسانوں کو چیونگم پیکٹس کی طرح لے جارہا ہے دوسری طرف کی بوکو نامی آلے کا خوف ہر کسی کے سر پہ تلوار کی طرح لٹکا رکھا ہے اپنا ہی بیٹا کھا جانے والا انسان اور درندگی میں اپنی مثال آپ میامی قبیلے کا آدم خور مہذب کردار۔
شفتہ کی زندگی کے واقعات۔
پہلے شفتہ کو جہانی نے عرب شیخ سے بچایا پھر آغا قادر زمان کی بیگم کا علاج ڈاکٹر غزالہ نے کیا اور انہوں نے شفتہ کو آزاد کروایا پھر شفتہ کو شیخ عاصم کے بھتیجے سے زبردستی شادی سے ڈاکٹر غزالہ نے ہی بچایا ۔۔۔۔۔۔ یہ حصہ دراصل نادانی کے بعد کا دور ہے جس میں ڈاکٹر غزالہ بھی زندگی کو سمجھ گئی اور استاد جہانی عرف شاہ جہان بھی ، یہاں عرف شاہ جہان اس لیئے کہ اس دور میں اسکا تعارفی نام ہی استاد جہانی نہیں قلمی نام بھی استاد جہانی بن چکا تھا جو عیسی جان کے قتل کے بعد ہر مجرم کے دل میں خوف کی صورت لکھا تھا ۔۔۔۔۔ شفتہ کی زندگی میں ڈاکٹر حمزہ آیا اور بہت سے حادثوں کے بعد بھی محفوظ رہا اور یہی کردار ہے جسے نکال دیا جائے تو تاوان تاش کے محل کی طرح گر جائے استاد جہانی کا کردار شفتہ کے سہارے میں کھڑا ہے اور وہ اس کی حفاظت میں محفوظ ہے
ساہی صاحب۔
ہماری پولیس میں بھی معصوم لوگ ہیں ساہی صاحب کو دیکھ کر پہلی بار احساس ہوا ، روز اول سے شاہ جہان کو بچانے میں لگے رہنے والے اس انسان نے ہر ممکن کوشش کی اور اسی کوشش میں بلآخر شہید ہوئے اانسپکٹر اور سارے عملے کو شنکر شکرا نے جیسے مارا 16 ویں حصے میں اس نے آبدیدہ کردیا اور شیخ عاصم سے نفرت اپنے عروج کو پہنچ گئی سچ پوچھیں تو اس وقت مجھے بھی ایسا ہی انتقام چاہیئے تھا جیسا استاد جہانی نے لیا ایسے جیسے وہ ہمیں سن رہا تھا ہم اسکے ساتھ تھے۔
چیتا۔۔۔
یہ کردار واحد کردار ہے جو جرم سے پلٹا اورکمال پلٹا سچ کہتے ہیں حادثے انسانوں کو بدل دیا کرتے ہیں جہانداد کا روپ چیتے کر روپ کو بدل گیا اس کردار نے ہر جرم کیا مگر توبہ کی تو ہر جرم کا کفارہ بھی دیا یہی کرادر تھا جسے جرم و سزا کا حاصل کہا جاسکتا ہے۔
لیونا اور چند چھوٹے کردار
لیونا اپنی فطرت میں مظلوم تھی اور ظاہر میں مکار دولت کی پجارن اسے اسکی زندگی نے سکھایا ہی دھوکا تھا اور اس نے دیا بھی دھوکا مگر جو اس کے ساتھ ہوا وہ اسکی حقدار نہیں تھی تیسرئ بار اسکے انجام پر آنکھیں آبدیدہ ہوئیں۔
شییخ زادی کا کردار آوٹ آف کنٹرول اولاد کا تھا جس نے شوہر کو حقیقی کتے کے انداز میں رکھا ہوا تھا اور پھر جیسے اسکا کردار آگے بڑھا اس نے ہر اگلے منظر میں پہلے سے زیادہ حیران کیا ہر مرحلے میں سوچنے لگے کہ اب یہ بدل جائے گی مگر وہ پہلے سے بڑھ کر سخت دل ثابت ہوئی اس کردار سے مایوسی قوسیہ کو سوچنا چاہیئے تھا مگر کیا کہیں زندگی فطرت پہ چلتی ہے اور اسکی فطرت ہی یہی تھی اسے نہیں بدلنا تھا یورپ میں ماریہ ٹرسٹ ثانی میں اسکا انجام میرے آج تک کا سب سے مشکل منظر تھا وہ اس لیئے کہ سمجھ نہیں آئی کہ اس قدر بدصورت کردار کے انجام پر خوش ہوا جائے یا اس قدر ناسمجھ کردار پر دردناک انجام پر رویا جائے۔
شیخ عاصم۔
یہ کردار لومڑی کا استاد ثابت ہوا اور شیطان کا شاگرد خاص غزالہ سے دھوکے سے شادی کی اور جہانی کو کھینچ کر جرم کی اس دنیا میں شامل کیا جس کا انجام آخر شیخ عاصم کی خوفناک حالات میں بدقت خودکشی کی صورت ہی پورا ہوا۔۔۔۔۔۔یہاں کہانی اس کردار کو یوں دکھاتی ہے کہ اسے اسکے معاشرے نے جرائم میں دھکیل دیا اسے ہر صورت انتقام پر رکھا گیا اور اس نے بھی لیڈ ہونا قبول کیا اور فرعون بن گیا حالانکہ کئی مواقعوں پر وہ یہ اس نے سنجیدہ کوشش بھی کی کہ مسائل کو ختم کرسکے مگر ہر کوشش میں اسکا منتطقی نظریہ انتقام ہی رہا اس لیئے کوئی مسئلہ نہ تو ختم ہوا نہ دور ہوا۔
ماسٹر اسقہ۔
ماسٹر اسقہ قوسیہ کا مردانہ روپ تھا جسے کنگ نے وقت کے بہترین شیطانوں سے تربیت دلوائی اور اس نے اس تربیت کی خوب لاج رکھی ٹرسٹ کی راہداریوں میں معصوم بچی کا قتل اس کردار کا بدترین روپ تھا جسے شاہجہان نے بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی اور بلآخر وہ بھی گیہوں کی طرح پس گیا لارثیوں کے بے قابو ہجوم نے جب اسکی جان لے لی منظر آبدیدہ کردیا۔
اس کہانی میں بہت سارے کردار تھے ہر کردار اپنے جگہ مکمل تھا سب کا جائزہ لینا ان دیئے گئے الفاظ میں مشکل ہے لہذا ہم کہانی کئ طرف آتے ہیں تاوان دراصل چھوٹی سی نادانی کا تاوان تھا جو شاہ جہان نے زندگی کے کئی قیمتی سال دے کر ادا کیا جس میں ماں جی اور والد صاحب جیسی ہستیاں گئیں تو ساہی صاحب جیسے بزرگ کا سایہ بھی گیا بوٹا سنگھ جیسا کردار بھی ملا اور نواب زادی جیسا معصوم کردار بھی آیا اور
اور رلا گیا شاہ جہان بی ائے ایل ایل بی کو وقت نے اٹھا کر استاد جہانی کیا بنایا جرم و سزا کا سلسلہ طویل ہی ہوتا چلا گیا سائیں عالی،سروج ، وادی اور چاند ماری کے مناظر اور بشر کا قتل اور معصوم قبائل کا قتل، سب یوں دیکھا جیسے ہم مناظر کے ساتھ چل رہے ہوں زریں گل جیسا نڈر صفت بہادر کردار دیکھنے کو ملا، ویرا کا حادثہ ہوا اور صفدر کی بینائی کے دکھ نے بھی آبدیدہ کردیا جیسے ہماری اپنی کہانی ہو جیسے ہم پر بیتی ہو جیسے ہم ذاد ہوں۔ یہ دراصل ہماری ہی کہانی تھی اور ہم جو کسی نہ کسی صورت اس ظالم سماج میں شامل ہیں جرم سے فرار اور دفینے کی تلاش کا انجام ہوٹل گولڈکی چین پر ہوا چچی کا دل تو شائد کبھی نہیں بدلا مگر استاد جہانی کی زندگی ضرور بدل گئی حادثات کی چین سے نکل کر آخر کار وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے اور یوں کہانی کسی حد تک اپنے انجام کے قریب ہو گئی مگر صفدر ویرا کے انتظار میں ہی رہا ۔
سب سے اہم انجام شنکر شکرا کا ہوا جسے سائیں عالی نے موت کے گھاٹ اتارا اور سائیں عالی خود بھی جدا ہوا اس انجام نے جہاں خوشی دی وہیں آبدیدہ بھی کردیا
انکل طاہر جاوید مغل صاحب سے ملاقات ہوئی اور اس کہانی پر کافی دیر باتیں بھی ہوئیں واقعتا اس کہانی میں وہ سب کچھ تھا جو کسی کہانی کو کہانی سے زیادہ حقیقت بنا دیتا ہے اور یہ کہانی کبھی پرانی نہیں ہوگی آج سے سو سال بعد بھی کوئی تاوان پڑھے گا تو وہ اس کے سحر سے خود کو بچا نہیں سکے گا۔
سائیں عالی اس کہانی کا ہیرو تھا اور یہ شاید پہلا ہیرو تھا جس سے تقریبا سبھی کرادر زیادہ تر وقت جان ہی بچاتے رہے
ماہا ایمان مانو اسد