خالی آسمان: سائرہ رضا
تبصرہ: حریم فاطمہ
رات کی تیرگی میں افق پر بسیرا کیے ابر نے انگڑائی لے کر اپنا بوجھ ہلکا کیا تو دھرتی پیاسی زبان کی طرح بوندوں کو تکتی، انہیں خوش آمدید کہتی، اپنے اندر جذب کرنے لگی۔ فلک سے دھرتی پہ اترتی پہلی بوند، سنہری سیب کے دہانے پر پڑی تو اس نے لذت سے سسکاری بھری اور خول بند کرلیا۔ فلک اور دھرتی کے بیچ خلا کو پار کرتی بوند نے صدیوں سینچنے کے عمل سے گزرنے کے بعد محبت کا وہ جرثومہ بننا تھا جس نے رہتی دنیا تک عداوت کو مات دے کر دلوں کے سنگھاسن پہ براجمان ہونا تھا۔ اپنے خول میں بند کی گئی بوند کو سینچتی سیپ نے کبھی ریت کو مسکن بنایا تو کبھی خود کو زمانوں کی تپش سے بچاتی موجوں کے ساتھ بہنے لگی۔
تصوف، احترام اور پراثر جذبات سے سینچی گئی بوند، صدیوں بعد پروان چڑھی تو دل کے نہاں خانوں میں جا چھپی۔ کسی انکھیارے نے قلب میں نمو پاتے اس نئے احساس کو محبت کا نام دیا تو فرات کے کنارے بیٹھے کسی جھریوں زدہ چہرے نے اس کو محسوس کرتے شفقت اور ممتا کا نام دیا۔
ایسی ہی ایک سسکیوں، تصوف اور محبت میں لپٹی ستر کی دہائی کی داستان ’’ خالی آسمان ‘‘ جس کے کرداروں کی ڈور انگلیوں کی ذرا سی جنبش کی منتظر رہتی، لفظ لفظ صفحہ قرطاس پر اترتی، اک نئی جدت سے روشناس کراتی آگے بڑھی اور چہارسو تارِ عنکبوت سے لپٹی، ذہن کی گرہیں کھولتی چلی گئی۔
ایک تحریر کا انداز بیاں، موضوع، برجستگی اور کرداروں کے مکالمات، لکھاری کی سوچ، افکار،ذوق نظر و سخن، ادبی شہ پاروں اور جریدوں سے وابستگی، پسند و ناپسند اور حالات و واقعات کے تناظر کو مجسم شکل میں ڈھال کر قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔
’’ خالی آسمان ‘‘ سسکیوں اور ہنسی میں لپٹی، ماضی اور حال کی داستان جو محویت کو پرنوں کی روشنی سے محبت کی مانند جکڑے رکھے۔
تصوف میں لپٹی ایسی دلگداز داستان، جس نے مشکات پہ رکھے دیپ کی لو کو تکتے کاتب کو اپنا منتظر پایا تو قلم کی نوک سے رگڑ کھاتی،صفحہ قرطاس پہ معصومیت اور مظلومیت کے انمٹ نقوش چھوڑتی گئی۔
’’ خالی آسمان ‘‘ یہ کہانی ہے
پاکیزہ اور معصوم محبت کی جس سے ہر بصارت آشنائی حاصل نہ کر سکی،