#ری_ویو_ٹائم_ان_ناولز_ورلڈ
ناول (یارم)
تبصرہ نگار (عائشہ پرویز)
تبصرہ (38)
شہرِ روشن ....... شہرِ قلم کار .....
شہرِ روشن لاہور !!..... شہرِ جمال ......
شہرِ افکار ......... شہرِ لازوال مانچسٹر !!
یارم ................. یارم یارم ................ یارم
ایک سفر بے مثال .... شوخ رنگوں کا امتزاج .... عہد نا تمام
جس نے یارم نہیں پڑھا اس نے کچھ نہیں پڑھا .
زندگی کی خوبصورتی کو محسوس نہ کیا . اس کی رعنائیوں کا مزہ نہیں چکھا .. کہانی اور انسانی زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے محبت اس کی اٹل حقیقت ... اس کا ایک یقین اور انسانی زندگی کا خوشنما سچ _
محبت وہ لافانی جذبہ ہے جس پر کائنات تخلیق کی گئی . محبت کی آفاقی طاقت کے آگے بڑے بڑے بت سرنگوں ہوئے .. سمیرا آپی کا ناول " یارم " بھی محبت کی آفاقی خوشبو سے مخمور یہ کہانی محبت اور دوستی کے جذبوں کی لازوال داستان ہے .
یہ کہانی ہے جھیل سی آنکھوں والی امرحہ کی ...
جسے اپنوں کی بیگانگی نے صرف رونا سیکھایا .
امرحہ کی بوکھلاہٹیں، بےوقوفیاں، امرحہ کی معصومیت، محبت کے انوکھے رمز سے آشنا کروایا ...
محبتوں کو محبتوں سے نبھانا سیکھایا ...
یہ کہانی ہے بہت باکمال انسان کی . ،بندر کی طرح اچھل کود کرنے والے عالیان کی ..
بہت معصوم بےحد ذہن جسے زندگی نے مشکل سبق پڑھایا اور مشکلوں پر چل کر مشکلوں کو زندگی کا سبق دیا ...
کارل دی منحوس مارا جس نے پورے ناول کو شروع سے لے کر آخر تک اپنی حرکتوں سے حرکت میں رکھا .. ناول کو یکسانیت کا شکار ہونے سے بچایا .. کارل دی منحوس کی ذہانت کو دیکھ کر قارئین بھی کارل جیسا دوست مانگے ...
یہ کہانی ہے مثالوں کی بے مثال نرم دل ویرا کی، جذبوں کی سچی، دوستی میں جیتی جسے روس کی ٹھنڈک بھی نرم دل نہ بناسکی . دوستی کی اہمیت کو سمجھتی اور جان وارتی ویرا شروع سے آخر تک ہر بدلتے رنگ کے ساتھ ساتھ سب کی توجہ باندھے رکھی ....
یہ کہانی ہے سائ کی جو سب کا حال دل سنتا رہا پر اپنی نہ سناسکا . ایک خاموش دوست ... سب کا ساتھی ایک خاموش ساتھ .. ایک دردمند دل رکھنے والا دوست پرخلوص جذبوں سے گندھا پیکر ...
لیڈی مہر اور دادا جان جنہوں نے محبت کی مثال قائم کی . بزرگوں کے سائے کی اہمیت کو سمجھایا .... جنہوں نے زندگی کی گزرگاہوں میں چلنا سکھایا ..
عـــشق کی ایک داستــــاں میں
اے آنکھ تو روتی کیوں ہے
فراق یار میں بہنے والی آنکھ جس نے عالیان اور امرحہ کی محبت کو زوال کے عروج پر پہنچا دیا تھا . سماں ہجر ہے دعا واجب ہے ..
شارلٹ کی شادی سے لے کر ڈریگن پریڈ اور کونوکیشین تک ہر جملہ مکمّل ہر منظر نگاری مستحکم تھی . علم جس وسعت پر محیط ہے شاگرد اس کا کوزہ ہے !
علم تو انبیاء کی مراث ہے اور خلق کی معراج و لازم ہے کہ احترام واجب ہو . علم وہ روشنی ہے جس پر کوئی اندھیرا غالب نہیں اور علم کی فرضیت پر کوئی شک نہیں
اُڑو کے اڑنے کا حق صرف پَر والے کے پاس نہیں !
اور ہم نے اس داستاں میں سوچ کے پنچھی کو بہت اونچی اڑان بھرتے پایا .
ہار جانے والے لوگ یقیناً ان لوگوں سے بہتر ہیں جو مقابلہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتے، آگے بڑھو کے وقت انتظار نہیں کرتا، کتاب زیست میں اپنی رقم کرنا سیکھو ..
اسلام اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اسلام اینٹ کا جواب برداشت ہے !
یہ سبق ہر انسان سیکھ جائے تو یقین جانو دنیا گلِ گلزار بن جائے .
خدا سراپا محبت ہے اور محبت ہی اسے زیب دیتی ہے لہذا اپنے محبوب صلی الله علیہ والہ وسلم پر اتارے جانے والے دین کو بھی اس نے سراپا محبت کے سانچے میں ڈھالا ہے
یہ محبت کا جادو ہے جس پر چل جائے اسکے زمین و آسمان تبدیل ہوجاتے ہیں کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے ....
ساری کائنات کتاب بنی کھلی پڑی ہو تو انسان کو شاگرد ضرور بن جانا چاہیے !
کیونکہ وقت وہ سکھاتا ہے جو بڑے سے بڑا استاد نہیں سیکھا سکتا، بےشک کائنات کے اسرارو رموز وقت کے کتابچے میں درج ہے .
یہ ایک ایسا ناول ہے جتنا بھی پڑھ لیں پڑھنے اور پڑھتے ہی جانے کی حوس تشنگی کو جنم دئیے جاتی ہے . کبھی نہ ختم ہونے کی دعا روز پکڑتی جاتی ہے ....
المختصر ہر کردار اپنی انفرادیت قائم رکھنے میں اس قدر کامیاب رہا کہ اپنے پسندیدہ سینز تو میں بھول ہی گئی امرحہ کا ڈوپٹے کا ائرپورٹ کے فرش پر پوچا لگانا اور عالیان کا مون گاڑی میں سیلفی لینا اور ان مختلف لمحات کو آپکا بیان کرنے کا انداز ..
خیر پل پل بدلتی کہفیت کے ساتھ بہت خوبصورت ناول ہمیشہ کی طرح سمیرا آپی کے قلم سے یہ بھی شاہکار تخلیق ہوا اور شاہکار صدیوں یاد رہا کرتے ہیں ....